Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 30)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 30)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
کیسے ہو آفتاب ملک ؟؟؟؟
پیچھے گاڑیوں کی آواز سنتے پتا چل رہا ہے ۔۔۔کہ ابھی تک سڑکوں کی خاک چھان رہے ہو ۔۔۔”
بہت افسوس ہوا ۔۔۔جان کر ،،،،، آفتاب کے فون اٹینڈ کرتے ہی دوسری طرف سپیکر سے ایشال کی تمسخرانہ آواز گونجی ۔۔۔” آفتاب نے لب بھینچ کر گاڑی میں اپنے ساتھ بیٹھے رومان شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
جیسے کہنا چاہتا ہو ۔۔۔لو دیکھ لو میں غلط نہیں تھا ۔۔”
رومان نے گردن کو خم دیتے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”
ایشال احمد ۔۔۔”
آفتاب ملک کے لہجے میں جیسے آگ سلگ رہی تھی ۔۔۔”
جبکہ اسکے لہجے کی کاٹ کو محسوس کر لینے کے باوجود بھی اس نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔”
چہ چہ چہ اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والا آفتاب ملک اپنے بیٹے کی حفاظت نہیں کر سکا ۔۔۔”
اس نے صاف لفظوں میں آفتاب ملک کا مذاق اڑایا ۔۔۔
تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم میرے بیٹے کو سہی سلامت واپس کر دو ۔۔۔ورنہ میں جو تمہارا حشر کرونگا ۔۔۔”
نا ،، نا ،، نا آفتاب ملک
دھمکی نہیں ۔۔۔”
ورنہ اس کا انجام تمہارے بیٹے کو بھگتنا ہوگا ۔۔۔”
اسکی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے ۔۔۔وہ مسکراتے لہجے میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے غصے کی زیادتی سے اپنی مٹھیاں بھینچی ۔۔۔”
تم جیسی گھٹیا عورت میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی ۔۔۔”
جو اپنی ہی اولاد کو اپنی ضد اور انا کے بھینٹ چڑھا دے ۔۔۔”
شرم تو نہیں آ رہی ہوگی یہ سب کچھ کرتے ہوئے مجھے تو تمہارے لیے یہ الفاظ بھی چھوٹے ہی لگ رہے ہیں ۔۔۔”اوہوو۔۔۔۔ میں بھی کس سے شرم کی بات کر رہا ہوں ۔۔”
ارے جس عورت کو اپنی عزت کا پاس نہیں وہ کہاں اپنی اولاد کی کوئی فکر کرے گی ۔۔۔
ارے تم تو ناگن کہلوانے کے قابل بھی نہیں ہو ناگن تو مصیبت پڑنے پر یا بھوک لگنے پر اپنے بچے کھاتہ ہے پر ۔۔۔۔۔
ایشال احمد تم تو بس تم ہو تمہارے لیے ہر الفاظ کم ہیں۔۔۔۔”
میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی تم ایشال احمد ۔۔۔جو میں نے تم جیسی عورت کو اپنی زندگی میں شامل کیا ۔۔۔
بلکہ تم تو عورت کہلانے کے بھی لائق نہیں ۔۔۔”
وہ جب غصے میں بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ایشال کو اسکی باتوں پر طیش تو بہت آیا پر پھر سر جھٹک کر ایسے بن گئی کہ جیسے اسے اسکی کسی بھی بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا ۔۔۔
وہ اب مسکراتے ہوئے اسکی باتیں سن رہی تھی ۔۔”
ہو گیا تمہارا ۔۔۔” اب میری بات دھیان سے سنو ۔۔۔ اگر اپنے بیٹے کہ خیریت چاہتے ہو تو تمہیں میری کچھ شرائط پوری کرنی ہوگی آفتاب کے خاموش ہونے پر وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔۔۔”
آفتاب نے ایشال کی بات پر موبائل سے نظریں ہٹا کر رومان کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔”
جس نے آنکھوں کے اشارے سے ہامی بھرنے کو بولا ۔۔۔”
اور اگر وہ نا کہتا تو ۔۔۔آفتاب ملک کیلئے اس دنیا کی کوئی بھی چیز اسکے بیٹے سے بڑھ کر نہیں تھی ۔۔۔
زرباب کے بدلے اگر وہ اس سے اسکی زندگی بھی مانگتی تو وہ کبھی انکار نہیں کرتا ۔۔۔”
بولو ؟؟؟؟
انتہائی سپاٹ لہجہ ۔۔۔”
پچاس کروڑ روپے کیش وہ بھی امریکن ڈالرز میں ۔۔۔” اور اسکے ساتھ امریکہ میں موجود تمہارا گھر میرے نام کرنا ہوگا ۔۔۔”
وقت تمہارے پاس صرف آج رات تک ۔۔۔”
اگر تم نے میری ڈیمانڈ پوری کرنے میں دیری کی اور کل کا دن طلوع ہو گیا تو اسکے ساتھ ہی تمہارے بیٹے کی زندگی کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو جائے گا ۔۔۔”
منظور ہے ۔۔۔”
گڈ مجھے تم سے یہی امید تھی ۔۔۔آفتاب کے ہامی بھرتے ہی وہ مسکرا کر بولی ۔۔
وقت اور جگہ کا پتا تمہیں میسج پر بتا دیا جائے گا ۔۔۔”
پیسے اور ڈاکومنٹ تم اکیلے لے کر آو گے ۔۔۔
اور اگر تم نے کوئی ہوشیاری کرنے یا پولیس کو ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی تو اسی وقت تمہارا بیٹا ۔۔۔۔”
اسکے ادھورے جملے میں وارننگ تھی ۔۔۔”
آفتاب نے سرخ رنگ ہوئی آنکھوں سے رومان شاہ کی طرف دیکھا ،،،، جس نے اسے آنکھوں سے ہی تسلی دی تھی ۔۔۔
لیکن زندگی میں پہلی بار ایک ماں کا ایسا گھناونا روپ دیکھ رومان شاہ کو بنا ملے بھی ایشال احمد سے نفرت ہوئی تھی ۔۔”
مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے ۔۔لیکن اگر تمہاری وجہ سے میرے بیٹے کے وجود پر ایک کھروچ آئی تو ،،،، یاد رکھنا ایشال احمد تمہارے وجود کے اتنے ٹکڑے کروں گا ،،،، کہ تمہیں اپنے پیدا ہونے پر افسوس ہوگا ۔۔۔۔”
نا نا نا دھمکی نہیں میرے پیارے آفتاب ۔۔۔
تم ابھی اس حالت میں نہیں ہو کے مجھے جانے یعنی ایشال احمد کو دھمکا سکو ۔۔۔
کہیں تمہارے بولے گئے الفاظ کا بھگتان تمہارے بیٹے کو نا کرنا پڑ جائے ۔۔۔
ایشال احمد جان لے لوں میں تمہاری ۔۔۔”
ایشال کی بکواس پر وہ اپنی پوری قوت سے دھاڑا تھا ۔۔”
جس پر ایک پل کیلئے اسکے ساتھ بیٹھا رومان بھی دہل گیا تھا ۔۔۔جبکہ ایشال کے ہاتھوں سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا ۔۔۔
اسے آفتاب ملک کے پاگل پن سے خوف آیا تھا ۔۔۔”
لیکن وہ ڈھیٹ ہڈی سنبھلنے کی بجائے سر جھٹکتے ہوئے دوبارہ اس سے مخاطب ہوئی ۔۔۔
میری نظر ہے تم پر ہر وقت ۔۔۔پولیس میں کرائی گئی اپنی رپورٹ واپس لو ۔۔۔اور باقی کا کام بھی سٹارٹ کرو ۔۔۔وقت بہت کم ہے تمہارے پاس مائی ڈیئر ایکس ہزبینڈ ۔۔مکرو قہقہہ لگاتے ہوئے وہ فون بند کر چکی تھی ۔۔۔”
جبکہ آفتاب نے غصے سے فون ڈیش بورڈ پر پھٹکا ۔۔۔”
ریلکس یار ۔۔۔
ہم ہینڈل کر لینگے ۔۔۔”اسکے غصے کو دیکھتے ہوئے رومان شاہ نے آفتاب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔”
چھوڑوں گا نہیں میں اس عورت کو ،،،، آفتاب ملک کو چھیڑنے کا انجام یہ ساری زندگی بھگتے گی ۔۔۔”
ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتے اس نے گاڑی آفس کے راستے پر ڈالی تھی ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شام کے کوئی چار بجے آفتاب ملک کی گاڑی ملک مینشن میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔”
جسکی آواز سنتے لاؤنج میں بیٹھی زینیہ نے دروازے کی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔”
اور آفتاب کو اکیلے ہی اندر آتے دیکھ اسکے سنہرے کانچ ایک بار پھر بھیگے ۔۔۔
زرباب ؟؟؟؟
اس کے لہجے میں تڑپ تھی ۔۔”
بیٹے کی جدائی میں سلگتی ہوئی ممتا کا درد تھا ۔۔۔”
آفتاب نے اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔”
رات تک آپکا بیٹا آپکے پاس ہوگا ۔۔۔”
رات تک کیوں آفتاب ؟؟؟ ابھی کیوں نہیں ؟؟؟ اس نے تڑپ کر الگ ہوتے سوال کیا تھا ۔۔۔”
مجھے میرا بیٹا ابھی چاہیے ۔۔۔
پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ اسکے قدموں میں ہی بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔ایک تو اسکی طبیعت پہلے سے ہی ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔
اوپر سے سلمی ملک کے لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ حلق سے ایک نوالہ تک اتارنے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔
انہوں نے بہت کوشش کی ،،، پیار سے سمجھایا کہ آفتاب زرباب کچھ نہیں ہونے دے گا ۔۔۔”
تمہیں اپنی طبیعت کا خیال کرنا چاہیے ۔۔۔لیکن اسکی ایک ہی ضد تھی کہ جب تک آفتاب زرباب کو گھر واپس نہیں لے کر وہ کچھ بھی نہیں کھائے گی ۔۔۔
اصل میں زرباب کے اغوا ہونے کا ذمہ دار وہ خود کو ٹھہرا رہی تھی ۔۔۔
کہ اسکی لاپرواہی کی وجہ سے ہی وہ آج ان سب سے بہت دور تھا ،،،، اور یہ بات اسے ایک پل کیلئے بھی چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔۔
زینیہ ۔۔۔”
اسکی خراب ہوتی طبیعت کو دیکھتے آفتاب نے فورا جھک کر اسے بازوؤں میں تھاما ۔۔۔”
سب میرا قصور ہے ۔۔میں ہی اسکا ٹھیک سے خیال نہیں رکھ پائی ۔۔۔” اللہ تعالٰی نے مجھے اشارہ دیا تھا ۔۔۔
لیکن میں بیوقوف اسے سمجھ ہی نہیں پائی ۔۔۔”
ہمیں اسے باہر لے کر ہی نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔۔سب میری غلطی ہے ۔۔۔پتا نہیں کس حال میں ہوگا میرا بچہ ۔۔۔
میری بیوقوفی کی سزا بھگت رہا ہوگا ۔۔۔”
کچھ نہیں کیا آپ نے ؟؟؟؟ سنا آپ نے
اسے خاموش نا ہوتے دیکھ آفتاب نے پوری قوت سے دھاڑتے تقریبا اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔
جس پر سہم کر زینیہ نے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
کچھ نہیں کیا آپ نے ۔۔۔اس لیے اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرانا بند کریں ۔۔۔
آفتاب ۔۔۔”
اسکے بھیگے لہجے کو محسوس کرتے اس نے لاؤنج میں بیٹھے افراد کی پرواہ کیے بنا ہی اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔”
جس کے ساتھ لگتے ہیں اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی ۔۔”
شش چپ کر جائیں ۔۔۔
آپ کو میری قسم اگر آپ نے ایک بھی اور آنسو بہایا تو میں اس پوری دنیا میں لگا دوں گا ۔۔۔”
آپ کے یہ بہتے ہوئے آنسو میرے اندر چل رہے طوفان کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں ۔۔۔
میں خود پر کیا ہوا کنٹرول کھوتا جا رہا ہوں ۔۔۔”
اور اگر ایک بار میرے ہاتھ سے یہ ضبط کا دامن چھوٹ گیا ،،، تو پھر بس ہر طرف تباہی مچے گی ۔۔۔”
میں صحیح اور غلط کا ہر فرق مٹا دونگا ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔”
اسکے لہجے آگ کو محسوس کرتے وہ سہم کر اسے پکار گئی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے اسکے آنسوؤں بھیگے متورم چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔” اور پھر نرمی سے جھک کر اسکے پلکوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو ہونٹوں سے چنا ۔۔۔”
سب کے سامنے آفتاب کی اس حرکت پر زینیہ کا چہرہ سرخ پڑا ۔۔۔
آپ میری طاقت ہیں ۔۔۔یوں رو کر خود کو کمزور ثابت مت کریں ۔۔۔میرا وعدہ ہے کہ آج تک زرباب آپکے پاس ہوگا وہ بھی بالکل سہی سلامت ۔۔۔”
لیکن اس سے پہلے آپکو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا ۔۔۔کہ آپ اب بالکل بھی نہیں روئے گی ۔۔۔
بلکہ اللہ تعالٰی سے دعا کرینگی ۔۔۔کہ وہ ہمارا بیٹا ہمیں صحیح سلامت لٹا دے ۔۔۔
اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے بہت محبت سے بولا تھا ۔۔۔” جس پر
زینیہ نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔۔”
جسے دیکھتے آفتاب نے اسے اٹھا کر قدم اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔
جبکہ اسکے سب کے سامنے ایسے بےباک مظاہروں پر زینیہ نے شرما کر اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا ۔۔۔
آفتاب کے ہونٹوں کو نامعلوم سی مسکراہٹ نے چھوا ۔۔”
اس نے لاؤنج سے گزرتے ہوئے جہانزیب ملک کو آنکھوں سے ہی اشارہ کیا تھا ۔۔
جسے سمجھتے انہوں نے اسے سب کچھ ریڈی ہونے اندھیا دیا ۔۔۔”
جس پر سر ہلاتا ہوا زینیہ کو لے کر اوپر کی طرف بڑھ گیا ۔۔”
جبکہ پیچھے سب گھر والوں نے آسودگی سے مسکراتے اپنے بچوں کی خوشیوں کی دعا تھی ۔۔۔”
آفتاب کے زینیہ کی یوں پرواہ کرتے دیکھ سلمی اور جہانزیب ملک یہاں ان دونوں کی طرف سے مطمئن ہوئے تھے ۔۔۔
وہی آفتاب کے اس بدلے ہوئے روپ کو دیکھتے عائشہ ملک نے حیرانی سے زوہیب ملک کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔”
چند دنوں میں ایسی کایا پلٹ ۔۔۔ان کیلئے یقین کرنا کافی مشکل تھا ۔۔۔
اپنی بیگم کے حیران چہرے کو دیکھتے زوہیب ملک نفی میں سر ہلاتے مسکرائے تھے ۔۔۔”
میں نے تو پہلے بولا تھا بیگم ۔۔۔”
انہوں نے مسکرا کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے انہیں جیسے یقین دلایا تھا ۔۔۔”
کہ انہوں جو ابھی کچھ دیر پہلے دیکھا وہ حقیقت ہی تھا ۔۔۔آفتاب ملک سچ میں بدل چکا تھا ۔۔۔انکی بیٹی کی محبت نے اس پتھر کو موم کر دیا تھا ۔۔۔”
جبکہ عائشہ ملک کی آنکھوں میں فورا آنسو اتر آئے تھے ۔۔۔”
انہیں یہاں اپنے بیٹی کو اسکی محبت مل جانے نے پر خوشی ہوئی تھی ۔۔۔وہی زرباب کے یوں گم ہو جانے پر دل سے ہوک اٹھی تھی ۔۔۔”
اب تو لبوں پر بس ایک ہی دعا تھی ۔۔۔”کہ زرباب یہاں کہیں بھی تھا ،،،، اللہ تعالٰی اسے سہی سلامت واپس لٹا دیں ۔۔۔تاکہ وہ بھی اپنی بیٹی کی مکمل خوشی دیکھ کر مطمئن ہو سکیں ۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
گھر آنے سے پہلے ہی وہ ایشال کی شرط کے مطابق پیسوں کا انتظام کر آیا تھا ۔۔۔
جبکہ ملک فیملی کی جتنی بھی پروپرٹیز ملک کے اندر اور باہر تھیں ۔۔۔ان سب کے کاغذات جہانزیب ملک کے پاس انکے کمرے میں موجود ایک خاص لاکر میں رکھے گئے تھے ۔۔۔
جنکے بارے میں وہ انہیں پہلے ہی فون کر کے بتا چکا تھا ۔۔۔کہ انکے آنے تک وہ کاغذات نکال دیں ۔۔۔”
اور اسکے ساتھ ساتھ شعیب کے ساتھ مل کر پولیس والا معاملہ بھی دیکھ لیں ۔۔۔”
تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں نے یہ پلان بنایا تھا ۔۔۔کہ آفتاب ملک اپنی گاڑی میں پیسے اور پروپرٹی کے کاغذات اکیلا لے کر ایشال کی بتائی ہوئی لوکیشن پر جائے گا ۔۔۔”
جبکہ رومان اور آیت اپنی گاڑی میں کچھ دوری سے اسے فالو کریں گے ۔۔۔اس کیس میں چونکہ ایک عورت مجرم تھی ۔۔۔جو رومان نے آیت کو ساتھ لانا ہی مناسب سمجھا ،،،، مردوں کے مقابلے وہ اسے اچھے ہینڈل کر سکتی تھی ۔۔۔”
جبکہ آفتاب کی گاڑی کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ میں پہنی گئی واچ میں بھی ایک چپ لگائی گئی تھی ۔۔۔کہ اگر راستے میں کہیں وہ اسے گاڑی بدلنے کا بولے ۔۔
تو وہ آسانی سے اسکی لوکیشن ٹریس کر سکے ۔۔۔”
اور اسکے علاوہ ،،،، جب وہ لوگ حالات پر کچھ قابو پا لیں تو اسی وقت شعیب وہاں پولیس اپنے ساتھ لے کر آئے ۔۔۔تاکہ ایشال سمیت اسکے ساتھیوں کو گرفتار کرتے انہیں انکے انجام تک پہنچایا جا سکے ۔۔۔”
زینیہ کو ہلکی پھلکی غذا کھلانے کے بعد آفتاب نے اسے میڈیسن دی تھی تاکہ وہ کچھ دیر آرام کر سکے ۔۔۔اور خود وہ شاور لے کر فریش ہوتا ۔۔۔”
اپنے بیٹے کو اس گھٹیا عورت کے چنگل سے چھڑوانے کیلئے دل میں اپنے رب سے اسکی حفاظت کی دعا کرتا جہانزیب ملک سے پروپرٹی کے کاغذات لیتے گھر سے نکلا تھا ۔۔۔”
جس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی زینیہ نے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔”
آفتاب نے جو اسے میڈیسن کے ساتھ نیند کی گولی دی تھی ۔۔۔اسے کھانے کی بجائے آفتاب سے نظر بچا کر اس نے سائڈ ٹیبل کی دوسری طرف پھینک دی تھی ۔۔۔”
آفتاب جب شاور لے رہا تھا ۔۔۔تو اس کا فون جو سائڈ ٹیبل پر ہی رکھا تھا اس پر آیا ۔۔۔رومان کا میسج پڑھتے ۔۔۔جس میں سب ریڈی کی نوید سنائی گئی تھی ۔۔۔
اسے دیکھتے ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا وہ آفتاب کو اکیلے کسی صورت نہیں جانے دے گی ۔۔۔
تبھی آفتاب کو واشروم سے نکلتے دیکھ وہ آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئی ۔۔۔”
اور جب اسے یقین ہو گیا ۔۔۔کہ آفتاب کمرے سے نکل گیا ہے تو وہ خود بھی اٹھ کر اسکے پیچھے نکلی تھی ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آفتاب کی گاڑی ایک سنسان سڑک پر آ کر رکی تھی ۔۔۔”
یہاں کا پتا اسے میسج پر بتایا گیا تھا ۔۔۔اس نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔”
جو شام کے سات بجا رہی تھی ۔۔۔
اور ایشال نے اسی ٹائم پر اسے اس جگہ پہنچنے کا بولا ۔۔۔”
آفتاب نے اپنی کرسٹل گرے آنکھوں سے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔۔یہاں دور دور تک کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔”
نیلے افق پر پھیلی نارنجی روشنی کو دیکھتے یہاں پرندے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔۔۔وہی بچی کچی روشنی کو اپنے لپیٹ میں لیتے ۔۔۔رات نے آسمان پر اپنے پر پھیلانے شروع کر دیے تھے ۔۔۔”
سڑک کے دونوں اطراف گھنا جنگل تھا ،،،، جس میں سے رات ہوتے ہی مختلف جانوروں کی ڈراؤنی آوازوں آنی شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔”
آفتاب کو ایشال کا انتظار کرتے کرتے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہو چلا تھا۔۔۔” لیکن دور دور تک اسکے آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔۔۔
اور مشکل یہ تھی کہ جس نمبر سے اس نے رابطہ کیا تھا وہ ایک پرائیویٹ نمبر تھا ۔۔۔جس پر وہ خود سے اس سے رابطہ بھی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔”
آفتاب کی گاڑی سے کہیں دو میل پیچھے ایک سڑک کنارے ایک بلیک گاڑی کھڑی تھی ۔۔۔جس میں رومان اور آیت اپنی مکمل شناخت مکمل طور پر چھپاتے کسی اور ہی روپ میں موجود تھے ۔۔۔
کہ بہت غور سے دیکھنے کے باوجود بھی انہی کوئی پہچان نا پائے ۔۔
انکی نظر مسلسل ہاتھ میں پکڑے ٹیب پر ٹکی تھی ۔۔۔جس پر آفتاب کی لوکیشن شو ہو رہی تھی ۔۔۔جو تقریبا دو گھنٹے سے ایک ہی جگہ پر موجود تھی ۔۔۔”
جسے دیکھتے اب تو انہیں تشویش سی لاحق ہونے لگی تھی ۔۔۔کہ کہیں ایشال کو انکے پلان کے بارے میں پتا تو نہیں چل گیا ۔۔۔”
لیکن مجبوری یہ تھی کہ آفتاب کے کسی اشارے کے بنا وہ کوئی ایکشن بھی نہیں لے سکتے تھے ۔۔۔
ان کے پاس کوئی راستہ نہیں سوائے ایک انتظار کے ۔۔۔”
دوسری طرف زینیہ جو انکے پلان سے واقف تھی ۔۔اسکی نظر انکی گاڑی پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔”
کیونکہ آفتاب نے آگے جاتے ۔۔۔اس گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں خاص اشارہ کیا تھا ۔۔۔
جسکا مطلب تھا کہ آفتاب کے ساتھی یہی لوگ تھے ۔۔۔
وہ چاہتی تو سیدھا بھی آفتاب کے پیچھے جا سکتی تھی ۔۔لیکن یہاں معاملہ زرباب کا تھا ۔۔۔”
جس پر وہ کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتی تھی ۔۔۔”
اور نا یہ چاہتی تھی کہ اسکی وجہ سے آفتاب کا پلان خراب ہو ۔۔۔اس وجہ سے وہ بھی مجبوری میں انتظار کی سولی پر لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔”
سوئی نے جب رات کے نو بجائے ۔۔۔اور کالے اندھیرے نے مکمل آسمان لپیٹ میں لے لیا تو آفتاب کو اپنی طرف ایک گاڑی آتی ہوئی دکھائی تھی ۔۔۔”
جو سیدھا اسکے قریب آ کر رکی تھی ۔۔۔”
اس سے نکلتے دو غنڈے جن کے ہاتھوں میں گنز پکڑ رکھی تھی ۔۔۔اس کی طرف آ کر انہوں نے دروازے کے شیشے پر ناک کیا ۔۔اور ہاتھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
آفتاب نے چند لمحوں کیلئے انہیں سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔” اور پھر پاس رکھا بریف کیس اٹھا کر گاڑی سے باہر نکل آیا ۔۔۔”
ان غنڈوں نے اسکے ہاتھ میں بیگ کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتے گن سے ہی آگے چلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔”
جسے خاموشی سے مانتے ہوئے وہ انکے کہے پر عمل کرنے لگا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف آفتاب کو حرکت میں آتے دیکھ گاڑی میں بیٹھے ہوئے رومان اور آیت بھی حرکت میں آئے تھے ۔۔۔”
انہوں نے ایک دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھتے گاڑی آگے کی طرف بڑھائی تھی ۔۔۔جسکے پیچھے ہی زینیہ نے بھی گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ لوگ آفتاب کو اپنی گاڑی میں بٹھاتے ،،،، شہر سے تھوڑا دور یہاں نئی عمارات کا کام جاری تھا ۔۔۔
ان میں سے ایک بلڈنگ میں لے آئے تھے ۔۔۔”
چاروں طرف ریت اینٹ اور بجری کے ٹیلے لگے ہوئے تھے ،،،، آفتاب نے بہت غور آس پاس جگہ کا جائزہ لیا تھا ۔۔۔”
پھر سیمنٹ اور اینٹوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اس بلڈنگ کی چوتھی منزل پر آئے تھے ۔۔۔
جبکہ ہر قدم کے ساتھ ساتھ آفتاب کے چہرے کے تاثرات سخت سے سخت ترین ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔”
آفتاب کو ایک جگہ پر روکتے ایک غنڈہ اپنے ساتھی کو اسکا خیال رکھنے کا اشارہ کرتے سامنے بنے ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔”
جبکہ دوسرے نے اپنی گن مسکراتے ہوئے اسکی کمر پر ٹکائی تھی ۔۔۔”
جسے محسوس کرتے آفتاب کے ہونٹوں پر طنزیہ بکھری ۔۔۔”
چاروں طرف صرف اندھیرے کا راج تھا ،،،،، ایسے میں رومان اور آیت نے اپنی گاڑی ان عمارات سے کافی دور کھڑی تھی ۔۔۔
اور دبے پاؤں بنا آواز اس عمارت کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔جس کی چوتھی منزل پر ہلکی ہلکی روشنی دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔”
اور انکے پیچھے پیچھے ۔۔۔ان دونوں کی نظروں میں آئے بنا زینیہ بھی آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔”
عمارت کے قریب پہنچتے رومان اور آیت ایک ریت کی ٹیلے کے پیچھے چھپ کر آس پاس کا جائزہ لینے لگے تھے ۔۔۔
یہاں عمارت کے باہر ہاتھوں میں گنز تھامیں تین غنڈے پہرا دے رہے تھے ۔۔۔”
رومان نے آیت کو یہی چھپے رہنے کا اشارہ کرتے ۔۔۔خود زمین پر رینگتا ہوا آگے بڑھا ۔۔۔
اور عمارت کے اندرونی حصے میں پہنچتے ان غنڈوں کی نظروں میں آئے بنا ایک پلر کے ساتھ جڑ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔”
یہاں ایک غنڈہ منہ سڑک کی طرف کیے ۔۔۔پہرہ دے رہا ۔۔۔جبکہ دوسرا اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ۔۔۔اور تیسرا عمارت میں اندر داخل ہونے والی سیڑھیوں پر ۔۔۔
رومان نے آنکھوں میں چمک لیے اپنے شکار کو دیکھا ۔۔۔اور پھر بنا آواز کیے ایک ہاتھ سے اسکی گردن اور دوسرے سے اسکے منہ کو دبوچتے ۔۔۔جس سے اسکے ہونٹوں سے نکلنے والی چیخ اندر ہی کہیں دب کر رہ گئی تھی ۔۔۔یکدم اسکی گردن کو جھٹکا دیتے ۔۔۔اس نے ایک لمحے میں اسکا کام تمام کر دیا تھا ۔۔۔اسے گھسیٹ کر ایک ٹھکانے لگائے ۔۔۔وہ دبے پاؤں دوسرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔”
جو پہلے ہی کسی آہٹ کو محسوس کر چکا تھا ۔۔۔”
رومان کے قریب پہنچتے ہی اس نے پلٹتے اس پر گن تانی ۔۔۔” رومان نے لبوں کو او کی شیپ میں واہ کرتے اسے مسکراتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔” اور اس سے پہلے وہ اپنی کو آواز دیتا ۔۔۔
ہاتھ میں پہنے گلووز کے نیچے چھپائے چاقو کو نکالتے لمحے کی دیر کیے بنا اسکی گردن پر پھیرا ۔۔۔”
وہ لہرا کر زمین پر گرا ۔۔۔” جس سے سیڑھیوں پر کھڑا انکا ساتھی چونکا ہوا اور اس سے پہلے وہ پلٹ کر اس پر وار کرتا ،،،، ایک گولی اسکے دماغ کو چیرتی ہوئی دوسری طرف نکلتی چلی گئی ۔۔۔”
اور وہ ڈھیر ہو گیا ۔۔۔”
رومان نے پلٹ کر اپنے پیچھے دیکھا ۔۔۔۔” یہاں آیت ہاتھ میں سلینسر لگی گن کے ساتھ کھڑی مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔”
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد رومان نے اسے شریر نظروں سے دیکھتے فلائنگ کس پاس کی ۔۔۔
جس پر ایک پل کیلئے وہ سٹپٹائی ۔۔۔لیکن پھر اسے تیز نگاہوں سے گھورا ۔۔۔”
جس پر مسکراتے ہوئے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا اوپر کی طرف بڑھا ۔۔۔”
جبکہ زینیہ نے اس خون خرابے کو دیکھتے بمشکل اپنی نکلنے والی چیخ کو روکا ۔۔۔”
آفتاب نے اپنی نظروں کو گھماتے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔۔” تبھی سامنے والے کمرے سے مسکراتی ہوئی ایشال باہر نکلی تھی ۔۔۔”
اور اسکے پیچھے ہی وہی غنڈہ جو کچھ دیر پہلے اندر گیا تھا ۔۔۔”
ویلکم ٹو مائی ڈیئر ایکس ہزبینڈ ۔۔”
آپکی موت خود آپ کا استقبال کرتی ہے ۔۔۔”
آفتاب کی آنکھوں میں دیکھتے ایشال نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔جبکہ آفتاب نے اسکی بات سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
