Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 26)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 26)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
گاڑی آ کر ملک مینشن کے پورچ میں رکی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی زینیہ پر ڈالی ۔۔” جسکا نازک وجود ابھی تک ہلکا ہلکا سا کپکپاہٹ شکار تھا ۔۔۔”
جبکہ چہرہ مکمل سرخ ۔۔۔”
جسے دیکھتے اسے ایک بار پھر اس پر ڈھیر سارا پیار آیا تھا ۔۔۔”
لیکن جتنا وہ آج اسے تنگ کر چکا تھا ،،،، وہ نازک سی جان مزید اسکی جسارتوں کو برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔
اس لیے اپنے جذبات کو کنٹرول کیے اس نے نرمی سے اسکا نازک ہاتھ تھام کر سہلاتے زینیہ کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔۔۔”
آپ ٹھیک ہیں نا ؟؟؟؟
زینیہ نے اسکے سوال پر اپنی جھکی نظریں اٹھائیں تھیں ۔۔۔”
پھر دھیرے سے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔”
آفتاب نے نرمی سے مسکرا کر اسے اپنے قریب کرتے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے ۔۔۔”
میں جانتا ہوں آج کچھ زیادہ ہو گیا ۔۔۔”
لیکن میں کیا کروں ۔۔۔آپ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر میرا خود پر بس نہیں چلتا ۔۔۔”
میں آپ پر جتنی بھی اپنی شدتیں نچھاور کر لوں ۔۔۔محبت برسا لوں ۔۔۔آپکی سانسوں کو خود میں سما لوں ،،،، لیکن میرا دل نہیں بھرتا ۔۔۔
بلکہ ہر لمحے کے ساتھ تشنگی مزید بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔”
اسکی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی ٹکاتے ،،،، اسکی سانسوں کو ان ہیل کرتے وہ ایک جذب کے عالم میں بول رہا تھا ۔۔۔”
زینیہ نے مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں اسکے چہرے کو تھاما ۔۔۔”
میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔۔۔” مسکرا کر بولتے اس نے جیسے آفتاب کو گلٹ سے نکالنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
جسے ایسا لگ رہا تھا ،،،، کہ اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر وہ زینیہ کے ساتھ شاید زیادتی کر گیا ہے ۔۔۔”
آفتاب نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔”
جس نے اسکے دیکھنے پر مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔جسے ایک پل دیکھنے کے بعد آفتاب نے جھک کر اسکی مسکراہٹ کو نرمی سے چنا ۔۔”
تھینک یو ۔۔۔”
میری زندگی میں آنے کیلئے ۔۔۔
اس میں خوشیوں کے پھول کھلانے کیلئے ۔۔۔”
میری ویرانیوں میں اپنی محبت کی روشنی پھیلانے کیلئے ۔۔۔”
میری زندگی کو سنوارنے مجھے اپنا بنانے کیلئے ۔۔”
تھینک یو تھینک یو فار ایوری تھنگ ۔۔۔”
اسکے سرخ چہرے کے ایک ایک نقش کو محبت سے چھوتے وہ اسکا شکریہ ادا کر رہا تھا ۔۔۔”
جس نے دوبارہ اسے جینا سکھایا ۔۔
سچی محبت کیا ہوتی اس کا احساس دلایا ۔۔۔
خود کی خواہشات کو چھوڑ کر اپنی محبت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا مطلب سمجھایا ۔۔۔”
جبکہ اسکے والہانہ اظہار نے زینیہ کو بوکھلانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔”
زینیہ نے اسکی گرفت سے نکلتے فورا اپنا رخ پھیرا ۔۔۔”
دھڑکنیں جو اسکے لمس پر بےقابو ہوتے ،،،، پھر سے بہکنے لگی تھیں ۔۔۔ان پر ہاتھ رکھتے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔”
آفتاب نے مسکرا کر ایک نظر اسکے کپکپاتے وجود کو دیکھا ۔۔۔پھر باہر نکلتے دوسری طرف سے آ کر اس کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔”
زینیہ نے جھکی نظریں اٹھائیں ۔۔۔لیکن آفتاب کی آنکھوں میں نظر آتے جذبات کو دیکھتے گھبرا کر پھر سے جھکا گئی ۔۔۔”
آ جائیں ۔۔۔
آپکے باب جان انتظار کر رہے ہونگے آپکا ۔۔۔”
زینیہ کیلئے اس وقت آفتاب سے نظریں ملانا بہت مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔وہ جھکی نظروں کے ساتھ ہی گاڑی سے باہر نکلی ۔۔۔”
جب گھبراہٹ کی وجہ اسکے ہلکے سے قدم ڈگمگائے ۔۔۔”
آفتاب نے فورا آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔”
آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟؟
وہ پل میں پریشان ہوا تھا ۔۔۔”
جسے محسوس کرتے اس نے فورا ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔”
بس ایسے ہی ،،،، تھوڑی گھبراہٹ ،،،، آفتاب کی طرف دیکھتے وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر پائی تھی ۔۔”
آفتاب نے اسکی حالت کو سمجھتے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔”
چل لیں گی ۔۔۔یا پھر اٹھا کر لے چلوں ؟؟؟
لہجہ سادہ تھا البتہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔” ذینیہ نے اسکی بات پر چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔
آفتاب نے لبوں پر ابھرنے والی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔”
جسے سمجھتے زینیہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی چلی جاونگی ۔۔۔
مصنوعی غصے سے بولتے وہ اندر کی طرف بڑھی ۔۔۔”
ارے یار اس میں غصہ ہونے والی کونسی بات ہے ۔۔میں تو آپکی ہیلپ کیلئے بول رہا تھا ۔۔۔
اسکے قدموں کے ساتھ قدم ملاتے آفتاب نے معصوم بننا چاہا ۔۔۔”
آپ کتنے میرے ہمدرد ہیں سب سمجھتی ہوں میں ۔۔۔اس لیے زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ۔۔۔”
زینیہ نے رک کر ایک بار اسے تیکھے چتونوں سے گھورا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔”
مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔”
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسے ٹوک گئی ۔۔۔’
بدلے میں آفتاب نے مسکرا کر اسے گہری نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
جس پر سٹپٹاتے ہوئے وہ تیز قدموں سے اندر کی طرف بھاگی ۔۔۔جبکہ پیچھے آفتاب کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
السلام وعلیکم ۔۔
اس نے اندر داخل ہوتے لاؤنج میں ہی بیٹھ کر چائے سے لطف اندوز ہوتے جہانزیب اور سلمی ملک کو سلام کیا تھا ۔۔۔”
اسکی اچانک آمد پر وہ لوگ ایک پل کیلئے حیران ہوئے لیکن پھر مسکرا کر خوشی سے جواب دیا ۔۔۔
جینی جان ۔۔۔”
جبکہ زرباب نے تو اسکو دیکھتے ہوئے خوشی سے اسکی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔
جس سے ملنے کیلئے وہ گھٹنوں کے بل جھکتے اپنے بازو پھیلا چکی تھی ۔۔۔”
جن میں سماتے اس کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔”
کیسا ہے میرا بچہ ۔۔۔”
اسے خود سے الگ کرتے اسکے معصوم چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے بہت پیار سے گویا ہوئی ۔۔۔
اور ساتھ ہی اسکی پیشانی کو محبت سے چوما ۔۔۔”
میں تھیک ( ٹھیک )
آپ کیشے ( کیسے ) ہو ؟؟؟؟ کش ( کس ) کے شاتھ ( ساتھ ) آئے ؟؟؟؟
ایت ( ایک ) منٹ ۔۔۔
اس سے پہلے زینیہ کوئی جواب دیتی وہ خود ہی بولتے اسے روک چکا تھا ۔۔۔”
زینیہ اسکی معصومیت پر مسکرائی ۔۔۔”
یہ تو بابا کا کوٹ ہے نا ؟؟؟
اسکے وجود پر موجود آفتاب کے کوٹ کو دیکھتے ،،، جس نے اسکے وجود کو گھٹنوں سے تھوڑا اوپر تک مکمل چھپا رکھا تھا ۔۔۔سوال کیا ؟؟؟؟
زینیہ نے ایک نظر اپنے پہنے کوٹ کی طرف دیکھا ۔۔۔
اشکا ( اسکا ) مطلب آپ دونوں کی شلح ( صلح ) ہو گئی ۔۔۔
اپنی بات کا خود ہی جواب دیتے وہ ایک بار پھر اسکے گلے لگا تھا ۔۔۔
جس پر وہ پہلے تو ایک منٹ کیلئے حیران ہوئی پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائی ۔۔۔”
آفتاب جو دروازے میں کھڑے ہو کر ان دونوں کے محبت بھرے ملن کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ان دونوں کے قریب چلا آیا ۔۔۔”
یس ہماری صلح ہو گئی ،،،، اب آپ بھی اپنے بابا کو معاف کرتے ان سے صلح کر لیں ۔۔”
زینیہ کے الگ ہونے پر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔”
زرباب نے اسکی بات پر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
آپ نے مجھے ڈانٹا ،،،، اتنے غشے شے ( غصے سے ) بات کی ۔۔۔میں آپ سے نالاج ( ناراض ) ہوں ۔۔۔
اور ساتھ غصے سے اپنا رخ پھیرا ۔۔۔
یہ جتانے کیلئے وہ سچ میں اس سے ناراض ہے ۔۔۔”
آفتاب نے ایک نظر ساتھ ہی زمین پر بیٹھی زینیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر سامنے صوفوں پر موجود اپنے ماں باپ کو ۔۔۔
جو زرباب کی باتوں پر مسکرا کر ان کی طرف ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔”
زرباب بابا سوری ہیں ۔۔۔
اب بھی آپ انہیں معاف نہیں کریں گے کیا ؟؟؟
اس نے زرباب کا رخ زبردستی اپنی طرف پلٹتے اسے منانے کی کوشش کی ۔۔۔”
نہیں ۔۔۔”
جسکے جواب میں اس نے صاف نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”
آفتاب نے زینیہ کی طرف دیکھتے معصوم شکل بنائی ۔۔۔
یعنی کے سفارش کیلئے اپیل کی ۔۔۔
جسے دیکھتے اس نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اور پھر صاف کندھے اچکا دیئے ۔۔۔
بھئی آپکا معاملہ ہے خود ہی سنبھالے ۔۔۔”
اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کر سلمی ملک کے قریب جا کر براجمان ہو گئی ۔۔۔”
جس پر آفتاب نے اسے آنکھوں سے ہی اشارہ کیا تھا ۔۔۔کہ بیٹا تم پر بھی وقت آئے گا مجھ سے بھی کسی رحم کی امید مت رکھنا ۔۔۔جسے اچھی طرح سمجھنے کے باوجود بھی اس نے ناک پر سے مکھی اڑائی ۔۔۔ جب وقت آئے گا تب دیکھا جائے گا ۔۔۔”
اس طرف بات نا بنتے دیکھ وہ دوبارہ زرباب کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔”
اچھا تو آپ بابا کو معاف نہیں کرینگے ؟؟؟
نہیں
فورا ایک حرفی جواب آیا تھا ۔۔۔” آفتاب نے بےبس نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
اسے اس وقت زرباب کو منانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا ۔۔۔لیکن وہ اسے منائے بغیر رہ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
اس لیے درمیانی راہ نکالی ۔۔۔
یار صلح کا کوئی راستہ نہیں نکل سکتا کیا ؟؟؟؟ میں آپکی ہر شرط ماننے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔
وہاں موجود جہانزیب ملک سمیت باقی گھر والوں نے یہ نظارہ مسکرا کر دیکھا ۔۔۔
جہاں آفتاب ملک دوسروں پر حکم چلانے والا ،،،، بےبس ہو کر اسکی ہاں کا منتظر تھا ۔۔۔
کہ جس سے اسے اپنے بیٹے کی معافی مل سکتی ۔۔۔”
زرباب نے چند لمحوں کیلئے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ،،،، پھر اپنے گال پر انگلی رکھتے کچھ سوچنے لگا ۔۔۔”
کہ وہ آفتاب سے اپنی کونسی شرط منوائے ۔۔۔
سارے گھر والے اسکی معصوم حرکت پر مسکرائے ۔۔۔”
یس ۔۔۔”
آپ ہمیں کل آفش شے ( آفس سے ) چھٹی کر کے باہر گھمانے لے کر جائیں گے ۔۔۔
اور شاتھ ( ساتھ ) میں آپکو یہ وعدہ بھی ترنا ( کرنا ) ہوگا ۔۔۔
آپ آئندہ مجھے نہیں ڈانٹے گئے ۔۔۔اور نا ہی جینی جان شے جھگلا ( جھگڑا ) کرینگے ۔۔
تبھی آپ کو معافی ملے گی ۔۔۔۔”
اپنی شرطیں گنواتے اس نے جیسے آفتاب پر احسان کیا تھا ۔۔۔”
جبکہ اپنے بیٹے کی شرائط پر آفتاب نے داد میں آبرو اچکائی ۔۔۔جبکہ اس نے ابھرنے والی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔
تیا ( کیا ) ہوا آپکو میری شلطیں ( شرطیں ) نہیں منظور کیا ۔۔۔” نہیں ایسا تو کچھ نہیں ۔۔۔
مجھے سب منظور ہے ۔۔۔”
آفتاب نے اسکے سوال کرنے پر فورا ہامی بھری ۔۔۔
کہیں دیر کرنے پر وہ ان شرائط میں مزید اضافہ نا کر دے ۔۔۔”
اسکے ہامی بھرتے ہی زرباب خوش ہوتے ہی اسکے سینے کا حصہ بنا تھا ۔۔۔
جس سے ایک سکون سا آفتاب کو اپنی رگ و جان میں اترتا محسوس ہوا ۔۔۔”
اس نے محبت سے اسکے سر کو چوما اور پھر گود میں اٹھا کر ۔۔۔زینیہ لوگوں کی طرف بڑھا ۔۔۔
بھئی آپکے پوتے کی ناراضگی تو بہت مہنگی پڑی ہے مجھے ۔۔۔زینیہ کے قریب ہی صوفے پر براجمان ہوتے ہلکے پھلکے لہجے میں گویا ہوا ۔۔
دوسرے لفظوں میں اپنے ناراض ماں باپ کو منانے کی کوشش کی ۔۔۔”
جسے سمجھتے ہوئے ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
بالکل اپنے والد پر گئے ہیں ۔۔۔”
سلمی ملک نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ۔۔۔ہلکا سا طنز کیا ۔۔۔آفتاب مسکرایا ۔۔۔”
اب آپ لوگ بھی مان جاو یار ۔۔۔یا پھر اپنے پوتے کی طرح کوئی شرطیں ورطیں منوانے کا ارادہ ہے ؟؟؟
جہانزیب ملک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھلکی ۔۔۔
ہم آپ سے ناراض نہیں ہیں ۔۔۔
بھلا ماں باپ بھی کبھی اپنی اولاد سے ناراض ہوئے ہیں ۔۔۔بس اتنی سی خواہش ہے ،،، کہ آپ ہمیشہ اپنی زندگی میں خوش رہیں ۔۔”
بس ۔۔۔
انکی بات پر وہ اٹھ کر جہانزیب ملک کے قدموں میں آ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
آئی ایم سوری ڈیڈ ۔۔۔
میں غلط تھا ،،،، اور آپ سہی ۔۔۔
آپ نے سچ کہا تھا ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی ۔۔۔اور آج مجھے اس بات پر یقین بھی ہو گیا ۔۔۔
زینیہ کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھ اس نے جیسے اعتراف کیا ۔۔۔”
سب کے سامنے اسکی بےباک نگاہوں کو خود پر دیکھتے زینیہ سٹپٹائی ۔۔۔البتہ آفتاب کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”
جہانزیب ملک مسکرائے ۔۔اب انکی قدر بھی کیجئے گا ۔۔۔اسکے سر پر اپنا پرشفق ہاتھ رکھتے پیار سے نصیحت کی ۔۔۔
آفتاب نے انکا وہی ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا ۔۔۔”
ضرور ان شاءاللہ ۔۔۔
زینیہ کی طرف لو دیتی نگاہوں سے دیکھتے وہ ایک جذب کے عالم میں بولا ۔۔۔
ماشاءاللہ ۔۔۔”
خوش رہیں ہمیشہ ۔۔۔
دل سے دعا دیتے انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔تبھی سلمی ملک نے زینیہ کیلئے اپنی بانہیں پھیلائی ۔۔۔
جن میں مسکرا کر سماتے اسے اپنی روح میں سکون اترتا محسوس ہوا۔۔۔”
دادو بابا ،،، جینی جان توئی ( کوئی ) مجھے بھی تو گلے لگاو ۔۔۔”
ان سب کو ایک دوسرے کے گلے لگے دیکھ زرباب نے دہائی ۔۔۔جس پر سب ہی مسکرائے تھے ۔۔۔تم بھی آ جاو میری جان ۔۔۔زینیہ نے سلمی ملک سے الگ ہوئے بنا ہی اس کیلئے بھی بازو پھیلایا ۔۔۔”
جس میں ایک پل کی دیری کیے بنا وہ سمایا ۔۔۔” آفتاب نے مسکراتی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔
جسے سلمی ملک نے بھی محسوس کیا ۔۔۔
جہانزیب آج ہماری فیملی بھی مکمل ہو گئی ۔۔۔
سلمی بیگم بہت محبت سے زرباب کی پیشانی چومتے ان سے مخاطب ہوئیں ۔۔۔
جنہوں نے اپنے گلشن کے پھولوں کو دیکھتے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
اللہ پاک نظریں بد سے بچائے ۔۔۔”
زینیہ کے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے نرمی سے بولے ۔۔۔
لیکن نظر تو لگ چکی تھی ۔۔۔جس سے انجان وہ سب آسودگی سے مسکرائے تھے ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°
ڈنر کے بعد وہ لوگ کافی دیر بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے ۔۔۔”
جب آفتاب کو ایک امپورٹنٹ فون کال آئی اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
جبکہ زینیہ ابھی تک سلمی اور زرباب کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔”
چلیں زرباب زینیہ رات بہت ہو گئی ہے بیٹا اب آپ لوگوں کو بھی سونا چاہیے ۔۔۔
جی دادو ۔۔۔”
وہ دونوں ایک ساتھ بولے ۔۔۔”
چلیں زرباب آپ آ جائیں میں آپکو سلا دیتی ہوں ۔۔۔سلمی ملک اسے زینیہ کے ساتھ چپکے دیکھ اپنے پاس بلانے لگیں ۔۔۔تاکہ زینیہ آفتاب کے پاس جا سکے ۔۔۔
لیکن زرباب نے فورا نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
میں آج جینی جان کے شاتھ شووں ( ساتھ سووں ) گا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔”
کوئی بات نہیں دادو میں سلا دیتی ہوں ۔۔۔”
سلمی ملک کچھ کہتیں ۔۔۔زینیہ درمیان میں مداخلت کرتے بولیں ۔۔۔
جس پر وہ سر ہلا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔”
جبکہ زینیہ اسے اپنی گود میں اٹھاتے زرباب کے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔
وہ فون کال بند کر کے کب سے زینیہ کے کمرے میں آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
اور ایک وہ تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔”
اس چیز کو لے کر ایک بار پھر آفتاب کا منہ بن چکا تھا ۔۔۔جس کے چلتے وہ کمرے کی لائٹ بند کرتے ۔۔۔
بیڈ پر براجمان ہوتا اپنی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔”
رات کے کوئی ساڑھے گیارہ بجے زرباب کو سلانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
جہاں چاروں اور اندھیرے کا راج تھا ۔۔۔”
زینیہ نے حیران نظروں سے پورے کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔جب اسے بیڈ پر آفتاب کے وجود کا احساس ہوا ۔۔۔
اور وہ دھیمے قدم لے کر اسکے قریب آ گئی ۔۔۔”
آفتاب سو گئے ہیں کیا ؟؟؟؟
لیکن جواب ندارد ۔۔۔”
زینیہ جواب نا ملنے پر کشمش کا شکار ہوئی ۔۔۔”
اصل میں اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ،،،، وہ بیڈ پر سوئے یا پہلے کی طرح صوفے پر ۔۔۔”
دل کہہ رہا تھا کہ وہ آفتاب کے پہلو سوئے لیکن دماغ میں الگ ہی جنگ چھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
کہ آفتاب کو برا ہی نا لگ جائے ۔۔۔
اس بیوقوف کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔کہ اسکا وجود ان چند دنوں میں اتنا ضروری ہو گیا تھا آفتاب کیلئے ایک پل بھی اس سے رہنا محال تھا ۔۔۔
کجا کے وہ اسکے بیڈ پر سونے سے ناراض ہوتا ۔۔۔
آفتاب ۔۔۔”
اس نے ایک بار پھر پکارا ۔۔
لیکن اس بار بھی جواب میں صرف خاموشی ہی تھی ۔۔۔
وہ چند پل کیلئے کھڑی انتظار کرتی رہی ۔۔۔کہ شاید آفتاب کوئی جواب دے ۔۔۔لیکن پھر اسے اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ وہ مایوسی سے پلٹنے لگی ۔۔۔
جب کسی ہاتھ کے آہنی شکنجے میں اسکی نازک کلائی آئی ۔۔۔”
زینیہ کے لب مسکرائے ۔۔۔
آفتاب ۔۔۔”
وہ نام لے کر پلٹنے لگی ۔۔۔جب لمحے کے ہزارویں حصے میں آفتاب نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔
جس سے وہ اپنا توازن برقرار نا رکھ سکی ۔۔۔
اور اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی ۔۔۔”
اس اچانک افتاد پر چند لمحوں کیلئے زینیہ کا دماغ چکرا کر رہ گیا ۔۔۔”
لیکن پھر خود کو سنبھالتے اس نے اندھیرے میں نظریں اٹھا کر آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”
جو سپاٹ چہرے کے ساتھ اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
آپ جاگ رہے تھے ؟؟؟؟
اسکے سوال پر آفتاب نے خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔البتہ بولا اب بھی کچھ نہیں ۔۔۔
کیا ہوا ناراض ہیں مجھ ،،،
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی ۔۔جب آفتاب نے پلک جھپکتے کروٹ بدلی اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے وہ اسکی سانسوں پر قابض ہوا تھا ۔۔۔”
اور اپنے جان لیوا عمل سے اسکے سوال کا جواب دینے لگا ۔۔۔
کہ زینیہ کی سانسیں اسکے سینے میں ہی کہیں دبنے لگیں ۔۔۔آفتاب نے اسکی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے اس کے وجود میں اپنی سانسیں منتقل کرتے سانسوں کے تال میل کا دورانیہ بڑھایا ۔۔۔”
زینیہ کیلئے آفتاب کی اتنی شدت کو سہنا آسان نہیں تھا ۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔
اینڈ جب آفتاب کی خود سانسیں بند ہونے لگیں تو اسکے لبوں پر اچھا خاصہ دانتوں کا دباؤ دیتے انہیں زخمی کر کے ۔۔۔
اپنے طور پر زینیہ کو اسے انتظار کروانے کی سزا دیتا پیچھے ہوا ۔۔۔”
سانسوں کو آزادی ملنے پر زینیہ نے گہرا سانس کھینچ کر انہیں سنوارنے کی کوشش کی ۔۔۔”
جو کہ ممکن نا ہو سکا ۔۔۔” اسکا دل آفتاب کے اس عمل پر جیسے بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ۔۔۔”
آ ،،،، فتا ،،،، ب
اسکا نام بمشکل ٹوٹ کر اسکے لبوں سے آزاد ہوا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
اسکی حالت کو دیکھتے وہ پریشان ہوا ۔۔”
اس نے فورا اپنی قید سے رہائی اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔اور اسکی پیٹھ سہلاتے اسے نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔”
زینیہ نے بےبس نگاہوں سے دیکھتے نفی میں سر ہلایا ،،،، اور جب آفتاب کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو وہ دوبارہ اسکے لبوں پر جھکتے اپنی سانسوں سے اسکی سانسیں سنوارنے لگا ۔۔۔”
اور ساتھ ساتھ نرمی سے اسکی پیٹھ بھی سہلا رہا ۔۔۔”
جس سے آہستہ آہستہ اسکی رکی ہوئی سانسیں روانی پکڑنے لگی ۔۔۔”
اور جب اسے لگا اب وہ ٹھیک ہے تو اس نے نرمی سے آفتاب کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔”
جو اپنی سانسیں اس میں انڈیلنے کے ساتھ اسکے نرم لمس کو محسوس کرتے اس میں کھو چکا تھا ۔۔۔”
اسکے ہلانے پر ہوش میں آتا نرمی سے پیچھے ہٹا ۔۔۔”
آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
زینیہ نے سرخ چہرے کے ساتھ ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔آفتاب کی بےخودی اسکے لمس میں اسکا کھو جانا وہ محسوس کر چکی تھی ۔۔۔”
جس سے اسکے نرم گال سرخ ہو کر تپ اٹھے تھے ۔۔۔”
شکر ۔۔۔”
اسے اپنے سینے سے لگاتے اس نے زینیہ کے سر پر اپنے بھیگے لب رکھے ۔۔۔”
آپ ناراض تھے مجھ سے ؟؟؟
اس سے الگ ہوئے بنا ہی زینیہ نے سوال کیا ؟؟؟ اس کے سوال پر چونک کر آفتاب نے اپنے سینے لگے اسکے نازک وجود کو دیکھا ۔۔۔”
وہ تھوڑی دیر پہلے تک اس سے ناراض تھا یہ بات تو وہ بھول ہی گیا تھا ۔۔۔”
بولیں نا آفتاب آپ مجھ سے ناراض تھے ؟؟؟؟
اپنے سوال کو دوہراتے زینیہ نے پیچھے ہونا چاہا ۔۔۔لیکن آفتاب نے اسکا سر دوبارہ اپنے سینے سے لگاتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا اور ساتھ ہی پیچھے ہوتے بیڈ کراون کے ساتھ لیٹنے کے انداز میں ٹیک لگائی ۔۔۔”
ہاں ناراض تھا ۔۔۔”
مختصر جواب ۔۔۔”
لیکن کیوں ؟؟؟
اوں ہوں “
حیرت سے سوال کرتے دوبارہ اٹھنا چاہا ۔۔۔جب آفتاب نے اپنی گرفت اسکے گرد سخت کرتے سختی سے ڈپٹا ۔۔۔”
آفتاب کے اس پر عمل پر زینیہ کے لب مسکرائے ۔۔۔اس نے آفتاب کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسکے دل کے مقام پر دھیرے سے لب رکھے ۔۔۔”
جس سے اسکے گرد آفتاب کی پکڑ کچھ اور مظبوط ہوئی ۔۔۔
ایسی حرکتیں کر کے کوئی اپنی شامت بلوانا چاہ رہا ؟؟؟ اسے مزید اپنے سینے میں سختی سے بھینچتے وہ زومعنی انداز میں گویا ہوا ۔۔۔
زینیہ مطلب سمجھتے سٹپٹائی ۔۔۔”
نہیں میں ،،، تو بس ،،،، اس سے آگے بات نہیں بن پائی ۔۔۔آفتاب اسکے اٹکنے پر مسکرایا ۔۔۔”
اچھا بتائیں نا کیوں ناراض تھے ۔۔۔”
اپنی حرکت کا اثر زائل کرنے کیلئے اس نے دوبارہ اپنا سوال دوہرایا ۔۔”
میں آپکا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
ایک بار پھر مختصر جواب ۔۔”
جبکہ اسکے جواب پر وہ حیرت کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔”
میں نے آپکو انتظار جان بوجھ کر نہیں کروایا ،،،، میں زرباب کو سلانے کیلئے گئی تھی ۔۔۔جو ضد کر رہا تھا ۔۔۔”میرے ساتھ سونے کی ۔۔۔
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔
اسے خود سے الگ کرتے وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔
اسکے رویے پر زینیہ نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
مجھے اپنے حصے کا مکمل وقت چاہیے ،،، جس پر میں کسی طور پر بھی کوئی کمپرومائز نہیں کرونگا ۔۔۔”
اور نا ہی کوئی بہانہ سنوں گا ۔۔۔
آفتاب ۔۔”
زینیہ کے تو جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے ۔۔۔”
آپ نے ہی بولا تھا ۔۔۔آپ مجھے بہت محبت ،،، بہت پیار دینگی ،،،، زرباب کی طرح ۔۔۔
آفتاب وہ بچہ ہے ۔۔۔”
اور مجھے اپنے مزید بچے چاہیے ،،، جو آپکے وقت کے بنا ناممکن ہے ۔۔۔”
آفتاب نے گھمبیرتا سے بولتے اسے لاجواب کیا تھا ۔۔۔”
اور ساتھ ہی جھک کر اسکے لبوں پر چھوٹی سی جسارت انجام دی ۔۔۔
زینیہ کیلئے نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا ۔۔۔
اس نے شرما کر آفتاب کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔”
آفتاب نے کروٹ بدلی ۔۔۔
بولیں میری خواہش پوری کرینگی نا ؟؟؟؟
اسکو تکیے پر منتقل کرتے وہ اسکی سانسوں کے قریب ہوا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔
اسکی مسلسل خاموشی پر آفتاب نے محبت سے پکارا ۔۔۔
زینیہ نے جھکی پلکیں اٹھائیں ۔۔۔اور چند لمحوں کیلئے اسکی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔”
جسکے ساتھ ہی وہ ایک بار پھر اسکی سانسوں پر جھک آیا تھا ۔۔۔”
آپکی سانسوں کا نشہ مجھے پاگل کر کے چھوڑے گا ۔۔۔مجھے ڈر ہے کہیں اپنے جنون میں آپ پر آپکی ہی سانسیں تنگ نا کردوں ۔۔۔”
اسکے لبوں پر اپنے لب نرمی سے رب کرتے وہ جنونیت سے بولا ۔۔۔”
مجھے منظور ہے ۔۔۔”
اسکے چہرے کو اپنے نازک ہاتھوں میں تھامتے وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔
اپنی محبت میں آپ مجھ سے جان بھی مانگے گے ۔۔۔تو کبھی انکار نہیں کرونگی ۔۔۔”
جانتا ہوں ۔۔۔”
اسکے نرم گال کو نرمی سے چھوتے دوبارہ رخ پلٹ کر اپنے سینے پر منتقل کیا ۔۔۔”
آفتاب ۔۔”
سو جائیں آپ کو آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔”
زینیہ جو اسکی باتوں کا کچھ اور ہی مطلب سمجھی تھی ۔۔اسکے اچانک رخ پلٹنے پر اسے لگا وہ دوبارہ ناراض ہو گیا ۔۔۔
اس لیے منانے کیلئے کچھ بولنے لگی ۔۔۔
جب آفتاب نے نرمی سے بولتے اسے خاموش کروایا ۔۔۔آفتاب کو اسکا خیال تھا ۔۔۔
اس چیز نے زینیہ کو سرشار کیا تھا ۔۔۔”
تھینک یو ۔۔۔”
اسکے گرد اپنے دونوں بازو پھیلاتے ،،،، وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔”
آفتاب کے لب مسکرائے ۔۔۔”
کل معافی نہیں ملے گی ۔۔۔اس لیے جتنی نیندیں پوری کرنی ہیں آج کی رات کر لیں ۔۔۔”
زومعنی انداز میں بولتے مزید اپنے سینے بھینچا اور سکون سے اپنی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔”
زینیہ اس کی بات پر چند لمحوں کیلئے سٹپٹائی ،،،، لیکن پھر اسکے حصار میں سکون محسوس کرتے جلد ہی وہ بھی گہری نیند میں چلی گئی ۔۔۔
