Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 19)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 19)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
ماضی
ایشال یار یہ کیا بچپنا ہے ؟؟؟
ہر دوسرے دن تم نے کوئی نا کوئی ایشو کری ایٹ کیا ہوتا ہے ۔۔۔
اچھا آفتاب ملک ایشو میں کری ایٹ کرتی ہوں یا تمہاری والدہ صاحبہ ۔۔۔”
یہاں نہیں جانا وہاں نہیں جانا یہ مت پہنو وہ مت پہنو ۔۔۔اور اب تو میرے کھانے پینے پر بھی پابندیاں لگنی شروع ہو چکی ہیں ۔۔۔”
حد نہیں ہو گئی ۔۔۔میری اپنی کوئی لائف نہیں ہے کیا ؟؟؟ آفتاب کے برہمی سے بولنے پر وہ بھی غصے سے چلائی ۔۔۔”
آفتاب نے گہرا سانس کھینچ کر خود کو پرسکون کرتے اسے کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کیا ۔۔۔”
تو جان مام یہ بھی تو آپکی بھلائی کیلئے کرتیں ہیں نا ۔۔۔”
ایشال یہ پاکستان ہے امریکہ نہیں ۔۔جہاں آپ جتنی مرضی دیر گھر سے باہر رہیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور ہم مسلمان بھی ہیں ۔۔۔ہمیں ایسی ڈریسنگ زیب نہیں دیتی جیسی آپ کرتے ہو ۔۔۔
بس اسی وجہ سے مام تمہیں ٹوک دیتیں ہیں ۔۔۔”
وہ تمہاری بھلائی کیلئے یہ سب کرتیں ہیں ۔۔۔اور اب تو تم پر دوہری ذمہ داری بھی ہے ۔۔۔”
ہمارا بچہ ۔۔ہماری محبت کی نشانی ۔۔۔”
اس لیے تمہیں ایکسٹرا کیئر کی ضرورت ہے ۔۔۔”
بس آفتاب ملک ۔۔۔بند کرو یہ ڈھونگ ۔۔۔میری بھلائی کیلئے کرتیں ہیں ۔۔۔ میں کوئی چھوٹی بچی ہوں نا جو اپنا برا بھلا نہیں سمجھ سکتی ۔۔۔”
اصل میں نا تمہاری والدہ ایک مڈل کلاس زہنیت کی مالک خاتون ہیں ۔۔۔جو ہر وقت اپنی بہو کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ۔۔۔”
ایشال بیہیو ۔۔۔”تم مام کے بارے میں ایسے بات نہیں کر سکتی ۔۔۔۔”
تو تم بھی اپنی مام سے بولو میرے معاملات میں ٹانگ اڑانا بند کر دیں ۔۔۔
یہ تم کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہی ہو ۔۔۔”
وہی لہجہ آفتاب ملک جو مجھے بہت پہلے اپنا لینا چاہیے تھا ۔۔۔آفتاب کے سوال کے بدلے دوبدو جواب آیا ۔۔۔”
جس پر آفتاب نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
ایشال کے کندھوں پر رکھے اسکے ہاتھ خود با خود نیچے ہوتے چلے گئے ۔۔۔”
یو نو وٹ میرے ڈیڈ سہی کہتے تھے ۔۔۔کہ مت کرو ایک پاکستانی سے شادی ۔۔۔یہ لوگ چاہے جتنے مرضی امیر ہو جائیں ۔۔۔لیکن کبھی بھی انکی سوچ نہیں بدلتی ۔۔۔”
یہ دقیانوسی سوچ کے مالک ہوتے ہیں ۔۔”
جنہیں اپنی بیوی صرف اپنے کنٹرول میں چاہیے ہوتی ۔۔۔” شادی کر لی گھر سنبھالو بچے پیدا کرو ۔۔۔
اور وہی چار دیواری میں گھٹ گھٹ کر مر جاو ۔۔۔”
تو مان لینی تھی نا انکی بات ۔۔۔کیوں کی تم نے اس دقیانوسی مرد سے شادی ۔۔۔
یہ مت بھولو ایشال احمد شادی کیلئے پرپوز تم نے مجھے کیا تھا میں نے نہیں ۔۔۔”
ایشال کی بات پر آفتاب نے بھی غصے سے جتایا ۔۔۔”
یہی تو غلطی ہو گئی مجھ سے ۔۔۔تمہاری سوچ تمہاری پرسنیلٹی کو دیکھتے مجھے لگا تھا ۔۔۔تم دوسرے پاکستانی مردوں سے الگ ہو گے ۔۔۔پر نہیں میری سوچ غلط ثابت ہوئی ۔۔۔میں سوچتی تھی شادی کے بعد میرے ساتھ امریکہ میں ہی شفٹ ہو جاو گے ۔۔۔
لیکن تمہیں تو اپنے والدین کے ساتھ اس چیپ ملک میں آ کر رہنا تھا ۔۔۔جہاں نا تو لوگوں کو رہنے کا سلیقہ ہے اور نا ہی پہننے کا ۔۔۔”
ایشال اب تم حد سے بڑھ رہی ہو ۔۔”
آفتاب کو اپنی برداشت کی حد ختم ہوتی محسوس ہوئی ۔۔۔”
حد سے میں نہیں بلکہ تم لوگ بڑھ گئے ہو ۔۔۔” جنہوں نے مجھے اپنا زرخرید غلام سمجھ لیا ہے ۔۔۔
کہ جیسے چاہو گے مجھے اپنے اشاروں پر نچاو گے ۔۔۔نہیں آفتاب ملک تم نے مجھے ابھی جانا نہیں ۔۔۔
میں ایشال احمد ہوں ۔۔۔”
جو کسی کی پابند ہوتی نہیں بلکہ دوسروں کو اپنا پابند کرتی ہے ۔۔۔”
اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو بہت جلد میں تم سے اپنے راستے جدا کر لوں گی ۔۔۔”
ایشال کے ارادے جان کر آفتاب نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
تمہارا کہیں دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ،،،، بھولو مت تم میرے بچے کی ماں بننے والی ہو ۔۔۔
سو وٹ ۔۔۔
بچوں کے بعد کیا لوگ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔۔”
اور ویسے بھی یہ بچہ تمہیں چاہیے تھا ۔۔۔مجھے نہیں ۔۔۔یہ میرے وجود میں سانس لے رہا ہے تو صرف تمہاری ضد کی وجہ سے ورنہ کب کا اسے ختم کروا ،،،،،
ایشال کی چلتی زبان کو بریک اسکے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے لگائی تھی ۔۔۔”جسکی شدت اتنی تھی کہ اسے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا ۔۔
اس نے اپنے گال پر ہاتھ رکھتے نم آنکھوں سے آفتاب کی طرف دیکھا ،،،، جو قہر بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
آج یہ بات تمہاری زبان پر آئی ہے ۔۔۔اگر آئندہ تم نے ایسا کچھ سوچا بھی تو تمہاری یہ چلتی ہوئی سانسیں اپنے ہاتھوں سے ختم کر دونگا ۔۔۔
درشت لہجے میں بولتے ہوئے وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔” ایشال کی باتوں کی وجہ سے اسے اپنے دماغ کی شریانیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں ۔۔۔”
جبکہ پیچھے ایک نتیجے پر پہنچتے ایشال نے اسے ایسا زخم دینے کا سوچا تھا ،،،، جسکی تکلیف ساری عمر آفتاب ملک کی روح کو تڑپاتی رہتی ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°
حال
السلام وعلیکم ۔۔۔”
ڈیڈ کیسے ہیں ؟؟؟ گھر میں داخل ہوتے ہی آفتاب کو جہانزیب ملک لاؤنج میں بیٹھے کسی بک کے مطالعے میں مصروف نظر آئے ۔۔۔
جنکے پاس ہی براجمان ہوتے ۔۔۔وہ مسکرا کر گویا ہوا ۔۔۔”
وعلیکم السلام ۔۔۔
ہم ٹھیک آپ سنائیں ؟؟؟ بک سے نظریں ہٹا کر وہ بھی مسکرا کر بولے ۔۔۔
کیا ہوا آفتاب آپکی طبیعت ٹھیک ہے ؟؟؟ اسے بار بار اپنی پیشانی مسلتے دیکھ وہ پریشانی سے گویا ہوئے ۔۔۔”
کچھ نہیں ڈیڈ بس سر میں ہلکا سا درد ہے ۔۔۔ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔آپ سنائیں کیسا رہا آپکا ٹرپ ۔۔۔
