Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 18)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آہ ۔۔۔۔

اسکی ہمت کیسی ہوئی ،،،، مجھے ،، یعنی کہ ایشال احمد کو منع کرنے کی ۔۔۔”

مجھ پر اس دوران کوڑی کی لڑکی کو پریفر کرنے کی ۔۔۔

ٹیبل پر سجی شراب کی بوتلوں کو ایک جھٹکے سے زمین بوس کرتے وہ اپنی پوری قوت سے چلائی تھی ۔۔۔”

جس پر یاسر نے مسکراتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔

لیکن پھر اسکے پلٹنے پر فورا چہرے پر معصومیت سجاتے اسکا ہمدرد بنا ۔۔۔

بالکل بہت غلط کیا اس نے ۔۔۔”

اسکی سزا تو آفتاب کو ملک کو ضرور ملنی چاہیے ۔۔۔”

بالکل ملے گی ۔۔۔اتنی آسانی سے تو میں اسے معاف نہیں کرونگی ۔۔۔”

سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔۔کہیں کا شہزادہ ،،،، ارے ایسے لوگ تو ایشال احمد کے قدموں میں بیٹھے رہتے ہیں کہ ان پر ایک نظر کرم ڈال دوں ۔۔

اصل میں نے اسے اسکی اوقات سے بڑھ کر اپنے سر پر چڑھا لیا تھا ،،، اسی کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔۔۔”

بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔

اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے شراب کا گلاس لے کر اسکے قریب آیا ۔۔۔”

لیکن وہ کیا ہے نا سویٹ ہارٹ ،،،، تم اگر ایسے بےجان چیزوں پر اپنا غصہ نکال دو گی تو ۔۔۔

آفتاب ملک سے بدلہ کیسے لو گی ۔۔۔”

اسکا لہجہ بہت معنی خیز تھا ۔۔۔

مطلب ۔۔”

ایشال نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

مطلب اپنے غصے کو چیخ چلا کر یوں باہر مت نکالو ۔۔۔

بلکہ اپنے اندر ہی دبا کر ایسی آگ میں بدلو ،،،، جس میں آفتاب ملک کا سارا غرور جل کر خاک ہو جائے ۔۔۔”

اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتے سمجھانے والے انداز میں بولا ۔۔۔”

جس پر ایشال نے چونک اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”

اسکی کمزوری پر وار کرو ۔۔۔جس سے وہ بلبلا اٹھے ۔۔۔” سمجھ رہی ہوں نا میری بات ۔۔۔”

حرام مشروب اپنے حلق سے نیچے اتارتے کمینگی سے ہنسا ۔۔۔”

جس سے ایشال کی آنکھوں میں چمک ابھری ۔۔۔”

اس نے مسکرا کر یاسر کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جسکے بدلے اس نے بھی مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔”

یہ لو پیو ،،،، اور چل کرو ۔۔۔۔

میں ہوں تمہارے ساتھ پھر تمہیں فکر کس بات کی ہے ۔۔۔”

اپنے ہاتھ میں پکڑا دوسرا شراب کا گلاس اسکی طرف بڑھاتے وہ سٹائل سے بولا تھا ۔۔۔”

ایشال نے ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا اسے بےساختہ ہی صبح آفس میں دی جانے والی آفتاب کی دھمکی یاد آئی تھی ،،،، کہ اگر تم اور تمہارے چیلے نے میری زینیہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو ایسا حشر کرونگا کا ساری زندگی یاد رکھو گی ۔۔۔ پھر نفی میں سر ہلاتے وہ گلاس اسکے ہاتھ سے تھامتے اپنے لبوں سے لگا گئی ۔۔۔”

جبکہ دماغ میں تو کوئی اور ہی پلان تیار ہو رہا تھا ۔۔۔

ایسے تو مجھے یقین نہیں آئے گا ۔۔۔کہ تم میرے ساتھ ہو یا نہیں ۔۔۔

پہلے تمہیں اس بات کا ثبوت دینا ہوگا ۔۔۔”

گلاس خالی کر کے اسکے ہاتھ میں تھماتے ایک ادا سے بھولی ۔۔۔

ثبوت ۔۔۔”

یاسر نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔”

ہاں ۔۔۔”

زینیہ کو کڈنیپ کرنا ہوگا ۔۔۔”

وٹ ۔۔۔

یس ۔۔۔”

لیکن ۔۔

لیکن کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔۔” اپنے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے وہ اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔”

یاسر اسکے لہجے پر چونکا ۔۔۔لیکن پھر سر جھٹکتے ہوئے گلاس میں بچی باقی شراب بھی اپنے حلق میں اتار گیا ۔۔۔”

اور تم نے ہی بولا نا تم میرے ساتھ ہو تو پھر ؟؟؟؟

اسکی بات اسے واپس لٹاتے وہ پیچھے ہونے لگی ۔۔۔جب یاسر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے مزید اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔”

ارے آپ کیلئے تو یہ جان بھی حاضر ہے ۔۔۔لیکن اس سے پہلے آپ بھی تو ہمارا کچھ خیال کریں ۔۔۔”

اسکا لہجہ بہکا بہکا سا تھا ۔۔۔”

ایشال نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ،،،،، اسکی آنکھوں میں نظر آتے سوال کو دیکھتے وہ مسکرائی ۔۔۔”

جسے دیکھتے یاسر کی باچھیں کھلیں ۔۔۔”

اس نے فورا سے جھکتے ہوئے اسکے لبوں کو اپنی قید میں لیا ۔۔۔”

جسکے عمل کا وہ مکمل ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔”

ضد ،،،، انا پیسے کے غرور نے انہیں مکمل اندھا کر دیا تھا جو وہ حرام اور حلال کی تعمیز بالکل بھولا چکے تھے ۔۔۔”

اسکے ہونٹوں کا جام پی کر یاسر اسکی گردن کی طرف بڑھنے لگا جب ایشال نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”

ابھی کیلئے صرف اتنا ہی ۔۔۔

پہلے میرا کام مکمل کرو ۔۔۔پھر جیسے کہو گے ویسے خوش کر دونگی ۔۔۔”

اسکا کالر پکڑ کر قریب کرتی زومعنی انداز میں بولتے ہوئے ایک جھٹکے سے خود سے دور دھکیلا ۔۔

جس پر بمشکل وہ گرتے گرتے بچا ۔۔”

لیکن اسکے باوجود بھی کمینگی سے ہنسا ۔۔۔

نائس ۔۔۔”

ایشال نے بھی مسکرا کر سر ہلاتے ہوئے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا ۔۔۔” اور پلٹی ۔۔۔جس کے ساتھ ہی اسکے ہونٹوں کی مسکراہٹ فورا سمٹی تھی ۔۔۔”

ایک بار میرا کام تو مکمل کرو ۔۔۔

اس زینیہ کے ساتھ تمہیں بھی اوپر نا پہنچا دیا تو ۔۔۔میرا نام بھی ایشال احمد نہیں ۔۔۔”

استہزائیہ سوچتے ایک بار پھر پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جو اسکے لمس میں کھویا ابھی تک حوس بھری نظروں سے اسکے وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”

پھر زبردستی مسکراتے ہوئے پلٹ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔،”

جبکہ پیچھے وہ صوفے پر گرتا ایشال کے سنگ آنے والے لمحات کے سہانے سپنے سجاتا ابھی سے مدہوش ہونے لگا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بھاری ہوتے سر کے ساتھ اس نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔”

لیکن آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھا جانے کی وجہ سے کچھ بھی ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی ۔۔۔

البتہ ہوش کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد جو اسے پہلی چیز سننے ملی تھی ۔۔۔وہ تھی کسی کی دھڑکنوں کی آواز ۔۔۔

جو اسے اپنے بہت قریب سے آ رہی تھی ۔۔۔”

جسے سنتے وہ ناجانے کیوں بہت بےچین ہو گئی تھی ۔۔۔” اور دوسری چیز تھی اپنے گرد کھینچا ہوا ۔۔۔کسی کی بازوؤں کا سخت حصار ۔۔۔

جسے محسوس کر کے زینیہ کو ایسا لگا جیسے وہ کسی کی قید میں ہو ۔۔۔

اسکی سانسیں یکدم رکنے لگی ۔۔۔”

اسکی آنکھیں جو سر بھاری ہونے کی وجہ سے کھل نہیں پا رہی تھی اس نے زبردستی اپنے سر کو جھٹکتے انہیں کھولا ۔۔۔

اور اسکے بعد جو پہلا نظارہ اسے دیکھنے کو ملا ۔۔۔اس نے زینیہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر دیے ۔۔۔”

آفتاب کا کشادہ سینہ جسکے اوپر وہ سر رکھ کر سو رہی تھی ۔۔۔”

اسکی دھیمی چل رہی دھڑکنوں کی آواز ۔۔۔

زینیہ نے حیرت سے سر اٹھا کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جو پرسکون سو رہا تھا ،،،، اسکے چہرے پر زینیہ کو ایک اطمینان کی جھلک دکھائی دی ۔۔۔

جیسے کل جہاں کی خوشیاں اسکے حصار میں قید ہوں ۔۔۔”

جسے دیکھتے بےساختہ اسکے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”

لیکن تبھی اسکے کانوں میں کل آفتاب کے بولے گئے الفاظ گونجے ۔۔۔”

زینیہ کی ہونٹوں کی مسکراہٹ فورا سمٹی ۔۔۔” ساتھ ہی سنہری آنکھوں میں آنسو اتر آئے ۔۔۔”

وہ ایک جھٹکے سے اسکا حصار توڑ کر پیچھے ہوتی دونوں کے درمیان فاصلہ بنا گئی ۔۔۔”

آفتاب جو گہری نیند میں تھا ،،،، جھٹکا لگنے کی وجہ سے ایک دم بیدار ہوا ۔۔۔”

زینیہ ۔۔۔”

اپنے بازوؤں کو خالی دیکھ اسکا دھیان ساتھ بیٹھی زینیہ کی طرف گیا ۔۔۔”

جو نم آنکھوں کے ساتھ اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔”

پھر سر جھٹکتے ہوئے خود بھی اٹھ کر بیٹھا ۔۔۔”

اب کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟؟

اسکی پیشانی پر اپنے ہاتھ کی پشت رکھتے نرمی سے پوچھا ۔۔۔”

اسکا لہجہ بہت نارمل تھا ۔۔۔”بالکل ایسے جیسے دونوں کے درمیان کبھی کوئی بات ہوئی ہی نا ہو ۔۔۔

اور یہ پانچ منٹ کے وقفے میں زینیہ کو لگنے والا حیرت کا دوسرا جھٹکا تھا ۔۔۔”

کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہیں مسز ؟؟؟

پہلے کبھی مجھ جیسا کوئی ہینڈسم ڈیشنگ بندہ نہیں دیکھا کیا ۔۔۔”اسکا انداز شرارت سے بھرپور تھا ۔۔۔”

جبکہ ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ ۔۔۔

زینیہ نے فورا اپنی آنکھوں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔

جب اسکا دھیان اپنے پہنے ہوئے لباس کی طرف گیا ۔۔۔” جسے ایک نظر دیکھتے اس نے واپس حیرت سے آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”

بھیگ گئے تھے ۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں سوال کو پڑھتے اسکے پوچھنے سے پہلے ہی جواب آیا ۔۔۔”

آپ ،،،، نے ؟؟؟؟

شرم کی وجہ سے یہ دو لفظ بھی بمشکل ہونٹوں سے نکلے تھے ۔۔۔”

آفتاب نے لب دانتوں تلے دباتے اپنی مسکراہٹ کو روکا ۔۔۔اور پھر سر اوپر نیچے ہلا دیا ۔۔۔”

کس حق سے ؟؟؟؟

اپنی جگہ سے اٹھ کر بیڈ سے نیچے اترتے غصے سے سوال گو ہوئی ۔۔۔”

حالانکہ ایسے اترنے سے اسکا سر یکدم چکرایا ،،،، قدم لڑکھڑائے لیکن وہ خود کو سنبھال گئی ۔۔۔”

آفتاب کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”

اور وہ بیڈ سے اتر کر اسکے مقابل آیا ۔۔۔” آپ پر حق جتانے کیلئے اتنا کافی نہیں کہ آپ میرے نکاح میں ہیں ہاں ۔۔۔”

نرمی سے بولتے اسکے بھیگے گال کو چھونا چاہا ۔۔۔

جب زینیہ نے سر نفی میں ہلاتے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔اور ساتھ ہی اسکے ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری ۔۔۔”

نکاح کونسا نکاح آفتاب ملک ؟؟؟

اب کے بار چونکنے کی باری آفتاب ملک کی تھی ۔۔۔”

کہیں آپ اس نکاح کی بات تو نہیں کر رہے ۔۔۔جسے کبھی آپ نے دل سے قبول ہی نہیں کیا ۔۔۔”

جو بس ایک بیوقوف سی لڑکی کی بیوقوف سی خواہش پر گھر والوں کے دباؤ میں آ کر آپ نے مجبوری میں قبول کیا تھا۔۔۔

آفتاب نے اسکی بات پر بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”

ایک مجبوری کے تحت جڑنے والا وہ رشتہ جو آپکے گلے کا پھندا بن گیا تھا ۔۔۔” جسے آپ کسی بھی قیمت پر اپنے گلے سے اتار کر پھینکنا چاہتے تھے ۔۔۔”

جس میں نا تو آپکا مجھ پر کوئی حق تھا ۔۔۔اور نا ہی آپ پر میرا ۔۔

تو پھر اچانک سے وہ رشتہ اتنا معتبر کیسے ہو گیا ؟؟؟

ایک منٹ ایک یہ سب صرف اس لیے تو نہیں کہ آپ ایک مرتبہ اور میرا جسم ،،،،

شش ۔۔۔”

اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے آفتاب نے آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔”

اور ساتھ ہی اسکی کمر کو تھام کر اسے اپنے سینے سے لگاتے مزید اپنے قریب کیا ۔۔۔

بہت بولتی ہیں آپ ،،،، اور وہ بھی ہمیشہ فضول بات پر ۔۔۔”

زینیہ نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں ۔۔۔”

اسکے سنہرے کانچ میں گھلی سرخیوں کو دیکھتے آفتاب کا کو اپنا دل ان نین کٹوروں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔”

اس کی نظریں زینیہ کے معصوم نقوش میں الجھنے لگیں ۔۔۔

میں مانتا ہوں ،،،، میں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ،،،، بلکہ جب سے ہماری شادی ہوئی آپکو مجھ سے تکلیف سے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ۔۔۔”

لیکن مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے ،،،، اور میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسا کوئی کام انجام نہیں دونگا جس سے آپکو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچے ۔۔۔”

اسکے زخمی ہونٹ کو نرمی سے سہلاتے ہوئے ۔۔۔وہ جیسے خود پر یقین دلانا چاہتا تھا ۔۔۔”

اسکے نرم لہجے اور جان لیوا لمس پر زینیہ کا دل ایک بار پھر بےقابو ہونے لگا ۔۔۔”

جسے بمشکل سنبھالتے اس نے آفتاب کو پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔لیکن آفتاب کی پکڑ مظبوط ہونے کی وجہ سے کامیاب نا ہو سکی ۔۔”

اور رہی جسم حاصل کرنے کی بات تو ،،،، وہ تو اسی دن میرا ہو گیا تھا ۔۔۔جب آپ نے مجھے دل سے قبول کرتے اپنی روح کا مالک بنایا تھا ۔۔۔”

اسے چھونے کیلئے نا تو مجھے آپکی اجازت کی ضرورت ہے ،،،، اور نا ہی رضامندی کی ۔۔۔”

الٹا جو آپ نے میری غیر موجودگی میں اسے نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔اس کیلئے آپ مجھے جوبداہ ہیں ۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس بار ذرا سختی سے بولا ۔۔۔”

جس پر زینیہ نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جو پل میں اپنا روپ بدلتا تھا ۔۔۔”

کبھی برف کی طرح سرد ،،،، تو کبھی موم کی طرح نرم ۔۔۔”

کبھی ایسا کہ اس پر اپنی زندگی بھی وار دے ۔۔۔اور کبھی ایسا کہ اپنے ظلم سے اسکی چلتی ہوئی سانسیں بھی چھین لے ۔۔۔”

وہ کس پر یقین کرتی کس پر نہیں اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔”

میں ایک بات آج آپکو کلیر لی بتا دوں زینیہ ،،،، آج تو آپ نے یہ حرکت کر لی اگر آئندہ کبھی بھی کسی بات پر غصہ ہوتے اپنا نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔”

زینیہ جو گہری سوچوں میں گم تھی اسکی بات پر ہوش میں آئی ۔۔۔”

جب وہ اسے سنبھلے کا موقع دیے بنا ہی اسکے زخمی لب پر جھکا اور اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے اسے خود کو زخمی کرنے کی سزا دینے لگا ۔۔۔”

تکلیف کی شدت سے زینیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔”

اس نے آفتاب کے سینے پر ہاتھ رکھتے اپنی پوری قوت سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا جس میں وہ اس بار کامیاب بھی ٹھہری ۔۔۔”

کیونکہ اسکے نرم لمس میں کھوتے آفتاب اپنی گرفت ہلکی کر چکا تھا ۔۔۔”

بہت گھٹیا انسان ہیں آپ آفتاب ملک بہت گھٹیا ۔۔۔

آپ جیسا گھٹیا شخص میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔۔” میں کیا سمجھتی تھی آپ کو اور آپ کیا نکلے ۔۔۔”

اسکا ایک ایک لفظ حقارت میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔جسے سنتے آفتاب کی آنکھوں میں غصے کی سرخی اترنے لگی تھی ۔۔۔

لیکن وہ خود کو کمپوز کیے سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا ،،،، شاید اسکے اندر چھپے درد کو باہر نکلنے کا راستہ دینا چاہتا تھا ۔۔۔

اس لیے چاہتے بھی اس نے زینیہ کو روکا نہیں ۔۔۔”بلکہ بولنے دیا تاکہ وہ اپنے اندر کا غبار باہر نکال سکے ۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *