Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 32)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

لمحوں کا کھیل تھا ،،،، اور پلک جھپکتے سارا منظر بدل گیا تھا ۔۔۔”

خاموش فضاء میں ایک وجود کی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کا تسلسل ،،،، وہاں موجود کتنے دلوں کی دھڑکنوں کو بند کر گیا ۔۔۔”

سفید شرٹ کو رنگتا ہوا سرخ لہو دیکھ کر کسی کو اپنی سانسیں بند ہوتیں محسوس ہوئیں ۔۔”

جس چہرے پر کچھ دیر پہلے حسین مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی ۔۔۔”

وہاں اب موت کے سائے لہرا رہے تھے ۔۔۔”

جسے دیکھتے کسی کی حیران آنکھوں سے کئی آنسو بےمول ہوتے زمین پر بکھرے ۔۔۔

پولیس اور شعیب کے ساتھ آتے زوہیب اور جہانزیب ملک سامنے نظر آتے منظر کو دیکھ کر چند پل کیلئے تھم گئے ۔۔”

زوہیب ملک کو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے انکا دل اپنی مٹھی میں جکڑ کر اسے دوبارہ کھولا ہو ۔۔۔”

زینیہ ۔۔۔”

دائیں ہاتھ کو دل کے مقام پر رکھتے ،،،، جہاں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی تھیں ۔۔۔ان کے لب بےآواز پھڑپھڑائے ۔۔۔”

زوہیب ملک کو ڈگمگاتے دیکھ جہانزیب ملک نے فورا انہیں سہارا دیا تھا ۔۔۔”

جبکہ آفتاب ملک تو ایسے تھا ۔۔۔جیسے کسی نے اسکے وجود سے روح کھینچ لی ہو ۔۔۔”

وہ ابھی تک حیران پریشان سا اپنے سامنے کھڑی زینیہ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔”

جس نے پلٹ کر نم آنکھوں سے مسکرا کر ایک نظر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔”

جبکہ دوسرے ہی لمحے وہ اسکے مظبوط بازوؤں میں لہرائی تھی ۔۔۔”

زینیہ ۔۔۔”

جس پر وہ ہوش میں آتا پوری قوت سے دھاڑا تھا ۔۔۔”

دوسری طرف آفتاب کی جگہ زینیہ کو گولی لگتے دیکھ گن ایشال کے ہاتھ سے چھوٹتی زمین پر گری تھی ۔۔۔”

جسے آگے بڑھ کر فورا پولیس نے اپنی حراست میں لیا تھا ۔۔۔”

زینیہ ۔۔۔”

اسکا خوبصورت چہرہ تھپتھپاتے وہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔۔۔

جو اپنی آنکھیں کب کی بند کر چکی تھی ۔۔۔”

نہیں زینیہ پلیز آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔” اٹھیں نا جان ۔۔۔” دیکھے میں کہہ رہا ہوں ۔۔۔

آپ تو میری کوئی بھی بات نہیں ٹالتی نا ۔۔۔پلیز اٹھیں ۔۔۔

اسکے وجود کو جھنجھوڑتے ہوئے وہ اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔”

تبھی شعیب اور رومان اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔۔”

آفتاب وقت ضائع نا کر دیکھ بھابھی کا خون بہت تیزی سے بہہ رہا ہے ،،،، ہمیں جلد از جلد انہیں ہسپتال پہنچانا ہوگا ۔۔۔”

جی لالہ اٹھیں ،،،، اگر انہیں وقت پر ہاسپٹل نا پہنچایا گیا تو ۔۔۔انہیں بچا پانا بہت مشکل ہو جائے گا ۔۔۔”

شعیب کے سمجھانے پر رومان نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔۔۔”

نہیں کچھ نہیں ہوگا انہیں ۔۔۔میں کچھ نہیں ہونے دوں گا اپنی زینیہ کو ۔۔۔”ان دونوں کو مظبوط لحجے میں جواب دیتے وہ اسے اپنی گود میں اٹھاتا تیز قدموں سے باہر کی جانب بھاگا تھا ۔۔”

جس کے پیچھے ہی شعیب رومان سے زرباب کو لیتا جہانزیب اور زوہیب ملک کے ساتھ اسکے پیچھے ہاسپٹل کیلئے نکلا تھا ۔۔۔”

جبکہ پیچھے ایشال کی گرفتاری سے لے کر باقی کی تمام کاروائی رومان اور آیت نے سنبھالی تھی ۔۔۔”

بلڈنگ کے نچلے حصے میں ملی لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا ۔۔۔”

جبکہ ایشال احمد کو پولیس اسٹیشن پہنچا کر اس کیخلاف کڈنیپنگ اور اقدام قتل کا کیس ڈالتے ایف آئی آر کاٹ لی گئی ۔۔۔”

وہ جو آفتاب ملک کو نیچا دکھانے کیلئے اس کے بیٹے کو اس سے دور کر دینا چاہتی تھی ۔۔۔تاکہ وہ پل پل جیے اور پل پل مرے ،،،، حتی کہ اپنی ذات کی نفی کی جانے پر آفتاب ملک سے اسکی سانسیں تک چھیننے کی کوشش کی ،،،، اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے گم سم سی بیٹھی اپنے مستقبل کے بارے سوچ رہی تھی ۔۔۔”

جب یکدم اسکے خوبصورت ہونٹوں پر حسین مگر مکروہ مسکراہٹ کھلی تھی ۔۔۔”

تمہیں گولی نہیں لگی تو کیا ہوا آفتاب ملک ،،،،، لیکن تمہاری نئی تازہ تازہ سوکالڈ محبت جو تمہارے جینے کی وجہ تھی ۔۔۔”

اسے تو میں نے ہمیشہ کیلئے تم سے چھین لیا ۔۔۔عجیب و غریب لہجے میں بولتے اس نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔”

اپنی آگے کی ساری زندگی اب تم اسی غم میں گزار دو گے ،،،، اور یہ تو تمہاری سانسیں چھین لینے سے بھی بڑی سزا ہوگی تمہارے لیے ۔۔۔”

چہ چہ چہ بیچارہ آفتاب ملک جسے دوسری بار بھی محبت راس نہیں آئی ۔۔۔”

افسوس زدہ لہجے میں بولتے ہوئے ،،،، اس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا تھا ۔۔

عجیب جنونی اور پاگل سی عورت تھی ۔۔۔”

جو اپنی انا اور ضد میں اس حد تک نیچے گر گئی تھی ۔۔۔کہ کسی کی بےبسی اور درد پر قہقہے لگا رہی تھی ۔۔۔”

لیکن ان سب میں وہ اوپر بیٹھی ذات کو بالکل فراموش کر چکی تھی ۔۔۔” جس نے ظالم کی رسی کو دراز ضرور چھوڑا تھا ،،،، لیکن ایک مقررہ وقت تک ۔۔۔اس کے بعد جب اس رسی کو کھینچا جانا تھا ۔۔۔

تو اپنے کیے گئے گناہوں کی معافی مانگنے تک کی مہلت بھی نہیں دی جانی تھی ۔۔۔”

اور ایشال احمد کے زوال کا وقت بھی اب بہت قریب تھا ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس وقت سب لوگ ہاسپٹل کے کوریڈور میں کھڑے ہو کر آئی سی یو میں موجود زینیہ کی زندگی کی دعائیں کر رہے تھے ۔۔۔”

جسکی حالت ڈاکٹرز نے کافی کریکٹیکل بتائی تھی ۔۔۔”

ایشال کی گن سے نکلنے والی گولی اسکے بائیں طرف سینے پر دل سے بس کچھ انچ کے فاصلے پر لگی تھی ۔۔۔”

جو مزید پریشانی کا باعث تھی ۔۔۔”

ویسے تو ڈاکٹرز نے گولی نکال دی تھی ۔۔۔لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ہوش نہیں آ رہا تھا ۔۔۔”

دوسری سب سے بڑی بات زینیہ پریگنینٹ تھی ۔۔۔

لیکن حیرانی والی بات یہ تھی کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود بھی اسکے بچے کو ابھی تک کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔۔۔”

جو اس غم زدہ ماحول میں ملک فیملی کیلئے واحد خوش آئند بات تھی ۔۔۔” لیکن یہ خوشی بھی زینیہ کی ہی سانسوں سے جڑی تھی ۔۔۔”

جب تک اس کو ہوش نہیں آ جاتا ،،،، اس بارے میں بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔”

اور اسکے ساتھ ساتھ زرباب کو بھی فلحال اگلے چوبیس گھنٹوں کیلئے انڈر آبزرویشن رکھا گیا ۔۔۔کلورو فارم کی اوور ڈوز نے اسکے دماغ پر بھی بہت بری طرح اثر ڈالا تھا ۔۔۔”

جس کی وجہ سے لاکھ جتن کرنے کے باوجود بھی اسے مکمل ہوش نہیں آ رہا تھا ۔۔۔”

ہر بار کوشش کرنے پر وہ ایک دو لمحوں کیلئے اپنی آنکھیں کھولتا ۔۔۔لیکن پھر اگلے ہی لمحے جینی جان اور بابا کے نام کی گردان کرتا دوبارہ بیہوشی میں چلا جاتا ۔۔۔

ایک طرف جان سے پیارا بیٹا اور دوسری آفتاب ملک کے زندہ رہنے کی وجہ ۔۔۔

اسکی ہمسفر اسکے ہونے والے بچے کی ماں ۔۔۔

کسی کی بھی تو حفاظت نہیں کر پایا تھا وہ ۔۔۔”

وہ ایک بار پھر ایشال احمد سے بڑی طرح ہار گیا تھا ۔۔۔

وہ رشتے جو اسے اپنی زندگی سے زیادہ عزیز تھے ۔۔۔آج جس حالت میں ہاسپٹل کے بستر پڑے تھے ۔۔۔”

یہ آفتاب ملک کی ہار ہی تو تھی ۔۔۔” آج ایک بار پھر ایشال احمد کی نفرت اسکی ضد جیت گئی تھی ۔۔۔

اور آفتاب ملک کے حصے میں ایک بار پھر خسارے آئے تھے ۔۔۔”

یا اللہ ۔۔”

اپنی بےبسی پر آفتاب ملک نے اپنی نم آنکھوں کو بند کرتے ،،،، دل سے اپنے رب کو پکارا تھا ۔۔۔”

تبھی پیچھے سے شعیب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔”

حوصلہ رکھ میرے یار ۔۔ان شاءاللہ سب بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔۔”

کب ہوگا ۔۔۔

جب میرے اندر کی ساری ہمت ختم ہو جائے گی تب ۔۔۔” شعیب توں سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں اس وقت خود کو کتنا بےبس محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔”

کتنی آسانی سے میری آنکھوں کے سامنے ایشال نے زینیہ کو گولی مار دی ۔۔۔اور میں کچھ بھی نہیں کر پایا ۔۔۔اسکی حفاظت کیلئے ۔۔۔”

تجھے پتا ہے ،،، کتنے عرصے بعد میرے تڑپتے سلگتے دل کو کچھ سکون حاصل ہوا تھا ،،، زینیہ نے میرے زخموں پر اپنے محبت کے پھائے رکھتے ،،،، میرے درد کو خود میں سمیٹتے مجھے دوبارہ مسکرانے کی وجہ دی تھی ،،،، میری بےرنگ زندگی میں اپنی محبت کے پھول کھلاتے مجھے جینے کی وجہ دی ،،،، اور بدلے میں میں نے اسے کیا دیا تھا ،،،، کچھ بھی نہیں ۔۔۔”

ایشال کے ارادوں کو جاننے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر پایا ۔۔۔”

سرخ رنگ ہوئی آنکھیں اسکے چہرے پر ٹکاتے وہ نم لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔”

اسکے نم لہجے کو محسوس کرتے شعیب نے تڑپ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔”

بس یار حوصلہ کر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔

کیسے ہوگا ٹھیک ۔۔۔” ایک طرف زینیہ تو دوسری طرف زرباب ۔۔۔میں تجھے کیسے بتاؤں اس وقت میں خود کو کتنا لاچار محسوس کر رہا ہوں،،،، مجھے ایسا لگ رہا ہے ،،، جیسے میرے وجود سے کوئی میری روح کھینچ کر لے جا رہا ہو ۔۔۔”

میں تجھے بتا رہا ہوں ۔۔۔اگر ان دونوں کو کچھ ہوا تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گا ۔۔۔”

آفتاب ۔۔۔”

نہیں یار ۔۔۔”

نہیں شعیب اور ہمت نہیں ہے مجھ میں یہ سب کچھ برداشت کرنے کی ۔۔۔”

اس کی بات درمیان میں کاٹتے وہ مایوسی سے بولا ۔۔۔

آخر ایسا کونسا گناہ کیا ہے میں نے ،،،، جو بار بار میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔۔۔”

مجھے کوئی بھی مکمل خوشی حاصل کیوں نہیں ہوتی ۔۔۔”

آخر کیا قصور ہے میرا ۔۔۔جو دوسری بار میری محبت اس طرح مجھ سے چھینی جا رہی ہے ۔۔۔”

اسکے لہجے میں اپنے ساتھ ہو رہی ناانصافی پر سوال تھا ۔۔۔”

گزرے ہوئے ماضی کا گہرا درد تھا ۔۔۔

تجھے پتا ہے ؟؟؟ میرے لیے بالکل بھی آسان نہیں تھا اپنے دردناک ماضی کو بھولا کر آگے بڑھ پانا ۔۔۔

لیکن میں نے زینیہ کی محبت کو خدا کی رضا اور اپنے لیے جزا سمجھتے اسے قبول کیا ۔۔۔”

بہت مشکل تھا اپنے ٹوٹے ہوئے اعتبار کو دوبارہ جوڑنا ۔۔”

اور جب ساری مشکلات سے گزرتے اپنے ماضی کو بھولا کر میں آگے بڑھا ،،،، جب اس خدا کی رضا میں راضی ہوتے زینیہ کو اپنا مان لیا تو ،،،، آج کیوں پھر میرے ساتھ یہ سب ہوا ؟؟؟

آزمائش ہے میرے دوست اس پاک ذات کی ،،،، جو وہ اپنے خاص بندوں سے ہی لیتا ہے ۔۔۔اور اس بات پر بھی یقین رکھ وہ کبھی بھی اپنے بندے پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔۔۔”

اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے وہ پیار سے سمجھانے لگا تھا ۔۔

توں مایوس نا ،،،، اس رب کی رحمت پر یقین رکھ ،،،، وہ کبھی تیرے ساتھ کچھ غلط نہیں کرے گا ۔۔۔”

ایشال تیرے لیے ٹھیک عورت نہیں تھی ۔۔۔

اس لیے وقت رہتے ہی وہ اس کی اصلیت تیرے سامنے لے آیا ۔۔۔”تجھے اس سے دور کیا ۔۔۔

لیکن یہ بھی دیکھ بدلے میں ،،،، زینیہ جیسی پیاری لڑکی سے تجھے نواز دیا ۔۔۔جو تجھ سے سچی اور ایسی لاغرض محبت کرتی ہے ۔۔۔کہ تیری زندگی بچانے کیلئے اس نے اپنی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔۔”

شعیب کی بات پر آفتاب نے اپنی جھکی نظریں اٹھائیں ۔۔۔

اور اس خدا کی قدرت کو بھی دیکھ ۔۔۔جس نے اتنا کچھ ہونے کے باوجود اسکے بطن میں موجود تیری اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا ۔۔۔”

یہ اسکی رحمت نہیں تو اور کیا ہے ؟؟؟؟

آفتاب جو بہت غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا ،،،، اسکے بےچین دل میں دھیرے دھیرے سکون اترنے لگا ۔۔۔”

اور رہی بات زرباب کی ۔۔۔تو جس خدا نے آج سے چھ سال پہلے ایسی حالت میں اس کی حفاظت کی جب اس کے بچنے کے کوئی چانسز ہی نہیں تھے ۔۔۔

تو آج پھر حالات ہمارے حق میں ہیں ۔۔۔”

توں پریشان ہونے کی بجائے ،،،، اس رب سے دعا کر ۔۔۔مجھے پوری امید ہے ۔۔۔

وہ کبھی تجھے خالی ہاتھ نہیں لٹائے گا ۔۔”

آفتاب نے ہاں میں سر ہلاتے مسکرا کر دوبارہ اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ،،،،، جس کی باتوں نے اسکے دل پر موجود ایک بھاری بوجھ اتار دیا تھا ۔۔۔”

سچ کہتے ہیں لوگ ایک مخلص دوست خدا کی بہت بڑی نعمت ہوتا ہے ،،،، اور آفتاب اس معاملے میں بہت خوش قسمت تھا ،،،، جسے بچپن میں ہی اس نعمت سے نواز دیا گیا۔۔۔”

شعیب وہ انسان تھا ،،،، جس نے اس کے برے سے برے برتاؤ کے باوجود بھی کبھی اسکا ساتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔”

بلکہ ہمیشہ اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے اسکے سڑے ہوئے چہرے پر مسکان لانے کا سبب بنتا تھا ۔۔۔

وہ اسکے خوش ہونے پر مسکراتا تھا ،،،، جبکہ تکلیف کے وقت آفتاب کا مظبوط سہارا بن کر ہمیشہ اسکے ساتھ کھڑا رہتا تھا ۔۔”

شعیب جیسا مخلص دوست نوازنے پر وہ اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتا کم تھا ۔۔۔”

چل اب بس بھی کر توں نے تو مجھے اپنی محبوبہ ہی سمجھ لیا ہے ۔۔۔”آفتاب کو خود سے الگ نا ہوتے دیکھ وہ شریر لہجے میں بولا تھا ۔۔۔”

جس پر آفتاب سٹپٹاتے ہوئے فورا اس سے الگ ہوا ۔۔۔” جبکہ اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے شعیب نے قہقہہ لگایا ۔۔۔

دانت اندر کر ورنہ ابھی توڑ دوں گا کمینے انسان ۔۔۔

شکل دیکھی ہے اپنی کبھی آئینے میں تو نے میری محبوبہ بننے لائق ہے کیا ؟؟؟؟

الحمداللہ بہت ہینڈسم ہوں ۔۔۔ویسے اگر توں چاہے میں تیری محبوبہ بننے کے لیے بھی تیار ہوں ۔۔۔

بس مجھے یہ بتا دے کہ توں دو کو ایک ساتھ ہینڈل کر پائے گا ؟؟؟؟

نچلہ لب دانتوں تلے دباتے شعیب نے ایسی نگاہوں سے آفتاب ملک کو دیکھا ،،،، کہ وہ کانوں کی لوں تک سرخ پڑ گیا ۔۔۔”

جبکہ اسکے سفید چہرے پر گھلتی سرخیوں کو دیکھتے شعیب کا قہقہہ بلند ہوا تھا ۔۔۔”

سو کمینے مرے ہونگے جب توں پیدا ہوا ہوگا ۔۔۔”

اسکے کندھے پر بھاری مکا جڑتے وہ اسے شرم دلاتے بولا ۔۔۔ ارے مار دیا ظالم ،،،، ابھی تو محبوبہ بھی نہیں بنایا اور ایسا ظلم ۔۔۔

اپنے کندھے کو سہلاتے اس نے دہائی دی تھی ،،،، جسے نظر انداز کرتے آفتاب ہاسپٹل کے اندر کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔”جبکہ ہونٹوں پر کچھ دیر پہلے کی نسبت اب اس وقت نرم مسکراہٹ کا راج تھا ۔۔۔”

جسے دیکھتے شعیب نے اوپر کی طرف دیکھتے رب کا شکر ادا کیا تھا اور اسکے صدا ایسے مسکراتے رہنے کی دعا کی تھی ۔۔۔”

زینیہ اور زرباب کی حالت کو دیکھتے اسکا اندر دم گھٹنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔” دل پر بڑھتے بوجھ اور سانسوں کو تھمتے محسوس کرتے وہ باہر کھلی فضاء میں آیا تھا ۔۔۔

اس کیلئے اپنی جان سے پیاری ہستیوں کو اس حالت میں دیکھنا ،،،،بہت مشکل تھا ۔۔۔”

اسکی بگڑتی ہوئی حالت کو دیکھتے شعیب بھی اسکے پیچھے آیا تھا ۔۔۔”اور اسکی باتوں نے آفتاب کے اندر بجھ چکی امید کی کرن کو ایک بار پھر روشن کیا ۔۔۔”

جس سے وہ جو اپنا حوصلہ بالکل ہار چکا تھا ،،،، اپنے رب کی رحمت پر کامل یقین کرتے ساری بری سوچوں کو جھٹک کر اپنے رب کی رضا میں راضی ہونے کا فیصلہ کرتے مطمئن ہو گیا تھا ۔۔۔”

اور بیشک اللہ تعالٰی اپنی رضا میں راضی رہنے والے اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آفتاب کوریڈور میں داخل ہوا ۔۔۔”

تو جہانزیب ملک مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھے ۔۔۔مبارک ہو ہماری جان زینیہ بیٹی کو ہوش آ گیا ہے ،،،، اب وہ بالکل ٹھیک ہیں ۔۔۔”

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔”

آ جائیں ہوش میں آنے کے بعد وہ سب سے پہلے وہ آپکے بارے میں ہی پوچھ رہی تھیں ۔۔۔”

جی ڈیڈ آپ چلیں میں آتا ہوں ۔۔۔ایکچلی مجھے زرباب کے حوالے سے ڈاکٹر سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔”

نرمی سے بولتے ہوئے وہ ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔”

جبکہ جہانزیب ملک کو اس کا رویہ کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔” ابھی تھوڑی دیر پہلے جب وہ بیہوش تھی تو وہ کس قدر بےچین ہو رہا تھا۔۔۔

اور اب ۔۔۔”

لیکن پھر زرباب سے اسکی محبت کو جانتے وہ ناچاہتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کر گئے ۔۔۔”

زرباب کے ڈاکٹر سے ملنے کے بعد وہ کافی حد تک مطمئن ہو گیا تھا ۔۔۔” جسکی تمام رپورٹس کلیئر تھیں ۔۔۔”

بس میڈیسن کا جو نشہ تھا وہ بھی کل صبح تک اتر جاتا ۔۔۔جسکے بعد اسے ہاسپٹل سے چھٹی دے دی جاتی ۔۔۔”

ڈاکٹر سے ملنے کے بعد وہ سیدھا زرباب کے کمرے میں آ گیا تھا ۔۔۔۔”

جہاں وہ بیڈ پر پرسکون نیند سویا ہوا تھا ۔۔۔بھاری قدم لیتے اسکے قریب آ کر اسکی ننھی سی پیشانی کو بہت محبت سے چھوا تھا ۔۔۔”

بابا لوز یو آلوٹ میری جان ۔۔۔”

اسکے سر کو محبت سے چھوتے اسکے ننھے سے ہاتھ کو تھامتے وہ وہی اسکے بیڈ کے قریب چیئر پر براجمان ہوتا اپنی جلتی ہوئیں آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔”

دوسری طرف آئی سی یو کا دروازہ کھول کر زوہیب ملک کمرے میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔”

جہاں سب کو ایک ساتھ جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔اس لیے باری باری زینیہ سے ملتے اسکا حال دریافت کر رہے تھے ۔۔۔”

دروازہ کھلنے کی آواز پر زینیہ نے آنکھیں کھول کر آنے والی ہستی کو دیکھا ۔۔۔

اسکا خیال تھا کہ اس بار آفتاب آئے گا ۔۔آفتاب کے نا آنے پر جہاں وہ ایک پل کیلئے مایوس ہوئی ۔۔لیکن اگلے ہی پل اپنے ڈیڈ کو قریب آتے دیکھ اسکے لبوں پر حسین مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”

ڈیڈ ۔۔۔”

اپنا دایاں ہاتھ ۔۔۔جس پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔۔۔ان کی طرف بڑھاتے نم لہجے میں پکارا ۔۔۔”

ڈیڈ کی جان ڈیڈ صدقے اپنی بیٹی پر ۔۔۔اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ کو تھام کر لبوں سے لگاتے وہ بہت پیار سے بولے تھے ۔۔۔”

جبکہ انکی بات پر زینیہ کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔”

اب کیسی طبیعت ہے میری جان کی ۔۔۔”

بہتر ہے ڈیڈ ۔۔۔”

انکی پریشانی کو دیکھتے وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔تاکہ انہیں کچھ تسلی ہو سکے ۔۔”

آپ کو پتا ہے آپ کے ڈیڈ آپ سے ناراض ہیں ؟؟؟

ایسا بھی کوئی کرتا بھلا ؟؟؟؟ آپکو پتا بھی ہے ،،،، آپکی اس حرکت نے ہم سب کی جان نکال دی تھی ۔۔۔”

اگر آپکو آج کچھ ہو جاتا تو آپکے ڈیڈ بھی زندہ نہیں رہ پاتے ۔۔۔”

اللہ نا کرے ڈیڈ ۔۔۔

ایسی باتیں مت کریں ۔۔۔”

دیکھیں میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔”

وہ جو مسکرا کر ان کی شکایتیں سن رہی تھی ۔۔۔انکی مرنے والی بات پر تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔”

ہاں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔کتنی ٹھیک ہیں آپ ،،،، کچھ ہی گھنٹوں میں چہرے کا رنگ کیسے زرد پڑ گیا ہے ۔۔۔”

آخر آپکو ضرورت ہی کیا تھی ،،،، آفتاب کے پیچھے جانے کی ؟؟؟؟

انکے سوال پر زینیہ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔” ڈیڈ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔

آفتاب ملک میں آپکی بیٹی کی سانسیں بستی ہیں ۔۔۔”

پھر ان حالات میں میں انہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتی تھی ۔۔۔”

زینیہ بیٹا آپ نے وہاں جا کر آفتاب کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔۔۔

مجھے شعیب نے سب بتایا ہے بلکہ پولیس آفیسر نے بھی ۔۔۔آپکے جانے سے پہلے ہی آفتاب سب کچھ ہینڈل کر چکے تھے ۔۔۔

جبکہ آپکے جانے پر انکا دھیان بٹا جسکا فائدہ اٹھا کر اس عورت نے آفتاب کو مارنے کی کوشش کی ۔۔۔”

جانتی ہوں ڈیڈ ۔۔۔جس کیلئے میں شرمندہ بھی ہوں ۔۔۔”

جان میں یہ آپکو شرمندہ کرنے کیلئے نہیں بول رہا ۔۔۔بس اتنا کہ آگے سے آپ دھیان رکھیں اس چیز کا ۔۔۔”

آپکو پتا ہی نہیں آپکو اپنی اس غلطی کا کتنا بڑا ہرجانہ بھرنا پڑ سکتا تھا ۔۔۔”-

آپ اپنی جان سے جا سکتی تھی ۔۔۔یا پھر آپکے ہونے والے بچے کو نقصان پہنچتا ۔۔۔

اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ،،،، آفتاب اپنے اس بھاری نقصان پر آپکو کبھی معاف نا کرتے ۔۔۔”

ڈیڈ ۔۔۔”

آفتاب کے ناراض ہونے والی بات سن کر زینیہ کے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔

ناراض تو وہ اب بھی ہو گئے ڈیڈ ۔۔۔دیکھیں نا ابھی تک مجھ سے ملنے نہیں آئے ۔۔۔

ایک بار بھی آ کر میرا حال نہیں پوچھا ۔۔۔

کیسی ہوں کس حال میں ہوں ۔،،مانتی ہوں غلطی ہو گئی مجھ سے لیکن وہ ۔۔۔”

اچھا میری جان آپ روئے تو مت ۔۔۔میں سمجھاوں گا انہیں ۔۔۔لیکن اس سے پہلے آپ مجھ سے وعدہ کریں آپ دوبارہ کبھی ایسی بیوقوفی بھری حرکت نہیں کرینگی ؟؟؟

پرومس ڈیڈ ۔۔۔

زینیہ کے رونے پر اسے پیار سے خاموش کرواتے انہوں نے وعدہ لینا چاہا جس پر اس نے فورا ہامی بھری تھی ۔۔۔”

لیکن پلیز آپ آفتاب سے بات کریں ۔۔۔کہ وہ مجھے معاف کر کے مجھ سے بات کریں ۔۔۔”

ضرور اب آپ بس آرام کریں ۔۔۔”میں کرتا ہوں بات آفتاب سے ۔۔۔بس آپ نے رونا نہیں ہے ٹھیک ہے ۔۔۔

آپ جانتی ہیں نا کہ آپ کے ڈیڈ آپکی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔”

جی ڈیڈ ۔۔۔”

اسکے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتے انہوں نے پیار سے جتایا ۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *