Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 10)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

گرے کلر کی خوبصورت گھیر دار میکسی میں ملبوس ،،،، جسکا ڈوپٹہ بلو کلر کا تھا ۔۔۔ہاتھوں میں خاندانی ڈائمنڈ کے خوبصورت کنگن ،،،، گلے میں خوبصورت نیکلس اور ہونٹوں پر ڈارک پنک لپ اسٹک لگائے ،،،، زینیہ ولیمے کی دلہن کے روپ میں اس وقت قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔”

کہ جس کے حسن کو دیکھتے ایک بار چاند بھی شرما جائے ۔۔۔

ولیمے کی تقریب پر بلائے گئے مہمان اتنی خوبصورت ،،، معصوم پیاری سی دلہن کو دیکھتے آفتاب کی قسمت پر رشک کر رہے تھے ۔۔۔”

ولیمے کی تقریب ملک مینشن میں ہی منعقد کی گئی تھی ۔۔۔جس میں زیادہ لوگوں کو مدعو تو نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔

لیکن پھر بھی گھر کی سجاوٹ مہمانوں کے استقبال اور دیگر انتظامات میں جہانزیب ملک نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی”

ہر طرف خوشیوں کا راج تھا ۔۔۔” چمچماتی ہوئی بتیوں اور کینڈلز کی سجاوٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا ۔۔۔

کہ جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہو۔۔۔کھلکھلاتے ہوئے چہرے لہراتے آنچل ،،،، جیسے زندگی کی نوید سنا رہے تھے ۔۔۔”

لیکن ان سب کے باوجود بھی کچھ ادھورا سا تھا ۔۔۔جیسے کوئی کمی سی تھی ۔۔۔

اور وہ کمی ۔۔۔آفتاب ملک کی تھی ۔۔۔”

وہی آفتاب ملک جسکی خوشیوں کو سیلیبریٹ کرنے کیلئے ۔۔۔اس دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔۔ ”

اس محفل کو سجایا گیا ۔۔۔”

حوروں سا حسن رکھنے والی مومی گڑیا ،،،، اس کیلئے پور پور سجی راستے میں نگاہیں بچھائے بیٹھی تھی ۔۔۔”

جسکی سانس سانس پر صرف آفتاب ملک کا حق تھا ۔۔۔

جسکی دھڑکنوں میں صرف ایک اسکا ہی نام گونجتا تھا ،،،، جسکی روح اسکے پیار کی طلب گار تھی ۔۔۔”

جو اسکی چھوٹی سی تکلیف پر تڑپ تڑپ جاتی ۔۔۔” جو اسکی اس قدر دیوانی تھی کہ اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے پل میں اپنی سانسیں بند کرنے کو تیار تھی ۔۔۔

لیکن وہ ظالم بےرحم بنا اسکی محبت کو سمجھنے کے باوجود بھی اس پر یقین کرنے سے انکاری تھا ۔۔۔

پر اس میں قصور اسکا بھی نہیں تھا ،،،، جو دھوکا اس نے کھایا تھا ،،،، اس نے ایک معصوم اور رحم دل انسان کو پتھر کا بنا دیا تھا ۔۔۔”

جس پر کوئی چیز اثر نہیں کرتی تھی ۔۔۔نا ہی زینیہ کی محبت اور نا ہی اسکا بےپناہ حسن ۔۔”

وہ جو کبھی موم کا دریا ہوا کرتا تھا ،،،، اب آگ کا ایک سمندر تھا ،،،، جو صرف جلانا جانتا تھا ،،،، تڑپانا جانتا تھا ۔۔۔”

اور وہ وہی کر رہا تھا ،،،، ان سب میں غلطی آفتاب ملک کی نہیں بلکہ زینیہ ملک کی تھی ۔۔۔”جو خود اس کے راستے میں آئی تھی ،،،، اس لیے سزا بھی اسے ہی بھگتنی تھی ۔۔۔۔”

اور وہ بھگت رہی تھی ۔۔۔”

اس وقت اکیلے سٹیج پر بیٹھ کر ،،،، جسے دیکھ کر لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے ۔۔۔”

پہلی ایسی ولیمے کی دعوت دیکھی ہے ۔۔۔” جس میں دلہا ہی غائب ہے ۔۔۔”

اس میں بھی غلطی لڑکی کی ہی ہوگی ۔۔۔” اس نے ہی کچھ کیا ہوگا ،،،، لگتا ہے پہلی ہی رات شوہر کی بات نا مان کر اسے ناراض کر دیا ہے ۔۔۔

تبھی تو وہ ولیمے میں شامل نہیں ہوا ۔۔۔” ورنہ اتنی پیاری دلہن کو کون اکیلا چھوڑ کر جاتا ہے ۔۔۔

نیز جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔

جنہیں سن سن کر زینیہ کی آنکھیں بھر آئیں تھیں ۔۔۔لیکن وہ منہ پر جھوٹی مسکراہٹ سجائے بیٹھی آفتاب ملک کا مان رکھ رہی تھی ۔۔۔”

وہ علیحدہ بات اندر ہی اندر اسکی سانسیں گھٹتی جا رہی تھیں ۔۔۔”

اب تو لوگوں کو آفتاب کی غیر موجودگی کی وجہ بتاتے بتاتے جہانزیب اور زوہیب ملک بھی تھک گئے تھے ۔۔۔”

اس لیے وہ جو یہ پروگرام رات دیر تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ،،،، جلد مہمانوں کو کھانا کھلا کر اس ادھوری تقریب اختتام کر دیا تھا ۔۔۔”

لیکن جانے سے پہلے بھی کچھ بزرگ عورتیں زینیہ کو شوہر کو منانے اور اسکی بات ماننے کی ہدایت کرنا نہیں بھولی تھیں ۔۔۔

جن میں سے کچھ کی طنز اور کچھ کی ترس بھری نظریں ۔۔۔زینیہ کو شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل گئیں ۔۔۔”

اس نے اپنا سر جھکا کر بمشکل اپنے آنسوؤں کو چھپایا ۔۔۔”

مہمانوں کے جاتے ہی جہانزیب ملک تھکے تھکے انداز میں صوفے پر ڈھے سے گئے تھے ۔۔۔”

جنہیں آگے بڑھ کر زوہیب ملک نے سنبھالا ۔۔۔”

ہم بہت شرمندہ ہیں زوہیب ۔۔۔” ہماری وجہ سے آپکو اور زینیہ بیٹی کو اتنی باتیں سننی پڑی ۔۔۔

ہمیں اگر پہلے پتا ہوتا ۔۔۔آفتاب ایسا کرینگے تو ہم کبھی بھی اس تقریب کا انعقاد نا کرتے ۔۔۔”

ہمیں معاف ۔۔۔”

کیسی باتیں کر رہیں ہیں چچا جان ۔۔۔”

جہانزیب کو ہاتھ جوڑتے دیکھ فورا انکے قدموں میں بیٹھتے ہوئے ۔۔۔انہوں نے انکے ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔”

زوہیب آفتاب نے جو کیا ۔۔۔”

چچا جان یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا ۔۔۔کہ آفتاب سچ میں کسی کام میں پھنس گئے ہوں ۔۔۔”

پلیز آپ ایسے ہاتھ جوڑ کر ہمیں شرمندہ نا کریں ۔۔۔”

جی چچا جان زوہیب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔” آفتاب اتنے لاپرواہ بھی نہیں ہیں ۔۔۔جو ایسی حرکت جان بھوج کر کریں ۔۔۔ضرور کسی کام میں پھنس گئے ہونگے ۔۔۔”

اوپر سے انکا فون بھی نہیں لگ رہا ۔۔۔مجھے تو پریشانی ہو رہی ہے اب ۔۔۔کسی مشکل میں نا ہو ۔۔۔”

زوہیب کی بات کی تائید کرتے عائشہ ملک پریشانی سے گویا ہوئیں تھیں ۔۔۔”

جس پر زینیہ کا دل زوروں سے دھڑکا ۔۔۔” کہیں غصے میں آ کر انہوں نے خود کو کوئی نقصان نا پہنچا لیا ہو ۔۔

اسے بےساختہ ہی کل اسکی خود کو زخمی کرنے والی حرکت یاد آئی تھی ۔۔۔”

اللہ پاک جی میرے آفتاب کی حفاظت کریئے گا ۔۔”

اس نے دل ہی دل میں اپنے رب کو پکارا ۔۔

ان دونوں کی باتیں سننے کے بعد بھی جہانزیب ملک کو سو فیصد یقین تھا کہ آفتاب نے یہ حرکت جان بھوج کر کی ہے ۔۔۔کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتے تھے ۔۔۔

کہ وہ کس حد تک ضدی تھا ۔۔۔”

لیکن پھر زوہیب کے سامنے اسکی عزت رکھنے کو خاموشی اختیار کر گئے ۔۔۔”

ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے ،،، جب آفتاب کی گاڑی ملک مینشن میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔”

جسے پورچ میں کھڑا کرتے وہ اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ باہرنکلا۔۔۔۔

گھر کی سجاوٹ اور سٹیج پر ان سب کو اکٹھا بیٹھا دیکھ ،،،، اسکے آنکھیں مسکرائیں ،،،، لیکن چہرے کے تاثرات اس نے سپاٹ ہی رکھے تھے ۔۔۔”

بابا آ گئے ۔۔۔”

زینیہ کے پاس پریشان اور گم سم سا بیٹھا زرباب یکدم کھل اٹھا تھا ۔۔۔”

اور بھاگ کر اسکے قریب آتے اس سے لپٹ گیا ۔۔۔”

آفتاب نے مسکرا کر پیار کرتے اسے گود میں اٹھایا ۔۔۔”اور اسے لے کر ان سب کے قریب آیا ۔۔۔”

السلام وعلیکم ۔۔”

زوہیب کو مسکرا کر سلام کیا ۔۔۔”

وعلیکم السلام ۔۔”

انہوں نے بھی مسکرا کر نرمی سے ہی جواب دیا تھا ۔۔۔”

کہاں پر تھے آپ ؟؟؟

اپنی جگہ سے اٹھتے جہانزیب ملک نے کھڑکدار آواز میں سوال کیا تھا ۔۔۔”

جسے دیکھتے باقی سب بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔جبکہ نظریں آفتاب کے چہرے پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔۔”

انکے سخت لہجے پر آفتاب نرمی سے مسکرایا ۔۔۔”

ڈیڈ آپ کو بتایا تو تھا ۔۔۔کہ نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے اسی سلسلے میں میٹنگ تھی بس ۔۔۔اسے اٹینڈ کرنے کے چکر میں دیری ہو گئی ۔۔۔”

آپکو پتا تھا نا کہ آج آپکا ولیمہ ہے ۔۔۔”

اسکی مسکراہٹ انہیں زہر سے بھی زیادہ بری لگی تھی ۔۔۔”

اس لیے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولے ۔۔۔

جی ۔۔۔”

اس نے جواب تو جہانزیب ملک کو دیا تھا البتہ اپنی آنکھیں زینیہ پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔۔

جو دلہن کے لباس میں ملبوس آنکھوں میں نمی لیے اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جسے دیکھ کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔۔”

آپکو پتا بھی ہے ہمیں کتنی باتیں سننی پڑی سب سے ۔۔۔کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ۔۔۔

سوری ڈیڈ میں نے یہ جان بھوج کر نہیں کیا ۔۔۔”

اس نے زینیہ سے نظریں ہٹا انکی طرف دیکھتے جیسے صفائی دی ۔۔۔وہ علیحدہ بات اسکا جواب اسکے چہرے کے ایکسپریشنز کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔

جس پر انہوں بمشکل خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا ۔۔۔”

آئی تھنک ہمیں اب چلنا چاہیے ۔۔۔

ان دونوں باپ بیٹے کو مقابل دیکھتے زوہیب ملک کو وہاں مزید ٹھہرنا مناسب نہیں لگا ۔۔۔

تبھی وہ جہانزیب اور سلمی ملک سے اجازت لیتے زینیہ کو پیار کرتے وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔”

جہانزیب نے تو انہیں روکنے کی بھی کوشش کی ،،،، لیکن زوہیب کے کہنے پر ایسے اچھا نہیں لگتا انہیں خاموشی اختیار کرنی پڑی ۔۔۔

جنکے جانے کے بعد زینیہ بھی سلمی ملک کا سہارا لیتے ۔۔۔”ملک مینشن کے اندر چلی گئی ۔۔۔اور ساتھ میں وہ لوگ زرباب کو بھی لے گئے تھے ۔۔۔”

ان لوگوں کے اندر جاتے ہی جہانزیب ملک دوبارہ آفتاب کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔”

