Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 11)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آفتاب کے یوں دھکیلنے پر زینیہ خود کو سنبھال نہیں پائی تھی ۔۔۔جس سے اسکا سر سیدھا جا کر سائڈ ٹیبل پر لگا ۔۔۔”

زینیہ کے ہونٹوں سے زوردار چیخ برآمد ہوئی ۔۔۔”

آفتاب جو اسے دھکیل کر خود بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔” اس نے پلٹ کر حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”

زینیہ ۔۔۔”

سب کچھ بھولائے فورا آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا ۔۔۔جسکی پیشانی سے خون بہنے لگا تھا ۔۔۔”

اسے سانسیں بھی رک رک کر آ رہی تھیں اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے نچلے لب پر بھی اچھا خاصا کٹ آیا تھا جس سے خون کی ننھی بوندیں نکل رہی تھیں۔۔۔

اسکی غیر ہوئی حالت کو دیکھتے آفتاب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ۔۔۔اس نے سختی سے اپنے لب بھینچتے اسے اپنے سینے سے لگایا اور ساتھ ہی اپنا رومال نکال کر اسکی پیشانی پر رکھا ۔۔۔”

ٹھیک ہیں آپ ؟؟؟؟

اسکی کمر کو سہلاتے ہوئے ۔۔۔تھوڑا نرمی سے بولا ۔۔۔البتہ چہرے کے تاثرات اب بھی سپاٹ ہی تھے ۔۔۔”

زینیہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کوئی جواب دیتی ،،،، البتہ اسکی فکر پر ایک آنسو اسکی آنکھوں سے بےمول ہوتا ضرور گال پر پھسل گیا ۔۔۔”

آفتاب نے اسکی خاموشی پر دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔یہ جاننے کیلئے کہیں اس نے اپنے ہواس تو نہیں کھو دیئے ۔۔۔لیکن پھر اسے ہوش میں دیکھتے اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔۔”

اور ساتھ ہی کچھ دیر پہلے اپنا انجام دیے جانے والا عمل یاد آیا ۔۔۔جسکی نشانی زخم کی صورت اسکے نچلے ہونٹ پر موجود تھی ۔۔۔” اسے یکدم ہی خود پر غصہ آیا تھا ۔۔۔

آخر کیسے وہ اتنا بےاختیار ہو گیا ۔۔۔”

اس نے اپنی کرسٹل گرے آنکھیں اسکے خوبصورت چہرے ٹکائیں ۔۔۔” جو آنکھوں میں نمی کے ساتھ محبت لیے اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔”

پھر خود کو کمپوز کرتے اسے سیدھا کر کے بٹھایا ۔۔۔”

یہ سب آپ نے جان بوجھ کر کیا نا ؟؟؟؟ تاکہ مجھے بہکا سکیں ۔۔۔اسکا لہجہ پل میں بدلتے دوبارہ سپاٹ ہو گیا ۔۔۔”

شرم نہیں آئی آپکو ۔۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا اس بار ۔۔۔آپ نے نیند میں مجھے خود اپنے قریب کیا ۔۔۔

اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ درمیان میں کاٹتے ہوئے بولی ۔۔۔”

اور آپکو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپکی بات پر یقین کرونگا ۔۔۔ میری نیند کا فائدہ اٹھا کر آپ خود بھی تو میرے قریب آ سکتیں ہیں ۔۔”

اور آپکی میرے بارے میں کیا آٹینشنز ہیں یہ مجھے سے بہتر کون جان سکتا ہے ۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ زومعنی انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔۔”اور ساتھ ڈرا میں سے فرسٹ ایٹ باکس نکالتے ہوئے اسکی پیشانی کا زخم صاف کرنے لگا ۔۔۔

آفتاب کی بات پر سبکی کے احساس سے زینیہ کا چہرہ سرخ ہوا ۔۔۔اس نے آفتاب کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے زخم پر مرہم لگانے سے روکا ۔۔۔”

آپکو کیا لگتا ہے ۔۔۔” میری محبت اتنی گری ہوئی ہے ۔۔۔جو میں آپکی نیند کا فائدہ اٹھا کر یہ سب۔۔۔ مجھے بس آپکے وجود کی طلب ہے۔۔۔ میری محبت محبت نہیں بلکہ حوس ہے ۔۔۔ آپ مجھے اتنا گرا ہوا سمجھتے ہیں ؟؟؟؟

بات کرتے کرتے اینڈ میں زینیہ کا لہجہ بھرا گیا تھا ۔۔۔”

آفتاب نے چند لمحوں کیلئے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔اور پھر اسکا ہاتھ سائڈ کرتے خاموشی سے اسکے زخم پر مرہم لگانے لگا ۔۔۔”

جلن کے احساس سے ایک سسکی زینیہ کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔”جسے سنتے آفتاب نے آگے بڑھ کر اسکے زخم پر پھونک ماری اور بینڈج لگانے کے بعد بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔”

جب زینیہ نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا ۔۔۔”

آفتاب نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ،،،،، آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا ۔۔۔کیا میں آپکو اتنی گری ہوئی لگتی ہوں ؟؟؟؟

اسے خاموش دیکھ کر اس نے اپنا سوال دوہرایا ۔۔۔”

میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔بس اتنا کے آئندہ کبھی دوبارہ میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کریئے گا ۔۔۔ورنہ بدلے میں تکلیف آپکو ہی اٹھانی پڑے گی ۔۔۔”

اسکے زخمی لب کی طرف دیکھتے اس نے اپنا ہاتھ زینیہ کی گرفت سے چھڑوایا ۔۔۔”اور پلٹ کر جانے لگا ۔۔۔جب زینیہ کے لفظوں نے اسکے قدم جکڑے ۔۔۔

آپکی محبت کے بدلے میں جو ملے میں وہ ہر تکلیف اٹھانے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔”

آفتاب نے اسکے لفظوں پر آئے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کیلئے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی ۔۔۔

اور پھر بنا کچھ کہے ہی واشروم میں جا کر بند ہو گیا ۔۔۔”

جبکہ دروازہ اتنے زور سے بند کیا تھا ۔۔۔کہ زینیہ دہل کر اپنی جگہ سے اچھلی ۔۔۔

آفتاب ۔۔۔”

میں کیسے یقین دلاوں آپکو ۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔اور یہ محبت آئینے کی طرح صاف شفاف ہے ۔۔۔”

جس میں کوئی بھی خودغرضی شامل نہیں ۔۔۔

بس میں اتنا چاہتی ہوں کہ آپ اپنے درد ناک ماضی کو بھولا کر زندگی کی ایک نئی شروعات کریں ۔۔۔”

یہ جو درد آپکو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے ۔۔۔اسے اپنے اندر سے نکال کر باہر پھینک دیں ۔۔۔”

تاکہ آپکی تڑپتی سلگتی روح کو سکون حاصل ہو سکے ۔۔۔

میں آپکو ہمیشہ خوش اور مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔” کیونکہ آپکی خوشی میں میری خوشی چھپی ہے آپکی مسکراہٹوں میں ہی میری زندگی ۔۔۔”

اور میرا وعدہ ہے آپکے چہرے کی کھوئی ہوئی مسکان ایک دن میں آپکو ضرور لٹاوں گی ۔۔۔”

من ہی من میں آفتاب سے مخاطب ہوتے وہ دھیرے سے مسکرائی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

کیا سچ میں تم واپس لوٹنا چاہتی ہو ؟؟؟؟

فون میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے وہ حیرانی سے بولا ۔۔۔

جس پر وہ کھل کر مسکرائی ۔۔۔”

جسے دیکھتے سامنے والا چند لمحوں کیلئے مہبوت ہوا تھا ۔۔۔

بالکل میں واپس آ رہی ہوں پاکستان میں بھی ۔۔۔”اور اپنے آفتاب کی زندگی میں بھی ۔۔۔”

لیکن تم نے جو اسکے ساتھ کیا ۔۔۔ان سب کے بعد وہ تمہیں کبھی نہیں قبولے گا ۔۔۔”

اسکے کونفیڈنس کو دیکھتے ۔۔۔اس نے اسکا دھوکا یاد دلایا ۔۔۔”

لیکن مجال ہے جو سامنے والی ہستی کو رتی برابر بھی فرق پڑا ہو ۔۔۔

اور اب تو یہ ویسے بھی ناممکن ہے کیونکہ اسے ہفتے اسکی شادی ہو چکی ہے ۔۔۔کسی اور لڑکی سے ۔۔۔

اور مجھے پتا چلا ہے وہ لڑکی بہت خوبصورت ہے ۔۔۔تم سے بھی کہیں زیادہ ۔۔۔

اسکے مسکرانے پر وہ اسے جلانے کیلئے بولا ۔۔۔”

کیا سچ میں ؟؟؟؟

اسکی بات پر وہ اکسائٹڈ ہوتی جیسے چیخی۔۔۔”

جبکہ اسکے ری ایکشن پر سامنے والا حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوا تھا ۔۔۔”

تمہارا کہیں دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ۔۔۔یہ کوئی خوش ہونے والی بات تھی ؟؟؟

ارے تم نہیں سمجھو گے بدو ۔۔۔

اب تو اصل مزہ آئے گا ۔۔۔جب آفتاب کی بیوی کے سامنے ۔۔۔میں دوبارہ اسے اپنا اپنا اثیر بناؤں گی ۔۔۔

اور وہ کچھ نہیں کر پائے گی ۔۔۔سوائے ہاتھ ملنے کے ۔۔۔”

تمہاری سوچ ہے ۔۔۔آفتاب ملک اب بہت بدل چکا ہے ۔۔۔وہ اب پہلے والا آفتاب نہیں رہا جو تمہاری زلفوں کا اثیر ہوتے تمہارے آگے پیچھے پھرا کرتا تھا ۔۔”

تمہارے جانے کے بعد ایک دو بار ملاقات ہوئی تھی میری اس سے ۔۔۔سیدھے منہ بات تک نہیں کی اس نے مجھ سے ۔۔۔”

اسے یکدم ہی آفتاب کے ہاتھوں ہوئی اپنی بےعزتی یاد آئی تھی ۔۔۔”

اس لیے دانت پیستے ہوئے جل کر بولا ۔۔۔”

جس پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسی تھی ۔۔۔اور یقینا اسکی یہ ہنسی بہت خوبصورت تھی ۔۔۔

تبھی تو وہ جو تھوڑی دیر پہلے غصے میں جل رہا تھا ۔۔۔ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اسکی ہنسی میں کھو گیا ۔۔۔”

ارے وہ تو شروعات سے ہی ایسا تھا ۔۔۔” تم نے کبھی غور نہیں کیا ۔۔۔۔پہلے بھی وہ تم لوگوں کے ساتھ کونسا گھلتا ملتا تھا ۔۔۔اور اسکی اسی خوبی نے تو مجھے اسکی طرف اٹریکٹ کیا تھا ۔۔۔”

باقی تم ٹینشن نا لو ۔۔۔میں ایک بار پاکستان واپس آ جاؤں سب سنبھال لوں گی ۔۔۔

مسکرا کر کہتے اس نے جیسے بات ختم کی ۔۔۔”

جس پر اس نے ہاں میں سر ہلاتے فون بند کیا ۔۔۔”

چڑیا تم ایک بار واپس تو آو ۔۔۔میرا وعدہ ہے اس بار تمہیں ایسے خالی نہیں جانے دوں گا ۔۔۔

سالا یہ آفتاب بڑا قسمت والا ہے ۔۔۔جو سالوں پہلے بھی تم جیسی لڑکی لے اڑا اور اب بھی ۔۔۔

لیکن خیر ہم تو تمہارے حسن کے دیوانے ہیں ۔۔۔” جو اس بار ۔۔۔۔”

کمینگی سے کہتے بات ادھوری چھورتے اس نے شیطانی قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

رکیں آفتاب ابھی ایک چیز باقی ہے ۔۔۔۔”

رات کا کھانا کھانے کے بعد جب آفتاب ڈائنگ ٹیبل سے اٹھنے لگا تو سلمی بیگم نے اسے دوبارہ بیٹھنے کا بولا ۔۔۔

اور ساتھ ہی زینیہ کو اشارہ کیا تھا ۔۔”

جس پر وہ سر ہلاتے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔”

کوئی خاص بات مام ۔۔۔”

جی بہت خاص ہے ۔۔۔” اسکے سوال پر وہ دھیرے سے مسکرائیں تھیں ۔۔۔

جسے دیکھ کر سربراہی کرسی پر بیٹھے جہانزیب ملک بھی خوبصورتی سے مسکرائے ۔۔۔”

دادو جینی تیچن میں تیا کرنے گئی ہیں ؟؟؟

( دادو ذینی کچن میں کیا کرنے گئی ہیں )

آفتاب کے خاموش ہونے پر زرباب اپنے دل میں مچلتا سوال لبوں پر لے آیا ۔۔۔

بری بات ہے آفتاب ہم نے آپکو کتنی بار بولا ہے ۔۔۔زینیہ کو ماما کہہ کر بلایا کریں ۔۔۔لیکن آپ پھر انکے نام سے ۔۔۔”

شوری دادو ۔۔۔لیتن ( لیکن ) جینی جان نے ہی مجھے بولا ہے ۔۔۔میں انہیں اش ( اس ) نام سے بلاوں ۔۔۔

انہیں اچھا لگتا ہے ۔۔۔”

نہیں بیٹا بری بار ہے ایسے بڑوں کے نام نہیں لیتے آپ آئندہ انہیں ماما کہہ کر ہی بلایئے گا ۔۔۔

آنے دیں اس لڑکی کو بھی اسکی بھی کلاس لیتے ہیں ۔۔۔یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔۔۔”

انہوں نے زرباب کو پیار سمجھاتے ہوئے زینیہ کی کلاس لینے کا ارادہ بنایا۔۔۔”

رہنے دیں مام جب انہیں کوئی اعتراض نہیں تو پھر بچے کے ساتھ زبردستی کرنے کا مطلب ۔۔۔

ویسے بھی وہ زرباب کی ماں نہیں ہیں ۔۔۔”

سلمی بیگم کی بات سنتا آفتاب اپنے فون سے نظریں ہٹا کر جتاتے بولا ۔۔۔”

جسے کچن سے واپس ڈائنگ ہال میں داخل ہوتی زینیہ نے بھی سنا ۔۔۔آفتاب کی بات پر ایک پل کیلئے اسکا دل دکھا ۔۔۔لیکن پھر خود کو کمپوز کرتے مسکراتے ہوئے آگے بڑھی ۔۔۔”

یہ آپ کیسی باتیں کر رہیں ہیں آفتاب ۔۔۔اب زینیہ ہی آپکی بیوی اور زرباب کی ماں ہیں اور اس بات کو آپ جتنی جلدی قبول کر لیں اتنا ہی اچھا ہوگا ۔۔۔”

تھیں تو وہ بھی آفتاب کی ہی والدہ اپنے ایک ایک لفظ زور دیتیں اٹل لہجے میں بولیں ۔۔۔

جس پر آفتاب نے نفی میں سر ہلاتے مزید بولنے سے گریز کیا تھا ۔۔۔”

اور آپ ادھر کھڑی کیا کر رہی ہیں ۔۔۔ہم نے کھانا بناتے ہوئے کیا بتایا تھا آپکو ۔۔۔”

لیکن دادو ۔۔۔”

انکی بات کو یاد کرتے وہ تھوڑی جھجھکی ۔۔۔”

کیا دادو ۔۔۔چلیں آگے بڑھیں اور ہم سب کو اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی کھیر سرو کریں ۔۔۔اور جیسا کہ ہم نے آپکو بتایا تھا ۔۔۔جب نئی دلہن پہلی بار کھانے میں کچھ میٹھا بناتی ہے تو خود اپنے ہاتھوں سے اپنے شوہر کا منہ میٹھا کرواتی ہے ۔۔۔

یہ رسم ہے ہمارے خاندان کی ۔۔۔”

چلیں آگے بڑھیں ۔۔۔”اور سرو کریں ۔۔۔سلمی بیگم بات تو زینیہ سے کر رہی تھیں ۔۔۔لیکن انکی نگاہیں آفتاب کے چہرے پر ٹکیں ہوئیں تھیں ۔۔۔

جس نے ان کی بات پر چونکتے حیرت سے سر اٹھایا تھا ۔۔۔”

اور پھر ایک نظر زینیہ پر ڈالی جو چپ چاپ آگے بڑھ کر کٹوریوں میں کھیر نکالنے لگی ۔۔۔۔”

لیکن مام ان سب کی کیا ضرورت ہے ؟؟؟؟

آفتاب نے دبے دبے لہجے میں احتجاج کرنا چاہا ۔۔۔۔جب انہوں نے آئی برو اچکا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

کیا مطلب کیا ضرورت ہے بھئی ۔۔۔ہماری خاندانی رسم ہے ۔۔۔” جو اب تک اس خاندان میں شامل ہونے والی ہر دلہن نبھاتی آئی ہے ۔۔۔”

لیکن ۔۔”

ہم مزید کوئی اعتراض نہیں سنے گے ۔۔۔انہوں نے اسکے مزید بولنے سے پہلے ہی ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔

جہانزیب ملک نے ایک نظر ہٹلر بنی اپنی بیگم صاحبہ کو دیکھا اور پھر بےبس بیٹھے اپنے صاحبزادے کو ۔۔۔جسکی بنی ہوئی شکل کو دیکھتے انہوں نے بمشکل لب بھینچ کر اپنا نکلنے والا قہقہہ روکا ۔۔۔”

جہانزیب ملک اور سلمی بیگم کو کھیر دینے کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی آفتاب اور زرباب کے سائڈ آئی تھی ۔۔۔”

اور ٹرے ٹیبل پر رکھتے ایک کٹوری زرباب کے آگے رکھی ۔۔۔

آپ تو ( کو ) پتا ہے جینی جان مجھے تھیر ( کھیر ) بہت پسند ہے ۔۔۔

اسکے چہرے کی طرف دیکھتے زرباب نے مسکراتے اپنی پسند بتائی تھی ۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔”

اور ایک نظر اسکے ساتھ منہ بارہ بجائے بیٹھے اپنے شوہر نامدار کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔”

جسکا اثر لیے بنا ہی ۔۔۔اس نے کھیر کا چمچ بھر کر اسکے لبوں کے قریب کیا ۔۔۔”

آفتاب کا دل تو کر رہا تھا اس بھرے ہوئے چمچ کو گراتے زینیہ کو اسکی اوقات یاد دلا دے ۔۔۔لیکن اپنی مام کا کیا کرتا ۔۔۔جنکی نظریں ان دونوں پر ہی ٹکیں ہوئیں تھیں ۔۔۔

مجبوری کی ہی تحت لیکن اسے اپنا منہ کھولنا پڑا تھا ۔۔۔

اسے کھیر کھلانے کے بعد زینیہ چمچ واپس کٹوری میں رکھتے خود با خود ہی پیچھے ہو گئی تھی ۔۔۔جبکہ منہ گھلتے ذائقے کو پہچانتے آفتاب اسکی پشت کی طرف دیکھتا استہزائیہ مسکرایا ۔۔۔”

کیوں مام آپکی بہو کو کھیر بھی نہیں بنانی آتی ۔۔۔جو انکی جگہ آپکو بنانی پڑی ؟؟؟؟

کھیر کا ایک اور چمچ منہ میں رکھتے کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھتا وہ طنزیہ بولا ۔۔۔”

اسکے طنز پر پلٹتے ذینی نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جسکے چہرے پر استہزائیہ مگر بہت خوبصورت مسکان تھی ۔۔۔

جسے دیکھتے اس لب بےساختہ ہی مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔”

سلمی بیگم جسکا دیہان اسکی طرف ہی تھا اسکی مسکراہٹ کو دیکھتے وہ بھی خوبصورتی سے مسکرائیں ۔۔۔”

تو یہ کونسی بڑی بات ہے ۔۔۔نہیں آتی تو سیکھ لینگی ۔۔۔

انہوں نے جیسے اسے لاجواب کیا تھا ۔۔۔”

جس پر سیدھے ہوتے وہ کٹوری واپس ٹیبل پر رکھتا اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

جسکی پشت کو دیکھتے وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے خوبصورتی سے مسکرائیں تھیں ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°°

دیکھ آفتاب میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔”

تجھے ہر حال میں میری اینیورسری پارٹی میں آنا ہی ہوگا اور ساتھ میں بھابھی کو بھی لانا ہوگا ۔۔۔ورنہ میں تجھ سے ناراض ہو جاؤں گا ۔۔۔”

لیکن شعیب تم جانتے ہو ۔۔۔میں ایسی تقریبات میں شرکت نہیں کرتا ۔۔۔”

اپنے سامنے بیٹھے اپنے بچپن کے دوست کو دیکھتے جیسے اپنی عادت کے بارے یاد دلا رہا تھا ۔۔۔”

بہت اچھے سے جانتا ہوں ۔۔۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی عادتیں بدلنی چاہیے ۔۔۔

لیکن میں اب کچھ نہیں سنوں گا ۔۔۔”

سوری شعیب میری طرف سے معذرت ۔۔۔میں نہیں آ سکتا ۔۔۔”

اس نے بنا مروت کے سیدھا اسکے منہ پر جواب دیا تھا ۔۔۔وہ ایسا ہی تھا سیدھی اور کھڑی بات کرنے والا ۔۔۔”

تو ٹھیک ہے ۔۔۔آج سے تیری اور میری دوستی ختم ۔۔۔

اپنے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ اسکی ٹیبل پر پٹکتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔جس پر آفتاب ملک دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔”

جبکہ اسکی دائیں گال میں پڑتے گڑھے کو دیکھتے وہ مزید جلا تھا ۔۔۔۔”

خبردار آج کے بعد تم نے مجھے فون کیا تو ۔۔۔تیرے ساتھ اپنا ہر رشتہ ختم کر رہا ہوں ۔۔۔۔”

بہت اچھی بات ہے تھینک یو سو مچ ۔۔۔ کم از کم تجھ جیسے چپکو سے جان تو چھوٹے گی ۔۔۔”

وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسکا مذاق بناتے بولا ۔۔۔”

شعیب کا حیرت سے پورا منہ کھل گیا تھا ۔۔۔وہ بیچارہ تو کافی دیر کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔”

میں ،،، چپکو ں ں ،،، ہوں ۔۔۔

اسکا لہجہ حیرت سے بھرپور تھا ۔۔۔

بالکل کوئی شک ۔۔۔آفتاب نے آئی برو اچکائی ۔۔۔۔”دیکھ لو دنیا والوں کیا زمانہ آ گیا ہے ۔۔۔”

آج ایک دوست دوسرے دوست کا مذاق بنا رہا ہے اسے ل چپکو بول رہا ہے ۔۔۔اور دوست بھی وہ جو اس پر اپنی جان دیتا ہے ۔۔۔جسکی اتری ہوئی لنگوٹیا پہن پہن کر یہ بڑا ہوا ۔۔۔

بس اعتبار اٹھ گیا اس دنیا سے ۔۔۔” دوستی سے ۔۔۔۔”

اچھا دوست ،،،،، تینوں ساڈا جاندی وار دا اے آخری سلام ( تجھے ہمارا جاتی بار کا آخری سلام )

جھوٹی روٹھنے کی نوٹنکی کرتے اس نے پنجابی میں بولتے پیشانی پر ہاتھ رکھا ۔۔۔”

وعلیکم السلام ۔۔۔”

مسکراتے ہوئے فورا جواب آیا تھا ۔۔۔”

شعیب نے تیکھی نگاہوں سے اسے گھورا ۔۔۔جسکا کم از کم آفتاب پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔”

اچھا رک ایک منٹ ۔۔۔”

اسے مانتے نا دیکھ وہ روٹھ کر جانے لگا جب آفتاب نے پیچھے سے آواز دیکھ کر اسے روکا ۔۔۔

شعیب کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ بکھری ۔۔۔وہ فورا پلٹا ۔۔۔”

آفتاب نے اسکی بتیسی دیکھتے اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔”

تمہارا فون ۔۔۔تم یہی بھول کر جا رہے تھے ۔۔۔

اس نے ٹیبل پر پڑے شعیب کے فون کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔”اس نے اپنے فون کو دیکھتے آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جس پر نو لفٹ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔۔۔۔”

اس نے جلتے کڑھتے جھٹکے سے اپنا فون اٹھایا ۔۔۔تم یہ بات یاد رکھنا ۔۔۔”

اوکے ۔۔۔”

آفتاب نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔۔۔”

جس پر وہ اسے مختلف گالیوں سے نوازتا اسکے آفس سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔”

جبکہ پیچھے کمرے میں آفتاب دلکش قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *