Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 27)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 27)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
جینی جان ۔۔۔”
زرباب کدھر ہو آپ ؟؟؟؟ میں ادھر ہوں جینی جان آئیں پکلے ( پکڑے ) مجھے ۔۔”
زینیہ نے آواز کے تعاقب میں دیکھا ۔۔۔جہاں زرباب اپنی دونوں بازو پھیلائے کھڑا مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
زینیہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”
اس نے قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔” جسے دیکھتے زرباب نے بھی مسکراتے ہوئے پیچھے کی طرف دوڑ لگائی ۔۔۔”
زرباب رکو جان ۔۔۔”
زینیہ نے اسکے پیچھے بھاگتے پیار سے پکارا ۔۔۔”
جسے سن کر وہ نا چاہتے ہوئے بھی رک گیا ۔۔۔ہونٹوں پر مسلسل خوبصورت مسکراہٹ جبکہ آنکھوں میں معصومیت کے ساتھ شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔
اسکے پیچھے بھاگتے بھاگتے زینیہ کا اپنا سانس بھی پھول چکا تھا ۔۔۔
اس لیے اسکے رکتے ہی وہ بھی رک گئی تھی ۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے تھوڑی دیر سانس لینے لگی ،،،، البتہ نظریں ابھی بھی اپنے سے کچھ دور کھڑے زرباب پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔۔”
چلیں باب جان واپس آ جائیں ۔۔۔میرے پاس مجھ سے اور نہیں بھاگا جائے گا ۔۔۔
الے ( ارے ) جینی جان اتنے میں ہی تھک گئیں ۔۔۔”
زرباب نے جیسے اسکا مذاق بنایا ۔۔۔اور پھر پلٹنے لگا ۔۔۔جب زینیہ نے دوبارہ پکارا ۔۔”
باب جان فورا واپس آئیں میرے پاس ورنہ میں ناراض ہو جاونگی ۔۔۔
اسے اپنی بات نا مانتے دیکھ اس نے جیسے دھمکی لگائی ۔۔۔” جو کہ کارآمد ثابت ہوئی ۔۔۔”
زرباب نے واپس پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔البتہ منہ بنا ہوا تھا ۔۔۔”
یہ بلیت میلند ( بلیک میلنگ ) ہے جینی جان ۔۔۔زینیہ نے اپنی ابھرنے والی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔”
اور پھر بہت محبت سے مسکراتے اس کیلئے اپنے بازو پھیلائے ۔۔۔”
زرباب مسکرایا ۔۔۔”
اور پھر اسکی طرف بھاگا ۔۔۔”
اسے اپنے سینے سے لگانے کیلئے وہ گھٹنے کے بل جھک آئی ۔۔۔”
لیکن یہ کیا ،،،،، اس سے پہلے وہ زینیہ کے قریب آتا ۔۔۔” نیلے آسمان کو کالے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔۔۔”
جس سے ہر طرف عجیب اندھیرہ سا پھیل گیا ۔۔۔
چاروں طرف سے تیز ہوائیں چلنے لگیں ۔۔۔”
زرباب جو اسکی طرف بڑھ رہا تھا ،،،، اسے کوئی چیز پیچھے سے اپنی طرف کھینچنے لگی ۔۔۔”
جسے دیکھتے زینیہ کے دل کی دھڑکنیں تھمی ۔۔۔
زرباب ۔۔”
زرباب کا نام پکارتے وہ اسکی طرف تیز قدموں سے بھاگی ۔۔۔” لیکن ہر لمحے کے ساتھ وہ اس سے دور بہت دور ہوتا چلا گیا ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔
چیخ کر کہتے اس نے اپنی رفتار تیز کی ۔۔۔”
لیکن بہت کوششوں کے باوجود بھی اس تک نہیں پہنچ پائی ۔۔۔”
اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔
اپنی بےبسی پر زینیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔” اس نے اپنے چاروں طرف نظریں دوڑائیں ۔۔۔
لیکن کالے اندھیرے اور ریتلی زمین کے علاوہ اسے دور دور تک کوئی چیز دکھائی نا دی ۔۔۔
جینی جان بچائیں ۔۔۔
تبھی ایک طرف سے اسے زرباب کی چیخ سنائی دی ۔۔۔”
جس میں وہ اسے مدد کیلئے پکار رہا تھا ۔۔۔
زرباب ۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے بیدار ہوئی تھی ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔”
ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس نے اپنے آس پاس دیکھا ۔۔۔” وہ اس وقت اپنے اور آفتاب کے کمرے میں موجود تھی ۔۔”
جہاں اس وقت اسکے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔”
حقیقت کا ادراک ہوتے ہی کہ وہ صرف ایک خواب تھا ۔۔۔اس نے گہرا سانس لیتے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔”
جس پر اسے نمی کا احساس ہوا ۔۔”
جیسے وہ نیند میں ہونے کے باوجود بھی رو رہی تھی ۔۔۔”
زینیہ کا دل یکدم گھبرایا ۔۔۔”
نہیں ایسا کچھ نہیں ہو سکتا ،،،، وہ تو صرف ایک خواب تھا ۔۔۔” نفی میں سر ہلاتے اس نے جیسے خود کو تسلی دینی چاہی ۔۔۔”
لیکن اپنے دل کا کیا کرتی جو ہر لمحے کے ساتھ ڈوبتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔”
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے سائڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا ۔۔۔”
لیکن ایک گھونٹ سے زیادہ وہ بھی اسکے خشک حلق سے نیچے نا اتر سکا ۔۔۔”
اس نے وہ واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔
اسکی نظر گھڑی کی طرف گئی ۔۔۔
جو صبح کے نو بجا رہی تھی ۔۔۔” زینیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ۔۔۔
میں اس وقت تک کیسے سو سکتی ہوں ۔۔۔
سب کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں ،،،، پریشانی سے کہتے ہوئے ،،،، اوپر لیا ہوا کمفرٹر اتار کر ایک سائڈ رکھا ۔۔۔”
ابھی اس نے اپنے قدم بیڈ سے نیچے رکھے تھے ۔۔۔
جب یکدم کمرے کا دروازہ کھول کر زرباب بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا ۔۔۔”
اور اسکے پیچھے ہی آفتاب بھی اندر داخل ہوا ۔۔۔”
آپ اٹھ گئیں جینی جان ؟؟؟
اسکے قریب پہنچتے ہی وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔”
جبکہ اسکے معصوم سوال اور چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھتے وہ بھی نرمی سے مسکرائی ۔۔۔
اور اس نے ایک لمحے کی دیر کیے بنا اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔”
کچھ دیر پہلے جو دل میں اسے کھونے کا ایک ڈر سا اجاگر ہوا تھا ،،، وہ ختم ہوتے دل میں دوبارہ سکون اترنے لگا ۔۔۔”
جینی جان ۔۔۔”
اپنی پریشانی میں وہ اسکے گرد گرفت کچھ زیادہ ہی سخت کر گئی ۔۔۔جس سے گھبرا کر وہ اسے پکار گیا ۔۔۔”
زینیہ ہوش میں آئی اور اسے خود سے الگ کرتے نرمی سے اسکی پیشانی کو چھوا ۔۔۔”
زرباب مسکرایا ۔۔”
مسکراہٹ تو آفتاب کے ہونٹوں پر بھی کھلی تھی انکی محبت دیکھ کر ۔۔۔”
جینی جان آپ جلدی سے فریش ہو جائیں ۔۔۔”
ہم کب شے آپکا ناشتے پر ویت ( ویٹ ) کر رہیں ہیں ۔۔۔”
آپ کو پتا ہے بابا نے آج آفش شے ( آفس سے ) چھٹی کی ہے ۔۔ہمیں گھمانے لیجانے کیلئے ۔۔۔”
اپنی ہلکی توتلی زبان میں بولتے اس نے جیسے زینیہ کی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔۔۔”
زینیہ نے مسکرا کر سر ہلایا اور پھر ایک نظر زرباب کے پیچھے کچھ دوری پر کھڑے آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”
جو مسکراتی نظروں سے انکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
دل میں آیا اسکے ساتھ اپنا خواب شیئر کرے ۔۔۔لیکن پھر اسکی پریشانی کے بارے میں سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے نظریں پھیر گئی ۔۔۔”
آفتاب نے بہت غور سے زینیہ کے اس عمل کو دیکھا ۔۔۔” وہ پریشان لگی اسے ۔۔۔جیسے اس سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ،،،، لیکن کہہ نہیں پا رہی ۔۔”
وہ بھاری قدم لیتا اسکے قریب آ کر بیڈ پر براجمان ہوا ۔۔۔”
زینیہ سب ٹھیک ہے ؟؟؟
اسکے اداس چہرے کو دیکھتے وہ نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر پیار سے پوچھنے لگا ۔۔۔” جبکہ اسکے سوال پر زرباب نے بھی زینیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔” اسے بھی وہ کچھ پریشان لگی ۔۔۔جیسے تھوڑی دیر پہلے اس نے زرباب کو خود میں بھینچا تھا ۔۔۔”
بالکل ایسے جیسے اسے زینیہ سے کوئی چھین کر نا لے جائے ۔۔۔”
زینیہ نے آفتاب کی طرف دیکھتے ایک نظر زرباب کی طرف دیکھا ،،،، پھر ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔”
لیکن آفتاب کو تسلی نا ہوئی ۔۔۔”
زرباب آپ جائیں دادو پاس ،،،، ہم ابھی آتے ہیں کچھ دیر میں ۔۔۔”
جس پر وہ سر ہلاتے دوبارہ باہر چلا گیا تھا ۔۔۔” اس کے جاتے ہی وہ زینیہ کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
اب بتائیں کیا ہوا ؟؟؟
کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔” زینیہ نے جھکی نظروں کے ساتھ ہی نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
آفتاب کے لہجے میں تنبیہ تھی ۔۔۔”
زینیہ کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے ۔۔اس نے نظریں اٹھا کر آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھتے وہ تڑپ ہی تو گیا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ پل میں اس کے سینے کا حصہ بنتی زار و قطار رونے لگی ۔۔۔”جبکہ آنکھوں کے سامنے وہ منظر ابھی تک جاری تھا ۔۔۔جس میں زرباب اچانک غائب ہوا ۔۔۔
زینیہ کیا ہوا جان ؟؟؟؟
اسے زبردستی خود سے الگ کرتے سوالیہ دیکھنے لگا ۔۔”
آفتاب وہ زرباب ۔۔۔”
اتنا کہتے وہ پھر خاموش ہوئی تھی ۔۔۔”
زرباب کیا ؟؟؟
اسکے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتے پیار سے پوچھا ۔۔۔” زینیہ نے دھیرے دھیرے اسے اپنے خواب کے بارے میں بتانا شروع کیا ۔۔۔
جسے آفتاب بہت دھیان سے سن رہا تھا ۔۔”
آفتاب میرا بچہ مجھ سے دور چلا گیا اور میں کچھ بھی نہیں کر پائی ۔۔۔” درد بھرے لہجے میں بولتے وہ دوبارہ اسکے سینے لگی ۔۔۔”
اس خواب کے بارے میں سن کر وہ بھی پریشان ہوا ۔۔۔
لیکن اپنی پریشانی وہ زینیہ کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔اور سب سے بڑی بات وہ صرف ایک خواب تھا ۔۔۔
جسکا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔۔
یہ آفتاب کی سوچ تھی ۔۔۔
لیکن کیا سچ میں ایسا ہی تھا ۔۔۔”
اس نے مسکرا کر زینیہ کو خود سے الگ کیا ۔۔۔”
میں آپکو بیوقوف جو کہتا ہوں ،،،، وہ ہنڈرڈ پرسنٹ سچ کہتا ہوں ۔۔۔”
اسکے آنسوؤں کو صاف کرتے وہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
زینیہ نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
آفتاب ۔۔۔”
اسکے لب بےیقینی سے پھڑپھڑائے ۔۔۔”
کیا آفتاب ۔۔۔
کچھ غلط بولا کیا ۔۔۔یہ کوئی بات ہے رونے والی ۔۔۔جس پر آپ رو رہی ہیں ؟؟؟
لیکن زرباب ۔۔۔”
زینیہ وہ صرف ایک خواب تھا ،،،، جسکا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔۔۔
ابھی آپ نے دیکھا نہیں زرباب آپ کے پاس تھا ۔۔۔بالکل صحیح سلامت پھر ؟؟؟؟
میں جانتی ہوں ۔۔۔لیکن اپنے دل کا کیا کروں۔۔۔” جسے ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا ۔۔۔”
کیونکہ آپ نے اس خواب کو اپنے سر پر سوار کر لیا ہے ۔۔۔”
ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔
اور اگر پھر بھی آپکو سکون نہیں ملتا تو آپ نماز پڑھ کر دعا مانگ لیجئے گا ۔۔۔آپکی ساری پریشانیاں دور ہو جائیں گی ۔۔۔”
اللہ پر تو یقین ہے نا ۔۔۔”
زینیہ نے بلا تردود ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔”
تو بس ۔۔۔اچھا اچھا سوچے ان شاءاللہ اچھا ہی ہوگا ۔۔۔” پیار سے سمجھاتے اسکی پیشانی پر لب رکھے ۔۔۔”
جب زینیہ نے دوبارہ اسکے گرد حصار بناتے اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔۔”
آفتاب نے نرمی سے مسکراتے اسکے گرد بانہوں کا حصار کھینچا ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
جینی جان آ جائیں ،،،، دیکھیں کتنا مزہ آ رہا ہے ۔۔۔”
کیروسل رائڈ لیتے زرباب نے چیخ کر زینیہ کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔” جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
نا باب جان مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔بچپن سے ہی ان چیزوں سے ۔۔۔”
میں نہیں آ سکتی آپ انجوائے کرو ۔۔۔”
اس نے دور سے ہی چیخ کر بتاتے اسے چیئر اپ کیا تھا ۔۔۔”
زرباب نے اسکی بات پر منہ بنایا ۔۔۔لیکن پھر اسکے مسکرانے پر وہ بھی ناچاہتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔”
آفتاب انہیں دن بھر مختلف تفریحی مقامات گھمانے کے بعد شام کے وقت ڈزنی لینڈ لے آیا تھا ۔۔۔
جہاں مختلف جھولوں کے ساتھ ،،،، بچوں کیلئے مختلف گیمز اور انٹرٹیمنٹ کی چیزیں موجود تھی ۔۔۔”
ڈفرنٹ قسم کی کھانے کی اجزا ۔۔۔”
یعنی کے بچوں اور بڑوں کی تفریح کیلئے ہر سہولت وہاں موجود تھی ۔۔۔”
زینیہ زرباب کو رائڈ لیتے ہوئے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جب آفتاب ہاتھ میں دو کورنیٹو کونزلے کر اسکے قریب آیا ۔۔۔” اور بنا مخاطب کیے ہی ایک اسکی طرف بڑھائی ۔۔۔”
زینیہ نے زرباب سے نظریں ہٹا کر آفتاب کے ہاتھ میں موجود ائسکریم کی طرف دیکھا ،،،، کرنیٹو چوکو چپ ۔۔۔”
اور پھر آفتاب کی طرف جو مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہا ۔۔۔”
مجھے یہ فلیور نہیں پسند ،،،،، مجھے پسند ہے ۔۔۔”
اور بس بات وہی ختم ہو گئی ۔۔۔زینیہ نے بنا دوسرا کوئی سوال کیے ریپ کھول کر اسکی فرسٹ بائٹ لی ۔۔۔”
جسے دیکھتے آفتاب کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔”
ویسے میں نے حساب لگایا ،،،، آپ دوسری لڑکیوں سے بہت حد تک مختلف ہیں ۔۔۔۔”
لڑکیاں اکثر جس چیز کی دیوانی ہوتی ہیں ۔۔۔آپ کو انہی سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔”
آفتاب کی بات پر زینیہ نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
جو مخاطب تو اس سے تھا ۔۔۔
لیکن نگاہیں جھولے پر بیٹھے زرباب پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔۔جو انکا دونوں کو ساتھ دیکھ کر دور سے ہاتھ ہلا رہا تھا ۔۔۔”
اصل میں زینیہ کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ یہ آفتاب نے اسکی تعریف کی تھی یا پھر اس پر طنز ۔۔۔”
کیوں آپکو اچھا نہیں لگتا میرا دوسروں سے مختلف ہونا ۔۔۔”
اسکی بات پر آفتاب کے لب مسکرائے ۔۔۔یقینا بہت اچھا لگتا ہے ،،،، لیکن میں چاہتا ہوں میری بیوی بہادر بنے ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی ۔۔۔نا کہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے گھبرانے والی ۔۔۔”
پتا نہیں مجھے بچپن سے ان سب چیزوں سے بہت ڈر لگتا ۔۔۔” بچپن میں بھی مجھے ڈیڈ مختلف پارکز وغیرہ میں لے کر جاتے تھے ۔۔۔
انہوں نے بہت کوشش کی کہ میرے اندر کا ڈر ختم ہو جائے ۔۔۔لیکن یہ ممکن نا ہو سکا ۔۔۔”
پتا نہیں کیوں ۔۔ان سب چیزوں کو دیکھتے ہی میرا دل گھبرانا شروع ہو جاتا ۔۔۔
اس پر بیٹھنا تو دور سوچنے پر بند ہونے کے قریب پہنچ جاتا ۔۔۔”
ایک قسم کا فوبیا ہی سمجھ لیں ۔۔
اور یہ ایسے ہی نہیں ۔۔۔یہ چیز میری ماما سے مجھ میں ٹرانسفر ہوئی ہے ۔۔۔”انہیں بھی ان سب چیزوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔
اور بابا آج تک انکا بھی ڈر ختم نہیں کر سکے ۔۔۔” وہ ساری بات بتاتے جیسے مسکرائی ۔۔۔”
آفتاب نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔۔۔”
اور اگر میں آپکا یہ ڈر ختم کر دوں تو ؟؟؟؟ آفتاب کی بات پر زینیہ کی ائسکریم کی بائٹ جو اس نے ابھی ابھی لی تھی وہ اسکے حلق میں ہی اٹک گئی ۔۔۔”
اس نے حیران نظروں سے آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔” جسکے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی یعنی کے آنے والے خطرے کی علامت ۔۔۔
زینیہ نے بےساختہ نفی میں سر ہلاتے پیچھے کی طرف قدم اٹھائے ۔۔۔جبکہ اسکے ارادوں کو جانتے آفتاب نے لمحے کی دیر کیے بنا اسے اپنے شکنجے میں جکڑا ۔۔۔”
نہیں آفتاب پلیز میں مر جاؤں گی ۔۔۔”
اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ التجایا بولی ۔۔۔” میرے ہوتے ہوئے یہ ناممکن ہے مسز ۔۔۔”
مسکرا کر بولتے اسے زبردستی گود میں اٹھا کر جھولے کی طرف بڑھنے لگے لگا ۔۔۔
جبکہ اسکے ہر قدم کے ساتھ زینیہ کی مزاحمت تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔”لیکن آفتاب پر تو اسکی کسی بھی بات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔”
زینیہ کی چیخ و پکار پر لوگ رک رک کر انکی طرف دیکھنے لگے تھے ۔۔۔”
جبکہ کچھ منچلو نے تو آفتاب کی جرت پر ہوٹنگ بھی سٹارٹ کر دی تھی ۔۔۔”
آفتاب پلیز یہ کوئی مذاق نہیں ہے مجھے سچ میں بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔” میں ساتھ ہوں نا آپکے پھر آپکو ڈرنے کی کیا ضرورت ؟؟؟
لیکن ۔۔۔”
مجھ پر یقین نہیں ہے کیا ؟؟؟
زینیہ نے اسکی بات پر بےبس نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
جو اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا اپنے قدم روک چکا تھا ۔۔۔کہ اگر ایک بار اور اسکے منہ سے انکار کا لفظ نکلا تو اسی وقت اسے چھوڑ دے گا ۔۔۔”
زینیہ بری طرح پھنسی ۔۔۔اسے آفتاب پر جو یقین تھا اپنے ڈر کی وجہ سے نا وہ اسکا اقرار کر پا رہی تھی ۔۔۔
اور نا ہی آفتاب کی ناراضگی کے ڈر سے انکار ۔۔۔”
اسکی خاموشی کو ہی اسکا اقرار جانتے آفتاب نے قدم دوبارہ رولر کاسٹر کی طرف بڑھائے ۔۔۔
جسے دور سے ہی دیکھتے زینیہ کی سانسیں خشک ہو چکیں تھیں ۔
اسے لاکر جھولے میں بٹھاتے آفتاب نے سیٹ بیلٹ باندھنی چاہی ۔۔۔جب اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپاتے زینیہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
آفتاب مسکرایا ۔۔۔”
جان اوپر دیکھیں میری طرف ۔۔۔” اسکا خوبصورت چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے وہ بہت پیار سے بولا تھا ۔۔۔”
زینیہ نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں ۔۔۔”
اس میں رونے والی کونسی بات ہے ۔۔۔۔” میں ہوں آپکے ساتھ ۔۔۔” آپ میری طرف دیکھیں چند لمحوں کیلئے اپنا آپ میرے حوالے کر دیں اور باقی سب بھول جائیں ۔۔۔۔”
اتنا تو کر سکتی ہیں نا ؟؟؟
اسکے لہجے میں ایک مان تھا ،،،، جسے زینیہ چاہ کر بھی نہیں جھٹلا سکی ۔۔۔”
اور اس نے نا چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔
ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔”
آفتاب نے بہت محبت سے اسکی پیشانی کو چوما ۔۔۔اور پھر اسے دوسری سیٹ پر بٹھانے کی بجائے اپنی گود میں ہی کسی بچے کی طرح لیتے ،،،،، دونوں کے اطراف سیٹ بیلٹ باندھی ۔۔۔”
پبلک پلیس میں آفتاب کی اس حرکت پر جہاں وہ سرخ ہوئی تھی وہی اندر ایک تحفظ کا احساس بھی جاگا ۔۔۔”
آفتاب نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے پیٹ کے گرد باندھتے چہرہ اسکے کندھے پر ٹکایا ۔۔۔”
رائڈ کیلئے تیار ہو جائیں ۔۔۔”
تبھی جھولا سٹارٹ ہوا تھا ۔۔۔” جسکی سپیڈ ہر لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔”
زینیہ نے ڈر کر اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لی ۔۔۔البتہ آفتاب کا حصار ہونے کی وجہ سے وہ چاہ کر بھی چیخ نا سکی ۔۔۔”
جان آنکھیں کھولیں ،،،، اور آس پاس دیکھیں ۔۔۔” نہیں پلیز ۔۔۔”
زینیہ اگر آپ آنکھیں نہیں کھولیں گی تو آپکا ڈر کیسے ختم ہوگا ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔”
میرے لیے ۔۔۔”
اور زینیہ ہمیشہ کی طرح یہاں آ کر ہار گئی ۔۔۔”
اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔” اور جھولا جو درمیان میں پہنچتے اپنا رخ چینج کر چکا تھا ۔۔۔”
زینیہ اپنا سر نیچے اور باقی حصہ اوپر کی طرف دیکھتے خود پر سے کنٹرول کھوتے پوری قوت سے چیخنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔”
اسکا دماغ یکدم چکرانے لگا ۔۔۔”
جبکہ دل کی رفتار اتنی تیز کے کسی بھی وقت باہر آ جائے گا ۔۔۔”
آفتاب بچا لیں،،،،میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ۔۔۔” مجھے آپکے ساتھ ابھی ڈھیر سارا جینا ہے ۔۔۔”
پلیز بچا لیں مجھے ۔۔۔یہ رکوا دیں کسی طرح ۔۔۔ورنہ میں مر جاونگی ۔۔۔
مجھے ابھی زرباب کے ساتھ رہنا ہے ۔۔”
اسے بہت سارا پیار دینا ہے ۔۔۔
دادا دادو کی خدمت کرنی ہے ۔۔
اور ابھی تو ہمارے دوسرے بچے بھی اس دنیا میں نہیں آئے ۔۔۔اگر میں ہی زندہ نہیں رہی تو آپکی خواہش کیسے پوری کرونگی ۔۔۔”
آفتاب جو زینیہ کے یوں چیخنے پر پریشان ہو چکا تھا ،،،، اسکی آخری بات پر قہقہہ لگا کر ہنسا ۔۔۔”
کوئی بات نہیں اس کیلئے میں دوسری ،،، نہیں بلکہ تیسری شادی کر لوں گا ۔۔۔”
زینیہ جو ڈر کی وجہ سے مرنے کے قریب تھی ۔۔۔اسکی بات پر جیسے چند لمحوں کیلئے تھم سی گئی ۔۔۔
اس نے حیرت سے چہرہ موڑ کر آفتاب کے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
جس پر گہری مسکراہٹ تھی ۔۔۔”
زینیہ کے سینے میں چھن سے کچھ ٹوٹا ۔۔۔
وہ لڑکی جو اس کیلئے اپنی جان دینے کو بھی تیار تھی ۔۔۔” اسکی یہ وقعت تھی آفتاب کے دل میں ۔۔۔کتنا سنگدل تھا ۔۔۔کتنی آسانی سے بول گیا میں تیسری شادی کر لوں گا ۔۔۔”
زینیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو موتی کی طرح ٹوٹ کر بکھرا ۔۔۔”
جسے بےمول ہونے سے پہلے آفتاب نے لوگوں کی پرواہ کیے بنا اپنے ہونٹوں سے چنا ۔۔۔”
زینیہ کا تھمنا وہ بھی محسوس کر چکا تھا ۔۔۔”
اس لیے اپنے لمس سے وہ اپنی ہی مذاق میں بولی گئی بات کا اثر زائل کرنا چاہتا تھا ۔۔۔”
لیکن کامیاب نا ہو سکا ۔۔۔”
زینیہ نے اس سے دوری بناتے بےرخی سے اپنا چہرہ پھیر لیا ۔۔۔”
اور تب تک جھولا بھی رک چکا تھا ۔۔۔۔”
اس لیے بنا وقت ضائع کیے سیٹ بیلٹ کھولتے وہ لمحے کی دیر کیے بنا اسکے حصار سے نکلتی نیچے اتر کر زرباب کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔”
جبکہ پیچھے ایک چھوٹی سی بات کو لے کر اسکے ناراض ہونے پر آفتاب نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”
لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ جو بات اس کیلئے بہت معمولی تھی وہ زینیہ کیلئے موت اور زندگی کا سوال ۔۔۔”
آفتاب جنون تھا اسکا ۔۔۔اور وہ کسی طور یہ بات برداشت کرنے کو تیار نہیں تھی کہ اسکی پہلی بیوی کا بھی کوئی عکس اسکی زندگی میں باقی رہے ۔۔۔۔”
کجا کہ وہ اسکے ہوتے ہوئے تیسری کے بارے میں سوچتا ۔۔۔۔
اس بات نے زینیہ کے دل کو کافی ٹھیس پہنچائی تھی ۔۔۔” اس لیے وہ اب اس سے اچھی خاصی ناراض ہو چکی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہاں مکمل نظر رکھو ان لوگوں پر ۔۔۔
اور موقع دیکھتے ہی پلان سر انجام دے دو ۔۔۔” فون کے سپیکر سے زہریلی آواز گونجی تھی ۔۔۔”
اوکے میم ۔۔۔
جسکے جواب میں اسے تسلی بخش جواب دیتے فون بند کر دیا گیا تھا ۔۔۔
آفتاب ملک ،،،، آفتاب ملک ۔۔۔
چھ سال پہلے تو تم نے اپنے بچے کو بچا لیا ۔۔۔لیکن اب نہیں بچا پاو گے اور نا خود بچ پاو گے ۔۔۔”
زہر خند لہجے میں بولتے ۔۔۔
اس نے خوفناک قہقہہ لگایا ۔۔۔”
آفتاب کی بہت کوششوں کے باوجود بھی زینیہ تھی کہ مان کر ہی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔”
ہار کر آفتاب نے انہیں گھر جانے کا اندھیا دیا ،،،، اور ویسے بھی پورا دن وہ لوگ بہت گھوم چکے تھے ۔۔۔”
اب وہ خود بھی تھک چکا تھا ۔۔۔
اس لیے واپسی میں عافیت جانی ۔۔۔جبکہ زینیہ کو منانے والا کام وہ گھر پہنچنے کے بعد رات میں کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔
وہ بھی اپنے طریقے سے ۔۔۔”
تم لوگ یہاں ٹھہرو ۔۔۔میں ابھی پارکنگ سے گاڑی لے کر آتا ہوں ۔۔۔” ان دونوں کو ویٹ کرنے کا بولتے وہ پارکنگ ایریا کی طرف بڑھا ۔۔۔”
ابھی وہ لوگ کھڑے آفتاب کا انتظار ہی کر رہے تھے کہ یکدم انکے قریب آ کر ایک سفید وین رکی ۔۔۔”
اور پلک جھپکتے ہی اس میں موجود لوگوں نے زرباب کو اندر کی طرف کھینچا ۔۔۔”
زینیہ جس نے زرباب کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔۔۔اس اچانک پڑنے والی افتاد پر بھونچا کر رہ گئی ۔۔۔
لیکن اس کے باوجود بھی اس نے زرباب کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔۔۔بلکہ اور سختی سے تھامنا چاہا ۔۔۔”
ہے چھوڑو کون ہو تم لوگ ۔۔۔اور کیوں لے کر جا رہے ہو میرے بچے کو ۔۔۔
زرباب کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتی وہ چیخی ۔۔۔
جب ایک غنڈے نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتے زرباب کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کیا اور اسکے ساتھ ہی وہ وین سٹارٹ ہو گئی ۔۔۔”
زینیہ کو لگنے والا دھکا اتنا شدید تھا کہ زینیہ اپنا توازن برقرار نا رکھتے سڑک پر گری ۔۔جبکہ اسکا سر فٹ پاتھ کی نکڑ سے ٹکرایا ۔۔۔
جس سے اسکے سر سے خون بہنے لگا ۔۔۔اور ساتھ ہی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھانے لگا ۔۔۔”
جبکہ زرباب کی پکار ،،،، مسلسل اسکے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
جینی جان بچائیں مجھے ،،،، جینی جان ۔۔۔
جسکی وجہ سے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔”
لیکن کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔”
نتیجتاً اپنے ہوش گنواتے لہرا کر دوبارہ گرنے لگی ۔۔۔تبھی دو مظبوط بازوؤں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔۔”