اور یہ گھر میں اتنا سناٹا کیوں پھیلا ہوا ہے ۔۔۔باقی سب کہاں ہیں ؟؟؟
عام طور پر اسے زینیہ اور زرباب اس وقت لاؤنج میں ہی کھیلتے ہوئے ملتے تھے ۔۔۔”
لیکن آج ،،،، اوپر سے اسے زینیہ کی طبیعت کی بھی فکر تھی ۔۔۔” پتا نہیں اسکے جانے کے بعد اس لڑکی نے دن کیسے گزارا ۔۔۔
کہیں پھر رو رو کر اپنی طبیعت خراب نا کر لی ہو ۔۔۔” اب سیدھا سیدھا تو پوچھ نہیں سکتا تھا ۔۔۔
اس لیے سرسری لہجہ اپناتے سب کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔”
جسے سمجھتے ہوئے ،،،، جہانزیب ملک نے اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔آفتاب اس رشتے کو قبول کر چکا ہے ۔۔۔
یہ بات سلمی ملک انہیں پہلے ہی تفصیل سے بتا چکیں تھیں ۔۔۔جسے سن کر وہ بھی بہت خوش ہوئے تھے ۔۔۔”
اور باقی کی رہی سہی کسر آفتاب کی بےچینی نے پوری کر دی تھی ۔۔۔”
باقی سب کون بیٹا جی ؟؟؟؟
والد تو اسکے ہی تھے ،،،، الٹے سوال کا سیدھا جواب کیسے دے سکتے تھے ۔۔۔بلکہ الٹا اسے معنی خیز نظروں سے دیکھتے مسکرا کر سوال کیا ۔۔۔”
جس پر وہ سٹپٹایا ۔۔۔”
مام اور زرباب ڈیڈ اور کون ؟؟؟
اچھا ہمیں لگا شاید آپ کسی اور کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔۔۔” آنکھوں پر لگا چشمہ اتار کر سائڈ رکھتے ہوئے ۔۔۔ایک بار پھر اسے چھیڑا ۔۔۔”
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔خود کو کمپوز کرتے وہ اپنے موڈ میں واپس آیا تھا ۔۔۔
جسے سمجھتے انہوں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔”
آپکی مام ۔۔۔”
کچن میں ہیں اور آپکا بیٹا اپنی جینی جان کے پاس ۔۔۔” اسکے چہرے کی طرف دیکھتے انہوں نے بھی نارمل لہجے میں جواب دیا ۔۔۔”
انہیں لگا شاید آفتاب زینیہ کے زوہیب کے ساتھ جانے والی بات سے واقف ہے ۔۔۔اس لیے تفصیل میں جانا ضروری نا جانا ۔۔۔”
آفتاب سمجھنے والے انداز میں سر ہلاتا ۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔اچھا ڈیڈ میں ذرا فریش ہو جاؤں ۔۔۔آپ مام سے بول کر میری کافی کمرے میں بھجوا دیں ۔۔۔”
نرمی سے بولتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ،،،، جسکی پشت کو جہانزیب ملک نے چند لمحوں کیلئے پرسوچ نظروں سے دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلاتے ،،،، چشمہ دوبارہ آنکھوں پر لگاتے مطالعے میں مصروف ہو گئے ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
آفتاب اپنے کمرے میں داخل ہوا تو خالی کمرہ اسکا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔”
اس نے کمرے میں دیکھنے کے بعد بالکنی میں بھی چیک کیا ،،،، کہیں وہ دونوں یہاں بیٹھ کر باتیں نا کر رہے ہو ۔۔۔”
لیکن اس جگہ کو بھی خالی دیکھتے وہ پریشان ہوتا ۔۔۔زرباب کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔”
زرباب کو آواز دیتے دروازہ کھولا ،،،، لیکن یہاں بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا ۔۔۔”
یہ لوگ جا کہاں سکتے ہیں ۔۔” تقریبا پورے گھر میں دیکھنے کے بعد ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا ،،، جب اسکے کانوں میں زینیہ کے صبح بولے گئے الفاظ گونجے ۔۔۔”
مجھے اب یہاں نہیں رہنا ۔۔۔مجھے اپنے ڈیڈ کے پاس جانا ہے ۔۔۔”
جسے یاد کرتے غصے سے اسکی رگیں تن گئیں تھیں ۔۔۔” مطلب کے اس لڑکی پر اسکی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا کچن میں سلمی بیگم کے پاس آیا ۔۔۔”
جو رات کا کھانا تقریبا تیار کروا چکی تھی ۔۔۔”
اسے کچن میں آتے دیکھ مسکرائیں ۔۔۔”
ارے آفتاب آپ کب آئے ؟؟؟؟ بس ابھی مام ،،،، اچھا فریش ہو جائیں ۔۔میں بس ڈنر لگوانے ہی لگی ہوں ۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولتے دوبارہ ملازمہ کو ہدایت دینے لگیں ۔۔۔”
جب آفتاب نے انہیں دوبارہ کیا ۔۔۔
مام زرباب کدھر ہے ؟؟؟ جس پر انہوں نے چونک آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔ارے آپکو معلوم نہیں وہ تو زینیہ کے ساتھ زوہیب کے گھر گئے ہیں ۔۔۔۔”
زینیہ بتا رہی تھیں انہوں نے صبح آپ سے پرمیشن لی تھی گھر جانے کی تو زرباب بھی ضد کر کے ان کے ساتھ ہی چلے گئے ۔۔۔”
انکی بات سن کر آفتاب کے غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔”
اپنے خدشے کو سچ ہوتے دیکھ وہ لب بھینچ کر تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔” جب لاؤنج سے گزرتے جہانزیب ملک نے اسے غصے سے باہر کی طرف جاتے دیکھ آواز دے کر روکا ۔۔۔
اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہیں آفتاب ؟؟؟؟
اس عورت سے اپنے بچے کو واپس لانے کیلئے ۔۔۔۔” جہانزیب ملک کا خیال کرتے وہ نارمل لہجے میں بولا تھا ورنہ جتنا اس وقت زینیہ پر غصہ تھا ۔۔۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ پلک جھپکنے کی دیری کیے بنا ذینیہ کے پاس پہنچ جائے
اسکی بات سن کر جہانزیب ملک اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے ۔۔۔
کیا مطلب ،،،، اور یہ کس لہجے میں آپ زینیہ بیٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔۔۔”
وہی ڈیڈ جو وہ عورت ڈیزرو کرتی ہے ۔۔۔”
آفتاب بیہیو ۔۔۔” انکے لہجے میں تنبیہ تھی ۔۔۔جسے وہ ان سنی کرتا باہر کی طرف بڑھا ۔۔۔
جبکہ پیچھے پریشانی میں وہ اسے آوازیں ہی دیتے رہ گئے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آفتاب جب زوہیب ملک کے گھر میں داخل ہوا تو عائشہ ملک سب کچھ سمیٹ کر آرام کیلئے اپنے کمرے کی طرف جانے والی تھی ۔۔۔”
جبکہ زوہیب ابھی تک آفس سے ہی واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔
وہ اسکی اچانک آمد پر حیران ہوتی آفتاب کی طرف بڑھی ۔۔۔”آفتاب شادی کے بعد پہلی بار انکے گھر آیا تھا ۔۔۔ اس بات کی انہیں بہت خوشی تھی ۔۔۔
لیکن اسکے چہرےکے تاثرات کو دیکھتے ساتھ میں پریشانی بھی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔”
السلام وعلیکم ۔۔۔”
انکے قریب آنے پر اس نے سلام میں پہل کی تھی ۔۔۔”
وعلیکم السلام ۔۔۔”
جسکا انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔۔”
کیسے ہیں آپ ؟؟؟؟
زرباب کدھر ہے آپ پلیز اسے بلا دیں گی ؟؟؟؟
انکی بات کا جواب دینے کی بجائے اس نے سیدھا زرباب کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔”
جس پر عائشہ ملک نے پریشانی سے آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
کیا ہوا آفتاب آپ ،،،، مطلب کے زرباب ۔۔۔
میں اسے لینے کیلئے آیا ہوں ۔۔۔’
اپنی طرف سے اس نے انکی مشکل آسان کی تھی ۔۔۔” لیکن یہ تو وہی جانتی تھی نا کہ اپنے خدشات سچ ہونے پر ایک ماں کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچی تھی کہ انکی بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ۔۔۔
جسکی تصدیق آفتاب کے اس روڈ بیہیویر نے کر دی تھی ۔۔۔”
آفتاب زینیہ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا ؟؟؟؟
اسکے سپاٹ چہرے کو دیکھتے انہوں نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا تھا ۔۔۔” جس سے اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا ۔۔۔”
اس نے خود کو کمپوز کرتے ،،، چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجائی ۔۔۔
نہیں بھابھی ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔وہ ایکچلی مجھے زرباب کے بغیر نیند نہیں آتی ،،،، بس اسی لیے ۔۔۔”
اور پہلے کبھی میں نے اسے خود سے الگ بھی نہیں کیا ۔۔۔”
عائشہ کو خاموش نظروں سے خود کا جائزہ لیتے دیکھ وہ مزید بولا ۔۔۔”
انہوں نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔۔۔”
آپ اسے بلا دیں ۔۔۔”
عائشہ کے خاموش ہونے پر اس نے دوبارہ سے وہی بات کی ۔۔۔”
آفتاب وہ بات اصل میں یہ ہے کہ زینیہ کافی دیر پہلے ہی انہیں اپنے ساتھ سلانے کیلئے ،،، لے کر گئیں تھیں ۔۔۔اب تک تو وہ شاید سو بھی چکے ہونگے ۔۔۔۔”
اگر آپ کہیں تو میں زینیہ کو بلا دیتی ہوں ۔۔۔”
نہیں رہنے دیں ۔۔۔”
زینیہ کا نام سنتے اس نے فورا انکار کیا ۔۔۔”
جی ۔۔۔”
عائشہ حیران ہوئی ۔۔۔”
نہیں میرا مطلب تھا کہ آپ مجھے انکا کمرہ بتا دیں ۔۔۔میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں ۔۔۔”
زبردستی مسکراتے ہوئے اپنی بات کا اثر زائل کرنا چاہا ۔۔۔”
جی ۔۔۔”
سیکنڈ فلور پر سیڑھیوں کے ساتھ دائیں طرف پہلا کمرہ ۔۔۔”
شکریہ ۔۔۔”
نرمی سے بولتے اوپر زینیہ کے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔جبکہ نیچے عائشہ ملک پریشانی سے ٹہلتے ہوئے زوہیب ملک کو فون ملانے لگیں ۔۔۔”
مطلوبہ کمرے کے دروازے پر پہنچتے آفتاب اسے بنا ناک کیے ہی کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔”
جہاں زینیہ جو زرباب کو اپنے سینے سے لگائے تقریبا سلا چکی تھی ۔۔۔اس اچانک پڑنے والی افتاد پر حیرت سے اٹھتے آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
جو دروازے کے عین درمیان میں کھڑا اسے غصے سے گھور رہا تھا ۔۔۔”
جسے دیکھتے اسے اپنی سانسیں خشک ہوتی محسوس ہوئیں ۔۔۔”
