Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 01)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 01)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تم اگر میرے نہیں رہے تو میں تمہیں اسکا بھی نہیں رہنے دوں گی ۔۔۔۔۔
وہ اپنی گن کا رخ اسکے سینے کی طرف کرتی جنونی انداز میں بولی تھی ،،،،، جس پر اس نے اسکی طرف سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اسکی بات سنتی ذینی تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں تمہیں خدا کا واسطہ ہے ایسا کچھ مت کرنا ۔۔۔۔۔ تمہیں دولت چاہیے نا میں اپنے حصے کی ساری دولت تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔
لیکن پلیز انہیں کچھ مت کرنا میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے تڑپتے ہوئے بولی ،،،،،،
جس پر اس نے جاندار قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
وہ تو میں لے ہی لوں گی لیکن اسے بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی تمہارے لیے ،،،،، کیونکہ اس پر اسکے وجود اور پیار پر صرف اور صرف میرا حق تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اب یہ مجھے طلاق دے کر اس حق سے محروم کر چکا ہے تو میں اسے اسکی زندگی سے محروم کر دوں گی ۔۔۔۔
وہ عجیب پاگل پن کی کیفیت میں چیختے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اس نے اپنے ریوالور کا ٹریگر دبایا تھا ۔۔۔۔
آفتاب “
تب ہی گولی کی آواز کے ساتھ ساتھ فضاء میں ذینی کی ایک چیخ سنائی دی تھی ۔۔۔۔۔
جس کے بعد یکدم ہر طرف سکوت چھا گیا تھا ۔۔۔۔۔
ایسا لگا جیسے کچھ دیر کیلئے وقت تھم گیا ہو ۔۔۔۔۔
ایسا سناٹا کہ جیسے کائنات کی ہر چیز نے کچھ وقت کیلئے گہری خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔۔۔
گہری موت جیسی خاموشی ۔۔۔۔۔
——–♡♡♡♡♡——–
السلام وعلیکم !!
اس نے ڈائنگ ٹیبل پر آتے بآواز بلند سب کو مشترکہ سلام کیا تھا ،،،،، جس کا سربراہی کرسی پر بیٹھے جہانزیب ملک نے تو خوش اسلوبی سے جواب دیا ۔۔۔۔
جبکہ انکے ساتھ دائیں طرف بیٹھے اسکے پانچ سالہ بیٹے زرباب ملک نے اسے دیکھتے ہی بےرخی سے منہ پھیرا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ کافی حیران ہوا ۔۔۔۔۔ پھر جہانزیب صاحب کی طرف دیکھتے اشارے سے معاملہ جاننا چاہا ،،،،،، لیکن انہوں نے بھی ہاتھ فضاء میں اٹھاتے لاعلمی کا اظہار کر دیا ۔۔۔۔۔
جس کے بعد اس نے خود ہی اس سے بات کرنے کا فیصلہ کرتے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
آج میرا چیمپ اپنے بابا ساتھ ناشتہ نہیں کرے گا کیا ،،،،،، اس کی ساتھ والی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھتے ہوئے بےتکلفی سے بولا ،،،،، جس کا زرباب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،،،،،،
بلکہ اسے اگنور کرتے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے فریش جوس کا گلاس اٹھاتے لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے پھولے ہوئے منہ کو دیکھتے آفتاب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ،،،،، اور ساتھ ہی بےساختہ جھک کر اس گلابی پھولے روئی جیسے گالوں پر پیار کیا ۔۔۔۔۔
وہ ایسے منہ پھولا کر لگ ہی اتنا کیوٹ رہا تھا جس پر کسی کو بھی پیار آ جائے ۔۔۔۔۔
وہ تو پھر اسکا باپ تھا ۔۔۔۔۔
دادو ان شے کہہ دیں کہ زلباب ملک ان شے نالاض ہے اش لیے جہ زیالدہ فلی ہونے تی توشش نا کلیں ۔۔۔۔( دادو ان سے کہہ دیں زرباب ملک ان سے ناراض ہیں اس لیے یہ زیادہ فری ہونے کی کوشش نا کریں )
وہ اپنی ہلکی توتلی زبان میں اسے مکمل طور پر اگنور کیے اپنے دادا جہانزیب ملک سے مخاطب ہوتے بولا ۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ ایک نظر اسکی طرف دیکھتے مسکرائے تھے ۔۔۔۔
اچھا تو میرا بیٹا مجھ سے ناراض ہے ،،،،،، لیکن پہلے یہ تو بتائیں کہ آپ مجھ سے کس وجہ سے ناراض ہیں ،،،،،، بھئی مجھے آپکی اس ناراضگی کی وجہ بھی تو معلوم ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔
تاکہ مجھے پتا چل سکے آخر مجھ سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہو گیا ،،،،، جس کی مجھے اتنی بڑی سزا سنائی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔
دادو تل میلے شکول میں فنتشن تھا ،،،،، جش میں جانے کا انہوں نے میلے شاتھ وعدہ تیا تھا ،،،،، لیتن جہ بھول گئے
( دادو کل میرے سکول میں فنکشن تھا ،،،،، جس میں جانے کا انہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا ،،،،، لیکن یہ بھول گئے )
اش لیے میں ان شے نالاض ہوں ۔۔۔۔۔
( اس لیے میں ان سے ناراض ہوں )
سوری یار میری کل ایک بہت اہم میٹنگ تھی جس کی وجہ سے میں بھول گیا ۔۔۔۔
لیکن میں پرومس کرتا ہوں آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا اس لیے آپ بھی اپنی ناراضگی بھول کر اپنے بابا کو معاف کر دیں ۔۔۔۔
وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر زرباب نے اپنے باپ کی ہمرنگ گرے کرسٹل آنکھیں اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
آپ ہمیشہ ایشا ہی کہتے ہیں ،،،،، اول بعد میں بھول جاتے ۔۔۔۔۔
( آپ ہمیشہ ایسا ہی کہتے ہیں اور بعد میں بھول جاتے )
جس پر جہانزیب ملک نے اپنی بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔
وہ آفتاب ملک جس کے آفس میں داخل ہوتے ہی کرفیو نافذ ہو جاتا تھا ،،،،، کہ کسی امپلوئی کی اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اونچی آواز میں بات کرنا تو دور کھل کر سانس بھی لے لے ۔۔۔۔
اس پانچ سالہ معصوم بچے کے سامنے بالکل بےبس بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
شاید اولاد چیز ہی ایسی ہوتی ہے کہ مظبوط سے مظبوط انسان کو بھی جھکنے پر مجبور کر دے ۔۔۔۔۔
یار سوری بول تو رہا ہوں ،،،،، آئندہ خیال رکھوں گا ۔۔۔۔۔
چلیں زرباب بیٹے اب بس کر دیں اور ناراضگی ختم کر دیں اپنی ،،،،، کچن سے نکل کر ڈائنگ ہال میں داخل ہوتی سلمہ جہانزیب ملک اپنے بیٹے کی طرف داری کرتی پیار سے گویا ہوئی تھیں ۔۔۔۔
جس پر ایک نظر وہ انکی طرف دیکھنے کے بعد تھوڑا اوپر ہوتے اسکی گال پر پیار کرتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔
لیتن جہ بس آخری بار آپکو معاف کر رہا ہوں اگر آئندہ ایسا ہوا تو پھل یاد رکھیے گا ۔۔۔
(لیکن یہ آخری بار میں آپکو معاف کر رہا ہوں اگر آئندہ ایسا ہوا تو پھر یاد رکھیے گا )
اسکی دھمکی دینے کے انداز کو دیکھتے جہانزیب ملک نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ آفتاب نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے ،،،،، جس کے بعد آفتاب نے اسے پیار کرتے دوبارہ چیئر پر بٹھایا تھا ،،،،، اور زرباب کو دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف دیکھ کر خود بھی اپنی بلیک کافی کا کپ اٹھا گیا ۔۔۔۔
جب جہانزیب ملک نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
آفتاب وہ ہم آپکو بتانا بھول گئے ،،،،،، ہمارے پاس زوہیب کا فون آیا تھا وہ کل کی فلائٹ سے اپنی فیملی کے ساتھ ہمیشہ کیلئے پاکستان آ رہے ہیں ۔۔۔۔
اور جب تک انکا گھر رینوویٹ نہیں ہو جاتا وہ یہی ہمارے گھر میں سٹے کریں گے ۔۔۔۔
جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔
تو ہم کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر آپکے پاس وقت ہو تو کیا آپ انہیں ایئرپورٹ سے پک کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
پلیز بابا آپ جانتے ہیں مجھے یہ سب چیزیں نہیں پسند ،،،، اور نا ہی میرے پاس اتنا وقت ہے کہ یہ سب کام انجام دے سکوں ۔۔۔۔۔
لیکن بیٹا وہ ہمارے بڑے بھائی کے بیٹے ہیں اور اتنے سالوں بعد واپس آ رہیں اور ایسے میں آگے سے کوئی انہیں لینے بھی نہ جائے تو کتنا برا لگے گا انہیں کہ ہماری نظر میں انکی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔
اگر ہماری طبیعت ٹھیک ہوتی تو ہم کبھی آپکو جانے کا نا کہتے ۔۔۔۔۔
وہ اسکے چہرے کی طرف دیکھتے رسانیت سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے گہرا سانس کھینچا تھا ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں لے آوں گا ،،،،، پلیز آپ پریشان نا ہو ۔۔۔۔۔
وہ ایک نظر انکی طرف دیکھتے بولا اور ساتھ ہی اپنی کافی ختم کرتے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ،،،،، انہیں اور سلمہ بیگم کو سلام جبکہ زرباب کو پیار کرتے ہوئے انہیں خیال رکھنے کا بولتا آفس کیلئے روانہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
——–♡♡♡♡♡——–
بلیو جینز وائٹ شرٹ کے ساتھ نازک سفید پاؤں میں ہائی ہیل پہنے اور سن گلاسز کو سر پر ایک سٹائل سے ٹکائے ،،،،، وہ آس پاس کا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔
جب زوہیب ملک نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا رک کیوں گئی ؟؟؟؟؟
کچھ نہیں ڈیڈ آپکے پاکستان کا ماحول دیکھ رہی ہوں ،،،،،، جس کی تعریف آپ دن رات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ انکی طرف متوجہ ہوتی شرارت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ مسکرائے تھے ،،،،، جلد یہ پاکستان آپکا بھی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔
اسکی بات کے جواب میں اسے اپنے حصار میں لیتے پیار سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔
چلیں بس کر دیں آپ دونوں یہاں نئی بحث شروع مت کریئے گا ،،،،،، اس سے پہلے کہ وہ انکی بات کا کچھ جواب دیتی عائشہ ملک درمیان میں مداخلت کرتی بولی تھیں ۔۔۔۔۔
اوکے میم
انکی بات کے جواب میں دونوں یک زبان بولے تھے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ صرف نفی میں سر ہلا کر رہ گئی ،،،،، اور پھر ان لوگوں نے ایئرپورٹ سے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔
باہر آ کر انہوں نے آس پاس نظر دوڑائی تھی جب ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں انہیں اپنے نام کا بورڈ نظر آیا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ ان دونوں کو اپنے ساتھ لیتے اس طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔
ڈیڈ آپ تو بول رہے تھے ،،،،، کہ ہمیں لینے آپ کے کزن آ رہے ہیں ،،،،،، لیکن یہاں تو ،،،،،،
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی ڈرائیور کے دروازہ کھولنے پر آفتاب ملک اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔
اور وہ اپنے گلابی ہونٹوں کی گول شیپ بنائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ وجاہت کا شہکار اسے مہبوت کر گیا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ آس پاس کا ہوش بھلائے یک ٹک اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنے میں مگن ہو گئی ،،،،،،
جو کہ اب مسکراتے ہوئے اسکے ڈیڈ کے ساتھ مل رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور اسکے مسکرانے پر ظاہر ہوتا اسکا بھنور ذینی کا دل بری طرح دھڑکا گیا ۔۔۔۔۔
زینی ان سے ملو یہ ہیں میرے کزن اور تمہارے چاچو آفتاب ملک ،،،، اور آفتاب یہ ہے میری بیٹی زینی ،،،،، زینیہ ملک
جب اپنے ڈیڈ کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔۔
ہیلو نائس ٹو میٹ یو ،،،،،، اس نے اتنا کہتے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تھا ،،،،،،
جس پر آفتاب نے ایک سرسری سی نظر اسکے حلیے پر ڈالی ،،،،، پھر اسکے ہاتھ کو اگنور کرتے صرف ہیلو کہنے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر اسے اپنی بیعزتی محسوس ہوئی تھی ،،،،،، اور وہ اپنا بڑھا ہوا ہاتھ خجل سی ہوتی پیچھے کر گئی ۔۔۔۔۔
اچھا زوہیب بھائی میں چلتا ہوں ایکچلی مجھے ایک بہت امپورٹنٹ میٹنگ میں جانا ہے ۔۔۔۔ جس کیلئے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ جسکی وجہ سے میں آپکو گھر تک نہیں چھوڑ سکتا ،،،،،، پلیز برا مت مانیے گا ۔۔۔۔
ان شااللہ میں آپکو شام میں دوبارہ جوائن کرتا ہوں ۔۔۔۔
وہ زوہیب ملک کو مخاطب کرتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا ،،،،،، کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔
اسکی بات کے جواب میں وہ بھی مسکرا کر گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔
جس کے بعد وہ ان سے ملتا دوبارہ اپنی گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
اور تب تک ڈرائیور انکا سامان بھی دوسری گاڑی میں رکھ چکا تھا اور وہ ان دونوں کو لے کر اس میں براجمان ہوتے ملک مینشن کی طرف روانہ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
——–♡♡♡♡♡——–
ملک مینشن میں جہانزیب اور سلمہ ملک نے انکا شاندار استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن جب انہیں آفتاب کی اس حرکت کا پتا چلا تو وہ زوہیب ملک کے سامنے کافی شرمندہ ہوئے تھے ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے مسکرا کر اس بات کو ٹال دیا تھا ۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ عائشہ ہماری بیٹی تو بہت پیاری ہیں ،،،،،، سلمہ ملک ذینی کو پیار کرتی محبت سے گویا ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
جس پر وہ مسکرائی تھیں ۔۔۔۔۔
دادوں مجھے نہیں ملائے گی اس پلیٹی گرل شے
(دادوں مجھے نہیں ملائیں گی اس پریٹی گرل سے ) اپنی دادی کو ذینی سے پیار کرتے دیکھ زرباب درمیان میں مداخلت کرتے بولا ۔۔۔۔۔
کیوں نہیں بھئی یہ ہیں ۔۔۔۔
ایت منٹ ٹہلیں میں اپنا تعلف خود کرواؤں گا
ہائے مائی شیلف زلباب آفتاب ملک اینڈ یو ؟؟؟؟؟
( ایک منٹ ٹہریں میں اپنا تعارف خود کرواؤں گا ،،،،، ہائے مائی سیلف از زرباب آفتاب ملک اینڈ یو ؟؟؟؟؟؟
اپنا چھوٹا سا ہاتھ آگے بڑھاتے وہ کونفیڈینس سے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر سلمہ اور عائشہ ملک کے ساتھ ذینی بھی مسکرائی تھی ۔۔۔۔
آئی ایم زینیہ ملک ،،،،، نائس ٹو میٹ یو ہینڈسم بوائے ،،،،، وہ اسکے ننھے سے ہاتھ کو نرمی سے پکڑتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی جھک کر اسکے دائیں گال پر پیار کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ سرخ ہوتا اپنا چہرہ جھکا گیا ،،،،،، جبکہ اسکو ایسے بلش کرتے دیکھ ذینی نے مسکراتے اسکے دوسرے گال پر بھی اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ شرماتا ہوا بہت کیوٹ لگ رہا تھا ،،،،، اوپر سے اس کا بولنے کا انداز بہت پیارا تھا ۔۔۔۔۔
ان سب سے ملنے اور چائے ناشتے کے بعد سلمہ ملک نے ان کی تھکاوٹ کا احساس کرتے ہوئے انہیں انکے کمرے دکھائے تھے ۔۔۔۔
تاکہ وہ لوگ فریش ہو کر کچھ دیر آرام کر سکیں ۔۔۔۔۔