ہم آخری بار کہہ رہے ہیں آفتاب زینیہ کے ساتھ اپنا رویہ درست کر لیں ۔۔۔ورنہ ۔۔۔”

تنبیہ لہجے میں کہتے وہ اسکی سنے بنا ہی اندر کی طرف بڑھ گئے تھے ۔۔۔جبکہ پیچھے وہ نفی میں سر ہلاتے خوبصورتی سے مسکرایا ۔۔۔”

یہ تو شروعات ہے ڈیڈ آگے آگے دیکھیے میں آپکی اس زینیہ بیٹی کے ساتھ کیا کرتا ہوں ۔۔۔

اسکے ہونٹوں پر زہرخند سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔”

آفتاب جب کمرے میں داخل ہوا تو ۔۔۔۔” زینیہ آئینے کے سامنے بیٹھی جیولری اتار رہی تھی ۔۔۔

جبکہ میکسی کا ڈوپٹہ وہ پہلے ہی اتار کر صوفے پر رکھ چکی تھی ۔۔۔” اسے اندر داخل ہوتے دیکھ چند پل کیلئے زینیہ کے ہاتھ تھمے ۔۔۔لیکن پھر اسے نظر انداز کرتے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔۔۔”

آفتاب نے مسکرا کر آئینے میں اسکے بنے ہوئے منہ کو دیکھا ۔۔۔پھر بھاری قدم لے کر اسکے قریب آتے نرمی سے اسکے ہاتھ کو تھام گیا ۔۔۔”

اس نے حیرت سے چہرہ اٹھا کر آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جس پر وہ گہرائی سے مسکرایا ۔۔۔

جس سے ظاہر ہوتا دائیں گال میں اسکا بھنور ایک بار پھر زینیہ کا دل بری طرح دھڑکا گیا ۔۔۔”

اس نے بمشکل اپنی نظروں کو اسکے چہرے سے پھیرتے اپنی دھڑکنوں کو سنبھالا ۔۔۔”

تو پھر کیسا رہا ،،،، آپکا ولیمے کا فنکشن ۔۔۔۔آئی ہوپ آپ نے کافی انجوائے کیا ہوگا ۔۔۔

باقی رہ چکے اسکے آویزوں کو اتارتے ۔۔۔ نرمی سے سوال کیا ۔۔۔جیسے ان کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات ہوں ۔۔۔

زینیہ نے نظریں اٹھا آئینے میں اسکے عکس کو دیکھا ۔۔۔لیکن اسکے چہرے پر کوئی بھی تاثرات نا دیکھتے دوبارہ جھکا گئی ۔۔۔

البتہ اسکے لہجے سے صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ اسکا مذاق بنا رہا تھا ۔۔۔”

اپنے آنسوؤں کو اپنے اندر اتارتے نرمی سے مسکرائی ۔۔۔”

جی بہت اچھا تھا ۔۔۔”

نرم لہجے میں مسکرا کر بات کرتے وہ آفتاب کو آگ لگا گئی ۔۔۔”

اس نے ایک جھٹکے سے زینیہ کو بازو سے تھامتے اپنے مقابل کھڑا کیا ۔۔۔”

کس مٹی کی بنی ہیں آپ ۔۔۔ایک بندہ مسلسل آپکی تذلیل کیے جا رہا ہے۔۔۔۔ آپکا وجود قبولنے سے انکار کر رہا ہے ۔۔۔آپکی محبت کو دھتکار رہا ہے ۔۔۔” لیکن آپ ایسے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو ۔۔۔

آپکی محبت میں مجھے یہ تذلیل اور دھتکار بھی قبول ہے ۔۔۔آپ کی محبت کے آگے یہ سب کچھ بھی محسوس ہی نہیں ہوتا ۔۔۔اور مجھے پتا ہے ایک دن ایسا ضرور آئے گا ۔۔۔جب آپ میری محبت پر یقین کرتے مجھے دل سے قبول کرینگے ۔۔۔

بس یہی امید مجھے ہارنے نہیں دیتی ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں دیکھتے یقین سے بولی ۔۔۔جبکہ اسکے اعتماد کو دیکھتے وہ چند پل کیلئے ششدر رہ گیا ۔۔۔”

آپکی یہ جو ضد ہے نا ۔۔۔ضد نہیں محبت ہے ،،،، ایک دن آپ یقین کریں گے ۔۔۔”

سوچ ہے آپکی وہ دن کبھی نہیں آئے گا ۔۔۔”

خود کو کمپوز کرتے ہوئے استہزائیہ بولا ۔۔۔”

ضرور آئے گا ۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں دیکھتے جیسے اس نے آفتاب کو چیلنج کیا تھا ۔۔جسے سمجھتے اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

دیکھتے ہیں ۔۔۔”

دیکھتے ہیں ۔۔۔”

اپنی اپنی ضد اور بات منوانے کے چکر میں وہ ایک دوسرے کے کتنے قریب آ گئے تھے اس بات کا دونوں کو ہی اندازہ نہیں تھا ۔۔۔”

ہوش تو تب آیا جب دروازہ ہلکا سا ناک کرتے ہوئے ۔۔۔زرباب کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔

دونوں پل میں ایک دوسرے سے دور ہوئے ۔۔۔”

بابا ،،،، جینی جان ۔۔۔”

جی بابا کی جان ۔۔۔”

مسکرا کر دونوں کو پکارتے وہ انکے قریب آیا تھا ۔۔۔اور اس سے پہلے زینیہ اسکے قریب ہوتی ۔۔۔آفتاب نے فورا آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھایا ۔۔۔

وہ بابا مجھے اپنے تمرے ( کمرے ) میں نیند نہیں آ لہی ( رہی ) تھی ۔۔۔اش ( اس ) لیے میں یہاں آ گیا شونے تیلیے ( سونے کیلئے ) ۔۔۔

میں آج آپ تے شاتھ شو ( کے ساتھ سو ) جاؤں ؟؟؟؟

ضرور میری جان ۔۔۔

اسکے پھولے گال پر پیار کرتے اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔”

اور پھر اسے بیڈ پر بٹھاتے خود ڈریسنگ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔جس کے جاتے ہی زینیہ نے آگے بڑھ اسکے گال پر پیار کیا تھا ۔۔۔

آگے کیا کرنا ہے یاد ہے نا پارٹنر ۔۔۔۔اس کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی ۔۔۔”

یش ۔۔۔”

اس کے مقابلے زرباب نے جیسے نعرہ لگایا تھا ۔۔۔”

جسے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے آہستہ بولنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

زرباب نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔

شولی ( سوری )

اٹس اوکے میری جان ۔۔۔بس آگے سے دھیان رکھنا ۔۔۔”

اسکے بالوں کو بکھیرتے وہ مسکرائی ۔۔۔”

تبھی ڈریسنگ سے کپڑے بدل کر آفتاب شرٹ کے بازو فولڈ کرتا ہوا باہر نکلا ۔۔۔اور ان دونوں کو اتنا قریب کھڑے دیکھ کر کچھ چونکا ۔۔۔”

جبکہ اسکے آتے ہی زینیہ فورا پیچھے ہوتے صوفے سے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔”

لیکن دروازے کے پیچھے گم ہونے سے پہلے زرباب کو آنکھوں سے اشارہ کرنا نہیں بھولی ۔۔۔

جسے سمجھتے وہ مسکرایا تھا ۔۔۔”

کیا بات کر رہی تھی یہ ؟؟؟؟

زرباب کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آفتاب نے سوال کیا

تچھ ،،،، تچھ ( کچھ ) بھی نہیں ۔۔۔”

اٹکتے لہجے میں بولتے وہ پیچھے ہو کر بیڈ پر لیٹا ۔۔۔۔جسے چند پل دیکھنے کے بعد اسکی دائیں طرف آ کر لیٹتے آفتاب نے مین لائٹ بجھا کر سائڈ لیمپ آن کیا ۔۔۔

تاکہ زرباب اندھیرے میں ڈرے نہیں ۔۔۔”

چلیں اپنی آنکھیں بند کریں سب سے پہلے بسم اللہ اور کلمہ شریف پڑھنے کے بعد سونے کی دعا پڑھیں ۔۔۔”

اسے ہدایت دینے کے ساتھ خود اسکے بالوں میں انگلیاں چلانی شروع کیں ۔۔۔

لیتن ( لیکن ) بابا مجھے ابھی نیند نہیں آئی ۔۔۔”

کیوں نہیں آئی اور رات بھی کتنی ہو گئی ہے ۔۔۔ اچھے بچے اتنی لیٹ نائٹ تک نہیں جاگتے ۔۔۔

چلیں فورا اپنی آنکھیں بند کریں ۔۔۔”

لیتن بابا ۔۔۔

آئی سیڈ کلوز یور آئز ۔۔۔”

زرباب کے ضد کرنے پر آفتاب اب کہ سختی سے بولا ۔۔۔”

جو کپڑے بدل کر نکلتی زینیہ نے بھی سنا ۔۔۔

کیوں ڈانٹ رہیں ہیں آپ زرباب کو ؟؟؟؟

بیڈ کے قریب آتے وہ رعب سے بولی ۔۔۔جس پر اس نے آبرو اچکائی ۔۔۔

ایکسکیوز می ۔۔۔”

یہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔اور مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے بیٹے کو کیوں ڈانٹ رہا ہوں اسکی وجہ آپکو بتاؤں ۔۔۔

بابا ۔۔۔” یہ آپ کیشے ( کیسے ) بات کر رہے ہیں جینی جان شے ( سے )۔۔۔

آفتاب کو زینیہ کو ڈانٹتے دیکھ زرباب نے مداخلت کی ۔۔۔”

اب مجھے کیا آپکو بتانا پڑے گا زرباب کے بچے بڑوں کے درمیان نہیں بولتے ۔۔۔

شوری بابا ۔۔۔”

آفتاب کو غصے میں آتے دیکھ زرباب نے سر جھکایا تھا ۔۔۔”

جبکہ اسکے لہجے پر ذینی بھی سہمی تھی ۔۔۔کہیں اسکی وجہ سے زرباب کو مزید ڈانٹ نا پڑ جائے ۔۔۔اس لیے مزید کچھ کہے بغیر وہ چپ چاپ صوفے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔

جینی جان آپ تہاں ( کہاں ) جا رہی ہیں ؟؟؟؟

اسے صوفے کی طرف بڑھتے دیکھ زرباب فورا اٹھ کر بیٹھا ۔۔۔”

ان دونوں کا تو آج رات مستی کر کے آفتاب کے لیٹ آنے پر اس کو تنگ کرنے کا پلان تھا ۔۔۔تو پھر زینیہ صوفے پر کیوں جا رہی تھی ۔۔۔

اس سوچ نے اس ننھی جان کو پریشان کیا تھا ۔۔۔

صوفے پر سونے ۔۔۔”

زینیہ نے پلٹ کر نرمی سے جواب دیا ۔۔۔”

زرباب واپس اپنی جگہ لیٹے فورا ۔۔۔” ایت ( ایک ) منٹ بابا ۔۔۔

آفتاب کو جواب دیتے وہ دوبارہ زینیہ کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔

لیتن آپ صوفے پر کیوں شونے جا رہی ہیں ۔۔تیا آپ دادا اور دادو جیشے ہمالے شاتھ نہیں شوئے گیں ؟؟؟؟

( لیکن آپ صوفے پر کیوں سونے جا رہی ہیں کیا آپ دادا اور دادو جیسے ہمارے ساتھ نہیں سوئے گیں )

زرباب کے سوال پر ان دونوں نے ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”

نہیں ۔۔۔”

اور اس سے پہلے زینیہ کوئی جواب دیتی آفتاب نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔”

زینیہ نے اپنا سر جھکایا ۔۔۔”

لیتن ( لیکن ) کیوں بابا ؟؟؟؟

زرباب ۔۔۔”

بابا مجھے بھی اپنے فلینڈز ( فرینڈز ) کی طرح اپنے ماما بابا تے شاتھ شونا ( کے ساتھ سونا ) ہے ۔۔۔

آفتاب کچھ کہتا اس سے پہلے ہی زرباب بول پڑا ۔۔۔

یہ تمہاری ماما نہیں ہیں ۔۔۔

زینیہ کی طرف دیکھتے جیسے اس نے جتایا ۔۔۔”

لیتن ( لیکن ) دادو تو بولتیں ہیں یہ میلی ( میری ) ماما ہیں ۔۔۔

زرباب ۔۔۔”

پلیج بابا مجھے آپ دونوں تے شاتھ شونا ہے ۔۔۔

زرباب کی کرسٹل گرے آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے ۔۔۔جسے دیکھتے وہ نرم پڑا ۔۔۔جبکہ زینیہ تو تڑپ کر اسکے پاس آتے اسے اپنے سینے سے لگا گئی ۔۔۔”

نا میری جان رونا نہیں ۔۔۔” میں سووں گی نا اپنے بیٹے کے ساتھ اسکی پیشانی پر پیار کرتے بہت محبت سے بولی ۔۔۔

آفتاب نے لب بھینچے اور پھر تھوڑے پیچھے ہوتے ان دونوں کیلئے جگہ بنائی ۔۔۔

زینیہ نے اسکی طرف دیکھے بنا زرباب کو سہی سے لٹایا اور خود بھی ساتھ ہی ٹک گئی ۔۔۔”

اسے زرباب کے ساتھ لیٹتے دیکھ آفتاب اپنا رخ بدلنے لگا ۔۔۔جب اس نے آفتاب کا ہاتھ پکڑ اسے روکا ۔۔۔اور پھر اسکے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتے دوسرے سے ذینی کا ہاتھ تھام کر اسکے ہاتھ پر رکھا ۔۔۔اور پھر باری باری دونوں کے گالوں پر پیار کرتے سکون سے آنکھیں موند گیا ۔۔۔”

ان دونوں نے ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا اور پھر پرسکون سوئے زرباب کی طرف ۔۔۔

پھر اپنے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی ۔۔۔۔لیکن سوتے میں بھی اسکی پکڑ ان دونوں کے ہاتھوں پر بہت مظبوط تھی ۔۔۔جیسے وہ انہیں خود سے کبھی دور نہیں جانے دینا چاہتا ہو ۔۔۔۔”

پھر مجبوری میں وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے نظریں چراتے اپنی اپنی آنکھیں بند کر گئے ۔۔۔”

اور تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی گہری نیند میں چلے گئے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اپنے اوپر کسی بھاری چیز کا بھوج محسوس کرتے زینیہ نے اپنی گہری نیند سے بوجھل آنکھیں کھولیں ۔۔۔”

جو آفتاب کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر پوری کھل گئیں تھیں ۔۔۔”

اس نے آفتاب کے چہرے سے نظریں ہٹا اپنی کمر کی طرف دیکھا ۔۔۔جس پر آفتاب کا بھاری بازو پڑا ہوا ۔۔۔اور پھر ایک نظر اسکی بند آنکھوں کی طرف ۔۔۔

زرباب کدھر گیا ۔۔۔اس نے یونہی پڑے پڑے کمرے میں نظریں دوڑائیں جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا ۔۔۔”

پھر ایک نظر گھڑی کی طرف جو صبح کے سات بجا رہی تھی ۔۔۔”

او مائی گوڈ ۔۔۔”

ٹائم کی طرف دیکھتے اچانک اسکے ہونٹوں سے پھسلا ۔۔۔”لیکن پھر آفتاب کو کسمساتے دیکھ اس نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔

اس نے اپنی کمر پر رکھا اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔۔لیکن ایک تو وہ بہت بھاری سیکنڈ آفتاب نے خود بھی اسے مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔۔۔”

جس سے رہائی پانا کم از کم اس نازک جان کیلئے بہت مشکل تھا ۔۔۔

اب کیا کروں ۔۔۔۔” آفتاب کو سوتے اور خود اسکے شکنجے میں پھنسا دیکھ وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔۔

آفتاب ۔۔۔”

کوئی اور راستہ نظر نا آتے دیکھ ۔۔۔” اس نے دھیرے سے پکارا ۔۔۔لیکن آفتاب شاید گہری نیند میں تھا اس لیے شاید سن نہیں پایا “آفتاب”

اس نے آفتاب کے کندھے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتے پھر سے کوشش کی لیکن نتیجہ صفر ،،،، الٹا اس نے اسے کمر سے تھام کر مزید اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔

اسکی اتنی قربت پر زینیہ کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں ۔۔۔

سوتے میں کتنے پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔کتنے معصوم ۔۔۔

جاگتے ہوئے تو بس ۔۔۔۔نفی میں سر ہلاتے اس نے اپنی نظریں دوبارہ اسکے چہرے پر ٹکائیں ۔۔

اس نے بہت قریب سے اسکے وجیہہ چہرے کا جائزہ لیا ۔۔۔” جسکا ایک ایک نقش بہت پیارا تھا ۔۔۔”

جسے دیکھتے وہ ہوش و حواس کھونے لگی ۔۔۔”

آفتاب کے وجود سے اٹھتی خوشبو اسکی سانسوں میں سماتے اسے بہکانے لگی ۔۔۔اسکی دھیمی چلتی دھڑکنوں کی آواز جو اسکے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے زینیہ کو صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔”

زینیہ کی بےچینی میں اضافہ کرنے لگی ۔۔۔

پہلا نشا پہلا خمار

نیا پیار ہے نیا انتظار

اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے بےخودی میں وہ جھکی اور اپنے مخملی لب دھیرے سے اسکی کشادہ پیشانی پر رکھے ۔۔۔”

اور اسے چند پل محسوس کرنے کے بعد دھیرے سے پیچھے ہوتے دوبارہ اسکے چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔جس کی پوزیشن میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔

زینیہ کے لب دھیرے سے مسکرائے ۔۔۔

زینیہ کی نظریں اسکی پیشانی سے پھسلتی آفتاب کی تیکھی ناک پر آئی تھیں ۔۔۔”

جسے اس نے دھیرے سے اپنے ہاتھ کے پوروں سے چھوا ۔۔۔اور پھر بےخودی میں اسکا ہاتھ آفتاب کی شیوزدہ گال سے ہوتا گھنی مونچھوں تلے اسکے سرخ و سفید لبوں پر آیا ۔۔۔

اسکے ہونٹوں کی نرماہٹ جبکہ مونچھوں کی ہلکی چھبن پر اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگیں ۔۔۔۔”

دوسری طرف اسکے لمس کو کسی اور کا لمس جانتے آفتاب گہری نیند میں بھی دھیرے سے مسکرایا تھا ۔۔۔

اور ساتھ ہی ذینی کی کمر پر گرفت کچھ اور مظبوط کی ۔۔۔

آفتاب کی حرکت پر زینیہ نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔لیکن پھر اسکی گال پر ابھر کر معدوم ہوتے گڑھے کو دیکھتے سب کچھ بھول بھال گئی ۔۔۔

آفتاب کے سحر میں کھوئے ہوئے وہ دھیرے سے اسکی سانسوں کے قریب ہوئی تھی ۔۔۔”

اور اپنی آنکھیں بند کرتے دھیرے سے جھکتے نرمی سے اسکے لبوں کو چھوا ۔۔۔”

آفتاب کی گرم سانسوں کی گرمائش کو محسوس کرتے وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے وہ آفتاب سے دور ہوتی ۔۔۔اس نے ایک ہاتھ سے اپنے سینے میں بھینچتے دوسرا اسکا بالوں میں پھنسایا ۔۔۔

اور دھیرے دھیرے جنبش دیتے اسکے نرم لمس کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔”

آفتاب کی حرکت پر زینیہ کو اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔۔اس نے پیچھے ہونے کی کوشش کی لیکن آفتاب کی گرفت مظبوط ہونے کی وجہ سے کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔

دوسری طرف شاید آفتاب کو اسکی خود سے دور جانے والی حرکت پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔

اس لیے اس نے اسکے نچلے لب کو سختی سے اپنے دانتوں تلے دبایا تھا ۔۔۔جس سے اسکے ہونٹوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی جو منہ پر قفل لگے ہونے کی وجہ سے اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی ۔۔۔”

آفتاب کے بےرحمانہ لمس پر زینیہ کی سانسیں رکنے لگیں ۔۔۔لیکن وہ شاید اس کے نرم لمس میں کھوتے اپنے ہوش و حواس بالکل کھو چکا تھا ۔۔۔

اس لیے ہی تو نا اسے پیچھے ہونے دے رہا تھا اور نا ہی خود سے اسے رہائی دے رہا ۔۔۔

ناجانے کونسا ایسا جنون تھا ۔۔۔جو وہ اپنے لمس کے ذریعے اسکی سانسوں میں اتار رہا ۔۔۔”

لبوں سے اٹھتے جان لیوا درد ،،،، اور سانسیں بالکل بند ہونے پر زینیہ کا نازک وجود نڈھال ہوا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا ۔۔۔۔

جسے اپنے چہرے پر محسوس کرتے آفتاب نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔

اور اپنی محبت کی جگہ زینیہ کو اپنے اتنے قریب دیکھتے اس نے فورا اسے کسی اچھوت کی طرح خود سے دور دھکیلا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *