Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 20)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آفتاب ۔۔۔”

زینیہ اسے اس وقت یہاں دیکھ کر حیرت کا شکار ہوتی بیڈ سے اتر آئی تھی ۔۔۔”

جو اسے بالکل اگنور کیے بھاری قدم لیتا بیڈ کے قریب آیا اور جھک کر زرباب کو اٹھانے لگا ۔۔۔

جب اسکے ارادوں کو سمجھتے ہوئے وہ آفتاب کے اٹھانے سے پہلے ہی بھاگ کر اسکے اور زرباب کے درمیان حائل ہوئی ۔۔۔”

آفتاب نے لب بھینچ کر غصے بھری نظروں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔”

پھر اسے کندھے سے تھام کر ایک طرف کرتے دوبارہ زرباب کو اٹھانا چاہا ۔۔۔

جب وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک بار پھر دونوں کے درمیان آئی ۔۔”

آفتاب اس لڑکی کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن یہ لڑکی اسے مجبور کرنے پر تلی ہوئی تھی کہ وہ اسے سخت سست سنائے۔۔”

کیا چاہتیں ہیں آپ ؟؟؟؟

غصے کی زیادتی سے وہ تقریبا چیخا تھا ۔۔

جب زینیہ نے آگے بڑھ کر اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر خاموش کروایا تھا ۔۔۔”

شش ،،،، آہستہ بولیں زرباب سو رہا ہے ۔۔”

اسکی آواز سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی ۔۔۔”

آفتاب نے ایک نظر بیڈ پر سوتے ہوئے زرباب پر ڈالی جبکہ دوسری اپنے لبوں پر موجود اسکے ہاتھ پر ۔۔۔”

زینیہ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر اسے اپنا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔”

اسکے برعکس زینیہ کا سارا دھیان زرباب کی طرف تھا ۔۔۔” جو آفتاب کی اونچی آواز سن کر گہری نیند میں بھی کسمسایا ۔۔۔”

آفتاب کو خاموش کروانے کے چکر میں وہ اسکے کتنی قریب آ گئی تھی ۔۔اسے خود بھی معلوم نہیں تھا ۔۔۔”

جبکہ دوسری طرف زینیہ کے اتنے قریب ہونے پر آفتاب کو اسکی خوشبو اپنی سانسوں میں گھلتی محسوس ہوئی ۔۔۔”

زرباب کے پرسکون ہونے پر وہ دوبارہ اسکی طرف متوجہ ہوئی جو آنکھوں میں خمار لیے اسکے خوبصورت چہرے کو تک رہا تھا ۔۔۔”

زینیہ کا ہاتھ ابھی تک اسکے ہونٹوں پر موجود تھا ۔۔۔جس کا احساس ہوتے اس نے فورا اسے پیچھے ہٹانا چاہا جب آفتاب نے اسکی کلائی تھامے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا اور اسکی ہتھیلی کو اپنے لبوں سے چھوا۔۔۔”

آفتاب کے اس عمل پر ذینی نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچا۔۔۔

سوری ۔۔۔”

اپنے بکھرے بال کان کے پیچھے اڑستے آنکھیں جھکا کر ادھر ادھر دیکھتے دھیمے لہجے میں بولی ۔۔۔

آفتاب نے بڑی گہری نگاہوں سے اسکی اس خوبصورت ادا کو دیکھا ۔۔۔”

وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا ،،،، زینیہ پر اسکا غصہ سب کچھ بھول بھال گیا ۔۔۔اسکی نگاہوں کا مرکز اسکا معصوم خوبصورت چہرہ بن گیا ۔۔۔”

اسکے خوبصورت پنکھڑیوں جیسے لب ،،، جسے اس نے گہرے رنگ کی لپ اسٹک سے سجا رکھا تھا ۔۔۔شاید اس پر آئے زخم کو چھپانے کیلئے ۔۔۔”

کمرے میں بڑھتی معنی خیز خاموشی سے گھبرا کر ،،، زینیہ نے اپنے لب کھولے ۔۔۔

آپ زرباب کو نہیں لے کر جا سکتے ۔۔۔”

اور ساتھ ہی اس نے اپنی جھکی نظریں اٹھائیں ۔۔۔”

جو اسے بےخودی میں تکتی آفتاب کی کرسٹل گرے آنکھوں سے ٹکرائیں ۔۔۔”

آفتاب مسکرایا ۔۔۔”

جسکے ساتھ ہی اسکے دائیں گال میں پڑنے والا گڑھا بھی ظاہر ہوا ۔۔۔

جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اس نے گھبرا کر دوبارہ اپنی نظریں جھکائیں ۔۔

اور میں زرباب کو کیوں نہیں لے کر جا سکتا ؟؟؟

اسی کے انداز میں دھیمی آواز میں بولتے آفتاب اسکے مزید قریب ہوا ۔۔۔”

اور ساتھ ہی اپنے انگوٹھے سے اسکے زخمی لب کو دھیرے سے چھوا ۔۔۔”

اسکی حرکت پر زینیہ نے چونک کر آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”

زینیہ کو اسکا اپنے ساتھ کیا جانے والا سلوک ایک بار پھر یاد آیا ،،،، جسکی وجہ سے اس نے غصے میں آ کر اسکے ہاتھ کو جھٹکا ۔۔۔”

بس نہیں لے کر جا سکتے ،،،، اب کی بار اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سپاٹ لہجے میں بولی ۔۔۔”

آفتاب کی ساری خماری پل میں ہوا ہوئی ۔۔۔”اور اسکی جگہ دوبارہ غصے نے لے لی ۔۔۔

اس نے طیش میں آ کر زینیہ کی کلائی کو جکڑتے پشت پر باندھا اور زبردستی کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔”

زینیہ مجھے مجبور مت کریں کہیں ایسا نا ہو غصے میں آ کر آپ کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنوں ۔۔۔”

تکلیف تو آپ پہنچا چکے ہیں آفتاب ملک ۔۔۔میرے کردار پر انگلی اٹھا کر اس سے زیادہ اور کیا کرینگے ؟؟؟

اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کرتی دوبدو جواب دیتے نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں نمی کو دیکھتے وہ تھوڑا نرم پڑا ۔۔۔”

میں کتنی بار بتاؤں زینیہ میرا وہ مطلب نہیں تھا ،،،، آپکو یقین کیوں نہیں آتا ۔۔۔

اسکا لہجہ اب عاجزی لیے ہوئے تھا ۔۔۔”

نہیں سننا مجھے کچھ بھی ،،،، آپ کو سننا ہوگا ۔۔۔”

اسے ایک ہی بات پر اڑے دیکھ کر آفتاب دبے دبے غصے میں بولتا اسے ایک جھٹکے سے دائیں طرف کی دیوار کے ساتھ پن کر گیا ۔۔۔”

زینیہ نے اسکی حرکت پر سہم کر آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

سننا ہوگا ۔۔۔”

اور اعتبار بھی کرنا ہوگا ۔۔۔اسکی کلائیوں کو چھوڑ کر کمر کو سختی سے جکڑتے اسے اپنی سانسوں کے قریب کرتا جیسے ضد پر اتر آیا ۔۔۔”

جس سے ایک سسکاری سی زینیہ کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔”آفتاب نے چونک کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا جس پر تکلیف کے آثار تھے ۔۔۔”

پھر اسکے پہلو میں رکھے اپنے ہاتھ کو جس پر خون لگا ہوا تھا ۔۔۔”

آفتاب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔اس نے فورا زینیہ کی شرٹ ہٹا کر اسکے زخم کو دیکھنا چاہا ۔۔۔”

جب اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے زینیہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

ساتھ آنکھوں سے آنسو بےمول ہوتے زمین پر گرتے جا رہے تھے ۔۔۔”

آفتاب نے ایک نظر اسکے بھیگے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر کمرے کے کھلے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔

اور آگے بڑھ کر اس نے فورا بند کیا ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

اس کے ارادوں کو سمجھتے اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔جب آفتاب نے بنا اسکی ایک بھی سنے اسے اپنی گود میں اٹھا کر قدم ڈریسنگ روم کی طرف بڑھائے ۔۔۔”

آفتاب چھوڑیں مجھے ،،،، آپ میرے ساتھ یوں زور زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔”

یہ تو آپکی سوچ ہے مسز ورنہ میں ابھی اور اسی وقت بہت کچھ کر سکتا ہوں ۔۔۔”

اسے زمین پر کھڑا کرتے وہ زومعنی انداز میں گویا ہوا ۔۔۔”

اسکی بات کا مطلب سمجھتے زینیہ کا چہرہ شرم سے سرخ پڑا ،،،، اور ساتھ ہونٹوں پر چپ کے تالے بھی ۔۔۔”

جسے دیکھتے وہ دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔”

اور پھر اسے چھوڑ کر فرسٹ ایڈ باکس کیلئے وارڈ روب کھولی ،،،،

جب زینیہ نے اسے پکارا ۔۔۔

آفتاب ۔۔۔”

آفتاب نے پلٹ کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا جو حد سے زیادہ سرخ تھا ،،،، اور پھر الماری کے اندر جس میں اسکی پرائیویٹ چیزیں بےترتیب سی بکھری ہوئیں تھیں ۔۔۔”

اصل میں زینیہ نے پہننے کیلئے اپنے پرانے کپڑے نکالے تھے ،،،، جب یہ سب پھیلاوا پھیلا جسے سمیٹنے کی بجائے اپنی طبیعت کی وجہ سے زینیہ نے ایسے ہی رہنے دیا کہ چلو بعد میں ٹھیک کر لے گی ۔۔۔”

اور اب آفتاب ۔۔۔”

آفتاب نے لب دانتوں تلے دبا کر معنی خیز نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر اپنی ضرورت کی چیز نکال کر بھاری قدم لیتا اسکے قریب آیا ۔۔۔”

جو اسکی نگاہوں سے چھپنے کیلئے کوئی جگہ تلاش کر رہی تھی ۔۔۔”

ارے یار اس میں شرمانے والی کونسی بات ہے ،،،، میں اور آپ اب الگ تھوڑی ہیں ۔۔۔”

بلکہ اب تو یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔” میں خود آپ کیلئے لے کر آوں گا نا اپنی پسند سے یہ سب۔۔۔”

اسکا لہجہ بہت معنی خیز ،،،، جبکہ آنکھوں میں اسکے برعکس شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔”

آفتاب پلیز ۔۔۔”

زینیہ کا بس نہیں چلا کہ وہ کسی طرح خود کو آفتاب کی نظروں سے دور کر دے ۔۔۔”

وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی ،،،، ہمیشہ سیریس موڈ میں رہنے والا آفتاب ملک حقیقت میں اتنا بےباک نکلے گا ۔۔۔

آفتاب نے اسکی پتلی ہوئی حالت کو دیکھتے بمشکل اپنا نکلنے والا قہقہہ روکا ۔۔۔”

اچھا یہ سب باتیں ہم بعد میں ڈسکس کرینگے فلحال تو آپ مجھے اپنا زخم دکھائیں ۔۔۔”

اسکی طعبیت کا خیال کرتے وہ نرم لہجے میں بولتا دوبارہ اسکے قریب ہوا ۔۔جب زینیہ نے نفی میں سر ہلاتے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔”

نہیں رہنے دیں ۔۔۔ میں خود کر لوں گی ۔۔۔۔”

اگر آپ نے خود ہی کرنا ہوتا تو پہلے ہی کر لیتی ،،،، اس بار سپاٹ لہجے میں بولتے زبردستی کھینچ کر اسے قریب کیا ۔۔۔” اور اسکا رخ بدلتے کمر سے اسکی پہنی ہوئی ٹی شرٹ ہٹائی ۔۔۔”

اور زخم سے رستے خون کو دیکھتے افسوس سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا جو اپنی آنکھیں سختی سے بند کر چکی تھی ۔۔۔”

حیرت کی بات ہے کوئی اتنا بیوقوف کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔” اتنے گہرے زخم کو بنا ڈریسنگ کے کھلا چھوڑا ہوا ہے ۔۔۔تاکہ وہ ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ سکے ۔۔۔”

آپ مجھے یوں بیوقوف نہیں بلا سکتے ۔۔۔”

اسکی بات کا برا مناتے وہ ساری شرم و حیا بھولائے دوبدو غصے سے بولی ۔۔۔” آفتاب کے لب مسکرائے ۔۔۔”

بیوقوف کو بیوقوف نہیں تو کیا عقل مند بلاوں ۔۔۔”

اسکے زخم کو روئی سے صاف کرتے ہوئے وہ استہزائیہ گویا ہوا ۔۔۔”

جلن کے احساس سے زینیہ سسکی ۔۔۔۔” آفتاب نے فورا اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”

زیادہ پین ہو رہا ہے کیا ؟؟؟

نہیں سکون مل رہا ہے ۔۔۔” اسکے پوچھنے پر وہ نم لہجے میں جل کر بولی ۔۔۔”

جس پر آفتاب نے نفی میں سر ہلاتے اسکے زخم پر پھونک ماری اور پھر اوئنٹمنٹ لگاتے بینڈج سے کور کرتا ۔۔۔

باقی چھوٹی موٹی خراشوں پر کریم لگانے لگا ۔۔”

جب اسکی نظریں بھٹکتی ہوئیں ،،،، اسکے پیٹ پر بنے دونوں تل پر آ کر رکی ۔۔۔جنہیں دیکھتے دوبارہ سے اسکی آنکھوں میں خماری چھانے لگی ۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر زینیہ کی طرف دیکھا جو اسکی طرف متوجہ نہیں تھی ۔۔۔”

پھر گھٹنے کے بل جھک کر اسے کمر سے تھامتے ان پر اپنے دہکتے لب رکھ گیا ۔۔۔”

اسکے دہکتے لمس پر سسکتے اس نے حیرت سے نظریں جھکا کر آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”

جو اسکے نرم لمس میں کھویا اسکے پیٹ پر بوسوں کی بارش کرتا حدیں پھلانگنے لگا ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

زینیہ نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھے پر رکھتے اسے جیسے ہوش میں لانا چاہا،،،، لیکن وہ ہوش میں آنے کی بجائے مزید بہکتا اسکی نرم جلد میں سختی سے اپنے دانت گاڑھ گیا ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

اسکے جان لیوا عمل پر وہ پوری جان سے تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔”

لیکن وہ بنا سنے بنا رکے اپنے لمس سے سلگاتا اسے بھی بہکانے لگا ،،،، اسکے پور پور کو شدت سے چومتے اپنے بولے گئے الفاظ کا مداوا کرنے لگا ۔۔۔”

آفتاب کے ہونٹ سرکتے ہوئے زینیہ کی دھڑکنوں کے مقام پر آئے ۔۔۔”

اور انہیں نرمی سے چھوتے ،،،، اپنی چاہت کا احساس دلانے لگے ۔۔۔زینیہ کی آنکھیں آہستہ آہستہ بوجھل ہوتی خود با خود نرمی سے بند ہوتی چلی گئی ۔۔۔

سانسیں بڑھنے لگیں قدم ڈگمگانے لگے ۔۔۔

جبکہ اسکے ہاتھ سہارے کیلئے آفتاب کے گلے کا ہار بن گئے ۔۔۔”

جنہوں نے اسکے جنون میں مزید اضافہ کیا ۔۔۔”

اس نے اسکی کمر پر ہاتھوں کی پکڑ مظبوط کرتے اتنی شدت سے اپنے قریب کیا کہ درمیان سے ہوا بھی نا گزر سکے ،،،، اور اپنے دانت اسکی بیوٹی بون پر اتنی سختی سے گاڑھے کہ زینیہ کو اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔۔”

اسکی آنکھیں نم ہوتیں خود با خود برسنے لگیں ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

جبکہ ہونٹوں سے ایک طویل سی کراہ نکلی ۔۔۔”

اسکے بالوں میں چلتا ہاتھ یکدم تھم سا گیا ،،،، جبکہ پشت پر موجود دوسرے کی پکڑ اس قدر مظبوط ہوئی کہ شرٹ کے اوپر کوٹ پہنے ہونے کے باوجود آفتاب کو اسکے ناخن اپنی جلد میں اترتے محسوس ہوئے جنکی میٹھی سی چھبن پر اسکے لب دھیرے سے مسکرائے ۔۔”

اور اس نے اپنے ہی دیئے گئے زخم کو اتنی نرمی سے چھوا ۔۔۔کہ اس کا لمس سرور بن کر زینیہ کی رگوں میں دوڑتا اس پر آفتاب کی قربت کا نشہ طاری کرنے لگا ۔۔۔”

کہ آفتاب سے اپنی ناراضگی ،،،، اسکی دھتکار ،،،، پچھلی ساری باتوں کو بھولا کر وہ خود سے اسکی سانسوں کے قریب ہوئی ۔۔۔”

آفتاب نے اپنی خمار بھری نظریں اٹھا کر اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”

جو اسکے لمس کی تپش کو محسوس کرتے سرخ انگار کی طرح دہک رہی تھی ۔۔۔”

آفتاب کو اپنی ضبط کی حدیں ختم ہوتیں محسوس ہوئیں ۔۔۔”

اس نے زینیہ کے نازک وجود کو کمر سے تھامتے ایک جھٹکے سے اوپر اٹھایا کہ سہارے کیلئے زینیہ کی ٹانگیں خود با خود اسکی کمر کے گرد بندھتی چلی گئی ۔۔۔۔”

زینیہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں جو بہت قریب سے آفتاب کی کرسٹل گرے آنکھوں سے ٹکرائیں ۔۔۔”

جن میں اس وقت بس ایک اسکی ہی طلب تھی ۔۔۔”

جسے دیکھتے زینیہ نے سٹپٹا کر دوبارہ نظریں جھکائیں ۔۔اور ساتھ ہی اسے اپنی پوزیشن کا خیال ہوا ۔۔”

اسکا سر بےساختہ نفی میں ہلا ۔۔۔”

آفتاب بدلے میں کچھ نہیں بولا ۔۔۔بس خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔”

زینیہ بےبس ہوئی ۔۔۔”

آفتاب یہ وقت ٹھیک نہیں ۔۔۔

آپ ایک بار اجازت تو دیں میں اس وقت کے ہر لمحے کو اپنا پابند کر لوں ۔۔۔”

اسکی ٹھوڑی کو نرمی سے چومتے اسکے اعتراض کو رد کیا گیا ۔۔۔”

کوئی آ جائے گا ۔۔۔”

اسکا پرتپش لمس گرم سانسیں زینیہ کے چہرے کو سلگانے لگی تھیں ۔۔۔اس نے بہکتی سانسوں کے درمیان دھیمے لہجے میں ایک اور جواز اٹھایا ۔۔۔”

دروازہ لوک ہے ۔۔۔”

اسی کے انداز میں گھمبیر سرگوشی کرتے ،،،،، ساتھ ہی اسکے سانس لینے کیلئے کھلے لبوں کو جو اسکی دہکتی قربت کی وجہ سے بند ہونے کے قریب تھی ،،، دھیرے سے چھوا ۔۔۔”

زینیہ کی ہمت جواب دینے لگی ۔۔۔”

زرباب ،،،،، اٹھ ،،،،، جائے گا ۔۔۔”

اسکی سانسوں کے ساتھ لہجہ بھی اٹکنے لگا تھا ۔۔۔”

آفتاب مسکرایا ۔۔۔”

نہیں اٹھے گا ۔۔۔

میرا بیٹا بہت سمجھدار ہے ،،،، اسے پتا ماما بابا فلحال مصروف ہیں ۔۔۔انہیں ڈسٹرب نہیں کرنا ۔۔۔”

اسکے بےباک جواب پر زینیہ کا چہرہ خون چھلکانے لگا ۔۔۔”

جسے دیکھتے آفتاب نے لب دانتوں تلے دبایا ۔۔

اور ویسے بھی وہ کب تک اکیلا رہے گا ۔۔۔” اسے بھی تو کھیلنے کیلئے کسی بھائی بہن کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی ۔۔۔”

اپنے لیے نا سہی ہمیں اپنے بیٹے کیلئے کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔”

آفتاب پلیز ۔۔”

آفتاب کی باتیں زینیہ کی سانسیں خشک کرنے کیلئے کافی تھی ۔۔۔

اس نے اپنا نازک ہاتھ اسکے لبوں پر رکھتے آفتاب کو مزید بولنے سے روکا ۔۔۔”

آفتاب نے لو دیتی نگاہوں سے اسکے سرخ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”

پھر اپنے لبوں پر رکھے اسکے ہاتھ کو شدت سے چوما ،،،، زینیہ نے سٹپٹا کر اپنے ہاتھ کو پیچھے کیا ۔۔۔”

جب ایک لمحے کی دیر کیے بنا آفتاب نے اسکی پشت کو وارڈ روب کے دروازے کے ساتھ لگایا ۔۔۔”

اور اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں ٹکا کر اسکی سانسوں کے قریب ہوا ۔۔۔”

اسکے ارادوں کو جانتے زینیہ نے جھٹپٹا کر اسکی گرفت سے نکلنا چاہا ۔۔۔”

ہے ڈانٹ موو ۔۔۔”

اسے مزید شدت سے خود میں بھینچتے اس نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔”

لیکن ۔۔۔”

شش ۔۔۔”

نو مور ایکسکیوز

جسٹ فیل دا موومنٹ

اسکے ہاتھوں کی بےباکیوں پر سہم کر انکار کرنا چاہا ،،،، جب آفتاب نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے اسے خاموش کروایا ۔۔۔”

زینیہ نے بےبس نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”

آفتاب نرمی سے مسکراتے اس پر گھنے سائے کی طرح چھایا ،،،، اور اسکی سانسوں کے ساتھ اپنی سانسوں کا تال میل جوڑتے ۔۔۔”

اسے اپنی روح میں سمایا ۔۔۔”

زینیہ کے ہاتھوں کی پکڑ اسکے کندھوں پر مظبوط ہوئی ۔۔۔”

آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر بکھرنے لگے ،،،،، لمحے بیتنے لگے ۔۔آفتاب کی شدتیں بڑھنے لگیں ۔۔۔”

خاموش کمرے میں دونوں کی بکھری سانسیں گونجنے لگیں ۔۔۔”

جنکی دھن پر جھومتے انکے پاکیزہ رشتے کی گواہ بنتی محبت رقص کرنے لگی ۔۔۔”

جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لمس میں چند لمحوں کیلئے اس دنیا کو بھولا گئے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *