Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 31)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

نیچے موجود بندوں کا کام تمام کرنے کے بعد وہ لوگ ابھی اوپر کی طرف بڑھتے ،،،، جب رومان کو اپنے پیچھے کسی وجود کے ہونے کا احساس ہوا تھا ۔۔۔”
اس نے فورا سے پلٹتے ہوئے نیچے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
زینیہ جو دبے پاؤں بنا آواز کے انکے پیچھے پیچھے آ رہی تھی ۔۔۔رومان کے پلٹنے پر فورا پلر کے پیچھے چھپی ۔۔۔”
جبکہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اس نے منہ سے نکلنے والی سانسوں کی آواز بھی دبا لی ۔۔۔”
رومان کی سرمئی آنکھوں نے طائرانہ نگاہوں سے آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔۔”
جب ایک پلر کے پیچھے اسے ایک سفید کپڑا دکھائی دیا ۔۔”
اس نے آیت کو آنکھوں سے اشارہ کرتے ۔۔۔وہی ٹھہرنے کا بولا ،،، اور وہ خود گھوم کر سیڑھیوں کی دوسری طرف سے عمارت کے اس حصے میں آیا ۔۔۔”
جہاں زینیہ چھپ کر ان دونوں کے جانے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔” مسلسل خاموشی کو محسوس کرتے اس نے ذرا سا پلٹتے ان دونوں کے جانے کی یقین دہانی کرنی چاہی ۔۔۔
جب رومان نے پیچھے سے ایکدم اسکے سر پر گن تانی ۔۔۔”
ہینڈز اپ ۔۔۔اگر زرا سی بھی ہوشیاری دکھائی ۔۔۔تو یہیں بھون کر رکھ دوں گا ۔۔۔”
رومان کی بات پر ڈر کر اچھلتے زینیہ نے اپنا رخ اسکی طرف کیا ۔۔۔”
آپ یہاں ؟؟؟؟
زینیہ کو پہلی نظر میں پہچانتے ۔۔۔رومان کے منہ سے بس یہی دو الفاظ ادا ہوئے تھے ۔۔۔”
تو کیسا لگا میرا یہ سرپرائز ۔۔۔”
یقینا بہت اچھا لگا ہوگا ،،،، آفتاب کی کرسٹل گرے آنکھوں میں اتری سرخی کو دیکھتے وہ استہزائیہ مسکرائی تھی ۔۔”
البتہ آفتاب نے ابھی کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔”
کیونکہ اتنا تو وہ بھی ایشال کو جانتا تھا ۔۔۔کہ ایشال کا مقصد صرف پیسے اور پراپرٹی کو حاصل کرنا نہیں ہو سکتا ۔۔”
جس حد تک وہ خودپسند اور ضدی تھی ۔۔۔کسی طور پر بھی اپنی بیعزتی اتنی آسانی سے نہیں بھولائے گی ۔۔۔”
وہ ضرور بدلہ لیتی ۔۔۔
اسے اپنی ٹینشن بالکل نہیں تھی ،،،، فکر تھی تو بس زرباب کی
کہ اس سے بدلہ لینے کیلئے وہ زرباب کو کوئی نقصان نا پہنچا دے ۔۔۔” اس لیے جب تک زرباب سہی سلامت اسکے پاس نہیں آ جاتا اس نے لبوں سے کچھ کہنے سے گریز ہی کیا تھا ۔۔۔”
تمہیں کیا لگا تھا ،،،، تم مجھے طلاق دو گے اور میں کسی مجبور اور لاچار لڑکی طرح کی خاموشی سے واپس چلی جاونگی ۔۔۔
نا آفتاب ملک نا ۔۔۔”
تم سے تو میں اپنی ایک ایک بیعزتی کا بدلہ لوں گی ۔۔۔”
،،، تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ۔۔جو تم نے میری یعنی ایشال احمد کی بات سے انکار کیا ۔۔۔”
اس دو ٹکے کی لڑکی کیلئے تم نے مجھے طلاق دی ۔۔تمہاری اتنی جرت ۔۔۔”
مرو گے آفتاب ملک تم مرو گے ۔۔۔”
وہ کسی پاگل کی طرح ہزیانی انداز میں چلائی تھی ۔۔۔
لیکن آفتاب کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔” وہ اب بھی سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
میں تمہاری بکواس سننے کیلئے یہاں نہیں آیا ۔۔۔تمہاری ڈیمانڈ کے مطابق سب چیزیں اس بریف کیس میں موجود ہیں ۔۔۔”
لو اور میرا بیٹا مجھے واپس کرو ۔۔۔”
اپنے ہاتھ میں پکڑے بیگ کی طرف اشارہ کرتے وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔”
جبکہ اسکی بات پر ایشال نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔”
کونسا بیٹا آفتاب ملک ۔۔۔”
کونسا بیٹا ۔۔۔
چہ چہ چہ کتنے بھولے ہو نا تم آفتاب ملک ۔۔۔جو اتنی آسانی سے میری باتوں میں آ جاتے ہو ۔۔۔”
تمہیں کیا لگا تھا کہ یہ پیسے لے کر میں تمہیں تمہارا بیٹا واپس کر دونگا ۔۔۔
تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے ۔۔۔”
کچھ نہیں ملے گا تمہیں مجھ سے سوائے تمہاری موت کے ۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ انتہائی سفاکیت سے بولی تھی ۔۔۔”
ایشال احمد میرا بیٹا واپس کرو ۔۔۔”
آفتاب کے لہجے میں تنبیہ تھی ۔۔۔
جبکہ اسکی دھاڑ پر اسکے پیچھے کھڑے آدمی نے اپنی گن کا دباؤ اسکی کمر پر بڑھایا ۔۔۔”
جسے محسوس کرتے آفتاب نے اپنے لب بھینچے ۔۔۔
ایشال نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
یہ تو نہیں ہوگا اب ۔۔”
آج صرف تمہارے کھونے کا دن ہے ۔۔۔”
اپنا بیٹا تو ہمیشہ کیلئے کھو ہی چکے ہو ۔۔۔اسکے ساتھ اپنا پیسہ بھی کھوو گئے اور ساتھ میں اپنی جان بھی ۔۔
مسکراتے لہجے میں بولتے وہ دھیمے قدم لیتی اسکے قریب چلی آئی تھی ۔۔۔”
مگر زیادہ فکر نا کرنا امریکہ جانے سے پہلے تمہاری زینیہ کو بھی تمہارے پاس پہنچا کر جاونگی ۔۔۔”
کیونکہ دو پیار کرنے والوں کو الگ الگ دیکھ کر مجھے ذرا بھی خوشی نہیں ہوگی ۔۔”
شہادت کی انگلی اسکی بیئرڈ زدہ گال پر پھیر کر ٹھوڑی کی طرف ایک لکیر کھینچتی سرگوشی نما آواز میں بولی تھی ۔۔۔”
تم اسکی جان لینا تو دور اسکی پرچھائی تک کو بھی چھو نہیں سکتی ۔۔۔” یہ آفتاب ملک کا وعدہ ہے ۔۔”
اسکے ہاتھ پیچھے جھٹکتے درشتگی سے گویا ہوا تھا ۔۔۔”
جبکہ اسکی خود اعتمادی کو دیکھتے ایشال نے استہزائیہ قہقہہ لگایا ۔۔۔”
آفتاب ملک ۔۔۔”
کتنی بڑی خوش فہمی ہے تمہیں اپنے معاملے ۔۔۔پہلے بھی ایسے ہی بڑی بڑی باتیں کی تھیں نا ۔۔۔
پر ہوا کیا ۔۔۔” تمہاری ناک کے نیچے سےتمہارا بیٹا اٹھا لیا میں نے ۔۔۔اور اب تو پھر تم اس دنیا میں نہیں ہوگے ۔۔۔
تو اسکی حفاظت کون کرے گا ۔۔۔تمہارے وہ بوڑھے ماں باپ ۔۔”
جنکی آدھی ٹانگیں خود قبر میں لٹکی ہوئیں ہیں ۔۔۔”اسکا لہجہ خاصا طنزیہ تھا ۔۔۔”
ایشال احمد اپنی زبان اتنی کھولو ۔۔۔جتنی مرتے وقت تم عزیت برداشت کر سکو ۔۔۔”
جتنا زیادہ دیر تم مجھے میرے بیٹے سے دور رکھو گی ۔۔۔اتنی ہی دردناک تمہاری موت ہوگی ۔۔۔”
آفتاب کی دھمکی پر ایک پل کیلئے ایشال کی آنکھوں میں خوف اترا ۔۔۔لیکن دوسرے ہی پل سر جھٹکتے وہ طنزیہ مسکرائی ۔۔۔”
تمہارے خوابوں میں ۔۔۔”
اور شان سے جا کر سامنے رکھی ہوئی کرسی پر براجمان ہو گئی ۔۔۔”
بہت اکڑ ہے اس میں ذرا اسکی تھوڑی اکڑ کم کرو ۔۔۔”
ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھتے اس نے وہاں موجود اپنے آدمیوں کو حکم دیا تھا ۔۔۔”
جس پر ایک نے آگے بڑھتے پوری شدت سے اسکے جبڑے پر مکا جڑنے کی کوشش کی ۔۔۔”
جسے ایک ہاتھ سے تھامتے آفتاب نے ناکام بنایا ۔۔۔”
آفتاب ملک مزاحمت نہیں ۔۔۔”یاد رکھو تمہارا بیٹا میرے قبضے میں ہے ۔۔۔”تمہاری ایک غلطی اور ۔۔۔”
کندھے پر بکھرے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوئے وہ معنی خیزی سے مسکرائی ۔۔۔”
اور وہی آفتاب ملک کی ساری مزاحمت دم توڑ گئی ۔۔۔اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو قابو کرتے ۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا ۔۔۔”
جسکا فائدہ اٹھا کر سامنے والے نے اپنی پوری قوت سے اس پر وار کیا تھا ۔۔۔”
لیکن اتنی شدت کے باوجود بھی وہ ایک قدم بھی اسے پیچھے نہیں ہٹا نہیں پایا تھا ۔۔۔”
البتہ ہونٹ کا کنارہ پھٹ کر اس سے خون ضرور بہنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔”
ایشال کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔”
آفتاب کے ہونٹوں کو طنزیہ مسکراہٹ نے چھوا ۔۔۔جسے دیکھتے ایشال کے ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ سمٹی ۔۔۔
آنکھوں میں جنون اترا ۔۔۔اس نے آفتاب کے پیچھے کھڑے آدمی کو بھی اشارہ کیا ۔۔کہ دونوں مل کر حملہ کرے ۔۔۔”
جس نے اپنی ہاتھ میں پکڑی گن کا وار اسکے سر کے پچھلے حصے پر کیا ۔۔۔”
جبکہ آگے والے نے پوری قوت سے اپنا گھٹنا اسکے پیٹ پر مارا تھا ۔۔۔”
جس سے وہ ڈگمگایا ۔۔۔سر پر ہونے والا حملہ اتنا زوردار تھا کہ چند لمحوں کیلئے اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھا گیا ۔۔۔”
لیکن اس نے اپنے سر کو جھٹکتے خود کو سنبھالا ۔۔۔” جسے دیکھتے وہ دونوں اس پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔۔”
اس پر مکوں اور ٹانگوں کے وار کرتےدونوں نے اسے زمین پر گرایا تھا ۔۔۔” آفتاب مزاحمت کر کے انہیں روک ٹوک نہیں رہا تھا ،،،، البتہ اپنے بازوؤں کا استعمال کرتے ہوئے نامحسوس انداز میں خود کو زخمی ہونے سے ضرور بچا رہا تھا ۔۔۔”
جسے وہ اپنی بیوقوفی میں دیکھ نہیں پائے تھے ۔۔۔”
جوش میں آ کر اس پر مکوں کا وار کرتے ایک غنڈے کی گن زمین پر گری تھی ۔۔۔”
لیکن اسکا پورا دھیان آفتاب کی طرف ہونے کی وجہ سے اسے پتا نہیں چل سکا تھا ۔۔
البتہ گن کو گرا دیکھ کر آفتاب کی آنکھوں میں چمک ابھری اور لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نے دونوں کو پیچھے کی طرف دھکیلتے گن اٹھا کر دونوں پر تانی ۔۔۔
جبکہ لمحے میں ہوئی اس کایا پلٹ پر ان غنڈوں کے ساتھ چیئر پر سکون سے بیٹھی ہوئی ایشال بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ۔۔”
آفتاب نے اٹھ کر اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے ایک استہزائیہ نظر پریشان کھڑی ایشال پر ڈالی ۔۔۔”
جبکہ دوسرے ہی لمحے فضاء میں گونجتی ایک کے بعد ایک گولی کی آواز پر اس نے لبوں پر ہاتھ رکھتے حلق سے نکلنے والی چیخ کو روکا تھا ۔۔۔”
جبکہ ان غنڈوں کے منہ سے نکلنے والی چیخیں چاروں طرف پھیل گئیں تھیں ۔۔۔”
رومان اور آیت جو سنبھل سنبھل کر قدم اٹھا رہے تھے ،،،، ایک ساتھ چلنے والی گولیوں اور چیخوں کی آواز سنتے تیز قدموں سے اوپر کی طرف بڑھے ۔۔۔”
آفتاب نے ان دونوں غنڈوں کے ٹانگوں وار کیا تھا ۔۔۔”
جس سے وہ لہرا کر زمین پر گرے تھے ۔۔۔
جن سے بہتا ہوا لہو دیکھ کر ایشال کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔” اس نے آنکھوں میں خوف لے کر اپنی طرف بڑھتے ہوئے آفتاب ملک کی طرف دیکھا ۔۔
جو اسے قہر بھری نظروں دیکھتے لبوں سے بنا کچھ کہے بھی اسکی سانسیں خشک کر گیا تھا ۔۔۔”
اسکے ہر قدم کے ساتھ ایشال کو اپنے وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔”
تبھی وہ دونوں گن سامنے کی طرف تانے اس حال نما جگہ میں داخل ہوئے تھے ۔۔”
زمین پر گرے کراہتے ہوئے غنڈے جنکی ٹانگوں سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا ۔۔۔جبکہ آفتاب کو ایک عورت پر گن تانے کھڑا دیکھ رومان شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔۔”
اس نے مسکراتی نظروں سے اپنی ساتھ آئی آیت کی طرف دیکھا اور پھر ریلکس انداز میں ہاتھ میں تھامی گن پیچھے بیلٹ پر لگاتے ان غنڈوں کی طرف بڑھا ۔۔۔”
اور وہاں قریب ہی پڑی رسیوں کو اٹھا کر ان غنڈوں کے ہاتھ باندھنے لگا ۔۔۔تاکہ وہ کوئی بھی حرکت انجام دے کر یہاں سے بھاگ نا سکیں ۔۔۔”
جبکہ آیت ایشال کی طرف بڑھی تھی۔۔۔”
میرا بیٹا کدھر ہے ایشال احمد ؟؟؟؟ اسکی پیشانی پر گن ٹکا کر وہ انتہائی سرد لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔”
وہ ،،،، وہ ،،،،، موت کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر ایشال کے الفاظ اسکے حلق میں اٹکے تھے ۔۔۔”
ایک لمحہ ہے ایشال احمد تمہارے پاس صرف ایک لمحہ ۔۔مجھے بتا دو میرا بیٹا کدھر ہے ۔۔۔ورنہ دوسرے لمحے اس گن سے نکلنے والی ساری گولیاں تمہارے دماغ کے اندر ،،،،،، وہ سامنے کمرے میں ۔۔”
اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ ڈرتے ہوئے اونچی آواز میں بولی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے ایک قہر بھری نظر اسکے ڈرے سہمے چہرے پر ڈالی اور پھر تیز قدموں سے سامنے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔”
جبکہ اسکے جاتے ہی آیت نے ایشال پر اپنی گن تانی تاکہ وہ بھاگ نا سکے ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°
زینیہ بیٹا ۔۔۔”
عائشہ ملک جو زینیہ کو دیکھنے کیلئے آئیں تھیں ۔۔۔”اس کے کمرے میں داخل ہوتے کمرے میں چھائے اندھیرے کو دیکھتی ۔۔۔نرمی سے پکارتے بیڈ کی طرف بڑھیں تھیں ۔۔۔
لیکن خالی بیڈ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے آگے بڑھ کر کمرے کی مین لائٹ جلائی ۔۔۔”
اصل میں آفتاب جانے سے پہلے ان سب کو زینیہ کا خیال رکھنے کا بول کر گیا تھا ۔۔۔”
اور یہ بھی کہ دو تین گھنٹوں تک اسے کوئی ڈسٹرب نا کرے ۔۔۔
لیکن جب تقریبا پانچ سے چھ گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی وہ کمرے سے باہر نا آئی تو وہ خود اسکے پاس کمرے میں آ گئیں تھیں ۔۔”
زینیہ واشروم میں ہیں کیا آپ بیٹا ؟؟؟
واشروم کے دروازے پر کھڑے ہوتے انہوں نے اسے ایک بار پھر پکارا تھا ۔۔۔”
لیکن جواب ندارد ،،،، عائشہ ملک پریشان ہوئی ۔۔۔
انہوں نے واشروم کے دروازے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔جو ذرا سا دباؤ پڑتے ہی ،،، اندر کی طرف کھلتا چلا گیا ۔۔۔”
عائشہ ملک اندر داخل ہوئیں ۔۔۔”
اور خالی واشروم کو دیکھتے اب سہی معنی میں وہ پریشان ہوئی تھیں ۔۔۔”
وہ تیز قدموں سے نیچے کی طرف بڑھی تھیں ۔۔۔جہاں سب پہلے ہی پریشان سے آفتاب کا بےچینی سے انتظار کر رہے تھے ۔۔۔”
زوہیب ۔۔۔”
انہوں نے نیچے آتے ہی نم لہجے میں زوہیب ملک کو پکارا تھا ۔۔
جنکی آواز سن کر وہ فورا اٹھ کر انکی طرف بڑھے ۔۔۔”
کیا ہوا عائشہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔” انکی بھیگی آنکھوں کو دیکھتے انہوں سے استفسار کیا ؟؟؟؟
زوہیب وہ ۔۔۔” انہوں نے روتے ہوئے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔”
کیا ؟؟؟؟ آپ تو زینیہ کو دیکھنے گئیں تھیں نا پھر ،،، وہ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔انکے ادھورے جملے سے پریشان ہوتے وہ فورا اوپر کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔
جب عائشہ ملک کے لفظوں نے انکے قدموں کے نیچے سے زمین نکالی تھی ۔۔۔”
زینیہ اپنے کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔
انہوں نے حیرت سے پلٹتے ہوئے انکی طرف دیکھا ۔۔۔”
زوہیب میں نے اوپر سبھی کمروں میں چیک کیا ۔۔۔لیکن وہ کہیں پر بھی نہیں ۔۔۔”
ایسے کیسے نہیں ہیں ۔۔۔یہی کہیں ہونگی ۔۔۔”
جبکہ ان دونوں کی بات پریشان ہوتے سلمی اور جہانزیب ملک بھی انکے قریب آ گئے تھے ۔۔۔”
ہمیں اسے اکیلے چھوڑنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔”
عائشہ ملک کو اپنی لاپرواہی پر اورخود پر ہی غصہ آ رہا تھا ۔۔۔”
عائشہ بیٹا پریشان نا ہو ۔۔۔ ہو سکتا ہے اپنے کمرے میں اکیلے انکا دل گھبرا رہا
ہو ۔۔۔ہم باہر چیک کرتے ہیں یہی کہیں ہونگی ۔۔۔”
جہانزیب ملک رسانیت سے کہتے باہر کی طرف بڑھے جنکی تقلید میں زوہیب ملک بھی گئے ۔۔۔
جبکہ سلمی ملک آگے بڑھ کر انہیں دلاسہ دینے لگیں تھیں ۔۔۔”
پورا ملک مینشن چیک کرنے کے بعد جب انہیں آفتاب کے ساتھ زینیہ کی گاڑی بھی پورچ میں نظر نہیں آئی تو ۔۔۔انہوں نے گیٹ پر موجود گارڈز سے پوچھ گچھ کی ۔۔۔
جن کے مطابق آفتاب کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی زینیہ بھی اپنی گاڑی لے کر نکلی تھی ۔۔۔”
جسکا پتا انہیں اس لیے نہیں چلا کیونکہ آفتاب کے جانے کے بعد جہانزیب ملک زوہیب کو لے کر سٹڈی کی طرف بڑھ گئے تھے ۔۔۔”
تاکہ شعیب سے رابطہ کر کے وہ آگے کے لائحہ عمل تیار کر سکے ۔۔۔
جبکہ عائشہ سلمی ملک کے ساتھ انکے کمرے میں ،،، وضو بنا کر آفتاب اور زرباب کی خیریت سے لوٹ آنے کی دعا کر سکے ۔۔۔”
اور لاؤنج کو خالی دیکھ کر زینیہ اس چیز کا فائدہ اٹھاتی خاموشی سے آفتاب کے پیچھے نکل گئی تھی ۔۔۔”
سارا معاملہ سمجھ آتے زوہیب ملک نے پریشان نگاہوں سے جہانزیب ملک کی طرف دیکھا ۔۔۔”
جو اپنا فون نکال کر شعیب سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔تاکہ زینیہ کے بارے میں انہیں آگاہ کر سکیں ۔۔
لیکن دوسری طرف شعیب کا فون سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے وہ اب فون پک نہیں کر رہا تھا ۔۔۔”
انہوں نے نفی میں سر ہلاتے زوہیب ملک کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔”
جو فورا اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
لوہے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتے ،،،، آفتاب اس کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔”
جہاں سامنے ہی ایک صوفے پر زرباب کا ننھا وجود بےسدھ پڑا تھا ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔”
اسے یوں بےحس و حرکت پڑے دیکھ کر آفتاب کے قدموں کے نیچے سے زمین نکلی ۔۔۔
وہ چار قدم کافاصلہ پل بھر میں طے کرتےاس تک پہنچا ۔۔۔”
اور اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگاتے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔”
زرباب میری جان آنکھیں کھولو ۔۔۔
اسکے چہرے کو نرمی سے تھپتھپاتے اسے جگانے کی کوشش کی ۔۔۔
لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل نا ہوئی ۔۔۔”
زرباب کے دائیں سفید گال پر چھپے انگلیوں کے نیلے نشان اور نچلے ہونٹ کا زخم ۔۔۔جس سے خون بہہ بہہ کر اب جم گیا تھا ۔۔۔”
جسے دیکھتے آفتاب کے رگوں میں جیسے شرارے پھوٹ پڑے تھے ۔۔۔وہ زرباب کو اسکی شرارت پر ڈانٹ ضرور لیتا تھا ۔۔۔لیکن کبھی بھی اس پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی نہیں کی تھی ۔۔۔”
اور اس عورت نے اسکے لاڈلے بیٹے پر ہاتھ اٹھا کر اپنی سزا کو مزید دردناک بنایا تھا ۔۔۔”
اسے ایسے ہوش میں نا آتے دیکھ ۔۔۔آفتاب نے پاس ہی رکھے سٹیل کے جگ سے ہتھیلی میں پانی لیتے اسکے چہرے پر ہلکا سا چھڑکاؤ کیا تھا ۔۔۔”
جس سے آہستہ آہستہ وہ ہوش میں آنے لگا ۔۔۔”
اسکی پلکوں کی جنبش کو دیکھتے آفتاب کو اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔”
بھاری ہوتے سر کے ساتھ زرباب نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔”
لیکن کچھ بھی واضح دکھائی نہیں دیا ۔۔”
اس نے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کر لیں ۔۔۔زرباب ۔۔۔’
اسکے آنکھیں دوبارہ بند کرنے پر آفتاب نے تڑپ کر پکارا ۔۔۔” بابا ،،،،، آفتاب کی آواز کو پہچانتے ۔۔۔زرباب نے بند آنکھوں سے ہی پکارا ۔۔۔”
اسے دی جانی والی بیہوشی کی دوا کا اثر ابھی تک نہیں اترا تھا ۔۔۔” اس لیے وہ چاہ کر بھی اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا ۔۔۔”
بابا کی جان ۔۔۔دیکھیں بابا آپ کے پاس ہیں ۔۔۔”
اسکے چہرے کو نرمی سے چھوتے وہ بہت محبت سے بولا تھا ۔۔۔”
بابا اس گندی عولت ( عورت ) نے مجھے مالا ( مارا )۔۔۔” اپنے باپ کی شفقت کو محسوس کرتے فورا نم لہجے میں ایشال کی شکایت لگائی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے اسکے رونے پر تڑپ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔”
آپ کے بابا آ گئے ہیں نا ،،،، اب آپ کو رونے کی ضرورت نہیں ،،، دیکھیے گا اس عورت کو کیسی سخت سزا دینگے اپنے بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی ۔۔۔”
اسے خود سے الگ کرتے زرباب کی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔” زرباب کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”
اس نے اپنی آنکھیں زبردستی کھولتے اپنے باپ کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی ۔۔”
لیکن کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دیا ۔۔۔”
سب دھندلا دھندلا سا ۔۔۔” ان ظالموں نے اس معصوم بچے کی عمر کا خیال کیے بنا ہی پہلی دوا کا اثر ختم ہونے سے پہلے ہی دوسری ڈوز بھی دے دی تھی ۔۔۔”
جسکا نشہ اتنا زیادہ تھا ،،،، اسکا دماغ ایک بار پھر آہستہ آہستہ غنودگی میں جا رہا تھا ۔۔۔”
بابا مجھے جینی جان کے پاش جانا ہے ۔۔۔۔”
جی میری جان ۔۔
بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ بس یہی الفاظ اسکے منہ سے نکلے تھے ۔۔۔”اور اس سے پہلے آفتاب کوئی جواب دیتا وہ ایک بار پھر بیہوش ہو گیا ۔۔۔”
جسے محسوس کرتے آفتاب نے اسے اپنے کندھے کے ساتھ لگا کر قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
آفتاب کے باہر نکلتے اور اسکے ہاتھ میں بچے کو دیکھتے رومان نے فورا پولیس انسپکٹر کو میسج کرتے حالات کنٹرول میں ہونے کا اندھیا دیا تھا ۔۔۔”
جس کے ساتھ ہی وہ لوگ جو کب سے انکے اشارے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔میسج پر بتائے گئے ایڈریس کی طرف روانہ ہوئے ۔۔۔”
بھول ہے تمہاری آفتاب ملک ،،،، کہ میں تمہیں اتنی آسانی سے بخش دونگی ۔۔۔”
تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے اس بیٹے کی جان بھی اپنے ہاتھوں سے نا نکالی تو میرا نام بھی ایشال احمد نہیں ۔۔۔
آفتاب نے قہر بھری نظروں سے ایشال کی طرف دیکھا ،،،، جو آیت کی سخت گرفت میں کھڑی کسی ناگن کی طرح پھنکار رہی تھی ۔۔۔”
اسے یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہو پا رہی تھی کہ اتنی آسانی سے آفتاب ملک نے اسکا بنا بنایا پلان خراب کر دیا تھا ۔۔۔”
اور ہار تو ایشال احمد کو مر کر بھی قبول نہیں تھی ۔۔۔”
وہ بھی اس انسان سے جسے وہ اپنے جوتے تلے مسل دینا چاہتی تھی ۔۔۔”
اس لیے اپنے اندر کا زہر یوں لفظوں کے ذریعے باہر نکال رہی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے رومان شاہ کی طرف دیکھا جس نے فورا آگے بڑھ کر زرباب کو اپنی گود میں لیا تھا ۔۔۔”
جبکہ اسکے معصوم بچے کی حالت کو دیکھتے رومان شاہ کو اس پر ترس آیا تھا۔۔۔
کیسی ظالم ماں تھی ۔۔۔جو اپنے ہی بچے کے ساتھ یوں جانوروں کے جیسا سلوک کر رہی تھی ۔۔۔”
صحیح کہتا تھا آفتاب ملک یہ عورت سچ میں عورت کہلانے لائق نہیں تھی ۔۔۔”
آفتاب نے لمحے کے ہزارویں حصے میں آگے بڑھتے اسکی گردن کو دبوچا تھا ،،،، جسکے ساتھ ہی آیت ایشال کے ہاتھ چھوڑتی ایک سائڈ ہو گئی تھی ۔۔۔”
جبکہ اسکی گردن پر پکڑ مظبوط کرتے آفتاب نے اسے ایسے اوپر اٹھا کر قدم عمارت کے کھلے حصے کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔”
جبکہ گردن پر بڑھتی آفتاب کی سخت گرفت اور ہوا میں اٹھانے جانے پر ایشال کی آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں تھیں ۔۔۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے ہاتھ کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔”
دل تو چاہ رہا ہے کہ ابھی تمہیں یہاں سے نیچے پھینک کر ہمیشہ کیلئے تمہارا قصہ یہیں ختم کر دونگی ۔۔۔”
آفتاب نے اسکی اکھڑتی سانسوں پر ایک استہزائیہ نظر ڈالتے بات کا آغاز کیا ۔۔۔”
اسکی بات پر ایشال نے ہوا میں جھولتے عمارت کی اونچائی سے نیچے کی طرف دیکھتے ۔۔۔
بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
یقینا وہ یہاں سے گرتی تو دوسری سانس بھی نہیں لے پاتی ۔۔۔”
لیکن میں تمہیں اتنی آسان موت نہیں ماروں گا ،،،، اپنے ایک ایک زخم اپنے بیٹے کی ایک ایک تکلیف اور اپنی محبت کی آنکھوں سے بہے ایک ایک آنسو کاحساب جب تک نہیں لے لیتا تمہیں موت بھی نصیب نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔”
اتنی عزیت دوں گا کہ اپنی ہر سانس کے ساتھ تم اپنی موت کی دعائیں مانگو گی ۔۔۔
لیکن ہر بار موت کے دروازے سے ٹھکرا دی جاو گی ۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا ۔۔۔۔اسکے لہجے میں ایسی آگ تھی ۔۔۔
کہ جسے دیکھتے ایشال کو اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے ۔۔۔”
اسے اپنا دردناک انجام آفتاب کی سرخ رنگ ہوئی آنکھوں میں دکھائی دینے لگا ۔۔۔
جس سے اسکے جسم نے جھرجھری سی لی ۔۔۔”
جبکہ اسکی سانسیں گلے پر بڑھنے والے دباؤ کی وجہ سے سینے میں ہی کہیں بند ہونے لگیں تھیں ۔۔۔
آفتاب ،،،،، میں تمہاری ،،،، محبت ہوں ؟؟؟؟
بند ہوتی سانسوں کے ساتھ یہ چند الفاظ ٹوٹ پھوٹ کر اسکے لبوں سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔”
جبکہ اسکی بات پر ایک زخمی مسکراہٹ نے آفتاب کے ہونٹوں کو چھوا ۔۔۔”
محبت ۔۔۔”
محبت لفظ کا مطلب بھی جانتی ہو تم ؟؟؟
جس کیلئے محبت صرف دوسروں کو اپنے سامنے جھکانے کیلئے استعمال کیے جانے والے ہتھیار سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔۔۔”
اور کونسی محبت کا واسطہ دے رہی ہو ۔۔۔
جسکا گلہ تم نے خود بےدردی سے اپنے ہاتھوں سے گھونٹا تھا ۔۔۔”
جسے برسوں پہلے اپنے قدموں کے نیچے روند کر چلی گئی تھی ۔۔۔”
وہ محبت تو اسی وقت دم توڑ گئی تھی ایشال احمد ،،،،، اور اسکی جگہ ایسی نفرت پیدا ہوئی تھی ،،،، جسکی آگ میں تمہیں اپنی آخری سانس تک جھلسنا ہے ۔۔۔”
ایشال نے اسکے ارادوں سے ڈرتے نم آنکھوں کے ساتھ نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔”
آفتاب پلیز چھوڑ دیں انہیں وہ مر جائیں گی ۔۔۔”
ایشال کے تڑپنے اور آفتاب کو بےحسی سے مزید اسکے گلے پر دباؤ بڑھاتے دیکھ ،،،،، زینیہ جو رومان لوگوں کا کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اوپر انکے پیچھے آئی تھی ،،،، ایشال کی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے اونچی آواز میں بولی ۔۔۔”
جسے سنتے آفتاب نے حیرت سے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
جبکہ آیت اور رومان جو یہ شو مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے ،،،، کیونکہ ان کے حساب سے آفتاب بالکل ٹھیک کر رہا تھا ،،،، ایشال جیسی عورت ایسے ہی سلوک کی حقدار تھی ،،، زینیہ کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔
چھوڑ دیں پلیز ۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں نظر آتی التجا کو دیکھتے آفتاب نے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا تھا ۔۔۔”
جس سے ایشال کی کہنیوں اور کمر پر بری طرح چوٹ آئی تھی ،،،، اور ساتھ ہی گلے کو رہائی ملتے زوردار قسم کی کھانسی شروع ہوئی ۔۔۔”
جسے نظر انداز کرتے وہ تیز قدموں سے زینیہ کی طرف بڑھا ۔۔۔” آپ یہاں کیسے آئیں ؟؟؟؟
اسکے قریب پہنچتے ایک نظر رومان آیت کی طرف دیکھتے ،،،، جنہوں نے اسکے دیکھنے پر نفی میں سر ہلایا تھا کہ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ۔۔۔بےچینی سے سوال کیا تھا۔۔۔”
جبکہ زینیہ نے اسکی سبھی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھ اسکے گلے میں باندھتے چہرہ اسکی گردن میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔”
رومان آیت کے سامنے زینیہ کی اس حرکت پر جہاں آفتاب سٹپٹایا وہی ان دونوں نے مسکرا کر اپنا چہرہ جھکایا تھا ۔۔۔”
زینیہ کیا ہو گیا یار ،،،، اب کیوں رو رہی ہیں ؟؟؟
اسے خود سے زبردستی الگ کرتے ذرا سخت لہجے میں سوال کیا ۔۔۔”
اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ؟؟؟ آپ یہاں اکیلے کیوں آئے تھے ؟؟؟
میں اکیلا تو نہیں تھا ،،،، آرمی کے دو بہادر آفیسرز میرے ساتھ تھے ،،،، اسکی فکر پر جہاں وہ مسکرایا ،،، وہی آیت اور رومان کی طرف اشارہ کرتے فخر سے بولا ۔۔۔”
پھر بھی آپکو اپنا خیال رکھنا چاہیے تھا ،،،، کتنی بری چوٹیں آئیں ہیں ۔۔۔”
اسکے چہرے پر لگے زخموں کو اپنے پوروں سے چھوتے وہ ایک بار پھر نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔”
اچھا تو اس وجہ سے رو رہی ہیں میری چھوٹی سی مسز ؟؟؟ اسکی رونی صورت کو دیکھ کر آفتاب نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔”
آفتاب ۔۔۔”
اپنا مذاق بنائے جانے پر زینیہ نے اسے گھوری سے نوازا ۔۔۔”
جسکے بدلے اس نے ایک نظر رومان آیت کو سر جھکائے کھڑے دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر ایک شریر جسارت انجام دی تھی ۔۔۔”
ابھی کیلئے اتنا ہی باقی میرا پیچھا کرنے کی سزا گھر جا کر ۔۔۔”اسکے نچلے لب کو نرمی سے سہلاتے اس نے گھمبیر سرگوشی کی تھی ۔۔۔”
جس پر زینیہ کے جسم کا سارا خون سمٹ کر اسکے چہرے پر آیا تھا ،،،، دل کی دھڑکنیں معمول سے ہٹ کر تیز ہونے لگیں ۔۔۔”
اس نے نظریں اٹھا کر آفتاب کی آنکھوں میں دیکھا جس میں نظر آتے جذبات کو دیکھتے وہ سٹپٹائی تھی ۔۔۔”
اور ساتھ ہی رومان اور آیت کی موجودگی کا خیال کرتے اسے اپنی بےاختیاری پر بھی غصہ آیا ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔”
اس آکورڈ پوزیشن سے نکلنے کیلئے وہ فورا اس سے دور ہوتی رومان کی طرف بڑھی ۔۔۔جس نے زرباب کو اپنے کندھے سے لگا رکھا تھا ۔۔۔”
آفتاب ملک ۔۔۔”
لیکن اس سے پہلے زینیہ زرباب کو آگے بڑھ کر تھامتی ایشال کی پھنکار پر حیرت سے پلٹی ۔۔۔”
اور ایشال کو آفتاب ملک پر گن تانے دیکھ کر اسکی جان لبوں پر آئی ۔۔”
جبکہ آیت نے چوکنا ہوتے آگے بڑھنا چاہا ۔۔۔”جب اس نے اپنی گن کا رخ اسکی طرف کیا ۔۔۔”
ہےےے۔۔۔
ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس سے ایک گولی تیرے دماغ میں اتاروں گی ۔۔۔”
دیکھو گن واپس نیچے رکھو ورنہ اسکا انجام بہت برا ہوگا ۔۔۔
آیت نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اسے گن چھوڑنے کا بولا ۔۔۔
بکواس نہیں ،،،میں نے کہاں قدم پیچھے ورنہ ۔۔۔
جس پر رومان نے آیت کو آنکھوں سے ہی فلحال خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
جسے سمجھتے وہ لب بھینچ کر پیچھے ہوئی ۔۔۔
جبکہ اسکے پیچھے ہوتے ایشال نے اپنی گن کا رخ دوبارہ آفتاب کی طرف کیا تھا ۔۔۔”
کیا سمجھتے ہو آفتاب ملک تم خود کو ،،،، کوئی توپ چیز ہو ۔۔۔ جو کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔”
مجھے سزا دو گے ،،،، میری زندگی کو برباد کرو گے ۔۔۔مجھے تڑپاو گے ۔۔۔”
لیکن یہ سب تو تم تب کر پاوں گے نا جب تم زندہ رہو گے ۔۔۔” استہزائیہ قہقہہ لگاتے اس نے آفتاب کے چہرے کی طرف دیکھا جو بالکل سپاٹ تھا ۔۔۔
پلیز ایشال ایسا مت کریں ۔۔۔آپ جو کچھ بھی چاہیے میں دینے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔
لیکن پلیز اپنی گن نیچے کر لیں ۔۔۔۔
آفتاب کو کھونے کے خیال سے زینیہ تڑپ ہی تو گئی تھی اس لیے روتے ہوئے التجایا لہجے میں بولی ۔۔۔”
تم تو چپ ہی رہو ۔۔۔کیونکہ سارے فساد کی جڑ ہی تم ہو ۔۔۔
اگر تم اسکی زندگی میں نا آتی تو یہ سب کچھ ہوتا ہی نہیں ۔۔۔بہت آسانی سے میں اسے دوبارہ اپنے جال میں پھنسا لیتی ۔۔۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسا ہونے دیتا ۔۔۔آفتاب کا لہجہ کافی استہزائیہ تھا ۔۔۔
جس پر ایشال کو اندر تک آگ لگی ۔۔۔”
یہ تو تمہاری بدنصیبی ہے نا پھر آفتاب ملک جو تم نے مجھے ٹھکرا کر اپنی موت کو بلاوا دیا ۔۔۔
تم اگر میرے نہیں رہے تو میں تمہیں اسکا بھی نہیں رہنے دوں گی ۔۔۔۔۔
وہ اپنی گن کا رخ اسکے سینے کی طرف کرتی جنونی انداز میں بولی تھی ،”
جس پر آفتاب نے اسکی طرف سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اسکی بات سنتی ذینی تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں پلیز ایشال آپکو خدا کا واسطہ ہے ایسا کچھ مت کریئے گا ۔۔۔۔۔ آپکو دولت چاہیے نا میں اپنے حصے کی ساری دولت آپکے نام کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔
لیکن پلیز انہیں کچھ مت کرنا میں آپکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے تڑپتے ہوئے بولی ،،،،،،
جس پر اس نے جاندار قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
وہ تو میں لے ہی لوں گی لیکن اسے بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی تمہارے لیے ،،،،، کیونکہ اس پر اسکے وجود اور پیار پر صرف اور صرف میرا حق تھا ۔۔۔۔”
لیکن اب یہ مجھے طلاق دے کر اس حق سے محروم کر چکا ہے تو میں اسے اسکی زندگی سے محروم کر دوں گی ۔۔۔۔
وہ عجیب پاگل پن کی کیفیت میں چیختے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ایشال احمد کی آنکھوں میں چند لمحوں پہلے گزرا وہ منظر جس میں آفتاب زینیہ کے ہونٹوں پر جھکا تھا ۔۔۔۔ کسی کانچ کی طرح چبھ رہا تھا۔۔”
رومان نے ایشال کا دھیان دوسری طرف دیکھتے آیت کو اشارہ کیا ۔۔۔لیکن اس سے پہلے وہ اپنی گن سے اس پر وار کرتی ۔۔۔
ایشال نے اپنے ریوالور کا ٹریگر دبایا تھا ۔۔۔۔
آفتاب “
تب ہی گولی کی آواز کے ساتھ ساتھ فضاء میں ذینی کی ایک چیخ سنائی دی تھی ۔۔۔۔۔
جس کے بعد یکدم ہر طرف سکوت چھا گیا تھا ۔۔۔۔۔”
ایسا لگا جیسے کچھ دیر کیلئے وقت تھم گیا ہو ۔۔۔۔۔
ایسا سناٹا کہ جیسے کائنات کی ہر چیز نے کچھ وقت کیلئے گہری خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔۔۔”
گہری موت جیسی خاموشی ۔۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *