Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آفتاب زرباب اور ذینیہ کو لے کر سی سائڈ آیا تھا ۔۔۔۔
ساحل سمندر پر چلتی ٹھنڈی ہوائیں ،،،، زینیہ ملک کے خوبصورت کھلے بالوں سے اٹکلیاں کرنے لگی تھیں ۔۔۔۔
چہرے پر سن گلاسز سجائے وہ آج بھی اپنی کیجول ڈریسنگ وائٹ کھلی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔۔
جو آفتاب ملک کی ناگواریت کا سب سے بڑا سبب بن رہی تھی ۔۔۔۔
ساحل کے کنارے چلتے اونٹوں پر سواری کرتے فیملیز کو دیکھ زرباب نے بھی اس پر بیٹھنے کی آفتاب سے فرمائش کی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اونٹ کے قریب پہنچتے آفتاب نے اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھی سیٹ پر بیٹھایا تھا ۔۔۔جب اس نے زینیہ کو بیٹھنے کی آفر کی ۔۔۔۔
جینی آ جائیں ۔۔۔۔
نہیں باب جان میں نہیں ۔۔۔۔زینیہ نے ایک نظر اونٹ کو دیکھتے جو منہ سے مختلف آوازیں نکال رہا تھا ۔۔۔صاف انکار کیا تھا ۔۔۔۔
ذینی کے زرباب کو دیئے جانے والے نام پر آفتاب نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
پلیج ۔۔۔"
اس نے دوبارہ انسسٹٹ کیا ۔۔۔
باب جان مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔دیکھو تو یہ کیمل مجھے دیکھ کر کیسی آوازیں نکال رہا ہے ۔۔۔اگر اس نے مجھے گرا دیا تو ؟؟؟
الے جینی جان میں ہوں نا تچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
( ارے ذینی جان میں ہوں نا کچھ نہیں ہوگا )
زرباب اگر وہ نہیں بیٹھنا چاہ رہی تو کیوں ضد کر رہے ہو ۔۔۔۔
زرباب کی بات پر اس سے پہلے زینیہ کچھ کہتی ۔۔۔آفتاب درمیان میں مخدالت کرتے بولا ۔۔۔۔
لیتن بابا "
لیکن بابا
نہیں ایسی بات نہیں میں آ رہی ہوں باب ۔۔۔بس مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا تھا لیکن تم ہو نا ۔۔۔۔
آفتاب کی بات سن کر زرباب کے اترے منہ کو دیکھتی وہ فورا ہامی بھرتی اسکی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔
جس پر زرباب تو مسکرایا البتہ آفتاب نے سرے سے اگنور کیا ۔۔۔۔
بابا آپ نہیں آئے گے ؟؟؟
زینیہ کے بیٹھنے کے بعد زرباب آفتاب سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔نہیں تم لوگ انجوائے کرو ۔۔۔۔
مسکرا کر کہتے وہ تھوڑا پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔جب اونٹ والے نے اسے ہینک دیتے اٹھایا تھا ۔۔۔۔
جسے زرباب نے تو بہت انجوائے کیا تھا ۔۔۔البتہ اس کے اٹھنے پر زینیہ کی چیخیں ضرور بلند ہوئی تھیں ۔۔ اور ساتھ ہی گرنے کے ڈر سے اس نے سیٹ کی چاروں طرف سیفٹی کیلئے لگی لکڑی کو تھاما تھا ۔۔۔۔
اسکی چیخ پر آفتاب نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔۔
جینی جان میں ہوں نا ۔۔۔۔
زرباب نے فورا اسکا ہاتھ تھامتے تسلی دی تھی ۔۔۔۔
جس پر وہ زبردستی مسکرائی ۔۔۔۔
لیکن اونٹ کے چلنے پر کبھی اوپر اور نیچے ہوتی سیٹ پر وہ ایک بار پھر چلائی تھی ۔۔۔۔پلیز پلیز مجھے نیچے اتار دیں پلیز ۔۔۔۔
جینی جان ۔۔۔"
پلیز باب جان نہیں ۔۔۔۔
بھائی پلیز مجھے نیچے اتار دیں ۔۔۔۔
زرباب کو منع کرتے ہوئے وہ اونٹ والے سے مخاطب ہوئی تھی ۔۔۔جو اس دودھیا سفید رنگت کی حامل مغربی طرز کے لباس میں ملبوس لڑکی کو پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی پلیز ۔۔۔
ایک بار پھر اونچی آواز میں بولی ۔۔۔۔
جس پر اس نے اونٹ کو روکا اور خود نیچے اتر کر اونٹ کو بٹھائے بنا زینیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اتارنے کیلئے ۔۔۔۔
شاید وہ اس بہانے اسے چھونا چاہتا تھا ۔۔۔جسے زینیہ نا سمجھتے ہوئے فورا اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھا گئی ۔۔۔
البتہ آفتاب ضرور اسکی نیت بھانپ گیا تھا ۔۔۔اس لیے اسکے ہاتھ تھامنے سے پہلے آگے بڑھ کر وہ زینیہ کا ہاتھ تھام گیا ۔۔۔اور ساتھ ہی اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔جس پر وہ شرمندہ ہوتا پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔
جبکہ آفتاب کی اس عنایت پر ذینی جیسے کھل اٹھی تھی ۔۔۔۔
تبھی مسکراتے ہوئے اسکی طرف اپنا دوسرا ہاتھ بھی بڑھایا تھا ۔۔۔۔جسے مجبوری کے تحت تھامتے اسے نیچے اترنے میں مدد دی ۔۔۔۔لیکن زینی جسکا دھیان اونٹ سے ہٹ کر اب آفتاب پر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
اسکے ہلنے پر اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی ۔۔۔۔اور سیدھی اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔جسے گرنے سے بچانے کیلئے آفتاب نے اسکی کمر کو تھاما ۔۔۔۔
جبکہ زینیہ نے دونوں ہاتھوں سے اسکے کوٹ کو جکڑا ۔۔۔اور اپنی آنکھیں سختی سے مینچ گئی ۔۔۔۔
اسکے کھلے بالوں نے بکھر کر آفتاب کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔۔
جنکی خوشبو اسکی سانسوں میں سمائی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے نازک بدن کے نرم لمس کے ساتھ تیز دھڑکنوں کا رقص اسے اپنے سینے میں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے فورا اسے خود سے دور کیا ۔۔۔۔
جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔
سوری ۔۔"
اسکے چہرے پر پھیلی ناگواریت کو دیکھتے وہ شرمندہ شرمندہ سی بولی ۔۔۔۔
انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔جس پر بعد میں اسے شرمندہ ہونا پڑے ۔۔۔۔سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے زرباب کو نیچے اتارا تھا ۔۔۔۔
اور اونٹ والے کو پیسے دے کر زرباب کا ہاتھ تھامتے قدم گاڑی کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
اکڑوں ،،، کھڑوس ۔۔۔
وہ اسکی پشت کو دیکھتے نئے ناموں سے نوازتی اسکے پیچھے آئی تھی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *