Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 03)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

بابا ۔۔

اس وقت گھر کے تمام افراد ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔۔

جب زرباب نے آفتاب ملک کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔

آفتاب جو مصروف سا ناشتہ کر رہا تھا ۔۔۔۔اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔

بابا وہ ۔۔۔” اس نے ایک پل کیلئے رک کر ذینی کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اپنی پلیٹ میں جھکی مکمل لاتعلقی کا اظہار کر رہی تھی ۔۔۔۔لیکن دھیان کے سارے پنے ان دونوں کی طرف جڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔

آخر یہ اسکا ہی تو پلین تھا ۔۔۔۔

ہاں بولو بیٹا ۔۔۔”

اسکے خاموش ہو جانے پر آفتاب نے خود سے مخاطب کیا ۔۔۔۔

وہ بابا تل شنڈے ہے تو ۔۔۔۔میلا گھومنے پھرنے کا دل کل رہا ہے ۔۔۔۔تیا آپ ہمیں گھومانے لیں جائیں گے ۔۔۔۔

( وہ بابا کل سنڈے ہے تو ۔۔۔میرا گھومنے پھرنے کا دل کر رہا ہے ۔۔۔۔کیا آپ ہمیں گھومانے لیں جائیں گے )

آفتاب اس کے ہمیں کہنے پر چونکا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ جہانزیب ملک کی طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ کہیں آنا جانا افورڈ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔جسکی وجہ سے سلمہ ملک بھی گھر سے کم ہی نکلتی تھیں ۔۔۔۔

تو بےساختہ ہی اسکی نظر زینیہ پر پڑی تھی ۔۔۔۔اور اسے سارا معاملہ سمجھ آنے لگا ۔۔۔۔۔

اسکا چہرہ پل میں سپاٹ ہوا ۔۔۔۔

لیکن پھر ایک نظر زرباب کی طرف دیکھتے جو اسے ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اوکے میں تمہیں لے جاؤں گا ۔۔۔۔

اس نے زرباب سے مخاطب ہوتے تمہیں پر خاصا زور دیا تھا ۔۔۔۔

ذینی جو اس کے مان جانے پر دل میں خوش ہو رہی تھی ۔۔۔۔اسکی مکمل بات سنتے سر اٹھا کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔

اسکے سنہرے کانچ آفتاب کی گرے کرسٹل آنکھوں سے ٹکرائے ۔۔۔۔جن میں اس کیلئے ناگواریت صاف جھلک رہی تھی ۔۔۔۔اس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔۔

نہیں بابا ۔۔۔اتیلا میں نہیں جینی بھی جائیں دی ہمالے شاتھ ۔۔۔۔

( نہیں بابا اکیلا میں نہیں ذینی بھی جائیں گی ہمارے ساتھ )

وہ ایک نظر زینیہ کی طرف دیکھتا دوبارہ گویا ہوا ۔۔۔۔

لیکن بیٹا ۔۔۔۔”

پلیج بابا ۔۔۔۔وہ گھل میں بول ہوتی ہیں ۔۔۔۔جب شے آئی ہیں تہیں باہر نہیں گئی ۔۔۔۔

( پلیز بابا ۔۔۔۔وہ گھر میں بور ہوتی ہیں ۔۔۔جب سے آئی ہیں کہیں باہر نہیں گئی )

آفتاب کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے ریکویسٹ کی تھی ۔۔۔۔

آفتاب بیٹا زرباب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔زینیہ بیٹی کی یہاں کوئی دوست نہیں ہے ۔۔۔۔اوپر سے گھر میں انہیں کمپنی دینے والا بھی کوئی نہیں ۔۔۔۔اچھا ہے انکا بھی من بہل جائے گا ۔۔۔۔

آپ لے جاییے گا ۔۔۔۔

اب کے جہانزیب ملک درمیان میں مخدالت کرتے بولے تھے ۔۔۔۔

جس پر اسے نا چاہتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرنی پڑی تھی ۔۔۔۔

یاہو جینی ہم بہت مجے تریں گے ۔۔۔۔

( یاہو ذینی ہم بہت مزے کریں گے )

اس کے مان جانے پر زرباب خوشی سے بولا ۔۔۔۔

جسے سنتے ایک خوبصورت مسکراہٹ زینیہ کے ہونٹوں پر بکھری تھی ۔۔۔۔

اوں ہوں زرباب بیٹا بری بات بڑوں کو انکے نام سے نہیں بلاتے ۔۔۔۔

سلمی بیگم پیار سے ٹوکتے ہوئے بولی تھیں ۔۔۔۔

لیتن دادو جینی میلی فلینڈ ہیں ۔۔۔۔اور دوشتوں کو انکے نام شے بلا شکتے ہیں ۔۔۔۔

( لیکن دادو ذینی میری فرینڈ ہیں ۔۔۔۔اور دوستوں کو انکے نام سے بلا سکتے ہیں )

لیکن بیٹا وہ بڑی ہیں آپ سے ۔۔۔۔

کوئی بات نہیں آنٹی میں نے ہی زرباب کو بولا ہے کہ وہ مجھے میرے نام سے بلائے ۔۔۔۔

آفٹرآل ہم بیسٹ فرینڈز جو ہیں ۔۔۔۔

سلمی بیگم کی بات پوری ہونے سے پہلے وہ زرباب کی طرف دیکھتی مسکرا کر بولی ۔۔۔۔۔

اسکی بات جہاں ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے تمام افراد مسکرائے تھے ۔۔۔وہی آفتاب ملک نے سپاٹ نظروں سے ذینی کے مسکراتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

ناجانے کیوں لیکن یہ لڑکی اسے پہلی نظر میں ہی اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔۔اور اب وہ اسکے بیٹے کے قریب ہونے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

جو وہ قطعی طور پر برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔لیکن فلحال مصلحت کے تحت خاموش تھا ۔۔۔۔

••••••••••••

آفتاب زرباب اور ذینیہ کو لے کر سی سائڈ آیا تھا ۔۔۔۔

ساحل سمندر پر چلتی ٹھنڈی ہوائیں ،،،، زینیہ ملک کے خوبصورت کھلے بالوں سے اٹکلیاں کرنے لگی تھیں ۔۔۔۔

چہرے پر سن گلاسز سجائے وہ آج بھی اپنی کیجول ڈریسنگ وائٹ کھلی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔۔

جو آفتاب ملک کی ناگواریت کا سب سے بڑا سبب بن رہی تھی ۔۔۔۔

ساحل کے کنارے چلتے اونٹوں پر سواری کرتے فیملیز کو دیکھ زرباب نے بھی اس پر بیٹھنے کی آفتاب سے فرمائش کی تھی ۔۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

اونٹ کے قریب پہنچتے آفتاب نے اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھی سیٹ پر بیٹھایا تھا ۔۔۔جب اس نے زینیہ کو بیٹھنے کی آفر کی ۔۔۔۔

جینی آ جائیں ۔۔۔۔

نہیں باب جان میں نہیں ۔۔۔۔زینیہ نے ایک نظر اونٹ کو دیکھتے جو منہ سے مختلف آوازیں نکال رہا تھا ۔۔۔صاف انکار کیا تھا ۔۔۔۔

ذینی کے زرباب کو دیئے جانے والے نام پر آفتاب نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

پلیج ۔۔۔”

اس نے دوبارہ انسسٹٹ کیا ۔۔۔

باب جان مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔دیکھو تو یہ کیمل مجھے دیکھ کر کیسی آوازیں نکال رہا ہے ۔۔۔اگر اس نے مجھے گرا دیا تو ؟؟؟

الے جینی جان میں ہوں نا تچھ نہیں ہوگا ۔۔۔

( ارے ذینی جان میں ہوں نا کچھ نہیں ہوگا )

زرباب اگر وہ نہیں بیٹھنا چاہ رہی تو کیوں ضد کر رہے ہو ۔۔۔۔

زرباب کی بات پر اس سے پہلے زینیہ کچھ کہتی ۔۔۔آفتاب درمیان میں مخدالت کرتے بولا ۔۔۔۔

لیتن بابا “

لیکن بابا

نہیں ایسی بات نہیں میں آ رہی ہوں باب ۔۔۔بس مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا تھا لیکن تم ہو نا ۔۔۔۔

آفتاب کی بات سن کر زرباب کے اترے منہ کو دیکھتی وہ فورا ہامی بھرتی اسکی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔

جس پر زرباب تو مسکرایا البتہ آفتاب نے سرے سے اگنور کیا ۔۔۔۔

بابا آپ نہیں آئے گے ؟؟؟

زینیہ کے بیٹھنے کے بعد زرباب آفتاب سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔نہیں تم لوگ انجوائے کرو ۔۔۔۔

مسکرا کر کہتے وہ تھوڑا پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔جب اونٹ والے نے اسے ہینک دیتے اٹھایا تھا ۔۔۔۔

جسے زرباب نے تو بہت انجوائے کیا تھا ۔۔۔البتہ اس کے اٹھنے پر زینیہ کی چیخیں ضرور بلند ہوئی تھیں ۔۔ اور ساتھ ہی گرنے کے ڈر سے اس نے سیٹ کی چاروں طرف سیفٹی کیلئے لگی لکڑی کو تھاما تھا ۔۔۔۔

اسکی چیخ پر آفتاب نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔۔

جینی جان میں ہوں نا ۔۔۔۔

زرباب نے فورا اسکا ہاتھ تھامتے تسلی دی تھی ۔۔۔۔

جس پر وہ زبردستی مسکرائی ۔۔۔۔

لیکن اونٹ کے چلنے پر کبھی اوپر اور نیچے ہوتی سیٹ پر وہ ایک بار پھر چلائی تھی ۔۔۔۔پلیز پلیز مجھے نیچے اتار دیں پلیز ۔۔۔۔

جینی جان ۔۔۔”

پلیز باب جان نہیں ۔۔۔۔

بھائی پلیز مجھے نیچے اتار دیں ۔۔۔۔

زرباب کو منع کرتے ہوئے وہ اونٹ والے سے مخاطب ہوئی تھی ۔۔۔جو اس دودھیا سفید رنگت کی حامل مغربی طرز کے لباس میں ملبوس لڑکی کو پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

بھائی پلیز ۔۔۔

ایک بار پھر اونچی آواز میں بولی ۔۔۔۔

جس پر اس نے اونٹ کو روکا اور خود نیچے اتر کر اونٹ کو بٹھائے بنا زینیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اتارنے کیلئے ۔۔۔۔

شاید وہ اس بہانے اسے چھونا چاہتا تھا ۔۔۔جسے زینیہ نا سمجھتے ہوئے فورا اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھا گئی ۔۔۔

البتہ آفتاب ضرور اسکی نیت بھانپ گیا تھا ۔۔۔اس لیے اسکے ہاتھ تھامنے سے پہلے آگے بڑھ کر وہ زینیہ کا ہاتھ تھام گیا ۔۔۔اور ساتھ ہی اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔جس پر وہ شرمندہ ہوتا پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔

جبکہ آفتاب کی اس عنایت پر ذینی جیسے کھل اٹھی تھی ۔۔۔۔

تبھی مسکراتے ہوئے اسکی طرف اپنا دوسرا ہاتھ بھی بڑھایا تھا ۔۔۔۔جسے مجبوری کے تحت تھامتے اسے نیچے اترنے میں مدد دی ۔۔۔۔لیکن زینی جسکا دھیان اونٹ سے ہٹ کر اب آفتاب پر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

اسکے ہلنے پر اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی ۔۔۔۔اور سیدھی اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔جسے گرنے سے بچانے کیلئے آفتاب نے اسکی کمر کو تھاما ۔۔۔۔

جبکہ زینیہ نے دونوں ہاتھوں سے اسکے کوٹ کو جکڑا ۔۔۔اور اپنی آنکھیں سختی سے مینچ گئی ۔۔۔۔

اسکے کھلے بالوں نے بکھر کر آفتاب کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔۔

جنکی خوشبو اسکی سانسوں میں سمائی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے نازک بدن کے نرم لمس کے ساتھ تیز دھڑکنوں کا رقص اسے اپنے سینے میں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

اس نے فورا اسے خود سے دور کیا ۔۔۔۔

جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔

سوری ۔۔”

اسکے چہرے پر پھیلی ناگواریت کو دیکھتے وہ شرمندہ شرمندہ سی بولی ۔۔۔۔

انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔جس پر بعد میں اسے شرمندہ ہونا پڑے ۔۔۔۔سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے زرباب کو نیچے اتارا تھا ۔۔۔۔

اور اونٹ والے کو پیسے دے کر زرباب کا ہاتھ تھامتے قدم گاڑی کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔

اکڑوں ،،، کھڑوس ۔۔۔

وہ اسکی پشت کو دیکھتے نئے ناموں سے نوازتی اسکے پیچھے آئی تھی ۔۔۔۔

•••••••••••••

ساحل سمندر سے واپسی پر وہ انہیں ایک ریسٹورنٹ میں لایا تھا ۔۔۔۔

جہاں ایک لطیف لنچ کے بعد زرباب کی ضد پر آئس کریم کا دور چلا ۔۔۔۔جسے آفتاب تو نہیں البتہ ان دونوں نے خوب انجوائے کیا تھا ۔۔۔۔

آپ تو پتا ہے جینی جان ،،،، میلے اور بابا تی پشند بالتل ایت جیشی ہے ۔۔۔۔

( آپ کو پتا ہے زینی جان ،،،، میرے اور بابا کی پسند بالکل ایک جیسی ہے )

آئس کریم کا چمچ بھر کر آفتاب کی طرف بڑھاتے وہ زینیہ سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔

جس پر وہ مسکرائی تھی ۔۔۔۔

البتہ آفتاب کو اسکا طرز مخاطب بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

لے لیں بابا ۔۔۔

زرباب کے اسرار پر اس نے نا چاہتے ہوئے بھی منہ کھولا تھا ۔۔۔۔

اچھا اور وہ کیسے ؟؟؟؟

اپنی آئس کریم انجوائے کرتے زینیہ ملک نے بات بڑھائی ۔۔۔۔

وہ ایشے تے جو چیج بابا تو پشند آتی ہے وہی مجھے اور جو مجھے وہ بابا تو ۔۔

( وہ ایسے کے جو چیز بابا کو پسند آتی ہے وہی مجھے اور جو مجھے وہ بابا کو )

لیکن آجکل آپکی چوائس بہت خراب ہو گئی ہے ۔۔۔۔

زرباب کی بات پر زینیہ کی طرف دیکھتے اس نے جتایا تھا ۔۔۔۔جسے زرباب تو نہیں البتہ وہ ضرور سمجھ گئی تھی ۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اسکے ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔۔۔

چلیں ۔۔۔

ایک نظر زینیہ کے اترے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

جس کی تلقین میں وہ دونوں بھی اٹھے تھے ۔۔۔۔

ایک بھرپور اور خوشگوار دن گزارنے کے بعد شام ہونے سے پہلے ہی وہ ان دونوں کو ملک مینشن میں اتارتے خود کسی دوست کی طرف روانہ ہو گیا تھا ۔۔۔

جس کی گاڑی کو دور جاتے ذینی نے پرسوچ نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

•••••••••••

اس دن کے بعد بھی زینیہ نے زرباب کو درمیان میں لاتے آفتاب ملک سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔

لیکن اسے ہمیشہ اسکا سرد رویہ ہی دیکھنے ملا ۔۔۔۔

آفتاب کے قریب ہونے کیلئے اس نے ملک مینشن کے باقی افراد کے ساتھ بھی اپنے مراسم مزید بہتر کیے ۔۔۔۔

سلمی بیگم سے بہانے بہانے سے آفتاب کی پسند نا پسند کے بارے میں پوچھا ۔۔۔

اسکے ماضی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ۔۔۔۔

جس پر اسے زیادہ تو نہیں البتہ اتنا ضرور پتا چلا تھا کہ آفتاب نے پہلی شادی اپنی پسند سے کی تھی ۔۔۔۔

اور زرباب کی پیدائش پر اسکی بیوی اسے بتائے بنا ہی چھوڑ کر چلی گئی ۔۔۔جو آج تک واپس نہیں آئی تھی ۔۔۔۔وہ شاید کسی دوسرے آدمی کے ساتھ افیئر میں تھی ۔۔۔۔جسکی وجہ سے اس نے آفتاب کو دھوکا دیا تھا ۔۔۔۔

جسکی وجہ سے وہ اور اسکا رویہ اس حد سرد ہو گیا۔۔۔۔

ورنہ پہلے وہ بہت جولی طبیعت کا حامل تھا ۔۔۔۔

لیکن یہ سب باتیں تو وہ پہلے سے ہی جانتی تھی ۔۔۔اسکا اصل مقصد جو تھا وہ آفتاب کے قریب ہونا ۔۔۔اس معاملے میں خاطر خواہ کچھ بھی مدد نہیں ہو پائی تھی ۔۔۔۔

ایسے تو میرا کچھ نہیں ہونے والا ،،،،، مجھے اب ان سے روبرو خود ہی صاف سیدھے طریقے سے بات کرنی پڑے گی ۔۔۔۔

وہ جیسے ایک نتیجے پر پہنچی تھی ۔۔۔۔

ہاں یہی ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔آخری فیصلہ لیتے مطمئن ہوتے مسکرائی تھی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *