Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 06)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آفتاب جہانزیب ملک کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔

جب اسکی نظر کچن کی طرف جاتی زینیہ کی پشت پر پڑی ۔۔۔۔زینیہ کو دیکھتے اسکا غصہ ایک بار پھر عود کر آیا تھا ۔۔۔۔

جس کے زیر اثر وہ فلوقت اس سے بات کرنے کیلئے اسکے پیچھے کچن کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

واو زبردست آخر آپ نے اپنی کوششوں سے پورے گھر والوں کو اس رشتے کیلئے راضی کر لیا ۔۔۔۔ویریگڈ

ویل پلیڈ ۔۔

ذینی نے ابھی پانی کا گلاس اپنے مخملی لبوں سے لگایا تھا جب اسے اپنے پیچھے آفتاب کی طنز بھری آواز سنائی دی ۔۔۔۔

اس نے حیرت سے پلٹ کر اس دشمن جان کو دیکھا ۔۔۔پھر نفی میں سر ہلا کر مسکرائی ۔۔۔۔

تھینکس ۔۔۔

تو پھر مانتے ہیں نا میرے ٹیلینٹ کو ۔۔۔۔وہ کونسا کم تھی ۔۔۔لبوں پر حسین مسکراہٹ سجائے اس نے آفتاب کو آگ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔

جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔

نو ڈاوٹ ۔۔۔

بٹ یو نو وٹ ۔۔۔۔ان سب کے باوجود بھی آپ مجھے ایمپریس نہیں کر پائیں ۔۔۔

اسکا انداز کافی حد تک تمسخرانہ اڑاتا ہوا تھا ۔۔۔۔

اور یہ آپ نے جو میرے پیرینٹس کے ایموشنز سے کھیل کر انہیں اپنی طرف کیا ہے ۔۔۔۔اگر آپکو لگتا ہے کہ میں آپکے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہار جاؤں گا ۔۔۔

تو یہ آپکی سب سے بڑی بھول ہے مس زینیہ ملک کہ میں فیملی کے دباؤ میں آ کر آپ جیسی لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہو جاؤں گا ۔۔۔۔

کیوں مسٹر آفتاب ملک مجھ میں ایسی کیا برائی ہے ،،،، جو آپ مجھ جیسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتے ؟؟؟؟

اسکی بات کا بنا برا منائے زینیہ نے پلٹ کر سوال کیا ۔۔۔

اچھائی کیا ہے ،،،، آپ میں جو میں آپ سے شادی کر لوں ؟؟ آپ سے دل و جان سے محبت کرتی ہوں اور کیا چاہتے ہیں آپ ؟؟؟؟

ہنننن’’ محبت “

ذینی کی بات پر وہ تمسخرانہ مسکرایا ۔۔۔

دھوکا ہے صرف دل کو بہلانے کا ۔۔۔

ایسا آپکو لگتا ہے ورنہ محبت تو زندگی ہے ،،،، جو دو روحوں کو ایک کرتی ہے ۔۔۔

وہ نرمی سے کہتے ہوئے اسکے بےحد قریب آ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

جبکہ ہونٹوں پر دل موہ لینے والی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی ۔۔آفتاب نے چند پل کیلئے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا ۔۔۔جس پر بلا کا سکون تھا ۔۔۔اسکی آنکھوں سے پھوٹتی محبت کی کرنیں ،،،، چند پل کیلئے آفتاب کو اسکے ماضی میں لے گئیں ۔۔۔

ایک وقت تھا جب وہ بھی ایسے ہی کسی سے اپنی محبت کا اظہار کیا کرتا تھا ۔۔۔

اپنی محبت کو سینے سے لگا کر اس پر اپنی شدتیں نچھاور کیا کرتا تھا ۔۔۔

لیکن بدلے میں اسے کیا ملا تھا دھوکا ،،،، فریب ،،،، مکاری ۔۔۔

جو اسکی خوشیوں بھری زندگی کو مکمل اندھیروں میں ڈبو گئی ۔۔۔کہ وہ آج اپنی پرچھائی تک پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔

تو زینیہ کی محبت پر یقین کیسے کر لیتا ۔۔۔

اس نے گہرا سانس کھینچ کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

دیکھیں زینیہ ،،،، میں اپنے حصے کی محبت کر چکا ہوں ،،،، اور اسکے بدلے جو مجھے انعام ملا ہے ،،،، اس نے مجھ میں اتنی ہمت نہیں چھوڑی کہ یہ بازی میں ایک بار پھر سے کھیلوں ۔۔۔

ویسے بھی جو آپکو میرے بارے میں محسوس ہو رہا ہے وہ صرف ایک اٹریکشن ہے محبت نہیں ،،،، اس ایج میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ،،،، بہت سی چیزوں کی کشش ہمیں اپنی طرف اٹریکٹ کرتی ہے جس سے ہم اپنے اندر الگ احساسات کو محسوس کرتے ہیں لیکن اب ہم ہر اس احساس کو محبت تو نہیں بول سکتے نا ۔۔۔

پھر بھی مجھے آپکے جذبات کی قدر ہے ۔۔۔لیکن معذرت کے ساتھ کہ میں آپکا یہ پروپوزل ایکسپٹ نہیں کر سکتا ۔۔

کیونکہ میرے اندر اب ویرانیوں کے سوا کچھ نہیں بچا ،،، جو میں خوشیوں کے نام پر آپکی جھولی میں ڈال سکوں ۔۔۔

امید ہے کہ آپ مجھے سمجھیں گی ؟؟؟

غصے سے بات نا بنتے دیکھ آفتاب نے اب کہ نرمی سے سمجھانا چاہا ۔۔۔

جس سے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے ذینی کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔اور وہ دونوں کے درمیان کا فاصلہ مٹاتے مزید آفتاب کے قریب ہوئی ۔۔۔

ان ویرانیوں میں ہی تو خوشیوں کے پھول کھلانا چاہتی ہوں ۔۔۔آپکے اندر پھیل چکے اندھیروں کو ختم کر کے اس میں اپنی محبت کے دیپ جلانا چاہتی ہوں ۔۔۔

اگر آپکو میرے احساسات کی سچ میں قدر ہے تو مجھے اپنی زندگی میں شامل ہونے کی اجازت دے دیں ۔۔۔

وعدہ کرتی ہوں اپنی محبت کے بدلے کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی ۔۔۔

کبھی آپکو خود سے محبت کرنے کیلئے مجبور نہیں کرونگی ۔۔۔کبھی کوئی شکایت نہیں کرونگی ،،،، بس ایک بار ۔۔۔

اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر آفتاب کی آنکھوں میں دیکھتے اس نے بات ادھوری ۔۔۔

جبکہ اسکو پھر وہی بات کرتے دیکھ آفتاب کا غصہ ایک بار پھر سوا نیزے پر پہنچا ،،،، جسکے چلتے اس نے اپنے سینے پر رکھے اسکے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے دونوں کے درمیان فاصلے کو بڑھایا ۔۔۔

اصل میں آپ ایک پاگل لڑکی ہیں ۔۔۔جنہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی ۔۔۔جب میں آپکو جواب دے چکا ہوں کہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی تو کیوں آپ زبردستی کرنے پر تلی ہیں ۔۔۔

کیا ثابت کرنا چاہتیں ہیں یہ سب کر کے ،،، کہ آپکو مجھ سے بہت محبت ہے ۔۔۔نہیں زینیہ ملک یہ محبت نہیں بلکہ ضد ہے ،،،، جسے آپ مجھے حاصل کر کے پورا کرنا چاہتیں ہیں ۔۔۔

بٹ سوری ٹو سے ۔۔۔میں آپکی یہ ضد کبھی پوری نہیں ہونے دونگا ۔۔۔

کیونکہ میرا وجود کوئی کھلونا نہیں ہے ،،، جسے آپ اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے استعمال کریں ۔۔۔

آفتاب آپ مجھے غلط ،،،، بالکل صحیح سمجھ رہا ہوں میں ۔۔۔

اسے غصے میں آتا دیکھ زینیہ نے کچھ کہنا چاہا جب وہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی درمیان میں کاٹتے اسے خاموش کروا چکا تھا ۔۔۔

میں آپکو پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب پھر سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔کہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ،،،، اور نا ہی یوں زور زبردستی کر کے آپ مجھے شادی کیلئے فورس کر سکتیں ہیں تو بہتر یہی ہوگا ،،،، آپ خود قدم پیچھے ہٹا لیں ۔۔۔ورنہ مجھے اور بھی بہت سے طریقے پتا ہیں ۔۔۔

اس کا لہجہ بےحد سنجیدگی لیے ہوئے تھا ۔۔۔

آپکا یہ آخری فیصلہ ہے ؟؟؟؟

آفتاب کے سخت لہجے پر ذینی نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

جی بالکل بڑی مہربانی ہوگی ۔۔۔اگر آپ میری جان چھوڑ دیں ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ معافی کی صورت اسکے سامنے جوڑتے ہوئے وہ تلخی سے گویا ہوا ۔۔۔

جس سے زینیہ کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تھی ۔۔۔

لیکن اس نے اپنے ان آنسوؤں کو آنکھوں سے بہنے نہیں دیا تھا ۔۔۔

البتہ قدم پیچھے کی طرف ضرور اٹھا چکی تھی ۔۔۔

آفتاب نے چند پل کیلئے اسکے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھا اور پھر پلٹ کر وہاں سے جانے لگا ۔۔۔

جب زینیہ نے شیشے کا گلاس جو پانی پینے کے لیے پکڑ رکھا تھا کھینچ کر کچن کی سلیب پر مارا ۔۔۔

جس سے وہ ٹکڑوں میں بٹ کر کچھ نیچے فرش اور کچھ سلیب کے اوپر بکھر گیا ۔۔۔

گلاس ٹوٹنے کی آواز سنتے ،،،، آفتاب نے پلٹ کر سنجیدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

جن میں دیکھتے ہوئے وہ درد بھری مسکراہٹ سے مسکرائی تھی ۔۔۔اور اس سے پہلے آفتاب کچھ سمجھتا ۔۔۔زینیہ نے کانچ کا ایک ٹکڑا اٹھا کر تیز رفتاری سے باری باری اپنی دونوں کلائیوں پر پھیرا تھا ۔۔۔

جس سے اسکے ہونٹوں سے ایک سسکاری برآمد ہوئی تھی ،،، لیکن اسکے باوجود بھی وہ آفتاب کی طرف دیکھتے مسکرائے جا رہی تھی ۔۔۔ البتہ دونوں ہاتھوں سے خون بل بل بہتا جا رہا تھا ۔۔۔

آفتاب نے حیران نظروں سے اسکے اس عمل کو دیکھا ۔۔۔ہوش تو تب آیا جب خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ذینی اپنے حواس کھوتے فرش پر گرنے لگی ۔۔۔

جسے تیز قدموں سے آگے بڑھتے اس نے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔

یہ کیا کیا بیوقوف لڑکی ؟؟؟؟

اسکے دونوں ہاتھوں سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے اس نے سختی سے ڈانٹا اور ساتھ ہی اپنی جیب سے رومال نکالتے اسکی ایک کلائی پر باندھا جبکہ دوسری پر اپنا ہاتھ رکھتے خون روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔

آپ نے ہی تو بولا تھا ۔۔۔کہ آپکی جان چھوڑ دوں ۔۔۔

درد میں ہونے کے باوجود بھی ذینی کے ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ تھی ۔۔۔

آفتاب نے اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر اسکی کلائیوں سے بہتے خون کی طرف ۔۔۔

جان چھوڑنے کو بولا تھا دنیا نہیں ۔۔۔

جس دنیا میں آپکا ساتھ نا ملے وہاں اکیلے جی کر کیا کرونگی ۔۔۔

درد سے بےحال ہونے کے باوجود مسکرا کر نرمی سے جواب دیا ۔۔۔آفتاب نے حیرت سے اس مخروطی حسن کے مجسمے کو دیکھا ۔۔۔آخر کس چیز کی کمی تھی اس میں ،،،، وہ جس پر بھی ہاتھ رکھتی اچھے سے اچھا آئیڈیل شخص بھی اس سے شادی کرنے کو تیار ہو جاتا ۔۔۔

پھر وہ اسکے ہی کیوں پیچھے پڑی تھی ۔۔۔

ایک ایسا شخص جو عمر میں اس سے اتنا بڑا تھا ایک بچے کا باپ تھا ۔۔۔آخر دکھا کیا تھا اس میں زینیہ کو ۔۔۔

جو وہ اس کیلئے اپنی جان دینے کو تیار ہو گئی ۔۔۔

تو کیا سچ میں یہ مجھ سے محبت ؟؟؟

نہیں صرف ضد ہے ۔۔۔اور ضد میں انسان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔

یہ سوچ آتے ہی آفتاب نے سختی سے اپنے لب بھینچے تھے ۔۔۔اور پھر ایک نظر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جسکی آنکھیں اب بند ہونے لگیں تھیں ۔۔۔

وہ نفی میں سر ہلاتے اسے گود میں اٹھا کر باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

سب لوگ اس وقت ہاسپٹل کے کوریڈور میں ایمرجنسی روم کے باہر کھڑے تھے ۔۔۔

جسکے دروازے کے اس پار مشینوں میں جکڑی زوہیب ملک کی جان زندگی اور موت کے درمیان میں جھول رہی تھی ۔۔۔

اور باہر زوہیب ملک کی سانسیں بند ہونے کی قریب تھیں ۔۔۔

جنہیں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ عائشہ ملک بمشکل ہی سنبھال رہی تھیں ۔۔۔

جبکہ انکے برعکس جہانزیب ملک کی نظریں آفتاب کے جھکے سر پر ٹکی ہوئیں تھیں جو فرش پر نظریں جمائیں غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا ۔۔۔

زینیہ کو ہسپتال پہنچانے کے بعد ۔۔جب ڈاکٹرز نے اسکی حالت سیریس بتائی تو اس نے زینیہ کے ماں باپ کو انکی بیٹی کے بارے میں انفارم کرنا مناسب سمجھا ۔۔۔

جنہوں نے آتے ہی آفتاب سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔۔۔

اور آفتاب نے بنا ایک بھی بات چھپائے سچ سچ اپنے اور ذینی کے درمیان ہونے والی تمام باتیں بتا دی ۔۔۔

جسے سنتے ایک غصے کی لہر انکے وجود میں سرائیت کر گئی ۔۔۔لیکن اپنی بیٹی کی حالت کو دیکھتے انہوں نے فلحال اسے کچھ بولنے سے گریز ہی کیا تھا ۔۔۔

البتہ جہانزیب نے ضرور دبے دبے لفظوں میں اسکی غلطی کا احساس دلانا چاہا ۔۔جنکی باتیں وہ خاموشی سے سر جھکا کر سن چکا تھا ۔۔۔

چار پانچ گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر آئے تھے ۔۔۔

جنہیں دیکھتے ہی زوہیب ملک فورا انکی طرف بڑھے ۔۔۔

ڈاکٹر میری بیٹی ؟؟؟؟

جبکہ انکی بےچینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نرمی سے مسکرائے تھے ۔۔۔

اب خطرے سے باہر ہے ۔۔۔

انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے تسلی دینی چاہی ۔۔۔

جس پر گہرا سانس کھینچتے زوہیب ملک نے اپنی آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔جن سے تشکر کے آنسو بہتے ہوئے انکی گھنی داڑھی میں جذب ہو گئے ۔۔۔

یہ خبر سنتے ہی وہاں موجود سبھی افراد کے اندر جیسے سکون اترا تھا ۔۔۔وہی جہانزیب ملک بھی عائشہ اور زوہیب کی طرف دیکھتے نرمی سے مسکرائے تھے ۔۔

البتہ آفتاب نے ڈاکٹر کی بات سنتے اپنا جھکا سر اٹھایا ۔۔۔اور ان سب کے چہروں پر سجی مسکراہٹ کو سپاٹ نظروں سے دیکھتے ہوئے ۔۔۔تیز قدموں سے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

اپنے بیٹے کی حرکت پر جہانزیب ملک نے افسوس سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا اور پھر عائشہ اور زوہیب کی طرف جنہوں نے آفتاب کے جانے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا ۔۔۔

انکا سارا دھیان تو اپنی جان سے پیاری بیٹی کی طرف تھا ۔۔۔جسکی طبعیت اور مکمل صحت یابی کے بارے میں وہ ڈاکٹر سے دریافت کر رہے تھے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

صبح تقریبا فجر کے وقت آفتاب نے ملک مینشن میں قدم رکھے تھے ۔۔۔جب اسکی نظر لاؤنج میں بیٹھیں سلمی بیگم اور انکے ساتھ زرباب پر پڑی ۔۔۔جس نے اپنا سر سلمی بیگم کی گود میں رکھا ہوا تھا ۔۔۔

جبکہ آنکھیں بند تھیں ۔۔اور سلمیٰ بیگم ہاتھ میں تسبیح پکڑے وظائف میں مصروف تھی،،،، ساتھ نرمی سے زرباب کے بال بھی سہلا رہی تھیں ۔۔۔

السلام وعلیکم ۔۔”

بھاری قدم لے کر انکے قریب آتے آفتاب نے دھیمی آواز میں سلام کیا تھا ۔۔تاکہ زرباب کی نیند خراب نا ہو ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔”

ناراض لہجے میں جواب دیتے انہوں نے اسکے وجیہہ چہرے پر پھونک ماری تھی ۔۔۔

آفتاب نے چونک کر انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

اور کافی حد تک انکی ناراضگی کے پیچھے کی وجہ بھی سمجھ چکا تھا ،،، اور اس سے پہلے وہ اپنی صفائی میں کچھ بولتا آفتاب کی آواز سنتے زرباب بھی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔”

بابا جینی جان تیشی ( کیسی ) ہیں اب ؟؟؟

آفتاب کی طرف دیکھتے زرباب نے پہلا سوال یہی کیا تھا ۔۔۔

جس پر اس نے اپنے لب بھینچے ۔۔۔

آج میرا چیمپ اتنی جلدی کیسے اٹھ گیا ؟؟؟

اسکے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اسکے قریب براجمان ہوتا زرباب کو اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے بولا ۔۔۔

بابا میں تو دادو کے شاتھ روج (ساتھ روز ) اسی ٹائم اٹھتا ہوں ۔۔۔نماز تیلیے ( کیلئے )۔۔

آپ کو نہیں پتا کیا ؟؟؟

آفتاب کی طرف دیکھتے اسکی جانکاری میں اضافہ کرتے ،،، کہ وہ روز نماز پڑھتا ہے۔۔ ساتھ سوال بھی کیا تھا ۔۔۔

آفتاب نے حیرت سے سلمی بیگم کی طرف دیکھا ۔۔

جنہوں نے اپنی ناراضگی قائم رکھتے بس سر ہلانے پر اتفاق کیا تھا ۔۔۔

ماشاءاللہ ۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔مسکرا کر بولتے اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔

بابا آپ نے بتایا نہیں جینی کیشی ( زینی کیسی ) ہیں ۔۔

آپ کو پتا ہے اللہ تعالٰی چھوٹے بچوں کی دعائیں جلدی قبول کرتے ہیں ۔۔۔اس لیے میں نے اللہ تعالٰی شے ( سے ) ان تیلیے ( کیلئے ) شپیشل ( سپیشل )پریئر کی تھی ۔۔۔تاکہ اللہ پاک انہیں جلدی جلدی تھیک ( ٹھیک ) کر دیں ۔۔۔

بتائیں نا جینی کیشی ہیں ؟؟؟؟

زینیہ کا ذکر آتے ہی آفتاب کے تاثرات پل میں دوبارہ سپاٹ ہوئے تھے ۔۔۔

لیکن پھر اپنے معصوم بیٹے کے چہرے کی طرف دیکھتے اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔

دو حرفی جواب دیتے اسے صوفے پر منتقل کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

نماز کا وقت جا رہا ہے ۔۔۔میں نماز ادا کر لوں ۔۔۔

نرمی سے کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔جبکہ پیچھے زرباب کو پیار کرتے ہوئے سلمی بیگم نے پرسوچ نظروں سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا تھا ۔۔۔

زینیہ کی اس حرکت کے پیچھے کی وجہ اور اسکی حالت کے بارے میں جہانزیب ملک انہیں پہلے ہی فون کر کے سب تفصیل سے بتا چکے تھے ۔۔۔

جبکہ اپنے بیٹے کی حرکت پر انہیں افسوس نے گھیرہ تھا ،،،، جسکی وجہ سے وہ ہنستی کھیلتی بچی پل میں موت کے منہ میں چلی گئی تھی ۔۔۔لیکن انکے بیٹے کو اب بھی اپنی غلطی کا ذرا احساس نہیں تھا ۔۔۔

اسی وجہ سے انہوں نے آفتاب سے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی ،،،، اور جب تک وہ زینیہ سے شادی کیلئے ہاں نہیں بول دیتا انکی یہ ناراضگی یونہی قائم رہنے والی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

زوہیب ملک نرمی سے دروازہ دھکیل کر پرائیویٹ روم میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔جہاں ان کی زندگی دواوں کے زیر اثر سو رہی تھی ۔۔۔

اسکے ایک ہاتھ میں ابھی بھی ڈرپ لگی ہوئی تھی جبکہ دونوں نازک کلائیوں پر سفید پٹی تھی ۔۔۔

گلاب جیسا چہرہ چند گھنٹوں میں ہی جیسے مرجھا گیا تھا ۔۔۔جسے دیکھ انکا دل بری طرح کٹا ۔۔۔

انہوں نے بہت ناز اور محبت سے پالا تھا اپنی بیٹی کو ۔۔۔بالکل کسی آبگینے کی طرح ۔۔۔ڈانٹنا تو بہت دور کی بات کبھی اونچی آواز میں بات تک نہیں تھی ۔۔۔

اور آفتاب نے کیسے اسکا دل توڑا تھا جسکی وجہ سے وہ اس حالت کو پہنچی تھی ۔۔۔

اگر ان کا بس چلتا تو اپنی بیٹی کے ایک ایک آنسو اور خون کی بوند کا حساب لیتے ۔۔۔

لیکن وہ بےبس تھے ،،،، وہ چاہ کر بھی کوئی ایسا فعل انجام نہیں دے سکتے تھے ۔۔۔

کیونکہ ان سب میں اسکی کوئی غلطی نہیں تھی وہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک تھا ۔۔۔

غلطی تو انکی بیٹی کی تھی ۔۔۔جس نے ایک پتھر دل سے دل لگایا تھا اور آج اسکا انجام بھی بھگت رہی تھی ۔۔۔

انہیں تو اب اپنے پاکستان واپس آنے کے فیصلے پر بھی پچھتاوا ہو رہا تھا نا وہ یہاں واپس آتے نا ذینی آفتاب سے ملتی اور نا ہی یہ سب ہوتا ۔۔۔

لیکن انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔وہ زینیہ کو چھٹی کے بعد ملک مینشن میں نہیں لے کر جائیں گے ۔۔

ویسے بھی انکے گھر کے رینوویشن کا کام مکمل ہو چکا تھا ۔۔۔اور وہ کچھ دنوں میں وہاں شفٹ ہونے والے تھے لیکن اب جو حالات تھے ۔۔۔وہ ایک پل کیلئے بھی آفتاب سے زینیہ کا سامنا نہیں کروانا چاہتے تھے ۔۔۔

اس لیے ہاسپٹل سے چھٹی کے بعد وہ سیدھا اپنے گھر جانے والے تھے جسکے بارے میں وہ جہانزیب ملک کو بھی آگاہ کر چکے تھے ۔۔۔

انہوں نے تو آفتاب کی حرکت پر شرمندہ ہوتے اسکی طرف سے زوہیب سے معذرت طلب کی تھی ۔۔۔

جس پر انہون فورا انکے ہاتھ تھامتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

بھلا ان سب میں جہانزیب ملک کی کیا غلطی تھی ۔۔۔انہوں نے تو ہمیشہ زوہیب ملک کو بیٹوں جیسا ہی مان اور پیار دیا تھا ۔۔۔

پھر وہ اپنے باپ سمان چچا کو کیسے معافی مانگنے دیتے ۔۔۔الٹا انہوں نے جہانزیب ملک کے سامنے اپنی بیٹی کی حرکت کی وجہ سے ہاتھ جوڑ دیے تھے ۔۔۔

اور ساتھ اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تھی ۔۔۔جس پر وہ چاہ کر بھی انہیں روک نہیں پائے تھے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

چند پل زینیہ کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنے کے بعد وہ بھاری قدم لیتے اسکے قریب آئے تھے ۔۔۔

اور پھر پاس رکھی کرسی پر براجمان ہوتے بہت نرمی اور محبت کے ساتھ اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا ۔۔”

اپنے ڈیڈ کو معاف کر دینا میری جان ۔۔۔جو چاہ کر بھی آپکی یہ خواہش پوری نہیں کر پائے ۔۔۔”

اور ساتھ اسکے ہاتھوں پر بندھی پٹی کو دیکھتے آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔

اپنے ہاتھ پر انکے ہونٹوں کے لمس اور نمی کو محسوس کرتے ہوئے ۔۔۔زینیہ نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔

لیکن سب دھندلا دکھائی دینے کی وجہ سے جلد ہی دوبارہ بند کر گئی ۔۔۔

زینیہ ۔۔۔”

اسکی پلکوں کی جنبش کو محسوس کرتے زوہیب ملک نے نرمی سے پکارا تھا ۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔”

زینیہ کے ہونٹوں سے بےنام سی سرگوشی برآمد ہوئی ۔۔۔اور ساتھ ہی بند آنکھوں سے آنسو بھی بہہ نکلے تھے ۔۔۔

جس پر وہ تڑپ ہی تو گئے تھے اس لیے وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھتے اسکے چہرے کے قریب ہوئے ۔۔۔

ڈیڈ کی جان ۔۔۔دیکھیں ڈیڈ آپکے پاس ہیں ؟؟؟

اسکے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر بولے ۔۔۔

زینیہ نے گھومتے ہوئے سر کے ساتھ دوبارہ اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور اپنے ڈیڈ کو اپنے قریب دیکھتے ہوئے تڑپ کر روتے ہوئے انکے سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔

ڈیڈ آفتاب ۔۔۔”

ہچکیوں کے ساتھ روتے اب بھی اسکے ہونٹوں پر بس ایک ہی نام تھا ۔۔۔

پلیز روئیں مت میری جان ۔۔۔ایسے رو کر کیوں اپنے ڈیڈ کو تکلیف دے رہی ہیں ۔۔۔

ڈیڈ ،،، وہ آفتاب ،،،، وہ بول رہے تھے ،،،، وہ مجھ سے شادی نہیں کرینگے ۔۔۔

کیا میں اتنی ،،،،بری ہوں ۔۔۔

آنسوؤں کے درمیان اٹک اٹک کر بولتے ہوئے اپنے اندر کے درد کو باہر نکالنا چاہا ۔۔۔

نہیں میری بیٹی تو بہت اچھی ہیں ۔۔۔

اسکے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتے وہ مسکرائے تھے ۔۔۔

پھر ،،، وہ ایسا کیوں بول رہے تھے ۔۔۔ڈیڈ انہیں لگتا ہے ،،،، یہ صرف میری ضد ہے ۔۔۔

آپ سمجھائیں نا انہیں کہ یہ میری ضد نہیں محبت ہے ۔۔۔” میں بہت محبت کرتی ہوں ان سے نہیں رہ سکتی ان کے بنا ۔۔۔

زینیہ بیٹا ،،،، میری بات سنے ۔۔۔زینی کو ایک ہی بات بار بار کرتے دیکھ وہ اسے تکیے کے سہارے ٹھیک سے بٹھاتے ہوئے نرمی سے اسکا ہاتھ تھامتے پیار سے بولے ۔۔۔”

ذینی نے نم پلکیں اٹھا کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔”

میں جانتا ہوں ۔۔۔کہ میری بیٹی سچ بول رہی ہے ۔۔اور یہ بھی کہ آپکی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں ۔۔۔

لیکن بیٹا ضروری تو نہیں کہ آپ جس سے محبت کریں بدلے میں وہ بھی آپ سے ویسی ہی محبت کرے ۔۔۔

اور نا بیٹا ہم کسی کو زبردستی خود سے محبت کرنے کیلئے مجبور کر سکتے ہیں ۔۔۔

اس لیے آپ میری بات مانے اور آفتاب کا خیال اپنے دل سے نکال دیں ۔۔۔

نہیں ڈیڈ ،،،، یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ،،،،، ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔اپنا ہاتھ انکے ہاتھ سے کھینچتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

زینیہ آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔

ڈیڈ میں کچھ نہیں جانتی مجھے کچھ نہیں سمجھنا ۔۔۔

مجھے بس آفتاب چاہیے ۔۔۔آپ نے تو بولا تھا نا آپ انہیں راضی کرینگے پھر اب کیوں مجھے بول رہیں ہیں میں انہیں بھول جاؤں ؟؟؟

ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔

ذینی کی بات پر زوہیب نے بےبس نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔

زینیہ بیٹا وہ راضی نہیں ہیں اس رشتے کیلئے ہم انکے ساتھ زبردستی تو نہیں کر سکتے نا ۔۔۔

لیکن ڈیڈ آپ ایک بار کوشش تو کریں ۔۔۔وہ ضرور مان جائیں گے ۔۔۔

میں نے کوشش کی تھی ۔۔۔اور اسکا انجام بھی میرے سامنے ہے ۔۔۔اور مزید یہ بات چھیڑ کر میں اپنی جان کو اور نقصان نہیں پہنچاوا سکتا ۔۔

آپ غلط سمجھ رہیں ہیں ڈیڈ اس میں آفتاب کی کوئی غلطی نہیں ۔۔۔انہوں نے ایسا کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔

وہ تو میں ہی اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ۔۔۔

اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ۔۔۔سہی ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے آپ نے ایک بار بھی اپنے مام ڈیڈ کے بارے میں نہیں سوچا ۔۔۔اگر آپکو کچھ ہو جاتا تو کیا کیا کرتے ہم ۔۔۔

ہماری تو عمر بھر کی ریاضت لٹ جاتی ۔۔۔

آفتاب کی محبت اتنی ضروری ہو گئی آپ کیلئے ۔۔۔کہ اس کے پیچھے آپ اپنی ماں باپ کی محبت کو پل میں فراموش کر گئیں ۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔”

بہت مایوس کیا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔” میں نے آپکو یہ تو نہیں سکھایا تھا ۔۔۔

اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو پیچھے کرتے پل میں اس سے دور ہوئے تھے ۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔آپ میری بات تو ۔۔۔۔

آپ بچے اپنے جذبات میں اپنے بڑوں کی محبت انکے پیار اور جذبات کو بالکل ہی فراموش کر جاتے ہیں ۔۔۔

خود کو نقصان پہنچانے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے کے آپکے اس قدم سے ہمیں کتنی تکلیف ہوگی ۔۔۔

آپ کیلئے تو بس آپکی محبت ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔۔۔لیکن جنہوں نے بچپن سے آپ کے روشن مستقبل کے اپنی آنکھوں میں خواب سجائے ہوتے ہیں ۔۔۔

یہاں تک کہ آپکے بڑے ہوتے ہوتے ان ماں باپ کی آنکھیں بوڑھی ہو جاتیں ہیں ۔۔۔

جب ان خوابوں کی تعبیر کا وقت آتا ہے ۔۔۔

جب انہیں آپکے سہارے اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔تو اپنی خواہشات اور محبت کیلئے آپ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔۔۔”

اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ بنا کر اپنی جان تک دینے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔۔۔

لیکن ایک بار بھی ان ماں باپ کے بارے میں نہیں سوچتے جن کی سانسیں ہی آپکی وجہ سے چل رہی ہوتیں ہیں ۔۔۔

وہ آپکے بغیر کیسے جیے گے ،،، انہیں کون سہارا دے گا ۔۔۔آپکو ایک بار بھی خیال نہیں آتا ۔۔۔

نہیں ڈیڈ پلیز ایسا مت بولے ۔۔۔

زوہیب ملک کو روتے اور خود سے دور جاتے دیکھ زینیہ نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔

میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔

نہیں کرتیں آپ مجھ سے محبت ۔۔۔اگر کرتیں ہوتیں تو ایسا فعل کبھی انجام نہیں دیتیں ۔۔۔

زینیہ کی بات پر اب کے غصے سے بولے تھے ۔۔۔لیکن اسکے باوجود بھی لہجہ دھیما اور شفقت لیے ہوئے تھا ۔۔۔

سوری ۔۔۔” معاف کر دیں ۔۔۔اپنی بیٹی کو ۔۔۔”

انکے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے وہ رو کر التجا کرتی بولی ۔۔۔

جس پر فورا آگے بڑھ کر انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔

بس میرا بچہ اور نہیں رونا اور نا ہی آئندہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا ورنہ آپکے ڈیڈ جیتے جی مر جائیں گے ۔۔۔

اسے اپنے سینے میں بھینچتے ذینی کے ساتھ وہ بھی دوبارہ رونے لگے تھے ۔۔۔

ان کیلئے وہ لمحہ اور درد لفظوں میں بیان کر پانا مشکل تھا جب آفتاب نے زینیہ کے بارے میں بتاتے انہیں ہاسپٹل آنے کا بولا تھا ۔۔۔

ایک پل کیلئے ایسا لگا جیسے زینیہ کے ساتھ انکی اپنی سانسیں بھی تھم جائینگی ۔۔۔

سوری ڈیڈ ۔۔۔” میں آئندہ ایسا نہیں کرونگی ۔۔لیکن آپ بھی پھر کبھی ایسی بات مت کیجئے گا کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔” اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔

زوہیب کے سینے سے سر اٹھا کر انکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھتے یقین دلانا چاہا ۔۔۔

جس پر مسکراتے ہوئے انہوں نے بہت محبت سے اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔

کبھی نہیں ۔۔۔” میری جان “۔۔۔ کبھی نہیں ۔۔۔

ڈیڈ آفتاب ۔۔۔”

انہیں مسکراتے ہوئے دیکھ ایک بار پھر نم آنکھوں کے ساتھ التجا کی تھی ۔۔۔

ذینی وہ ۔۔۔”

پلیز ڈیڈ ۔۔۔” میں نہیں رہ سکتی ان کے بنا ۔۔۔” ٹوٹ کر روتے دوبارہ انکے سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔”

جبکہ زندگی میں پہلی بار زینیہ کو یوں ضد کرتے اور آفتاب کے صاف جواب کے بارے میں سوچتے وہ پریشان ہوئے تھے ۔۔۔

وہ کیسے سمجھاتے اپنی بیٹی کو کہ رشتے یوں زور زبردستی سے نہیں جوڑے جاتے ۔۔۔

ایسے رشتوں میں کبھی وہ مان اور عزت نہیں ملتی ،،،، جو ایک عورت کا حق ہوتا ہے ۔۔

زینیہ ۔۔۔”

اسے شدت سے روتے دیکھ انہوں نے نرمی سے اسے الگ کرنا چاہا ۔۔۔

آفتاب ۔۔۔”

جب اس نے نفی میں سر ہلاتے ایک بار پھر اس دشمن جان کا نام لیا تھا ۔۔۔”

آفتاب کیلئے اسکی محبت نے چند پل کیلئے انہیں دنگ کیا تھا ۔۔۔

عشق دے روگ دا کیتے نا داروں

اتا عشق دے روگ اولے

عقلاں شکلاں والے کیتے

اس عشق نے کملے چلے

رسوائیاں تے کھواریاں باجوں

کجھ نہیں عشق دے پلے

اوووو ،،،، برباد ہوئے کر سارے

جھیڑے عشق نے ملے

اور ساتھ یہ بات بھی سمجھ آ گئی تھی کہ اب آفتاب سے دور رہ کر انکی بیٹی زندہ نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔

اور وہ کسی بھی قیمت پر اسے نہیں کھو سکتے تھے ۔۔۔انہیں اپنی بیٹی کیلئے آفتاب کے آگے ہاتھ بھی جوڑنے پڑے تو وہ جوڑے گے ۔۔۔

لیکن اپنی بیٹی کی خوشی اسکی جھولی میں ضرور ڈالے گے ۔۔۔”

‘’’ میں کوشش کروں گا جان ‘’’

ایک نتیجے پر پہنچتے وہ اسے نرمی سے الگ کرتے ہوئے مسکرا کر بولے ‘’’

زینیہ نے امید بھری نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔”

جس پر مسکرا کر سر ہلاتے ۔۔۔” انہوں نے دوبارہ اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔

چلیں اب آپ آرام کریں ۔۔۔

اور مزید رونا نہیں ۔۔۔آپکے ڈیڈ یہ برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔

اپنے پوروں سے اسکا چہرہ صاف کرتے ہوئے ۔۔انہوں نے وعدہ لینا چاہا ۔۔۔

زینیہ نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔

زوہیب نے اسکا تکیہ درست کرتے اسے لیٹنے میں مدد کی تھی ۔۔۔اور پھر اسکا ہاتھ تھام کر پاس رکھی کرسی پر براجمان ہو گئے ۔۔۔

اور ساتھ اسکے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرنے لگے ۔۔جس پر سکون محسوس کرتے وہ دھیرے سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی ۔۔۔”

زینیہ کی بند آنکھوں کو دیکھتے انہوں نے ایک بار پھر اسکے ہاتھ کو لبوں سے چھوا ۔۔۔اور ساتھ ہی آگے اپنا انجام دیے جانے والا لائحہ عمل تیار کرنے لگے ۔۔جس سے وہ آفتاب کو زینیہ سے شادی کرنے کیلئے راضی کر سکتے تھے۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *