Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 21)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

ماضی

براک میں بہت شرمندہ ہوں ،،،، جو میں نے تمہارے ساتھ کیا ۔۔۔”

مجھے آفتاب ایک اچھا انسان لگا تھا ۔۔۔لیکن یہ تو جانور نکلا ۔۔۔مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے اس نے ۔۔۔”

وٹ یہ تم کیا کہہ رہی ہو ایش ؟؟؟

وہ سات سمندر پار بیٹھا بھی اسکی تکلیف پر تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔”

سچ بول رہی ہوں ۔۔۔

اور اسکے گھر والے تو اس سے بھی زیادہ گھٹیا ہیں ۔۔۔” روز نئی نئی پابندیاں مار پیٹ ،،،، الزامات بہت تنگ آ گئی ہوں ان سب سے ،،،، پھوٹ پھوٹ کر روتے اپنے غم کی داستان سنانے لگی ۔۔۔”

جو کہ مکمل جھوٹ پر مبنی تھی ۔۔۔”

اچھا ریلکس یار تم رو تو نہیں ۔۔۔مجھے بتاؤ میں کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے ؟؟؟؟

وہ نرمی سے بولتے اسکے ساتھ ہونے کا یقین دلانے لگا ۔۔۔”

اگر کہتی ہو تو میں پاکستان آ جاتا ہوں ،،،، نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔”

بس تم میری ایک ہفتے بعد کی ٹکٹ کروا دو ۔۔۔”

امریکہ کی ۔۔۔”

ڈیڈ سے فلحال میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا ۔۔۔ورنہ تمہیں کبھی تکلیف نہیں دیتی ،،،، کیسی باتیں کر رہی ہو ایش ۔۔۔

تم ٹینشن نا لو ،،،، میں ہر چیز وقت سے پہلے ارینج کر دوں گا ۔۔۔

بس تم نے پریشان نہیں ہونا ۔۔۔”

تم کتنے اچھے ہو براق ،،،، اور میں نے تمہارے ساتھ کتنا غلط کیا جو تمہاری محبت کو ٹھکرا کر اس آفتاب کے پیچھے آ گئی ۔۔۔”

دوسری طرف اسکی بات پر وہ چند لمحوں کیلئے خاموش ہوا تھا ۔۔۔

کیا ہوا ؟؟؟ ایوری تھنگ از آل رائٹ ؟؟؟

یس یس کچھ نہیں ہوا ۔۔۔” تم پرانی باتوں کو بھول جاو ۔۔۔محبت بعد میں سب سے پہلے تم میری اچھی دوست ہو ۔۔۔

اور میرے لیے یہی رشتہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔۔۔اور یہ بات کرتے وہ جیسے مسکرایا تھا ۔۔۔”

جبکہ اسکی بات سنتی ایشال نے گہرا سانس لیتے نخوت سے سر جھٹکا ۔۔۔”

پھر بھی اگر میں کبھی فیوچر میں تمہارا ہاتھ تھامنا چاہوں تو کیا تم مجھے اپنا لو گے ؟؟؟؟

اسکی بات سن کر وہ جیسے سکتے میں چلا گیا تھا ۔۔۔”

اس پر مرگ بسمل کی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔۔۔کہ وہ چند لمحوں کیلئے کچھ بولنے کے قابل بھی نہیں رہا ۔۔۔”

جبکہ دوسری طرف اپنی حرکت پر پشیمان آفتاب جو اس سے معافی مانگنے کیلئے آیا تھا ۔۔۔”

اسکے آخری جملوں کو سنتے اسکے قدموں کے نیچے سے زمین کھسکی تھی ۔۔۔”

کہ اسکا اپنے قدموں پر کھڑے رہنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔”

ٹھاہ ٹھاہ کر کے ساتوں آسمان جیسے اسکے سر پر آ کر گرے تھے ۔۔۔”

اس نے حیرت سے دروازے کے اس پار اپنی محبت کے خوبصورت چہرے کی طرف تھا ۔۔۔”

جسکا اندر اتنا گھناؤنا تھا ،،،، کہ ایک مرد کے نکاح میں ہوتے ہوئے وہ دوسرے کو شادی کیلئے پرپوز کر رہی تھی ،،،، آفتاب کو یکدم اس سے گھن آئی تھی ۔۔۔”

وہ چاہتا تو ابھی جا کر اسکی عقل ٹھکانے لگا سکتا تھا ۔۔۔”

لیکن وہ پریگنینٹ تھی اسکی کوکھ میں آفتاب کی اولاد سانس لے رہی تھی ۔۔۔

پھر وہ خود بھی تو اس سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتا تھا ۔۔۔”وہ چاہ کر بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا ۔۔۔

بھینچے ہوئے لب ،،،، نم آنکھیں اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ وہ دروازے سے ہی واپس چلا گیا ۔۔۔

یہ سوچ کر کہ شاید وہ اس وقت غصے میں ہے تبھی ایسی بات کر رہی ہے ۔۔ضدی بھی تو اتنی ہی تھی ۔۔۔ورنہ ایشال تو اسے اپنی زندگی سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے ۔۔۔وہ کبھی اسے دھوکا نہیں دے سکتی ۔۔۔اور نا کبھی چھوڑ کر جا سکتی ہے ۔۔۔

اسے تھوڑے وقت کی ضرورت ہے ۔۔۔اسکا غصہ تھوڑا کم ہو جائے تو آفتاب اسے پیار سے سمجھا لے گا ۔۔۔”

جو اسکی سب سے بڑی غلط فہمی تھی ۔۔۔”

ایشال احمد کسی کی نہیں تھی ،،،، سوائے اپنے ۔۔۔وہ صرف اپنی ذات سے محبت کرنا جانتی تھی ۔۔۔”

یہ لوگ تو صرف مہرے تھے جنہیں وہ جھوٹی محبت کا دکھاوا کر کے اپنے اشاروں پر نچانا جانتی تھی ۔۔۔”

تم ،،، سچ کہہ رہی ہو ایش ۔۔۔۔”

کافی دیر بعد فون سے براک کی آواز ابھری ۔۔۔” ایشال کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔”

مطلب یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔۔۔میں آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں ۔۔۔”

تم جب چاہو گی جس وقت چاہو گی ۔۔۔میں تم سے شادی کرنے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔”

وہ ایسے خوش ہوا تھا جیسے کوئی ہفت کلیم ہاتھ لگ گیا ہو ۔۔۔”

ایشال نے تکیے کے سہارے بیٹھتے ایک ادا سے اپنے نیل پینٹ لگے ناخنوں پر پھونک ماری ۔۔۔”

بہت جلد براک ،،،، بہت جلد تم مجھے اپنی باہوں میں پاو گے ۔۔۔”

نرمی سے بولتے وہ فون کاٹ کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسی تھی ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°°°

یہ تقریبا دو دن بعد کی بات تھی ۔۔۔جب آفتاب کو ضروری کام سے شہر سے باہر جانا پڑ گیا ۔۔۔

ایشال کا یہ ساتواں مہینہ چل رہا تھا ۔۔۔جسکی وجہ سے آفتاب آجکل اسکی کچھ زیادہ ہی کیئر کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔

وہ علیحدہ بات پچھلے کچھ دنوں سے دونوں میں بات چیت بالکل بند تھی ۔۔۔

اور ایسی حالت میں وہ اسے اکیلا چھوڑ کر تو نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن اسکا جانا بھی بہت ضروری تھا ۔۔۔”

ایک بہت اہم پروجیکٹ کے سلسلے میں جس پر وہ پچھلے کوئی چار پانچ مہینوں سے محنت کر رہا تھا ۔۔۔”

فلائٹ کیلئے تیار ہوتے آفتاب نے آئینے میں نظر آتے ایشال کے عکس کو دیکھا ۔۔۔

جو اس سے مکمل لاتعلقی برتے ہوئی تھی ۔۔۔

پھر اپنی انا کو پس و پشت ڈالتے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ بھاری قدم لیتا اسکے پاس بیڈ پر آ کر براجمان ہوا ۔۔۔

جس کے بیٹھتے ہی ایشال اٹھنے لگی ۔۔۔

جب اسکے ہاتھ کو تھامتے آفتاب نے اسے روکا ۔۔۔”اور پھر بہت محبت اور نرمی سے اسکے بھرے بھرے وجود کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔”

میں مانتا ہوں ،،،، مجھے تم پر یوں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔۔۔جس کیلئے میں شرمندہ بھی ہوں پلیز ایشال مجھے معاف کر دو ۔۔۔”

آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔۔۔”

اسکی پیشانی پر لب رکھتے جیسے وعدہ کیا ۔۔۔جسکا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔”

ابھی مجھے نکلنا ہوگا ۔۔۔فلائٹ کیلئے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔”

لیکن واپسی پر میں اپنی زندگی کیلئے ایسا تحفہ لے کر آوں گا جسے دیکھتے وہ اپنی ساری ناراضگی بھول جائے گی ۔۔۔”

نرمی سے مسکراتے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”

ایشال نے اپنی سپاٹ نظریں اٹھائیں ۔۔۔” جنہیں ایک پل دیکھنے کے بعد آفتاب نے جھک کر اسکے لبوں کو نرمی سے چھوا ۔۔۔”

ٹیک کیئر آف یور سیلف ۔۔۔”

اسکا چہرہ نرمی سے تھپتھپاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔لیکن ایشال نے اسکی کسی بھی بات کا جواب دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔جس سے آفتاب کا دل کٹا ۔۔۔

لیکن پھر زبردستی مسکراتے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔”

جسکے جاتے ہی ایشال نے سائڈ ڈرا میں سے ایک دوائی کی شیشی نکالی تھی ۔۔۔

اور نحوست سے مسکراتے اس جگہ کو دیکھا جس سے وہ ابھی کچھ دیر پہلے گزرا تھا۔۔۔”

اور جب بولی تو اسکا ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔”

تم ایک بار واپس تو آو آفتاب ملک تحفہ تم مجھے نہیں بلکہ میں تمہیں دوں گی ۔۔۔”

وہ بھی ایسا جسے تم ساری زندگی نہیں بھول پاو گے ۔۔۔”

ہاتھ میں پکڑی شیشی کو مٹھی میں جکڑتے اس نے اپنا فون اٹھا کر دوبارہ براک کو کال ملائی تھی ۔۔۔”

کام ہوا یا نہیں ؟؟؟؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°

حال

کیا ہوا ہے عائشہ ؟؟؟؟

آپ مجھے بار بار کال کیوں کر رہی تھیں ۔۔۔سب کچھ ٹھیک تو ہے نا ؟؟؟

گھر میں داخل ہوتے زوہیب ملک فون پر عائشہ کی اتنی ساری مسڈ کالز کو دیکھتے جو وہ فون سائلنٹ اور میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے اٹینڈ نہیں کر پائے تھے ۔۔۔”

پریشانی سے گویا ہوئے ۔۔۔”

نہیں زوہیب سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آفتاب زرباب کو اپنے ساتھ لیجانے کیلئے آئے ہیں ۔۔۔”

جبکہ انکے چہرے سے صاف پتا چل رہا تھا ۔۔۔کہ انہیں زینیہ کے زرباب کو اپنے ساتھ لے آنے والی بات بالکل پسند نہیں آئی ۔۔۔”

اور وہ بہت غصے میں زینیہ کے کمرے کی طرف گئے ہیں ۔۔۔”

میں کہہ رہی ہوں زوہیب کچھ ہے جو ٹھیک نہیں ۔۔۔میری معصوم بچی آفتاب کے ساتھ خوش نہیں ۔۔۔”

بات کرتے کرتے انکی آنکھیں بھر آئیں تھیں ۔۔۔”

اچھا اچھا سب سے پہلے تو آپ رونا بند کریں ۔۔۔” مجھے یقین ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔

زینیہ نے بتایا تھا نا ،،،،انہوں نے صبح خود آفتاب سے گھر آنے کی اجازت لی ہے ۔۔۔اور زرباب تو خود اپنی مرضی سے ساتھ آئے تھے ۔۔۔

اس کیلئے وہ ہماری بچی کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے ۔۔۔”

آپ مجھے بتائیں وہ دونوں ہیں کدھر اس وقت زینیہ کے کمرے میں ،،،، میں خود جا کر بات کرتا ہوں ۔۔۔”

انہیں نرمی سے تسلی دیتے ہوئے انہوں نے قدم زینیہ کے کمرے کی طرف بڑھائے ۔۔۔

جب عائشہ ملک نے انکا بازو تھام کر روکا ۔۔۔”

جس پر انہوں نے سوالیہ انکی طرف دیکھا۔۔۔”

میں بھی ساتھ چلتی ہوں ۔۔۔” چلے سر ہلا کر بولتے وہ دونوں اوپر کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

میری پہلی محبت ہے

میری پہلی ہی چاہت ہے

میری اتنی سی حسرت ہے

گلے لگ جا نا جا

برستے ہوئے پانی کے نیچے اسکی سانسوں کو اپنی دسترس میں لیے وہ اپنی شدتوں سے اسے پاگل کر دینے کے در پر تھا ۔۔۔”

بمشکل اسے خود سے پیچھے دھکیلتے ہوئے زینیہ نے اپنا رخ پلٹ کر بکھرتی سانسوں کے دوران چہرہ گلاس وال پر ٹکایا ۔۔۔”

آفتاب نے مسکرا کر اسکی پشت کو دیکھتے اپنی پیشانی پر بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتے انہیں پیچھے کیا ۔۔۔

شاور سے نکلتا ہوا پانی اسکے کسرتی وجود سے پھسلتے زمین کا حصہ بنتا جا رہا تھا ۔۔۔”

جب آفتاب نے خمار بھری نظروں سے دیکھتے قدم دوبارہ اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔

تیری باہوں میں راحت میں

تیری زلفوں میں جنت ہے

میری اتنی سی حسرت ہے

گلے لگ جا نا جا

گلاس وال پر رکھے اسکے ہاتھوں پر اپنے مظبوط ہاتھ رکھتے ،،،، آفتاب نے اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپایا تھا ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

اسکے لمس کو محسوس کرتے ہوئے زینیہ کے بھیگے لب سسک کر اسے پکار گئے ۔۔۔”

جس پر آفتاب نے اسکا رخ ایک جھٹکے میں دوبارہ اپنی طرف پلٹتے ہوئے اسکی سانسوں کو دوبارہ اپنا پابند کیا ۔۔۔”

اسکے لمس کی تپش میں پگلتے وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکا ساتھ دینے پر مجبور تھی ۔۔۔”

زینیہ میرے ساتھ گھر چلے ۔۔۔۔”

اسکی سانسوں کو آزادی دیتے آفتاب نے جیسے درخواست کی تھی ۔۔۔”

زینیہ نے اسکی بات پر اپنی جھکی نظریں اٹھائیں جن میں اسکی شدتوں کی سرخیاں گھلی ہوئی تھیں ۔۔۔”

آفتاب کی آنکھوں میں ایک آس تھی ۔۔۔”

لیکن دل کی رضا مندی ہونے کے باوجود بھی ذینیہ اس بات کیلئے شاید تیار نہیں تھی ۔۔۔”

آپ خاموش کیوں ہیں ،،،، بولیں نا چلے گی نا میرے ساتھ اپنے گھر ۔۔۔اسے اپنی سانسوں کے قریب کرتے اس نے جیسے اقرار چاہا تھا ۔۔۔”

جب اپنی کمر پر رکھے اسکے ہاتھوں کو کھولتے اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”

آفتاب کے قدم بےساختہ پیچھے کی طرف اٹھے ۔۔۔”

لیکن کیوں اب تو سب کچھ ٹھیک ہو گیا نا پھر ؟؟؟؟

اسکے لہجے میں سوال تھا ۔۔۔جبکہ آنکھوں میں حیرت ۔۔۔

اگر سب کچھ ٹھیک ہونے سے مراد آپ کا اشارہ ان سب کی طرف ہے تو وہ آپ نے مجھے مجبور کیا تھا ،،،، ورنہ میں ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔” یہ آپکی خواہش تھی میری نہیں ۔۔۔”

اس نے جیسے صاف لفظوں میں جتا دیا تھا کہ ان سب میں اسکی رضامندی نہیں تھی ۔۔۔”

اسکے صاف جواب پر آفتاب نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ ساتھ ہی اسکا ازلی غصہ عود کر آیا ۔۔۔”

اس نے دونوں کے درمیان کا فاصلہ مٹاتے ہوئے اسکے بازو کو اپنی سخت گرفت میں جکڑا ۔۔۔”

کہنا کیا چاہتیں ہیں میں نے آپ کے ساتھ زبردستی کی ہے ؟؟؟؟

اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس نئے الزام پر وہ اس لڑکی کا کچھ کر دے ۔۔۔”

اسکی خوبصورت آنکھیں جن میں چند لمحے پہلے خماری چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اب غصے کی آگ میں دہک رہی تھی ۔۔۔

جبکہ لمس میں عجیب سی تپش ،،،، اسکی سخت گرفت پر زینیہ کو ایسا لگا آج اسکے بازو کی ہڈی ہی چٹخ جائے گی ۔۔۔”

میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا ،،،،، بس میں اس وقت آپکے ساتھ گھر نہیں جانا چاہتی ۔۔۔”

آفتاب نے اسکے جواب پر سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔۔۔جبکہ بازو ایک جھٹکے میں چھوڑتے ہوئے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔”

آفتاب آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میں بس کچھ وقت لینا چاہتی ،،،،، بس ۔۔۔”

اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ اپنی پوری قوت سے دھاڑا ۔۔۔۔

زینیہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔”

جبکہ وہ اس پر دوسری نگاہ غلط ڈالے بنا ہی واشروم سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ڈریسنگ روم میں کپڑے بدلنے کے بعد آفتاب نے باہر آتے سوئے ہوئے زرباب کو اپنے کندھے پر اٹھایا تھا ۔۔۔”

تب تک زینیہ بھی خود کو سنبھالتی باتھ روب پہن کرروم میں واپس آ چکی تھی ۔۔۔

اور اسے زرباب کو اپنے کندھے پر اٹھائے دیکھ ایک بار پھر اسکے راستے میں حائل ہوئی ۔۔۔”

آپ زرباب کو ایسے نہیں لیجا سکتے ؟؟؟؟

کیوں نہیں لے جا سکتا ۔۔۔بیٹا ہے یہ میرا ۔۔۔۔” وہ زرباب کے سونے کا خیال کیے بنا اونچی آواز میں غصے سے بولا ۔۔۔”

جس پر وہ کسمسایا ۔۔۔”

لیکن اٹھا نہیں ۔۔۔”

یہ صرف آپکا تو بیٹا نہیں میرا بھی ہے ۔۔۔میرا بھی حق ہے اس پر ۔۔۔”

آفتاب کی بات پر اب کے وہ بھی غصے سے بولی ۔۔۔”

نہیں ہے یہ آپکا بیٹا ۔۔۔”

جب مجھ سے ہی آپکا کوئی رشتہ نہیں تو یہ آپکا بیٹا کیسے ہو گیا ؟؟؟؟

آفتاب ۔۔۔”

اسکے لب بےآواز پھڑپھڑائے ۔۔۔”

آنکھوں سے آنسو بےساختہ پھسلے ۔۔۔”

آپ اپنا ٹائم لیں ،،،،، جتنا چاہتیں ہیں ،،،،، اور اگر آپکا دل اس رشتے کو نبھانے کیلئے رضامند نہیں ہوتا تو میں بنا کسی جھگڑے کے آپکو آزاد کرنے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔”

سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔۔۔”

زینیہ کی دوبارہ ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اسے روک سکے ۔۔۔اسکے لفظ تو آفتاب کے لفظوں نے چھین لیے تھے ۔۔۔”

وہ سنگدل تھا ۔۔۔”

اور آج یہ بات ثابت بھی کر گیا تھا ۔۔۔”

اسکے پیچھے زینیہ کا وجود کسی بےجان مورت کی طرح معلوم ہو رہا تھا ۔۔۔بالکل ایسے جیسے کسی نے اسکی سانسیں ہی چھین لی ہوں ۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *