Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 28)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 28)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
ہیلو مس آپ ٹھیک ہے ۔۔۔”
کسی کی بھاری آواز زینیہ کے کانوں میں گونجی ،،،، اس نے اپنی بند ہوتیں آنکھیں زبردستی کھولنے کی کوشش کی ۔۔۔”
لیکن پوری طرح کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔”
سب کچھ دھندلا دھندلا سا دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔”
سامنے والے نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اسکی پیشانی پر رکھتے اپنی طرف سے خون روکنے کی کوشش کی ۔۔۔”
مس آپ ٹھیک ہے ؟؟؟
اسکی کھلی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنا سوال دوہرایا ۔۔۔”
میرا ،،،، بچہ ۔۔۔۔”
جبکہ زینیہ کے ہونٹوں سے صرف یہ دو ہی لفظ بمشکل ادا ہوئے تھے ،،،، اور ساتھ ہی سڑک کی اس طرف اشارہ کیا جہاں زرباب کو کچھ دیر پہلے اس سے چھین کر اس وین میں موجود لوگ لےگئے تھے ۔۔۔”
بچہ ؟؟؟؟
اس نے سڑک کی طرف دیکھا ۔۔۔جہاں بہت سارے لوگ اب گھیرہ بنائے کھڑے زینیہ کی طرف افسوس سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔”
ہاں ابھی ایک وین میں کچھ لوگ اس لڑکی سے ایک چھوٹے سے بچے کو چھین کر بھاگے ہیں ۔۔۔
لیکن جب تک ہم قریب آتے وہ وین تیز رفتاری سے بھاگ نکلی ۔۔۔”
اسکے منہ سے بچہ لفظ سن کر ،،،، بھیڑ میں کھڑا ایک نوجوان بولا ۔۔۔جس نے یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھا تھا ۔۔۔
اور اسکے باقی ساتھیوں نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔۔۔
یعنی کے اصل معاملہ بچے کے اغوا کا تھا ۔۔
اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا اور پھر زینیہ کی طرف دیکھا جو مکمل ہوش سے بیگانہ ہو چکی تھی ۔۔۔”
تبھی کسی نے اسے پیچھے سے پکارا ۔۔۔”
میجر ۔۔۔”
اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔” جہاں اسکی بیوی کھڑی پریشان نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔”
اور پھر زینیہ کو اپنی گود میں اٹھائے کھڑا ہو گیا ۔۔۔”
ہمیں جلد از جلد انہیں ہسپتال پہنچانا ہوگا ۔۔۔آپ گاڑی لے کر آئیں ۔۔۔” وہ ہاں میں سر ہلاتے پلٹ کر جانے لگی ۔۔۔”
جب ایک گاڑی اسکے قدموں کے نزدیک آ کر رکی ۔۔۔”
جس میں سے آفتاب ملک بےچین سا باہر نکلا ۔۔۔اس نے تو گاڑی مکمل رکنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔”
وہ انتظار کرتا بھی تو کیسے ۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے یہاں وہ زینیہ اور زرباب کو چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔
وہاں اتنی بھیڑ کو جمع دیکھتے ۔۔۔اس کا دل ڈوبنے لگا تھا ۔۔۔بنا معاملہ جانے ہی اسے کچھ بہت غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا ۔۔۔”کچھ بہت قیمتی کھو دینے کا انجانہ سا ڈر روح کو جکڑنے لگا تھا ۔۔۔”
گاڑی قریب رکنے کی آواز سنتے لوگ خود با خود ہی پیچھے ہو گئے تھے ۔۔۔”تاکہ مریض کو لیجانے کیلئے راستہ مل سکے ۔۔۔”
جبکہ آفتاب ملک سامنے کا نظارہ دیکھ کر جیسے چند پل کیلئے تھم گیا ۔۔۔”
وجود سے روح نکلنا کسے کہتے ہیں یہ آج آفتاب ملک کو اچھے سے معلوم ہوا تھا ۔۔۔”
زینیہ کی بند آنکھیں اور پیشانی سے بہتا ہوا لہو ۔۔۔”آفتاب ملک کی سانسیں روکنے کیلئے کافی تھا ۔۔۔”
اتنا درد تو اسے ایشال کے چھوڑ کر جانے پر بھی نہیں محسوس ہوا ،،،، جتنا زینیہ کو کھو دینے کا صرف سوچ کر ہی اسے اپنی روح میں اٹھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔”
زینیہ اسکے لب بےآواز سے پھڑپھڑائے تھے ۔۔۔”
جو پاس ہی کھڑی آیت نے بخوبی سنا ۔۔۔”
آپ انہیں جانتے ہیں ؟؟؟
اسکی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا ،،،، اس نے ایک نظر اس خوبصورت سی لڑکی پر ڈالی اور پھر بنا اسکی بات کا جواب دیئے ،،،،وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا زینیہ کے قریب پہنچا تھا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
اسکا چہرہ نرمی سے تھپتھپاتے بہت پیار سے پکارا ۔۔۔”
لیکن جواب میں بس خاموشی تھی ۔۔۔”
زینیہ آنکھیں کھولیں یار ،،،، کیا ہوا ہے آپکو ؟؟؟؟
زینیہ ۔۔”
آفتاب کے لہجے میں تڑپ تھی ،،،، جبکہ انداز میں بےچینی ۔۔۔وہ کسی بھی حال میں اسکے منہ سے صرف ایک بار اپنا نام سننا چاہتا تھا ۔۔۔
اور وہ جو اسکی ایک پکار پر ہزار بار لبیک کہتی تھی اسکے بار بار پکارنے پر بھی مسلسل خاموش تھی ۔۔۔”
آفتاب نے اسے اپنے بازوؤں میں منتقل کرتے فورا اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔جبکہ ایک آنسو بےمول ہوتا اسکی آنکھوں سے بہہ کر زینیہ کے بالوں میں جذب ہو گیا ۔۔۔”
آفتاب ملک کو نا تو اس وقت آس پاس کا ہوش تھا ،،،، اور نا ہی زرباب کا خیال ۔۔۔”
اسکے دھیان کے سارے دھاگے تو زینیہ ملک سے بندھ گئے تھے ۔۔۔” جس نے چند دنوں میں ہی آفتاب ملک کو اپنی محبت کا ایسا اثیر کیا تھا ۔۔۔”
کہ اسکی روح تک میں صرف وہی رچ بس گئی تھی ۔۔۔”
باقی سب بہت پیچھے رہ گیا ۔۔۔”
آفتاب ملک کا یہ پیار تھا ،،،، زینیہ ملک سے محبت تھی یا عشق اس کے بارے میں کچھ کہاں نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔”
لیکن روح سے روح کا رشتہ ضرور جڑ چکا تھا ۔۔۔”
کہ ایک پل کی جدائی تو دور خیال بھی سوہان روح تھا ۔۔۔”
سامنے والے نے بہت غور سے اسکے چہرے پر پھیلی بےچینی کو دیکھا ۔۔۔”جبکہ لبوں پر حسین مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔”
پھیلتی بھی کیوں نا وہ اس تڑپ سے بہت اچھی طرح واقف جو تھا ۔۔۔۔
وہ خود بھی تو اپنی بیوی سے ایسی ہی محبت کرتا تھا ،،،، اور اسکے بہنوئی تو اس معاملے میں اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھے ۔۔۔”
صرف بیہوش ہیں ؟؟؟؟
آفتاب کو پریشان ہوتے دیکھ اس نے جیسے تسلی دی تھی ۔۔۔”
جس پر چونک کر اس نے سامنے کھڑے نوجوان کی طرف دیکھا ۔۔۔” آفتاب ملک سنبھلا ۔۔ اور ساتھ ہی اسے اب زرباب کا خیال بھی آیا تھا ۔۔۔”
اس نے اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں ۔۔۔”
میرا بیٹا کہاں پر ہے اور یہ ایکسیڈنٹ ؟؟؟؟
یہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا ،،،، بلکہ ،،،، آپکا نام ؟؟؟
آفتاب ملک ۔۔۔
کیا مطلب یہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا ؟؟؟
اپنا نام بتاتے آفتاب نے اگلا سوال کیا ۔۔۔”
جی آفتاب ملک یہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا ،،،، بلکہ آپ کے بیٹے کو اغوا کیا گیا ہے ۔۔۔اور یہ چوٹیں شاید آپکی بیوی کو انہیں بچاتے ہوئے لگیں ہیں ؟؟؟؟
اغوا ۔۔۔۔”
اسکے دماغ میں فورا کلک ہوا ۔۔۔
آفتاب نے ایک نظر اپنے بازوؤں میں بیہوش زینیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔اس کا مطلب ایشال ۔۔۔”
آفتاب نے ایشال کا نام دانتوں تلے پیسا ۔۔۔”
ساتھ ہی اسکی رگیں غصے سے تن گئیں ۔۔۔چہرے کے تاثرات خطرناک حد تک سخت ہو گئے ۔۔۔”
آپکی کسی کے ساتھ دشمنی ؟؟؟
اسکے ری ایکشن کو دیکھتے وہ فورا معاملے کی طے تک پہنچا تھا ۔۔۔”
یہ آپکا معاملہ نہیں ہے ۔۔۔
آپ نے جو مدد کی اس کیلئے بہت شکریہ ۔۔۔”
سپاٹ لہجے میں بولتے اس نے پلٹ کر قدم گاڑی کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔”
آفتاب ملک میں آرمی میں میجر ہوں ۔۔۔”اور اس حادثے کا چشمدید گواہ بھی ۔۔۔
اسکی بات پر آفتاب نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔وہ مسکرا کر دو قدم آفتاب کی طرف بڑھا ۔۔۔
اب یہ معاملہ صرف آپکا معاملہ نہیں رہ گیا ۔۔۔”
ایک آرمی آفیسر ہونے کی حیثیت سے اس بچے کی حفاظت کی ذمہ داری ہے مجھ پر ۔۔۔”
اچھا ہوگا آپ میرے ساتھ کوآپریٹ کریں ۔۔۔اگر اس بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں تو ۔۔۔بتا دیں بچے کو ڈھونڈنے میں کافی آسانی ہو جائے گی ۔۔۔”
آفتاب نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔” اسے یہ تجویز بری نہیں لگی تھی ۔۔۔”
ویسے بھی زرباب کو ایشال کے چنگل سے چھڑوانے کیلئے وہ پولیس کی مدد تو لیتا ہی ،،،، ایسے میں اگر ایک آرمی آفیسر ساتھ ہو تو معاملات اور بہتر ہو سکتے تھے ۔۔۔
کیونکہ وہ اپنے بچے کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا ۔۔۔
ویسے بھی اسے ایشال جیسی عورت پر بالکل بھروسہ نہیں تھا ،،،، بلکہ وہ تو کہیں سے بھی عورت کہلانے کے لائق نہیں تھی ۔۔۔”
جو ایک بار زرباب کو مارنے کی کوشش کر سکتی تھی وہ دوبارہ بھی کر سکتی تھی ۔۔۔”
اس سے کسی اچھے کی امید تو کی نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔”
لیکن وہ ایسے کسی انجان پر بھروسہ بھی تو نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔” آفتاب نے پرسوچ نظروں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
اسے خود کی طرف جانچتی نگاہوں سے دیکھتے پاکر وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔
اور ساتھ ہی اپنا بیچ نکال کر اسکے سامنے کیا تھا ۔۔۔
جس پر اسکی تصویر کے نیچے سیاہ حروف میں میجر رومان شاہ لکھا ہوا تھا ۔۔۔
آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہیں ۔۔۔”
آفتاب نے ایک نظر دیکھنے کے بعد ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔لیکن اس سے پہلے فلحال زینیہ کو ہاسپٹل لیجانہ زیادہ ضروری ہے ۔۔۔”
آپ اپنا نمبر دے دیں ۔۔۔”
میں خود ہی آپ سے رابطہ کر لوں گا ۔۔۔”
اوکے ۔۔۔”
یاد سے کر لیجئے گا ،،،، مجھے چونا لگانے کی کوشش بھی مت کیجئے گا ۔۔۔آرمی والا ہوں ،،،، اور آپکا نام بھی جانتا ہوں ۔۔۔آگے آپ خود سمجھدار لگتے ہیں ۔۔۔”
اپنا کارڈ نکال کر اسکے ہاتھ میں تھماتے وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔البتہ اسکی سرمئی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے آفتاب نا چاہتے ہوئے بھی مسکرایا ۔۔۔۔”البتہ لبوں سے کچھ نہیں بولا ۔۔۔”
اور کارڈ تھام کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔”
اس نے زینیہ کے بیہوش وجود کو بہت احتیاط سے گاڑی فرنٹ سیٹ پر بٹھانے کے انداز میں ڈالا اور پھر دروازہ بند کرتے بھاگ کر دوسری طرف آ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔”
اور چند لمحوں میں ہی اس کی گاڑی ہوا سے باتیں کرتے وہاں سے غائب ہو گئی ۔۔۔”
جبکہ پیچھے کھڑا رومان آفتاب کی عجلت پر ایک بار پھر مسکرایا تھا ۔۔۔”
بابا ۔۔۔”
تبھی پیچھے سے کسی نے اسے پکارا تھا ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
زینیہ کو ایمرجنسی میں داخل کرواتے آفتاب نے شعیب کو فون ملایا تھا ۔۔۔”
اور تمام باتوں سے آگاہ کرتے اسے ہاسپٹل آنے کا بولا ۔۔۔”
جہانزیب ملک کو گھر فون کرتے انہیں زرباب کے بارے میں بتایا ۔۔۔اور ساتھ ہی پولیس میں رپورٹ کروانے کا بھی بولا ۔۔۔
البتہ فلحال ایشال کے بارے میں انہیں نہیں بتایا تھا ۔۔۔”
تبھی زینیہ کے روم سے ایک ڈاکٹر باہر نکلیں ۔۔۔
جنہیں دیکھتے ہی آفتاب فون بند کرتا فورا انکی طرف بڑھا ۔۔۔”
ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہیں ؟؟؟؟
خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔” ویسے بھی انہیں زیادہ چوٹیں نہیں آئیں ۔۔۔سڑک پر گرنے سے ہلکی پھلکی خراشیں ۔۔۔ہاں پیشانی کا زخم تھوڑا گہرا ہے ۔۔۔لیکن جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔”
اسکی پریشانی کو دیکھتے وہ ہلکا سا مسکرا کر بولیں تھیں ۔۔۔”
شکر ۔۔۔”
آفتاب نے گہرا سانس لیتے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔”
بلکہ میرے پاس آپ کیلئے ایک گڈ نیوز ہے ۔۔۔آپکی وائف امید سے ہیں ۔۔۔”
کیا مطلب ؟؟؟؟
چند لمحوں کیلئے تو آفتاب کو سمجھ ہی نہیں آیا ،،،، اس نے حیران نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ۔۔۔”
ڈاکٹر کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔”
مطلب کہ آپ کی بیوی ماں بننے والی ہے ۔۔۔اس بار صاف لفظوں میں بولیں تھیں ۔۔۔۔
جبکہ اپنے بیوقوفی بھرے سوال پر خجل ہوتے آفتاب نے سر جھکایا تھا ۔۔۔”
کانگریچولیشنز ۔۔۔”
ویسے وہ عمر میں کافی چھوٹی ہیں ۔۔۔
اتنی ارلی پریگنسی ہے تو آپکو انکا بہت سارا خیال رکھنا ہوگا ۔۔۔”
اور جیسے آج یہ گری ہیں خیال رکھے کہ آئندہ ایسا نا ہو ۔۔۔ورنہ آپکے بچے کی زندگی کے ساتھ ساتھ آپکی بیوی کیلئے بھی بہت ساری کامپلیکیشنز پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔۔۔”
انکی بات پر آفتاب نے لب بھینچ کر سر ہلایا تھا ۔۔۔”
میں کچھ ٹیسٹ وغیرہ لکھ دیتی ہوں وہ آپ کروا لیجئے گا اور ساتھ میں کچھ وٹامنز بھی جو انہیں ریگولر دینے ہیں ۔۔۔”
باقی چیک اپ وغیرہ آپ ہر منتھ کرواتے رہیے گا ۔۔۔”
نرمی سے ہدایت دیتے وہ اپنے کیبن کی طرف بڑھ گئیں تھیں ۔۔۔”
جبکہ پیچھے وہ اتنی بڑی خوشخبری پر ٹھیک سے مسکرا بھی نا سکا ۔۔۔”
اور ان سب کے پیچھے صرف ایک ہی عورت ذمہ دار تھی ۔۔۔ایشال احمد ۔۔۔
جسے وہ اس کے جرم کی بہت سخت سزا دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°°°
گہرا کالا اندھیرہ جس سے وہ چاروں طرف سے گھری ہوئی تھی ۔۔۔”
ایسے میں کوئی اسے بہت دور سے پکار رہا تھا ۔۔۔”
وہ آواز کے تعاقب میں کبھی ایک طرف بھاگتی تو کبھی دوسری طرف ۔۔۔لیکن اس گھنور اندھیرے میں اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی تھی ۔۔۔”
لیکن پکارنے کی آواز مسلسل آ رہی تھی ۔۔۔”
اور وہ آواز تھی ۔۔۔زرباب ملک کی ۔۔۔
ہاں وہی زرباب ملک جس میں آفتاب ملک کی سانسیں بستی تھیں ۔۔۔اور آفتاب ملک کی سانسوں میں اسکی سانسیں ۔۔”
جو باقی سب کیلئے زرباب ملک ۔۔۔”
جبکہ زینیہ کیلئے اسکا باب جان
اور وہ اپنے باب کی جینی جان ۔۔۔”
جسکی صدا مسلسل اسکے کانوں میں جاری تھی ۔۔۔”
انکا آپس میں خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا ۔۔۔لیکن محبت اور یقین کا ایسا اٹوٹ بندھن تھا ۔۔۔جسکے آگے سگے اور سوتیلے کا ہر فرق ختم ہو گیا تھا ۔۔۔”
زینیہ کیلئے وہ اسکی سگی اولاد سے بھی بڑھ کر تھا ،،،، جسے اگر ہلکی سی خراش بھی آتی تو وہ روح تک تڑپ جاتی ۔۔۔
اور اس وقت تو پھر وہ رو کر اسے پکار رہا تھا ۔۔۔
بےبسی کے احساس سے زینیہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے ۔۔۔لیکن زرباب تک پہنچنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔”
یکدم اس گھنور اندھیرے میں ایک طرف سے روشنی دکھائی دی ۔۔۔
ایک راستہ جس کے بالکل آخر میں زرباب اپنے دونوں بازو پھیلائے کھڑا مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔”
جسے دیکھتے زینیہ کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی ۔۔۔”
اس نے بنا ایک سیکنڈ ضائع کیے اسکی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔لیکن یہ کیا ؟؟؟
وہ جتنا اسکے قریب پہنچنے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی اس دور ہوتا جاتا ۔۔۔”
باب جان ۔۔۔”
محبت سے کہتے اس نے اپنی رفتار تیز کی ۔۔۔”
جب راستے میں پڑے ہوئے پتھر کو دیکھ نہیں پائی اور اس سے ٹکرا کر اوندھے منہ زمین پر گری ۔۔۔”
اسکی کہنیوں ،،،، گھٹنوں میں بری طرح چوٹیں آئیں ۔۔۔لیکن اپنے درد کو بھولائے اس نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔”
تبھی زرباب اسے اپنی طرف بھاگ کر آتا دکھائی دیا ۔۔۔
زینیہ کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ کھلی ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے وہ اسکے قریب آتا ،،،، کسی نے پیچھے سے تھام کر اپنی طرف کھینچا ۔۔۔”
جینی جان بچائیں
زرباب کے ہونٹوں سے چیخ برآمد ہوئی ۔۔۔
زرباب ۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے بیدار ہوئی تھی ۔۔۔”جبکہ اسکے منہ سے نکلنے والی چیخ اندر داخل ہوتے آفتاب ملک نے بھی سنی ۔۔۔
اور فورا آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
لیکن زینیہ فلحال اپنے حواسوں میں نہیں تھی ۔۔۔اس لیے اس کے حصار کو توڑ کر نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔”
چھوڑیں ،،،، مجھے زرباب کے پاس جانا ،،،، زرباب
مت لے کر جاو میرے بچے کو چھوڑو مجھے ،،،، مجھے میرے باب جان کے پاس جانا ہے ۔۔۔
وہ مجھے پکار رہا ہے ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
آفتاب نے اسے ہوش میں لانے کیلئے تقریبا جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔”
جبکہ اسکی دھاڑ پر زینیہ نے سہم کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
آفتاب نے اپنی جلتی ہوئی آنکھوں کو بند کر کے کھولا ۔۔۔” آفتاب
زینیہ کی آنکھوں میں پہچان کی رمک جاگی ۔۔
ہاں میں ہوں ۔۔۔”
اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو صاف کرتے بہت پیار سے یقین دلانا چاہا ۔۔۔”
جبکہ اس بات پر یقین کر لینے کے بعد کہ آفتاب اسکے پاس ہے وہ بلا تاخیر اسکے سینے کا حصہ بنتی زار و قطار رونے لگی ۔۔۔”
وہ لے گئے ،،،، میرے زرباب کو ،،، میں نے بہت کوشش کی ،،،، لیکن بچا نہیں پائی ۔۔۔
آفتاب وہ ،،،، لے گئے میرے زرباب کو ۔۔۔
ہچکیوں کے درمیان روتے زرباب کے بارے میں بتانے لگی ۔۔۔”
بس ،،، بس ،،،، میں جانتا ہوں ۔۔۔”
شش ،،، خاموش ہو جائیں ۔۔۔اسکے سر پر اپنے لب رکھتے بہت محبت سے خاموش کروانے لگا ۔۔۔”
نہیں ۔۔۔”
کیسے ہو جاؤں خاموش ۔۔۔
زینیہ نے فورا اسکے حصار سے نکلتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
میری آنکھوں کے سامنے میرے ہاتھوں سے وہ لوگ میرے بچے کو چھین کر لے گئے ،،،، اور آپ کہہ رہے ہیں ۔۔۔
میں خاموش ہو جاؤں ۔۔۔”
پتا نہیں میرا بچہ کیسا ہوگا ،،،، کس حال میں ہوگا ۔۔۔”
ہمیں اپنے پاس نا پا کر ڈرتے کتنا رو رہا ہوگا ۔۔۔
اور آپ کہہ رہے ہیں میں خاموش ہو جاؤں ۔۔۔
نہیں خاموش ہو سکتی میں ۔۔۔جب تک آپ مجھے میرا زرباب نہیں لا کر دینگے ۔۔۔
مجھے سکون نہیں آئے گا ۔۔۔”
آپ کو یاد ہے صبح میں مجھے خواب آیا تھا ۔۔۔
زرباب کو کوئی مجھ سے چھین کر لے جا رہا ہے ،،،، لیکن آپ نے یقین نہیں کیا تھا ۔۔۔
آپ تو کہتے تھے ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
خواب حقیقت نہیں ہوتے ہے ۔۔۔
تو میرا خواب کیسے حقیقت ہو گیا ۔۔۔”
کیونکہ آپ کی محبت زرباب کے معاملے میں بےمثال ہے ۔۔۔”
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے بہت محبت سے بولا ۔۔۔
زینیہ نے اپنی نظریں اسکے وجیہہ چہرے پر ٹکائیں ۔۔۔
جائیے نا آفتاب کہیں سے زرباب لے آئیے۔۔۔اس معصوم کی تکلیف کا سوچ سوچ کر میرا دل پھٹا جا رہا ہے ۔۔۔
اسکے لہجے میں التجا تھی ۔۔۔جبکہ بہتے ہوئے آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی ۔۔۔”
آفتاب نے لب بھینچ کر اسکے آنسوؤں سے بھیگے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔”
آفتاب آپ خاموش کیوں ہیں ؟؟؟؟ کچھ بولیے نا ،،،، لے کر آئیں گے نا میرے زرباب کو ۔۔۔
آپکو پتا ہے وہ بہت رو رہا تھا ۔۔۔
اور مسلسل مجھے پکار رہا تھا ۔۔۔
آفتاب پتا نہیں وہ ہمارے بچے کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہونگے ۔۔۔پلیز کچھ کریں نا ۔۔۔
اسکے کوٹ کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے اس نے آفتاب کو بےبس کیا ۔۔۔
اس نے زینیہ کو کھینچ کر دوبارہ اپنے سینے کا حصہ بنایا ۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں آپکے زرباب کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔لیکن اس کیلئے آپکو مجھ پر اعتبار کرنا ہوگا ۔۔۔”
بتائیں کرینگی نا اعتبار ۔۔۔
اسے خود سے الگ کرتے اس نے سوال کیا ۔۔۔
زینیہ نے چند لمحوں کیلئے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ،،،، اور پھر اوپر سے نیچے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔
گڈ ۔۔۔
سو چلے سب سے پہلے اپنے یہ آنسو صاف کریں ۔۔۔مجھے پتا ہے زرباب کہاں ہے اور کس کے پاس ہے ۔۔۔
اور جب تک اسکا مقصد پورا نہیں ہوگا ۔۔۔وہ زرباب کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گے ۔۔۔”
آپ جانتے ہیں ؟؟؟
زینیہ نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
جبکہ آنسو خود با خود ہی تھم گئے تھے ۔۔۔”
آفتاب نے اسکی بات پر مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔”اور پھر بہت محبت سے اسکے چہرے پر ٹھہرے ہوئے آنسو اپنے لبوں سے چن لیے ۔۔۔”
بس آپ مجھ پر اعتبار رکھے ۔۔۔
بہت جلد زرباب آپکے پاس ہوگا ۔۔۔”
لیکن ۔۔۔”
لیکن کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔۔
اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے زینیہ کو خاموش کروایا تھا ۔۔۔”
اور پھر بہت محبت سے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔”
وعدہ کریں مجھ سے ،،،، میں جب تک زرباب کو آپکے پاس واپس نہیں لے آتا تب تک نا تو آپ روئے گی ۔۔اور نا ہی خود کو کوئی نقصان پہنچائے گی ۔۔۔
بلکہ اب تو آپکو پہلے سے بھی زیادہ خود کا خیال رکھنا ہوگا ۔۔۔”
کیونکہ اب آپ پر دوہری ذمہ داری ہے ۔۔۔”
اسکے گال کو نرمی سے چھوتے وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔
دوہری ذمہ داری ۔۔۔”
زینیہ نے ناسمجھی سے دیکھا ۔۔۔”
آفتاب مسکرایا ۔۔۔”
ہاں جی دوہری ذمہ داری ۔۔۔
ایک اپنی ،،،، جس کے وجود پر مکمل میرا حق ہے ،،،، اور آپ اپنی لاپرواہی میں میرا بہت نقصان کر چکی ہیں ۔۔۔
مزید میں بالکل برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔
اسکی پیشانی کے زخم پر نرمی سے لب رکھتے جیسے وارننگ دی ۔۔۔
آفتاب کی پازیسونیس پر زینیہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی ۔۔”
جسے دیکھتے آفتاب نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا ۔۔۔زینیہ فورا سیدھی ہوئی ۔۔۔
اور دوسری آپکے وجود میں پل رہی اس جان کی ۔۔۔
جس میں میری جان بسی ہے ۔۔۔”
میرا خون ،،،، ہمارے ملن کی نشانی ،،، جو اس دنیا میں آ کر ہمیں مکمل کرے گی ۔۔۔”
اسکے کان کے قریب جھکتے وہ گھمبیر سرگوشی میں بولا ۔۔۔
آفتاب کی بات پر زینیہ کی آنکھیں حیرت سے مکمل کھل گئیں تھیں ۔۔۔”جبکہ چہرہ الگ شرم سے سرخ ہونے لگا ۔۔۔”
اسکی داڑھی کا ہلکا چھبتا لمس زینیہ کے دل کو گدگدانے لگا ۔۔۔
اس نے آفتاب سے الگ ہو کر حیرانی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”
جبکہ اسکی آنکھوں میں نظر آتے سوال پر آفتاب نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔”
بہت مبارک ہو میری جان آپ ماں بننے والی ہیں ۔۔۔”
اسکی ٹھوڑی پر پیار کرتے وہ بہت محبت سے بولا ۔۔۔
زینیہ کے نرم گالوں پر گلال اترا ۔۔۔”
اس نے اپنی نظریں جھکائیں ۔۔۔”
ویسے مجھے یقین تھا کہ آپ میری خواہش پوری کرینگی ۔۔۔لیکن اتنی جلدی یہ نہیں پتا تھا ۔۔۔”
اسکے لہجے میں شرارت کا عنصر شامل تھا ۔۔۔
زینیہ سے نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا ۔۔۔”
کیا ہوا زینیہ جان ۔۔۔”
آفتاب نے اسکی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتے چہرہ اوپر اٹھایا ۔۔۔”
زینیہ ۔۔۔”
آفتاب کے لہجے میں مان تھا ۔۔۔اسکی دیوانی نے فورا لبیک کہتے جھکی پلکیں اٹھائیں ۔۔۔”
اسکے سنہرے کانچ لبا و لب آنسوؤں سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔”
زرباب ۔۔۔”
لب بےآواز پھڑپھڑائے ۔۔۔”
آفتاب نے نفی میں سر ہلاتے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔بہت جلد آپکے پاس ہوگا میرا وعدہ ہے ۔۔۔”
اسکے سر پر لب رکھتے اور رونے کی وجہ سے کپکپاتے لبوں پر ہلکی سی جسارت کر تے ایک جذب کے عالم میں بولا اور ساتھ ہی اپنی جیب سے کارڈ نکالتے ۔۔اس پر لکھے نمبر پر نظریں ٹکائیں ۔۔۔
