Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 05)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 05)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
ذینی بیٹا آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔آپ کو پتا بھی ہے آپکی اس حرکت کی وجہ مجھے کتنا شرمندہ ہونا پڑا ہے آفتاب کے سامنے ؟؟؟؟
زوہیب ملک لاکھ غصے کے باوجود اسے اپنے سامنے بٹھائے نہایت نرمی سے گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔جس پر عائشہ ملک نے تاسف سے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت تو دو تھپڑ لگانے والی تھی ۔۔۔اور اگر انہیں زوہیب ملک کا خیال نا ہوتا وہ اب تک یہ فعل انجام دے بھی چکی ہوتیں ۔۔۔۔
اگر آپکے دل میں آفتاب کو لے کر کوئی ایسی خواہش تھی تو آپکو اسکے بارے میں سب سے پہلے مجھے یا پھر اپنی ماما کو بتانا چاہیے تھا ۔۔۔
ڈیڈ ۔۔”
ذینی نے ڈبڈبائی آنکھوں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور بس بات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی ۔۔۔انہوں نے فورا آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔
نا میرا بچہ رونا نہیں ۔۔۔آپکو پتا ہے نا کہ آپکے ڈیڈ آپکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتے ؟؟؟
اپنے سینے سے اسکا چہرہ اٹھاتے نہایت محبت سے گویا ہوئےتھے ۔۔۔۔
ڈیڈ مجھے آفتاب چاہیے ؟؟؟؟ بالکل بچوں کے انداز سے بولی تھی ۔۔۔جبکہ آنکھیں اب بھی جھلملا رہی تھیں ۔۔۔۔
زوہیب ملک کو ڈھیر کرنے اور ان سے اپنی بات منوانے کا یہ اسکا سب سے آسان اور بہت پرانا طریقہ تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے وہ پل میں بےبس ہوئے تھے ۔۔۔۔
زینیہ بیٹا آفتاب کوئی چیز نہیں ہیں ۔۔۔جو آپکے ایسے فرمائش کرنے پر آپکو مل جائیں گے ۔۔۔۔وہ جیتے جاگتے انسان ہیں ۔۔۔جن کی اپنی مرضی بھی معنی رکھتی ہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے زوہیب ملک اسے کوئی جواب دیتے عائشہ درمیان میں مداخلت کرتیں بولی ۔۔۔۔
انکی بات پر زینیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر اسکی نازک سرخ و سفید گال پر بہہ نکلا تھا ۔۔۔۔
جس پر زوہیب ملک نے انہیں گھورا ۔۔۔۔
زوہیب میں نے کوئی غلط بات نہیں بولی ۔۔۔۔ جو آپ میری طرف ایسے دیکھ رہیں ہیں ۔۔۔۔ اگر آپ نے ان کی بےجا ضدیں پوری کرنے کی بجائے ،،،، انہیں انکی کچھ حدود بھی سمجھائی ہوتیں تو آج آپکو یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔
وہ زینیہ کی حرکت پر سخت برہم تھیں ۔۔۔اس لیے ان سے بھی غصے میں بولی ۔۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔”
زینیہ نے اب باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔جس پر انہوں نے انہیں آنکھیں دکھاتے چپ کروایا تھا ۔۔۔۔
اور اپنی لاڈلی بیٹی کو سینے سے لگائے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔
عائشہ ملک نے ان دونوں باپ بیٹی کو گھورا جو اپنے سامنے انکی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ۔۔۔
اچھا میری جان آپ رونا تو بند کریں ۔۔۔میں چاچا جان سے بات کروں گا ۔۔۔ان شااللہ آفتاب بھی مان جائیں گے ۔۔۔۔
اسے یوں پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ انہوں نے جیسے ہتھیار ڈالے تھے ۔۔۔جبکہ انکی بات پر عائشہ ملک نے اپنا سر تھاما ۔۔۔۔
سچ ڈیڈ ۔۔۔”
زینیہ نے ان سے الگ ہوتے تائید چاہی ۔۔۔
بالکل میری جان میں پوری کوشش کروں گا ۔۔۔بس آپ نے اب رونا نہیں ہے ۔۔۔اسکی بھیگی پلکوں پر ٹھہرے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنتے یقین دلایا تھا ۔۔۔
جس پر وہ کھل کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔
تھینک یو ،،، تھینک یو ،،، تھینک یو سو مچ ڈیڈ ۔۔۔آپ اس دنیا کے سب سے بیسٹ ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔
آئی لو یو سو مچ ۔۔۔
انکے دائیں گال پر پیار کرتے فورا انکے گلے کا ہار بنی تھی ۔۔۔جس کے بدلے انہوں نے اس کے سر کو محبت سے چوما ۔۔۔
ڈیڈ لوز یو آلوٹ میرا بچہ ۔۔۔۔اور میں آئندہ کبھی آپکو ایسے روتے ہوئے نا دیکھو ۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے کبھی آپکے آنکھوں میں آنسو آئیں یہ آپکے ڈیڈ برداشت نہیں کر پائیں گے ۔۔۔۔
جس پر اس نے فورا زور و شور سے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔زوہیب ملک نے اسے ایک بار پھر اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔جب وہ اس بار کھل کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ اسکے ڈیڈ نے بولا تھا تو مطلب بہت جلد آفتاب ملک صرف اسکا ہونے والا تھا یعنی کہ زینیہ ملک کا ۔۔۔۔اور یہ سوچ ہی کتنی راحت بخش تھی اسکا اندازہ اسے اپنی رگ و جان میں اترتے سکون سے محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
بیگم دور بیٹھی کیا گھور رہی ہیں ،،،، ہمیں نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا ؟؟؟ آپ بھی یہاں آ سکتی ہیں ،،،، ہم باپ بیٹی آپ کیلئے تھوڑی سی جگہ تو بنا ہی سکتے ہیں اپنے درمیان ۔۔۔۔
عائشہ ملک کو خاموش تماشائی بنے دیکھ زوہیب ملک ان کیلئے اپنا دوسرا بازو واں کیے شرارت سے گویا ہوئے۔۔۔۔
ذینی بھی انکی بات پر تائید میں سر ہلاتے مسکرائی تھی ۔۔۔
نہیں مجھے آپ دونوں کے درمیان آنے کی کوئی خواہش نہیں ہے ۔۔۔جب آپ دونوں کے نزدیک میری کسی بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو یہ محبت کا دکھاوا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
ناراضگی سے کہتے وہ کمرے سے ہی واک آؤٹ کر گئیں تھیں ۔۔۔۔
جس پر ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ڈیڈ ۔۔” زینیہ پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔
ڈونٹ وری میرا بچہ ۔۔۔میں سب سنبھال لوں گا ۔۔۔۔آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
پیار سے کہتے اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔جس پر وہ پرسکون ہوتی مسکرائی تھی ۔۔۔۔
جبکہ زوہیب ملک کی پرسوچ نظریں دروازے پر ٹکی تھیں ۔۔۔۔جہاں سے ابھی عائشہ ملک نکل کر گئی تھیں۔۔۔۔
ویسے تو انہیں انکی اتنی ٹینشن نہیں تھی ۔۔۔کیونکہ انہیں تو وہ کسی نا کسی طریقے سے منا ہی لیتے ۔۔۔لیکن انہیں اصل ٹینشن تو آفتاب کی تھی ۔۔۔کیونکہ جیسے اس نے آج ذینی کے متعلق ان سے بات کی تھی ۔۔۔اس کی لہجے کی ناگواری لاکھ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی انکے سامنے تھی ۔۔۔۔
کیا وہ زینیہ سے شادی کیلئے مان جاتا ۔۔۔۔
لیکن انہیں اپنی بیٹی کیلئے کوشش تو کرنی ہی تھی ۔۔۔۔اس لیے وہ جہانزیب ملک سے بات کرنے کا فیصلہ کرتے ۔۔۔زینیہ کے چہرے کی طرف دیکھتے نرمی سے مسکرائے تھے ۔۔۔۔
•••••••••••
آفتاب کے لاکھ برے رویے اور بار بار دھتکارنے کے بعد بھی جب زینیہ نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ۔۔۔۔
تو اسکو مجبوری میں زوہیب ملک سے بات کر کے انہیں ان سب کے بارے میں آگاہ کرنا پڑا ۔۔۔۔
اصل میں وہ زینیہ کے روز روز کے ڈراموں سے تنگ آ گیا تھا ۔۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ بیوقوف لڑکی اپنی چند دنوں کی اٹریکشن کے پیچھے کوئی بڑا قدم اٹھاتی ۔۔۔
جسکا بعد میں ان دونوں کو ہی افسوس ہوتا ۔۔۔۔اس نے اسکے وارث سے بات کرنا زیادہ مناسب سمجھا ۔۔۔۔
کہ بعد میں وہ لوگ کسی بات کیلئے اسے الزام نا دے سکیں ۔۔۔۔
اس نے زوہیب ملک سے صاف اور دوٹوک بات کی تھی ۔۔۔۔کہ یہ سب فتور انکی اپنی بیٹی کا کھڑا کردہ ہے اس میں اسکا کوئی عمل دخل نہیں ۔۔۔
اور نا ہی آگے اسکا دوسری شادی کا کوئی ارادہ ہے ۔۔۔۔تو بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنی بیٹی کو سمجھا لیں ۔۔۔ورنہ پھر غصے میں آ کر اگر اس نے کچھ کہہ دیا تو بعد میں مجھ سے کوئی شکایت مت کیجئے گا ۔۔۔
زوہیب ملک کو آفتاب کا ایسے زینیہ کے بارے میں بات کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔لیکن یہاں غلطی انکی بیٹی کی تھی اس لیے خاموشی سے وہاں سے اٹھ آئے تھے ۔۔۔۔
جبکہ آفتاب اپنے دنوں کا سٹریس جو اس لڑکی نے اپنی دن رات کی حرکتوں سے اسے دے رکھا تھا ۔۔۔ زوہیب ملک کو بتانے کے بعد اب وہ کافی ریلکس فیل کر رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکا یہ سکون بہت جلد ہمیشہ کیلئے رخصت ہونے والا تھا ۔۔۔
•••••••••••
زوہیب ملک نے اپنے وعدے کے مطابق عائشہ ملک کو راضی کرتے ہوئے جہانزیب اور سلمی بیگم سے ذینی اور آفتاب کے رشتے کی بات کی تھی ۔۔۔۔
جس پر وہ پہلے تو بہت حیران ہوئے ۔۔۔۔لیکن پھر اپنے بیٹے کے خوشیوں کے بارے سوچتے کافی خوش بھی ۔۔۔۔لیکن آفتاب کے ری ایکشن کے بارے میں سوچتے جہانزیب ملک نے سمجھداری دکھاتے فورا ہامی نہیں بھری تھی ۔۔۔
البتہ یہ ضرور کہاں تھا کہ وہ پہلے آفتاب سے بات کرینگے پھر ہی انہیں کوئی حتمی جواب دے سکیں گے ۔۔۔۔
اور زوہیب ملک کیلئے تو یہ بھی بہت تھا کہ انہوں نے انکار نہیں کیا تھا ۔۔۔۔اور انکے چہروں سے یہ بھی پتا چل رہا تھا انہیں اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔
بات صرف آفتاب کی تھی ۔۔۔۔اور انہیں جہانزیب ملک پر پورا یقین تھا کہ وہ اسے اس رشتے کیلئے ضرور منا لیتے ۔۔۔۔آخر اولاد کی خوشیاں کسے عزیز نہیں ہوتی ۔۔۔۔
اور ذینیہ کی طرح وہ بھی تو جہانزیب ملک کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔۔آخر کب تک وہ انہیں یوں تنہا زندگی گزارنے کی اجازت دیتے ۔۔۔۔
جبکہ ان مردوں کے برعکس سلمی ملک تو اس پروپوزل بہت زیادہ خوش تھیں انکا بس چلتا تو آج ہی ذینی کو اپنے آفتاب کی دلہن بنا دیتی ۔۔۔
جسکا برملا اظہار انہوں نے عائشہ ملک سے بھی کیا تھا ۔۔۔۔جس پر وہ بادقت ہی مسکرائی تھیں ۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ انہیں آفتاب زینیہ کیلئے پسند نہیں تھا ۔۔یا اسکی عمر کی کوئی ٹینشن تھی کیونکہ انکے مطابق مرد ہمیشہ عورت سے بڑے ہی اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔
اور نا ہی انہیں زرباب سے کوئی مسئلہ تھا ،،،، بلکہ جتنا وہ پیارا بچہ تھا انہیں چند دنوں میں ہی بہت عزیز ہو گیا تھا ۔۔۔۔
انہیں اصل مسئلہ تھا آفتاب کی پہلی بیوی سے ۔۔۔۔جو اب بھی آفتاب کے نکاح میں تھی ۔۔۔۔اور اگر وہ کہیں آفتاب کی زندگی میں دوبارہ واپس آ جاتی تو؟؟؟ اور اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اسے معاف کر دیتا تو ؟؟؟؟
انکی بیٹی کا کیا ہوتا ۔۔۔۔کیونکہ ایک مرد اپنی پہلی محبت اتنی آسانی سے نہیں بھولتا ۔۔۔۔
اور یہ بات انہوں نے زوہیب ملک کو بھی بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔لیکن زینیہ کی ضد کے آگے وہ انکی بات کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔
بلکہ انکا کہنا تھا ۔۔۔۔کہ مرد جس عورت سے ایک بار دھوکا کھا لے ،،،، پھر چاہے وہ اسکی محبت ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔دوبارہ اعتبار نہیں کرتا ۔۔۔
اس لیے وہ بھی یہ بےفضول کی ٹینشن لینا چھوڑ دیں ۔۔۔۔
لیکن وہ ایک ماں تھیں ۔۔۔کیسے ٹینشن نا لیتی ۔۔۔۔ زینیہ کے مستقبل کی پریشانی نے انکی راتوں کی نیندیں اڑا دی تھیں ۔۔۔۔
لیکن وہ بہت بےبس تھیں ۔۔۔ اب وہ بس اسکے اچھے مستقبل کی اپنے رب کے حضور ہی دعا کر سکتی تھیں ۔۔۔۔جو انکی ایک ایک سانس کے ساتھ نکلتی تھی ۔۔۔۔
•••••••••••
رات کے کھانے کے بعد جہانزیب ملک نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا تھا ۔۔۔۔
جی ڈیڈ آپ نے بلایا مجھے ؟؟؟؟
دروازہ ہلکا سا ناک کرتے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
جہاں بیڈ کی ایک طرف جہانزیب ملک آرام دہ حالت میں لیٹنے کے اندازہ میں آنکھیں موندے بیٹھے تھے ۔۔۔۔
وہی سلمہ ملک انکی دوسری طرف ہاتھ میں تسبیح پکڑے وظائف پڑھ رہی تھیں ۔۔۔۔
اور انکے خوبصورت چہرے کے گرد بندھے سفید دوپٹے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ابھی نماز کر کے بیٹھی ہیں ۔۔۔۔
اور اسے اندر آتے دیکھ دونوں ہی پرشفیق سا مسکرائے تھے ۔۔۔۔
جی ۔۔۔”
جہانزیب ملک نے سیدھے ہو کر بیٹھتے اسے اپنے قریب بیٹھنے کی جگہ دی تھی ۔۔۔
جنکا اشارہ سمجھ کر وہ بیڈ کی پائنتی کی ایک طرف ٹک گیا اور انکی طرف سوالیہ دیکھنے لگا ۔۔۔۔
دیکھیں آفتاب ہماری بات بہت دھیان سے سنیے گا ۔۔۔۔اور اسے سمجھنے کی بھی کوشش کریئے گا ۔۔۔۔
اسکے وجیہہ چہرے پر نظریں ٹکاتے انہوں نے تمہید باندھی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے ایک نظر سلمی ملک کی طرف دیکھتے جنکے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکان تھی ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
بیٹا آپ تو جانتے ہیں ۔۔۔ہم لوگ اب بوڑھے ہو چکے ہیں ۔۔۔۔اور ہماری طبیعت بھی آپکے سامنے ہیں ۔۔۔۔پتا نہیں ہماری زندگی کی اب کتنی سانسیں باقی بچی ہے ۔۔۔۔ایسے میں کب اسکا بلاوہ آ جائے کوئی پتا نہیں ۔۔۔۔
ڈیڈ کیسی باتیں کر رہیں ہیں ۔۔۔۔اللہ پاک آپکو میری زندگی بھی لگا دیں ۔۔۔۔
انکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ ان کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا درمیان میں ٹوکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
وہ تڑپ ہی تو گیا انکے لبوں سے یہ بات سن کر ۔۔۔۔
جس پر وہ شفقت سے مسکرائے تھے ۔۔۔۔
یہ دنیا کی حقیقت ہے بیٹا ۔۔۔۔جو یہاں آیا ہے ایک مقررہ وقت واپس بھی جائے گا ۔۔۔۔ہم چاہ کر بھی اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں ڈیڈ لیکن ضروری تو نہیں وقت سے پہلے آپ یہ سب باتیں کر کے اپنے بیٹے کا دل دکھائیں ۔۔۔۔
اب اسکے لہجے میں ہلکا سا شکوہ بول رہا تھا ۔۔۔۔
اچھا بھئی ہم نہیں کرتے ایسی باتیں ۔۔۔۔آپ ناراض تو نہیں ہو ۔۔۔۔
اسے ناراض ہوتے دیکھ اب کہ رسانیت سے بولے ۔۔۔جس پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی زرا سی مسکراہٹ پر جہانزیب اور سلمی ملک کو ایسا لگا جیسے زندگی مسکرا دی ہو ۔۔۔۔
ہر ماں باپ کیلئے اس کی اولاد کی خوشی انہیں اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہوتی ہے ۔۔۔۔
آفتاب اگر ہم آپ سے کچھ مانگے بیٹا تو آپ ہمیں انکار تو نہیں کرینگے ؟؟؟؟؟ جہانزیب ملک نے اصل بات کی طرف آنے سے پہلے اسے جیسے وعدے میں باندھنا چاہا ۔۔۔۔
ڈیڈ کیسی باتیں کر رہیں ہیں ۔۔۔۔آپ اپنے بیٹے سے اسکی زندگی بھی مانگے گے تو وہ آپکو کبھی انکار نہیں کرے گا ۔۔۔۔
انکے ہاتھ کو نرمی سے دباتے مسکرا کر بولا ۔۔۔۔
پھر بھی ہم جو آپ سے کہنے جا رہے ہیں ۔۔۔۔اگر آپکو اس سے اعتراض ہوا تو کیا پھر بھی اپنے ماں باپ کی بات کا مان رکھیں گے ۔۔۔۔
انکی بات پر وہ کچھ چونکا تھا ۔۔۔۔لیکن پھر ان دونوں کی امید بھری نظروں کو دیکھتے ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔
افکورس ڈیڈ ۔۔”
ہم چاہتے ہیں کہ اب آپ اپنی پچھلی زندگی کو بھول کر دوسری شادی کر لیں ۔۔۔۔
انکی بات پر ایک کرب سا لہو کی صورت اسکی آنکھوں میں اترا تھا ۔۔۔۔
ہم جانتے ہیں آپکا پہلا تجربہ کامیاب نہیں رہا ۔۔۔۔لیکن ایک دھوکے باز شخص کی وجہ سے آپ اپنے خدا کی دی ہوئی نعمت اپنی زندگی کو برباد کر لیں یہ بھی تو اچھی بات نہیں ۔۔۔۔
لیکن ڈیڈ ۔۔۔۔”
ہم آپکو یوں تن تنہا زندگی گزارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔۔اپنے بوڑھے ماں کی خاطر ہی سہی بیٹا زندگی کی طرف لوٹ آئیں ۔۔۔۔
بات کرتے کرتے آخر میں انکا لہجہ بھیگا تھا ۔۔۔۔
آفتاب نے تڑپ کر انکی طرف دیکھا اور قریب ہوتے انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ڈیڈ مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔لیکن شادی کیلئے کسی لڑکی کا ہونا بھی تو ضروری ہے ۔۔۔۔
اب کے اپنے درد کو اپنے اندر ہی کہیں دفن کیے ۔۔۔ان دونوں کی خاطر ہلکے پھلکے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
آپ لڑکی کی ٹینشن نا لیں ۔۔۔وہ ہم آپ کیلئے پسند کر چکے ہیں ۔۔۔۔اسکی بات پر سلمی ملک درمیان میں مخدالت کرتے بولیں ۔۔۔۔
جس پر اس نے سوالیہ انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میں اپنی ذینیہ کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔نو مام ۔۔” زینیہ کا نام سنتے وہ ہتھے سے اکھڑا تھا ۔۔۔۔
کیوں اس میں کیا برائی ہے ؟؟؟؟
سلمی بیگم کو آفتاب کا ذینی کیلئے یوں صاف انکار بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
مام اس میں اچھائی کیا ہے ؟؟؟؟ اسکا لہجہ ہلکا سا طنزیہ تھا ۔۔۔۔
بہت ہی نیک اور ادب آداب جاننے والی پیاری بچی ہے ۔۔۔۔اور بہت خوبصورت بھی ۔۔۔۔
انہوں نے اسے ذینی کی خوبیاں گنوائی ۔۔۔۔
جس پر وہ استہزائیہ ہنسا تھا ۔۔۔۔ مام خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔۔۔اور یہ بات میں اپنے ایک تجربے سے سیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔
اور ویسے بھی مجھے وہ لڑکی نہیں پسند ۔۔۔
اس نے زینیہ کے بارے میں اپنے خیالات صاف کھول کر انہیں بتائے ۔۔۔۔
لیکن پانچوں انگلیاں ایک برابر بھی نہیں ہوتی بیٹا ۔۔۔۔آپ ایک بار آرام سے سوچ لیں ۔۔۔۔
جہانزیب ملک نے اسے نرمی سے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔
سوچ کر کیا کروں گا ڈیڈ ۔۔۔ وہ لڑکی کسی طور میری لائف پارٹنر بننے کے لیے سٹیبل نہیں ۔۔۔۔ایک تو وہ مجھ سے بہت چھوٹی ہیں ۔۔۔۔اوپر سے انکا رہن سہن ۔۔۔۔انکی بچوں جیسی حرکتیں ۔۔۔ہر بات کو لے کر ضد کرنا ۔۔۔۔میں یہ سب افورڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
معاف کرنا بیٹا ۔۔۔۔لیکن یہ سب ناز نخرے آپ اپنی پہلی بیوی کے بہت شوق سے پورا کرتے رہیں ہیں ۔۔۔۔
سلمی بیگم کو آفتاب کی بات اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔اس لیے صاف گوئی سے بولی ۔۔۔۔
مام “
آفتاب نے شکایتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
ہم نے کچھ غلط بولا کیا ۔۔۔وہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھیں ۔۔۔
مام ڈیڈ میں نے زندگی میں اگر آگے کبھی شادی کی بھی تو وہ کسی میچور لڑکی سے کروں گا ۔۔۔۔جو میری نیچر کو سمجھتے خود کو میری پسند کے مطابق ڈھال سکے۔۔۔
بیٹا عورت ایک بہت ہی نرم مٹی سے گوندھا ہوا وجود ہوتا ہے ۔۔۔۔آپ اگر اسے پیار سے اپنے سانچے میں ڈھالیں گے ،،،،تو وہ آپ کی پسند کے مطابق ڈھل جائے گی ۔۔۔۔
خاص طور پر وہ عورت جو آپ کیلئے ۔۔۔اپنے من میں سچے جذبات رکھتی ہو ۔۔۔
جو ہمیں زینیہ بیٹی کی آنکھوں میں آپ کیلئے صاف دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔
جہانزیب ملک اسکی بات سن کر مسکراتے ہوئے بولے ۔۔۔۔اور ویسے بھی اپنی زندگی کا ایک فیصلہ آپ نے اپنی مرضی سے لیا تھا ۔۔۔۔اب ایک اپنے ماں باپ کہنے پر بھی لے کر دیکھے ۔۔۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں ۔۔۔آپ کو کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔۔۔۔
اسے خاموش ہوتے دیکھ کر سلمی ملک نے آخری وار کیا تھا ۔۔۔۔
جس پر اس نے گہرا سانس لیا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔لیکن پلیز مجھے سوچنے کیلئے کچھ وقت چاہیے ۔۔۔۔
ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔آپ اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ لیں ۔۔۔۔ہم ہر قدم پر آپکے ساتھ ہیں ۔۔۔۔
جہانزیب ملک اسکے ہاتھ پر دباؤ دیتے نرمی سے بولے ۔۔۔جس پر وہ بظاہر تو مسکرایا تھا ۔۔۔۔
لیکن دل میں ذینی کی کلاس لینے کا پکا ارادہ باندھ چکا تھا ۔۔۔کیونکہ اسکے مطابق اس ساری فساد کی جڑ وہی لڑکی تھی ۔۔۔
جس نے چند دنوں میں ہی اسکا چین سکون سب برباد کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔
