Junoon e Ishq by Wafa Shah NovelR50535 Junoon e Ishq (Episode 07)
Rate this Novel
Junoon e Ishq (Episode 07)
Junoon e Ishq by Wafa Shah
آفتاب بیٹے ہمیں آپ سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔”
ڈیڈ آپ سمجھ نہیں رہے ۔۔۔میں نے زینیہ سے ایسی کوئی بات نہیں کی ۔۔جس سے وہ یہ حرکت انجام دیتیں ۔۔۔میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔”
جہانزیب ملک کے برہم ہونے پر وہ انہیں صفائی دیتا بولا ۔۔۔
اچھا تو پھر کس کا قصور ہے ؟؟؟ انہوں نے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھتے سوال کیا ۔۔۔
افکورس ڈیڈ اس سب کے پیچھے وہ لڑکی ہی ذمہ دار ہے ۔۔۔اور کون ؟؟؟
افسوس ہے ہمیں آفتاب ملک صرف افسوس ۔۔۔
ہم نے آپ کی یہ تربیت تو نہیں کی تھی ۔۔۔
وہ تو معصوم ہیں ۔۔”
جنہوں نے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ۔۔” اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی ۔۔اور اب بھی آپ انکے بارے میں یہ سوچ رکھتے ہیں ۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔”
بس ہم کچھ سننا نہیں چاہتے ۔۔۔
ہم فیصلہ لے چکے ہیں ۔۔۔زینیہ بیٹی کا نکاح اسی ہفتے آپ کے ساتھ ہو گا ۔۔۔”
لیکن ڈیڈ ۔۔”
ہم کوئی ایکسکیوز نہیں سنے گے ۔۔۔
آفتاب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دوٹوک لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔
ڈیڈ آپ سمجھ نہیں رہے میں نہیں نبھا پاؤں گا ایسے رشتے کو جس کیلئے میں دل سے ہی تیار نہیں ۔۔۔”
آفتاب نے انہیں سمجھانے کی آخری کوشش کی ۔۔۔
ضروری نہیں بیٹا ہمیشہ اپنے ہی دل کی سنی جائے ۔۔” یا اپنی خوشی کے بارے سوچا جائے ۔۔۔کبھی کبھی دوسروں کی خوشیوں کی خاطر سمجھوتا کر لینا چاہیے ۔۔۔
اور رہی اس رشتے کو نبھانے کی بات تو ۔۔” نکاح کے بولو میں بہت طاقت ہوتی ہے ۔۔۔”
جس کے بعد دو اجنبی بھی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔۔۔” اور یہاں تو معاملہ ہی الگ ہے ۔۔۔
ہمیں پورا یقین ہے ۔۔” آپ جیسے جیسے زینیہ بیٹی کو سمجھنے لگے گے ۔۔۔” انکی سچی محبت کو محسوس کرینگے ۔۔” خود با خود ان سے جڑتے چلے جائیں گے ۔۔۔”
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ نرم لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔
آفتاب نے نظریں اٹھا کر انکے پرشفق چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جہانزیب ملک نرمی سے مسکرائے ۔۔۔
ہم جانتے ہیں ۔۔۔” آپکا پہلا تجربہ ،،،، آپکو اسکی وجہ سے جو تکلیف جھیلنی پڑی ۔۔۔” آپ نے جو دھوکا سہا ۔۔۔”
وہ بات بات کرتے کرتے رکے ۔۔۔”
آفتاب نے اپنے لب سختی سے بھینچتے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ۔۔۔”
لیکن ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں یہ رشتہ آپکی زندگی سنوار دے گا ۔۔۔” آپکا محبت اور رشتوں سے جو یقین اٹھ چکا ہے ۔۔۔
وہ واپس لائے گا ۔۔۔
بس آپ زینیہ بیٹی کو ایک موقع تو دیں ۔۔۔”
ایسا کبھی نہیں ہوگا ڈیڈ ۔۔”
آفتاب نے نفی میں سر ہلاتے درد بھری نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔جبکہ ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھر آئی تھی ۔۔۔”
جو دھوکا میں نے کھایا ہے ۔۔۔” اور اس دھوکے نے جیسے مجھے اندر سے توڑا ہے ۔۔” کوئی بھی مرہم میرے دل پر لگے زخموں کو نہیں بھر سکتا ۔۔اور نا ہی کوئی رشتہ میرے ٹوٹے ہوئے اعتبار کو جوڑ سکتا ہے ۔۔۔
جہانزیب کی طرف دیکھتے اس نے جیسے فیصلہ سنایا تھا ۔۔۔”
اور پھر پلٹ کر جانے لگا ۔۔” جب جہانزیب ملک کے لفظوں نے اسکے قدم جکڑے ۔۔
آفتاب زوہیب ہمارے بڑے بھائی کے بیٹے ہیں ۔۔۔” ہمیں اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز ۔۔”اور انکی کل کائنات انکی بیٹی ہیں ۔۔” اور آپکی وجہ سے آج جو انکی حالت ہے ۔۔۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے اسکی وجہ سے آج ہم انکے سامنے کتنا شرمندہ ہوئے ۔۔۔”
بس ہم فیصلہ لے چکے ہیں کہ آپ کا نکاح اسی ہفتے زینیہ بیٹی کے ساتھ ہوگا ۔۔۔
لیکن ڈیڈ ۔۔”
انکے اٹل لہجے کو سنتے وہ پلٹا ۔۔”
یہ ہمارا حکم ہے ۔۔۔”
اسکی کرسٹل گرے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی آفتاب نے اپنا سر جھکایا تھا ۔۔” کیونکہ وہ مر کر بھی کبھی انکی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔”
ٹھیک ہے ۔۔۔”
سرد لہجے میں بولتے وہ پلٹ کر جانے لگا ۔۔جب جہانزیب ملک نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے دوبارہ رکنے پر مجبور کیا ۔۔۔”
آج آپکو ہمارا یہ فیصلہ غلط لگ رہا ہے ۔۔۔لیکن ایک دن آئے گا ۔۔جب یہی فیصلہ آپکو ٹھیک لگے گا ۔۔۔اور ہم اس دن کا انتظار کریں گے ۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا ۔۔” جبکہ آفتاب خاموشی سے تیز قدم بھرتا کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
ذینی کے سو جانے کے بعد زوہیب ملک جہانزیب کے پاس آئے تھے ۔۔۔”
چچا جان میری بیٹی کو بچا لیں ۔۔۔”
انکے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ التجا کی تھی ۔۔۔”
زوہیب آپ ۔۔۔”
وہ آفتاب کے بنا نہیں رہ سکتیں ۔۔۔” اور میں جانتا ہوں آپ کے بنا یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا ۔۔”
ایک آپ ہی ہیں جو انہیں اس رشتے کیلئے راضی کر سکتے ہیں ۔۔۔” میری بیٹی کو بچا لیں ۔۔۔” پلیززززز
بیٹی کی محبت نے انہیں آج اتنا مجبور کر دیا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے انکے قدموں میں بیٹھتے چلے گئے ۔۔۔
جبکہ انہیں یوں ٹوٹتے دیکھ عائشہ ملک کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔
انہوں اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی زوہیب کو یوں بےبس ہوتے نہیں دیکھا ۔۔۔جتنا کہ وہ آج تھے ۔۔
زوہیب یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟ انکے کندھوں کو تھام کر اوپر اٹھایا ۔۔۔
چچا جان میری بیٹی ۔۔۔”
نم لہجے میں ایک التجا سی تھی ۔۔۔بس کچھ نہیں ہوگا انہیں ۔۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں ۔۔۔” آفتاب کو اس شادی کیلئے راضی کر لیں گے ۔۔۔”
انہیں اپنے سینے سے لگاتے ۔۔۔” وعدہ کیا تھا ۔۔۔
بہت شکریہ میں یہ آپکا احسان ۔۔۔”
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔” ذینی صرف آپکی ہی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے ۔۔۔
اسکی خوشیوں کا خیال ہم نہیں رکھے گے تو اور کون رکھے گا ۔۔۔
انکے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتے نرمی سے مسکرائے ۔۔۔
جہانزیب کی بات پر زوہیب کو کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔۔
چچا جان آفتاب ۔۔۔”
آپ انکی ٹینشن نا لیں انہیں کیسے راضی کرنا ہے ہم اچھے سے جانتے ہیں ۔۔۔”انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے جیسے انہوں نے بات ختم کی ۔۔۔
جس پر انہوں نے سر ہلایا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
جینی جان کیشی ہیں اب آپ ؟؟
( زینی جان کیسی ہیں اب آپ )
کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے زرباب نے بھاگ کر اسکے قریب آتے ہوئے مسکرا کر سوال کیا تھا ۔۔۔”
زرباب آپ یہاں کیسے ؟؟؟
زرباب کو اپنے گھر میں دیکھتے ہوئے حیرانی سے سوال کیا ۔۔۔
میں دادو اور دادا ابو کے شاتھ ( ساتھ ) ۔۔۔
اوووو ۔۔۔
زینیہ ملک آفتاب ملک کی نظر میں تمہاری اتنی بھی اوقات نہیں کہ وہ ایک بار تمہاری طبیعت پوچھنے کیلئے آتے ۔۔۔
یکدم سے ہی زینیہ کا من بھر آیا ۔۔۔
آپ نے جواب دیا نہیں دیا کیشی طبیعت ہے اب آپکی ؟؟؟
زینیہ کو خاموش دیکھ کر زرباب نے اپنا سوال دوہرایا ۔۔۔جس سے وہ کچھ ہوش میں آئی ۔۔۔
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
آپ کیسے ہو ؟؟ مسکرا کر سوال کرتے اسکی پیشانی پر پیار کرتے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔
میں بھی تھیک ( ٹھیک ) ۔۔
اسکے کس کرنے پر شرما کر دھیمی آواز میں بولا ۔۔۔
جسے دیکھتے بےساختہ ہی زینیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔
اوو میرا بچہ بلش کر رہا ہے ۔۔۔” اسکے دونوں گالوں کو کھینچتے اسکی چھوٹی سی ناک پر پیار کیا ۔۔۔”
زرباب نے مزید اپنا سر جھکایا ۔۔۔
زینیہ نے اسے اپنے سینے سے لگاتے اسکے سر پر لب رکھے ۔۔۔”
زرباب آپکے بابا کیسے ہیں ؟؟؟
وہ چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پائی تھی اس لیے اسے یونہی اپنے سینے سے لگائے ،،، اس دشمن جان کا حال دریافت کیا ۔۔۔”
بابا بھی بالکل تھیک ( ٹھیک ) ہیں ۔۔۔
اس سے الگ ہو کر زرباب نے مسکرا کر جواب کیا ۔۔۔
ویشے آپکو پتا ہے جینی جان ہم لوگ آج یہاں تیا ترنے آئیں ہیں ؟؟
( ویسے آپکو پتا ہے زینی جان ہم لوگ آج یہاں کیا کرنے آئیں ہیں ؟؟ ) ۔۔۔
زینیہ نے زرباب کی بات پر سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ دادو بتا رہی تھیں ؟؟؟
وہ بات کرتے کرتے ایک بار پھر رکا ۔۔۔” اسکی ہونٹوں پر بڑی خوبصورت سی مگر معصوم مسکراہٹ تھی ۔۔۔
زینیہ کے دل میں ہلچل سی مچی ۔۔۔” کہیں بابا نے آفتاب کو اس رشتے کیلئے راضی تو نہیں کر لیا ۔۔۔
اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگیں ۔۔۔لیکن اگر بات کچھ اور ہوئی تو ۔۔۔
اپنے خیالات کو جھٹکتے اس نے آنکھوں سے آگے بولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
وہ تہہ ( کہہ ) رہی تھیں ،،، کہ آپ ۔۔۔”
میں کیا ؟؟؟؟
اسکے دونوں کندھوں کو تھامتے بےچینی سے سوال کیا ۔۔۔
آپ میلے بابا تی وائف بننے والی ہیں ۔۔اور میلی ماما ۔۔”
( آپ میرے بابا کی وائف بننے والی ہیں اور اور میری ماما )
زرباب نے مسکرا کر بولتے جیسے دھماکا کیا تھا ۔۔۔” جسے سننے کے بعد چند پل کیلئے وہ اپنی ششدر رہ گئی ۔۔۔”
اسکی بڑی بڑی سنہری آنکھیں حیرت سے پھیل کر مزید بڑی ہو گئیں ۔۔۔
تیز دھڑکتا ہوا دل چند پل کیلئے تھم سا گیا ۔۔۔بات ہی ایسی تھی جس پر کم از کم زینیہ اتنی جلدی یقین نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
آپ ،،،، آپ سچ کہہ ،،،، رہے ہو ۔۔۔”
وہ کافی دیر بعد جا کر کچھ بولنے کے قابل ہوئی تھی ۔۔” لیکن اسکے باوجود بھی الفاظ اسکے لبوں سے اٹک اٹک کر ادا ہوئے ۔۔۔
جی زرباب بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔”
اس بار جواب زرباب نہیں بلکہ سلمی بیگم نے دیا تھا ۔۔۔” زینیہ نے حیرت سے نظریں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا ۔۔
یہاں وہ ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ سجائے کھڑیں اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔”
اور انکے پیچھے کھڑے زینیہ ماما بابا اور جہانزیب ملک نے بھی مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
زینیہ کے نرم لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور ساتھ ہی آنکھوں میں آنسو بھی اتر آئے تھے ۔۔۔
جسے دیکھتے وہ دھیمے قدم لے کر اسکے قریب آتیں بیڈ پر براجمان ہوئیں تھیں ۔۔۔
جنہیں بیٹھتے دیکھ زرباب خود با خود اٹھ کر پیچھے ہو گیا ۔۔۔
سلمی بیگم نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔بس ہماری جان اور نہیں رونا ۔۔۔”
اب تو مسکرانے کے دن ہیں ۔۔۔بہت جلد ہم اپنی بیٹی کو اپنے آفتاب کی دلہن بنا کر ہمیشہ کیلئے اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔۔۔
اسکے من موہنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے اسکے آنسو صاف کرتے وہ مسکرا کر بولیں اور ساتھ اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔
جہانزیب ملک نے بھی آگے بڑھ کر اسکے سر پر اپنا دست شفقت رکھا تھا ۔۔۔”
زوہیب عائشہ آج سے یہ ہمارے آفتاب کی امانت ہیں ۔۔۔” جسکا تم لوگوں نے خاص خیال رکھنا ہے ۔۔۔
اپنے ساتھ لائی خاندانی انگوٹھی اسکے ہاتھ میں پہناتے انہوں ان دونوں کو تنبیہ کی تھی ۔۔۔
جس پر دونوں نے ہی مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
صدا خوش رہو ۔۔اسکے سر پر پیار دیتے دعا دی ۔۔۔
زینیہ کے ہونٹوں پر بہت ہی خوبصورت مسکان کھلی ،،،، جبکہ اپنی انگلی میں آفتاب کے نام کی انگوٹھی دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی ۔۔۔”
اسے بےساختہ آفتاب سے اپنی پہلی ملاقات یاد آئی تھی ،،،، آفتاب کا مسکرانا جس سے ظاہر ہوتا دائیں گال میں اسکا بھنور ۔۔۔”
جس نے پہلی ملاقات میں ہی اسکا چین قرار لوٹ لیا تھا ۔۔۔”
اسکے سفید چہرے پر سرخی بکھیرنے کا سبب بن گیا ۔۔۔”
ماشاءاللہ ۔۔۔”
اسکی خوبصورتی کو دیکھتے بےساختہ ہی سلمی بیگم کے ہونٹوں سے پھسلا اور انہوں اپنے پرس سے پیسے نکال کر اسکے سر پر وارے ۔۔۔”
جبکہ زینیہ نے شرما کر اپنا چہرہ انکے سینے میں چھپایا تھا ۔۔۔جس پر انکے ساتھ کمرے میں موجود سبھی افراد کھل کر مسکرائے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
رشتہ طے ہوتے ہی ۔۔۔دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔
حالانکہ فنکشن بہت زیادہ بڑا تو نہیں تھا ۔۔۔”لیکن پھر بھی سلمی بیگم اور جہانزیب ملک کسی بھی قسم کی کمی نہیں رکھنا چاہتے تھے ۔۔۔”
اس لیے آفتاب کے کہنے کے باوجود کے یہ سب سادگی میں ہونا چاہیے انہوں نے ملک مینشن کو دلہن کی طرح سجا دیا تھا ۔۔۔”
دوسری طرف زوہیب اور عائشہ ملک کی کل کائنات ہی انکی بیٹی تھی پھر اسکی اتنی بڑی خوشی کے موقع پر وہ پیچھے کیسے رہ سکتے تھے ۔۔۔”
فنکشن چھوٹا ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بہت سارے خاص خاص رشتے داروں اور بزنس سرکل کے لوگوں کو انوائٹ کر لیا تھا ۔۔۔
جس سے گھر میں اچھی خاصی گیدرنگ کا ماحول بن گیا ۔۔۔
بارات کیلئے شہر کا سب سے بڑا میرج ہال بک کروایا گیا ۔۔۔” کیونکہ جہانزیب ملک نے جہیز لینے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔اس لیے اپنی ساری جائیداد سمیت ذینی کے جہیز کے پیسے اور خاندانی جیولری وہ اسکے اکاؤنٹ میں جمع کروا چکے تھے ۔۔۔
وہ اپنی بیٹی اور اسکے مستقبل کو سیکیور کرنے میں کسی بھی قسم کمی نہیں رکھنا چاہتے تھے ۔۔۔
اس لیے سب کچھ پہلے ہی اسکے نام لگاتے اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکے تھے ۔۔۔
زینیہ کیلئے یہ دن کسی خواب سے کم نہیں تھے ۔۔۔وہ جو آفتاب کے بار بار انکار کرنے پر اب ہار ماننے لگی تھی ۔۔۔
اسکی شادی کیلئے ہاں نے جیسے دنیا بھر کی خوشیاں اسکی جھولی میں ڈال دی تھیں ۔۔۔”
اپنے ہاتھوں میں سجی آفتاب ملک کے نام کی مہندی ،،،، اسکے گھر سے آیا اسکے نام کا سہاگ جوڑا ۔۔۔
جسے وہ اس وقت پہن کر ،،،، پور پور سجی تیز دھڑکنوں کے ساتھ ابھی تک حیران بیٹھی تھی ۔۔۔”
اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔کہ آفتاب اس شادی کیلئے راضی ہو گیا ۔۔۔
آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے وہ ابھی تک قسمت کے اس کھیل میں الجھی ہوئی تھی ۔۔۔
جب عائشہ ملک سلمی ملک کے ساتھ برائیڈل روم میں داخل ہوئیں ۔۔۔اور اسکے روپ کو دیکھتے دونوں کے ہونٹوں سے بےساختہ ماشاءاللہ نکلا ۔۔۔
ماشاءاللہ عائشہ ہماری بیٹی تو ۔۔۔
اسکے مسہور کر دینے والے حسن کو دیکھتے لفظ انکے حلق سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔”
انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی بلائیں لے ڈالی ۔۔۔
تبھی زوہیب ملک وہاں داخل ہوئے اور اپنی چھوٹی سی گڑیا کو دلہن کے روپ میں سجا دیکھ انکی آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔”
آنسو تو زینیہ کے آنکھوں میں بھی آ گئے تھے اپنے ڈیڈ کو اس حالت میں دیکھ کر ۔۔۔”
ڈیڈ ۔۔۔”
اس نے نم لہجے میں انہیں پکارا ۔۔۔”
جس پر تڑپ وہ اسکے قریب ہوئے اور اپنے دل کے ٹکڑے کو اپنے سینے سے لگاتے ۔۔۔اپنی ڈوبتی دھڑکنوں کو قرار بخشا ۔۔۔”
ڈیڈ کی جان ڈیڈ کی گڑیا ،،،، کتنی جلدی بڑی ہو گئیں ۔۔۔”
جو آج اپنے ڈیڈ کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جا رہی ہیں ۔۔۔” بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ وہ اسکے چہرے کے ایک نقش کو چھو رہے تھے ۔۔۔کبھی اسکی پیشانی تو کبھی نم آنسوؤں بھری جھیل سی سنہری آنکھیں تو کبھی اسکے روئی سے بھی نازک سرخ و سفید چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں کو چومتے ۔۔۔”
جیسے اسکے احساس کو خود میں بسا لینا چاہتے تھے ۔۔۔”
انہیں ایسے روتے دیکھ زینیہ نے بھی ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔” جسے آگے بڑھ کر بمشکل سلمی اور عائشہ ملک نے سنبھالا ،،، وہ علیحدہ بات ان باپ کی محبت کو دیکھتے انکی اپنی آنکھیں بھی نم ہوئیں چکیں تھیں ۔۔۔
تبھی دروازہ ہلکا سا ناک ہوا تھا ۔۔۔اور بھاری قدم لیتے جہانزیب ملک اندر داخل ہوئے ۔۔۔”
زوہیب اگر اجازت ہے تو مولوی صاحب کو بلا لیں ۔۔۔”
انکی سرخ آنکھوں اور نم چہرے کو دیکھتے وہ نرمی سے بولے اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
جی چچا جان ۔۔”
چہرہ موڑ کر اپنے آنسو صاف ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
حوصلہ رکھیں ۔۔” زینیہ ہماری بیٹی ہیں ،،،، وہ کسی غیر کے گھر میں نہیں جا رہیں ۔۔” صرف اپنے ایک گھر سے دوسرے گھر ۔۔” جو جتنا ہمارا ہے اتنا ہی آپکا بھی ۔۔۔
آپ اگر چاہیں تو ۔۔۔وہاں آ کر رہ سکتے ہیں ۔۔۔
انہیں حوصلہ دینے کے ساتھ ایک بار پھر ملک مینشن میں شفٹ ہونے کا بولا ۔۔۔
جس پر انہوں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔”
نہیں چچا جان ہم وہاں دوبارہ شفٹ نہیں ہو سکتے ۔۔بس اتنی درخواست کرنی تھی کہ اگر میری بیٹی سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو ۔۔۔پلیز بچی سمجھ کر معاف کر دیجئے گا ۔۔۔
میں نے بہت محبت سے پالا ہے اپنی بیٹی کو ،،،، انکی ہر خواہش پوری کی ۔۔۔انکے ناز نخرے اٹھائے ،،،، ہمیشہ انکی خوشی کو ترجیح دی ۔۔۔شاید اس لیے یہ تھوڑی ضدی بھی ہو گئیں ہیں ۔۔۔”
لیکن اسکے ساتھ ساتھ بہت معصوم بھی ہیں ۔۔” اگر اپنے بچپنے میں کبھی کچھ کہہ دیں تو ۔۔۔”
انکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے انہوں نے اپنا سر جھکایا تھا ۔۔۔”
زوہیب ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ۔۔۔اور اب دوبارہ دوہرا رہے ہیں ۔۔۔زینیہ صرف آپکی ہی بیٹی نہیں بلکہ ہماری بھی بیٹی ہیں ۔۔۔”
اس لیے آپکو ان سب چیزوں کے بارے میں سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔”
انکے ہاتھوں تھام کر نیچے کرتے نرمی سے مسکرائے ۔۔۔زوہیب ملک نے اپنی جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں ۔۔۔
اور پھر آگے بڑھ کر انکے سینے کا حصہ بنے تھے ۔۔۔”
بہت شکریہ ۔۔۔”
اسکی ضرورت نہیں ۔۔”
جہانزیب ملک نے انکی پیٹ تھپتھپاتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔”
جبکہ دوسری روتی ہوئی عائشہ ملک کو سلمی ملک نے اپنے سینے سے لگا کر حوصلہ دیا تھا ۔۔۔”
چلیں سبھی پریشانیوں کو بھول کر اپنا فرض ادا کریں ۔۔۔”
انہیں خود سے الگ کرتے ہوئے وہ نرمی سے بولے تھے ۔۔۔اور ساتھ ہی زینیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خود باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔”
°°°°°°°°°°°°°°°
زینیہ ملک ولد زوہیب ملک آپکا نکاح آفتاب ملک ولد جہانزیب ملک دو کروڑ روپے سکا رائج الوقت قرار پایا گیا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟
مولوی صاحب کے پوچھنے پر زینیہ کی دھیمی چل رہی دھڑکنیں یکدم تیز ہوئیں تھیں ۔۔”
آفتاب ملک کو ہمیشہ کیلئے خود سے جوڑ لینے کا احساس بہت پیارا تھا ۔۔۔جو اسکی رگ رگ میں ایک سکون کے ساتھ سرشاری پیدا کرنے کا سبب بن رہا تھا ۔۔۔”
اسکے ہونٹوں پر بہت خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔”
قبول ہے ۔۔”
اس نے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا تھا ۔۔۔”
اور ساتھ ہی پاس بیٹھے زوہیب ملک کے ہاتھ پر اپنی پکڑ مظبوط کی ۔۔۔بھلے جو بھی تھا ۔۔۔آفتاب اسکی محبت یا جنون ،،،، لیکن قبول ہے کہتے ہوئے اسکے ننھا سا دل ناجانے کیوں سینے میں گھبرانے لگا تھا ۔۔۔
زوہیب ملک نے اسکے کندھے کے گرد حصار بناتے ،،،، اپنے ساتھ ہونے کا احساس دلایا ۔۔۔
جس سے اسے کچھ حوصلہ ہوا ۔۔۔”
اسکے بعد مولوی صاحب نے دو بار پھر اپنے الفاظ دوہرائے ،،،، جسکا ہاں میں جواب دیتے ہوئے اس نے اپنے دل کے ساتھ ساتھ وجود سمیت روح بھی آفتاب کی ملکیت میں سونپ دی تھی ۔۔۔
جسکے بعد سب اسے دعائیں دیتے ہوئے کمرے سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔” زوہیب ملک نے اسکی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے اسے عائشہ بیگم کے حوالے کیا تھا اور پھر باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
آفتاب ملک ولد جہانزیب ملک آپکا نکاح زینیہ ملک ولد زوہیب ملک کے ساتھ دو کروڑ روپے سکا رائج الوقت قرار پایا گیا ہے ۔۔۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔”
آفتاب جو سٹیج پر بلیک پینٹ میں ملبوس سنجیدہ تاثرات چہرے پر سجائے بیٹھا تھا ۔۔۔”
اسکے کانوں میں یہ الفاظ کسی زہر کی طرح اترے تھے ۔۔۔” اس نے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچتے ہوئے بمشکل اپنے غصے کو کنٹرول کیا ۔۔” البتہ اسکی آنکھوں میں اترتی سرخی کو دیکھتے اسکے اندر کا حال صاف ظاہر ہو رہا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے زوہیب ملک کو ایک بار پھر زینیہ کی فکر ستانے لگی تھی ۔۔۔”
آفتاب ملک ولد جہانزیب ملک آپکا نکاح زینیہ ملک ولد زوہیب ملک کے ساتھ دو کروڑ روپے سکا رائج الوقت قرار پایا گیا ہے ۔۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟
آفتاب کے جواب نا دینے پر مولوی صاحب نے اپنے الفاظ دوبارہ دوہرائے ۔۔۔
لیکن دوسری طرف بس خاموشی کا راج تھا ۔۔۔”
زوہیب اور جہانزیب ملک کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے سبھی افراد اسکے جواب کے منتظر تھے ۔۔۔” لیکن وہ تو ایسے بیٹھا تھا جیسے کبھی کچھ بولنے کی قسم کھائی ہو ۔۔۔”
اصل میں اسکا ذہن چند سال پہلے چلا گیا تھا ،،،، جب ایسے ہی کسی اور کا نام لیتے اس سے اجازت لی گئی تھی ۔۔۔”
اسکی تڑپتی دھڑکنوں کو ملن کی نوید سنائی گئی تھی ۔۔”
جس پر کبھی نا ختم ہونے والی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔”
اسکی حالت پر کسی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے کی آواز ،،،، اس ہنسی میں گونجتی چوڑیوں اور خوشی چھنکار ۔۔۔”
اسکے دل میں ہزاروں دیپ جلا گئی تھی ۔۔۔
لیکن آج بس وہاں صرف سناٹے تھے ۔۔۔” اسے نہیں پتا مولوی صاحب اس سے کیا پوچھ رہے تھے ۔۔۔”
اسے تو وہ بس ہنسی سنائی دے رہی تھی ۔۔۔جو کبھی اسکی خوشیوں کی ضامن ہوا کرتی تھی ۔۔۔
لیکن آج وہ اسکی زندگی کا سب سے بڑا روگ بن گئی تھی ۔۔۔”
دوسری بار بھی جواب نا ملنے پر مولوی صاحب نے آخری بار اپنے الفاظ دوہرائے تھے ۔۔۔
لیکن اس بار بھی جواب میں خاموشی ملنے پر مولوی صاحب نے جہانزیب ملک کی طرف دیکھا ۔۔۔جنہوں نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔”
آفتاب نے خالی خالی نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔”
بیٹا مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں ۔۔۔جس پر وہ کچھ ہوش میں آیا تھا ۔۔”
اس نے اپنے آس پاس نظریں دوڑائی اور پھر خود کو کمپوز کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔”
جس کے بعد دعا مکمل ہوتے ہی ہر طرف مبارک باد کا شور بلند ہوا تھا ۔۔۔
سب سے پہلے جہانزیب ملک نے آگے بڑھ اسے اپنے سینے میں بھینچتے مبارک باد دی تھی ۔۔۔”
جس سے ایک استہزائیہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر جھلکی ۔۔۔”
خوش رہیں ہیں ہمیشہ ۔۔۔”
اسکی پیٹھ تھپتھپا کر پیچھے ہوتے نرمی سے بولے ۔۔۔جس پر وہ مسکرا بھی نا سکا ۔۔۔انکے الگ ہوتے ہی زوہیب ملک آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔
میں جانتا ہوں آفتاب آپ یہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے اچانک سے یہ سب قبول کر پانا آپ کیلئے بہت مشکل ہے ۔۔۔
لیکن زینیہ آپ سے بہت محبت کرتیں ہیں ،،،، میں مانتا ہوں ان میں تھوڑا بچپنا ہے ۔۔۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لے کر ضد کرنا ،،، شاید میرے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار نے انہیں بگاڑ بھی دیا ہے ۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود بھی میری بیٹی بہت معصوم ہیں ۔۔۔”
آج آپ نے انہیں اپنایا ہے تو ،،،، میری آپ سے صرف ایک ہی التجا ہے ،،،، انکی پچھلی ساری نادانیوں کو معاف کرتے ہوئے ایک زندگی کی شروعات کریں ۔۔۔
آفتاب آج میں اپنی سانسیں اپنی جان سے پیاری بیٹی آپکو سونپ رہا ہوں ۔۔۔ایک مان کے ساتھ کے آپ انکی حفاظت کرینگے ۔۔۔ وہ بہت نازک ہیں ،،، میں نے کبھی دنیا کی سرد و گرم ہوا ان تک پہنچنے نہیں دی ۔۔۔”
ہمیشہ بہت سنبھال کر رکھا ۔۔۔اور آپ سے بھی یہی امید کرتا ہوں ۔۔۔
انکی آنکھوں میں مان کے ساتھ ایک مجبور باپ کی التجا بھی تھی ۔۔۔جس پر نا چاہتے ہوئے بھی اس نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔
لیکن یہ تو وہ جانتا تھا یا اسکا خدا کہ اسے اس لمحے زینیہ کیلئے کتنی نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
جس نے اسے اس دوہرائے پر لا کھڑا کیا تھا ۔۔۔” جسکی وجہ سے نا تو وہ اپنے باپ کی حکم عدولی کر سکتا تھا اور نا ہی اپنے ماضی کو بھولا کر اسے قبول کر پا رہا تھا ۔۔۔”
اسے مدغم ہو چکے زخموں اس لڑکی نے دوبارہ تازہ کر دیا تھا
اور اسکا انجام بھی زینیہ ملک کو ہی بھگتنا تھا ۔۔۔آفتاب ملک کی نفرت کی صورت ۔۔۔کیونکہ نا تو وہ آگے مستقبل میں اسے کبھی معاف کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور نا ہی اسے کبھی قبولنے کا ۔۔۔
