Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoon e Ishq (Episode 13)

Junoon e Ishq by Wafa Shah

آفتاب کے چلانے پر زینیہ نے سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھا ۔۔البتہ الفاظ اسکے حلق سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔”

میں کچھ پوچھ رہا ہوں آپ سے ۔۔۔کس سے پوچھ کر آپ نے یہ گھٹیا لباس پہنا ۔۔”

آفتاب نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر تقریبا جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔

و ،،،،،، وہ دادو ،،،،،

بازوؤں سے اٹھتے درد پر ذینی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔جبکہ سلمی ملک کا نام آتے ہی آفتاب نے اسے جھٹکے سے چھوڑا تھا ۔۔۔”

ساتھ ہی پلٹ کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔”

جس پر زینیہ نے بمشکل دیوار کا سہارا لیتے خود کو گرنے سے بچانا ۔۔۔”

لیکن اسکے باوجود بھی ہائی ہیل ہونے کی وجہ سے اسکا ہلکا سا پاؤں مڑ گیا ،،،، اور وہ جو بےآواز رو رہی تھی ۔۔۔”

اب اونچی آواز میں رونے لگی ۔۔۔”

جسے سن آفتاب دوبارہ اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔”

اب کیا ہوا ؟؟؟؟

اسکے لہجے میں اب بھی غصہ نمایاں تھا ۔۔۔” جو اسے اس لباس میں دیکھ دیکھ کر خود با خود باہر آ رہا تھا ۔۔۔”

لیکن زینیہ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔”

وہ اسے اگنور کرتے ہوئے دیوار کے ساتھ ہی بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔”جبکہ اسکا ایک ہاتھ اسکے پاؤں پر تھا ۔۔۔”

آفتاب کو اسکے جواب نا دینے پر غصہ تو بہت آیا لیکن وقت اور حالات کو دیکھتے خود کو کنٹرول کر گیا ۔۔۔

اسکے پاس ہی گھٹنے کے بل بیٹھتے آفتاب نے اسکے پاؤں کو دیکھنا چاہا ۔۔۔”

جب زینیہ نے اسکے ہاتھ کو جھٹکتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔”

کوئی ،،،، ضرورت نہیں ہے ،،،، میں ٹھیک ہوں ۔۔۔”

بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ناراضگی سے بولی ۔۔۔جبکہ اسکے یوں ہاتھ جھٹکنے پر آفتاب نے دوبارہ غصے میں آتے ایک جھٹکے سے اسکا پاؤں کھینچا تھا ۔۔۔”

جس پر زینیہ کی چیخ بےساختہ تھی ۔۔۔”

کیا ہوا آپکا پاؤں تو ٹھیک تھا نا ؟؟؟؟

استہزائیہ کہتے ہوئے وہ اسکے پاؤں کا معائنہ کرنے لگا ۔۔۔” جبکہ زینیہ کا رونا اب بھی ہنوز جاری تھا ۔۔۔”

مجھے تو سمجھ نہیں آتا یہ لڑکیاں باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتیں ہیں ۔۔۔لیکن رونے ہر چھوٹی چھوٹی بات بیٹھ جاتیں ہیں ۔۔۔”

منہ میں بڑبڑاتے ہوئے آفتاب نے اسکے پاؤں کو ایک جھٹکا دیا تھا ۔۔۔”

جس پر وہ تڑپ کر اسکے قریب آتے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔” اسکے یوں قریب آنے پر آفتاب نے اپنی نظریں اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا جس پر تکلیف کے آثار تھے ۔۔۔”

جبکہ اس نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر رکھی تھیں ۔۔۔

اسکے نازک وجود سے اٹھتی خوشبو آفتاب کی سانسوں میں سمانے لگی ۔۔۔”

اسکے سفید گالوں پر ٹھہرے آنسو جیسے اوس کے موتی ،،،، اور ریڈ لپ اسٹک سے سجے پنکھڑیوں جیسے لب ۔۔۔”

جنہیں دیکھتے ہی بےساختہ اسے اس صبح کا منظر یاد آیا تھا ،،،، جب یہ اسکی دسترس میں تھے ۔۔۔”

وہ لمحہ وہ لمس ۔۔۔” جس نے اتنے دنوں سے آفتاب کو بیچین کر رکھا تھا ۔۔۔کہ وہ زینیہ کو مسلسل اگنور کر رہا تھا ،،،،، اپنے قریب آنے کے ہر دروازے کو خود اپنے ہاتھوں سے ہی بند کرتا جا رہا تھا ۔۔۔”

تاکہ کسی کمزور لمحے کی رو میں بہہ کر وہ ایک بار پھر غلطی نا کر بیٹھے ۔۔۔جس سے اس لڑکی کی مزید حوصلہ افزائی ہو ۔۔۔”

لیکن آج ایک بار پھر اسے اتنے قریب دیکھتے ،،،، اسکے معصوم نقوش میں وہ جیسے کھو سا گیا تھا ۔۔۔”

پاؤں میں درد کی کمی اور کافی لمحے یونہی خاموشی سے گزر جانے کے بعد زینیہ نے اپنی مینچی ہوئی آنکھیں کھولیں جو بہت قریب سے آفتاب کی کرسٹل گرے آنکھوں سے ٹکرائیں ۔۔۔”

اسکی سنہری کانچ میں رونے سے گھلی سرخیوں کو دیکھتے بےساختہ آفتاب کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ۔۔۔”

جبکہ زینیہ آفتاب کو اپنے اتنے قریب اور بنا خود کو یوں بنا پلک جھپکے دیکھنے پر سرخ ہوئی تھی ۔۔۔”

اور ساتھ ہی اپنی آنکھیں بھی جھکا گئی ۔۔۔

اسکے چہرے کے پل میں بدلتے رنگوں کو دیکھتے وہ ایک بار پھر مسمرائز ہوا تھا ۔۔۔”

اسکی شرم و حیا ۔۔۔” اتنا خوبصورت اور امیر ہونے کے باوجود بھی اس میں نخرے کا نام و نشان تک نا تھا ،،،، اور جیسے یہ زرباب پر محبت لٹاتی تھی ،،، کبھی اسکی سگی ماں نے بھی اسے اتنا پیار نہیں دیا تھا ۔۔۔” اور اسکا ضامن تو خود آفتاب ملک تھا ۔۔۔

یہ لڑکی سچ میں الگ تھی ۔۔۔

یا پھر بننے کا ناٹک کر رہی تھی ۔۔۔اس بات نے آفتاب ملک کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا تھا ۔۔۔”

اپنے جذبات پر کنٹرول کرتے اس نے بمشکل اسکے چہرے سے نظریں پھیریں اور پھر اسکے پاؤں کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔”

اپنے بال پیچھے کمر پر ڈالیں ۔۔۔اور آگے سے ساڑھی بھی ٹھیک کریں تاکہ پیٹ کور ہو سکے ۔۔۔”

اسکے حسن سے نظریں چراتے ہوئے آفتاب نے اس بار نرم لہجے میں تاکید کی تھی ۔۔۔”

زینیہ نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔” لیکن آفتاب کا دھیان اسکی طرف نہیں تھا ۔۔۔”

پھر اسکی بات کو سمجھتے ہوئے اٹھنے لگی جب جلدبازی میں ساڑھی کے فال پر موجود آفتاب کا پاؤں دیکھ نا سکی ۔۔۔”

جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ یکدم جھٹکا لگنے کی وجہ سے فال میں لگی پن ٹوٹ گئی اور وہ کھل کر اسکے ہاتھ میں آ گئی ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نئی پڑنے والی مصیبت نے زینیہ کی سانسیں خشک کر دی تھیں ،،،، اور ساتھ میں جو شرمندگی ہو رہی تھی وہ الگ ۔۔۔” اسے اپنی قسمت پر اب رونا آ رہا تھا ۔۔۔”

اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا اب وہ کیا کرے ۔۔۔اسے تو یہ باندھنا بھی نہیں آتا تھا ۔۔۔” جو وہ ٹھیک کر لیتی ۔۔۔”

وہ اس وقت خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔”

اگر کر لیا تو چلیں سب ہمارا انتظار کر رہے ہونگے ،،،،، آفتاب جو کب سے منہ پھیرے کھڑا تھا ،،، وقت کا احساس کرتے اسے چلنے کا کہنے لگا جب اسکی نظریں بےآواز روتی ہوئی زینیہ پر پڑیں ۔۔۔”

اب کیا ہوا ؟؟؟؟

اسکے مسلسل رونے پر اب کہ وہ چڑچڑے لہجے میں بولا ۔۔۔”

لیکن زینیہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اسے کوئی جواب دیتی ۔۔۔وہ اب بھی بےآواز آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔”

آفتاب نے اسکی خاموشی پر جھنجھلاتے ہوئے بنا دیکھے اسکے ہاتھ کو تھاما اور پلٹ کر اندر لیجانے لگا جب زینیہ چلائی ۔۔۔”

آفتاب میری ساڑھی ۔۔۔”

جس پر آفتاب کے قدم تھمے ۔۔۔اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔” اور اسکے بکھرے لباس کو دیکھتے اس نے بےساختہ ہی نظریں چرائیں ۔۔۔اور ساتھ ہی اسے اب زینیہ کے رونے کی وجہ بھی سمجھ آ رہی تھی ۔۔۔”

ٹھیک کریں اسے ۔۔۔”

آس پاس نظریں دوڑاتے ہوئے وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔” وہ لوگ اس وقت ہوٹل کے پول ایریا میں موجود تھے ۔۔۔جہاں کبھی بھی کوئی بھی آ سکتا تھا ۔۔۔”

مجھے ،،،، نہیں آتا ۔۔۔”

اسکے غصے سے ڈرتے ہوئے ۔۔۔”وہ اٹکتے لہجے میں معصومیت سے بولی ۔۔۔”

وٹ ۔۔۔”

وہ حیرت کی زیادتی سے چلایا ۔۔۔”

جب آپکو یہ سنبھالنی نہیں آتی تو پہنی کیوں بیوقوف لڑکی ۔۔۔غصے سے بولتے ہوئے اس نے بمشکل خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا ۔۔۔”

سب سے پہلے میں بیوقوف نہیں ہوں اور میں نے یہ دادو کے کہنے پر پہنی تھی ۔۔۔سمجھے آپ ،،،،، آپ مجھے یوں بیوقوف نہیں بلا ،،،،، آفتاب کے بار بار غصہ کرنے پر اب کے زینیہ کو بھی غصہ آیا تھا جس کے چلتے وہ سب کچھ بھولائے کہ اس وقت کس کنڈیشن میں کھڑی ہے اسے غصے میں جواب دینے لگی ۔۔۔”

جب اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی آفتاب نے اسکے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔”

بہت زبان چلتی ہے آپکی اگر اتنا دماغ بھی چلتا ہوتا ،،،، تو آج اس حالت میں کھڑی نا ہوتیں ۔۔۔”

طنز کے تیر چلاتے وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے قدرے اندھیرے والی جگہ پر لے کر آیا ۔۔۔”

جبکہ ہونٹوں پر چند لمحوں کیلئے ہی سہی مگر دلفریب مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔۔”

جسے اندھیرے کی وجہ سے زینیہ دیکھ نہیں پائی ۔۔۔”دوسری طرف اپنی اتنی بیعزتی پر زینیہ کا چہرہ متغیر ہوا تھا ۔۔۔”

تبھی وہ جو اسے ایک جگہ کھڑا کرتے ساڑھی باندھنے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔۔۔اسکا ہاتھ جھٹکتے پل میں دور ہوئی تھی ۔۔۔”

نہیں ،،،، اسکے جھٹکنے پر آفتاب کو غصہ تو بہت آیا ،،،، لیکن وہ اس وقت کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا اس لیے خاموشی میں ہی بہتری جانی ۔۔۔”

آپ رہنے دیں ،،،، اندر سے ندا بھابھی کو بلا دیں ،،،،، وہ میری ہیلپ کر دیں گی ۔۔۔

آپکا کہیں دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ،،،، اس حالت میں میں یہاں آپکو اکیلا چھوڑ کر چلا جاؤں ،،،، اور پیچھے سے کچھ ہو گیا تو ،،،، یہ جگہ بالکل بھی سیف ،،،،

تو کیا فرق پڑتا ۔۔۔”

آفتاب کی بات مکمل ہونے پہلے ہی زینیہ بول اٹھی تھی ۔۔۔”

کیا فرق پڑتا ہے ،،، اگر کچھ ہو بھی جائے تو ،،،، آپ کونسا مجھے اپنی بیوی مانتے ہیں ۔۔۔”

آپکی نظر میں جب میری ذات کی کوئی وقعت ہی نہیں ۔۔۔تو کیا فرق پڑتا ہے ۔۔

میرے ساتھ جو مرضی ۔۔۔”

بکواس بند کریں اپنی ۔۔۔” آفتاب کی دھاڑ پر زینیہ کی چلتی زبان کو بریک لگا تھا ۔۔۔”

آپ سے تھوڑی نرمی سے بات کیا کر لی اسکا مطلب یہ نہیں آپ میرے سر پر چڑھ کر ناچنا شروع کر دیں ۔۔۔۔”

بھولیں مت یہ شادی میری مرضی سے نہیں ہوئی تھی ۔۔۔آپ نے زبردستی کی ہے ۔۔۔۔”

میں نے پہلے دن سے آپکو آگاہ کیا تھا ۔۔۔آپکو مجھ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔۔۔

لیکن وہ آپ ہی تھیں جو اپنی محبت کی دہائی دیتے میرے پیچھے آئیں تھیں ۔۔۔” تو پھر اب میرے رویے کو بھی برداشت کریں ۔۔”

شکایت کیوں کر رہی ہیں ؟؟؟؟

زینیہ کے بولنے پر آفتاب نے اسے جیسے آئینہ دکھایا تھا ۔۔۔”

جس پر لب بھینچتے زینیہ نے خاموشی اختیار کی تھی ۔۔۔”

اسے خاموش ہوتے دیکھ وہ ایک بار پھر آگے بڑھا تھا ،،،، جب زینیہ نے دوبارہ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے روکا ۔۔۔”

پلیز نہیں ۔۔۔”

وہ کیسے بتاتی کہ اسکے قریب آنے سے اسکے دل کی کیا حالت ہو جاتی تھی ،،،، دھڑکنیں بڑھ کر ڈھول کی طرح بجنا شروع ہو جاتی تھیں ۔۔۔سانسیں جیسے تھمنے لگتی تھیں ۔۔۔”

زینیہ میرے صبر کو اور مت آزمائیں ،،،، ورنہ آپ کیلئے اچھا نہیں ہوگا ،،،، درشت لہجے میں بولتے آفتاب نے اسکے ہاتھ کو جھٹک کر پیچھے کرتے ،،،، اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا ۔۔۔”

اور اسکی ساڑھی کے پلو کو بازو سے کور کرتے کندھے پر ڈالا ۔۔۔”

زینیہ نے اسکی انگلیوں کے لمس اور اسکی حرکت پر سرخ پڑتے اپنی آنکھیں سختی سے مینچی ۔۔۔

البتہ اسے دوبارہ روکا نہیں ۔۔۔۔”

اتنا قریب ہونے کی وجہ سے آفتاب کو اسکے وجود کے نرم لمس کے ساتھ اسکی دھڑکنوں کا رقص اسے صاف اپنے سینے پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔”

جس نے اسکی دھڑکنوں کو بھی بڑھایا ۔۔۔”

جسے سالوں بعد دوبارہ دھڑکتے محسوس کر کے اسے عجیب سے احساس نے گھیرہ ۔۔۔”

آفتاب نے اندھیرے میں اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا ،،،، اور پھر ایک نظر بکھری ہوئی ساڑھی کی فال کو ۔۔۔”

پھر بہت مہارت سے اسکی فال کو سمیٹتے اپنے ہاتھ کی مدد سے اسکی تہوں کو سہی طریقے سے جوڑ کر ،،،، جیسے وہ یہ کام پہلے بھی بہت بار کر چکا ہو ۔۔۔جو کہ سچ بھی تھا ،،،، وہ یہ کام پہلے بھی بہت بار انجام دے چکا تھا وہ علیحدہ بات تب اپنے دل کی خوشی کیلئے کرتا تھا اب مجبوری میں کر رہا تھا ،،،، اس نے زینیہ کو قریب کرتے اپنی انگلیوں کی مدد سے اسے ساڑھی کے نچلے حصے میں پھنسایا ،،،، جسے محسوس کرتے وہ چند پل کیلئے اپنی سانسیں تک روک گئی ۔۔۔”

آفتاب نے زینیہ کی اسکی حرکت کو شدت سے محسوس کیا ۔۔۔”

جس سے اسکے لب بےساختہ مسکرائے ۔۔۔”

اسکی نگاہوں نے بےباکی سے زینیہ کے نازک سراپے ک جائزہ لینا شروع کیا ۔۔۔

جب اسکی نگاہیں زینیہ کے چہرے سے ہوتیں اسکی صراحی دار گردن کے نچلے سراپے کے حسین خدوخال سے پھسلتے نیچے آئیں ۔۔۔

پلو اوپر ہونے کی وجہ سے ظاہر ہوتا اسکا دودھیا پیٹ اور بیلی بٹن کے بالکل قریب اوپر بائیں طرف ایک انچ کے فاصلے پر بنے دو سیاہ تل اسکی نگاہوں کا مرکز بن گئے ۔۔۔”

جسے بےخودی میں آفتاب نے اپنے ہاتھ کے پوروں سے چھوا ۔۔۔”

جبکہ اسکی انگلیوں کے کھردرے لمس کو محسوس کرتے زینیہ کے وجود نے جھرجھری سی لی ۔۔۔”

اور اس نے اپنی آنکھیں کھول کر حیرت سے آفتاب کی طرف دیکھا ۔۔۔”

تبھی آفتاب نے بھی نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔دونوں کی نظریں ٹکرائیں ،،،، دل جو ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے ،،،، بہکنے لگے ۔۔۔۔”

دھڑکنیں بڑھنے لگیں ۔۔۔

آفتاب نے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھا کر اسکے چہرے کو نرمی سے چھوا ۔۔۔” جبکہ نگاہوں کا مرکز اسکے لپ اسٹک سے مزین گلابی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ تھے ،،،، زینیہ اسکی آنکھوں میں نظر آتی طلب کو دیکھتے مزید اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔

اور اپنے دونوں بازو اسکے گلے میں باندھے ،،،، جیسے خود سے اسے چھونے کی اجازت دی ۔۔۔۔”

وہ اسکے چہرے کی معصومیت اور نرم لمس میں چند پل کیلئے جیسے کھو سا گیا تھا ۔۔۔” تبھی تو سب کچھ بھولائے جھکا اور اسکی نرم پنکھڑیوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لے گیا ۔۔۔”

زینیہ نے اپنی آنکھیں نرمی سے بند کرتے اپنی مخروطی انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں پھنسائی ۔۔۔”

اور نرمی سے سہلاتے جیسے اسکے لمس کا خیر مقدم کرنے لگی ۔۔۔”

زینیہ کا ساتھ ملتے جیسے وہ مکمل ہوش سے ہی بیگانہ ہو گیا ۔۔۔” اور کبھی نچلے تو کبھی بالائی لب کو باری باری شدت سے چومتے اسکی سرخی چرانے لگا ۔۔۔”

لمحے بڑھنے لگے ۔۔۔سانسیں تھمنے لگیں ،،،، لیکن وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لمس میں اس قدر کھو چکے تھے ،،،، نا ہی انہیں بند ہوتیں سانسوں کا خیال تھا نا ہی وقت اور حالات کا کہ وہ اس وقت کہاں موجود ہیں ۔۔۔”

زینیہ کا ایک ہاتھ اسکی گردن میں اور دوسرا اسکے بالوں میں تھا ۔۔۔جبکہ آفتاب کے دونوں مظبوط ہاتھوں نے اسکی نازک مرمریں کمر کو جکڑ رکھا تھا ۔۔۔”

جو ہر لمحے کے ساتھ شدت سے اسے خود میں بھینچتے جا رہے تھے ،،،، جیسے وہ اسکے وجود کو خود میں سما لینا چاہتے ہو ۔۔۔”

یہاں تک اسکی سخت انگلیاں زینیہ کی نرم جلد میں کھبتے نشان چھوڑنے لگیں تھیں ۔۔۔

جتنی شدت سے وہ اسے خود کے قریب کر رہا تھا اس سے دوگنی شدت سے اسکی سانسوں کو پی رہا تھا ۔۔۔”

کہ زینیہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔”

لیکن اسکے باوجود بھی اس نے آفتاب کو جھٹکا نہیں ۔۔۔” بلکہ اپنے قدم اسکے قدموں پر رکھتے مزید اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔”

آخر جب سانسیں بالکل ختم ہو گئیں تو زینیہ کے وجود نے جھٹکا کھایا ،،،، جسے محسوس کرتے آفتاب ہوش میں آیا ،،،، اور اس نے زینیہ کے لبوں کو آزادی دیتے جیسے اسکی سانسوں کو رہائی دی ۔۔۔

جسے پچھلے پندرہ منٹوں سے اس نے خود میں قید کر رکھا تھا ۔۔۔”

سانسوں کو رہائی ملتے ہی زینیہ نے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا ،،،، اور گہرے سانس لیتے انہیں سنوارنے لگی ۔۔۔”

جبکہ بازو اب بھی اسکی گردن میں بندھے ہوئے تھے ۔۔۔”

اسکے برعکس آفتاب کی ساری خماری پل میں اڑن چھو ہوئی تھی ۔۔۔” اس نے حیرت سے اپنی بانہوں میں قید اس نازک وجود کو دیکھا ۔۔۔”

اپنے سینے پر اسکے وجود کا نرم لمس تیز چلتی دھڑکنوں کو محسوس کیا ،،،، جو اسکے عمل کی وجہ سے اس حد تک بڑھ گئیں تھیں ۔۔۔کہ ایسا لگ رہا تھا کسی بھی وقت زینیہ کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا ۔۔۔”

اپنی گردن پر اسکی بکھری سانسوں کی روانی کو محسوس کیا ،،،، جو کتنے لمحے بیت جانے کے بعد بھی اب تک نارمل نہیں ہوئیں تھیں ۔۔۔”

نہیں یہ ٹھیک نہیں ۔۔۔”

میں ایسے کمزور نہیں پڑ سکتا ،،،،، ایسے تو یہ جیت جائے گی ،،،، اور آفتاب ملک تم ہار جاو گا ۔۔۔”

تم ایک بار پھر کسی عورت پر بھروسہ نہیں کر سکتے ۔۔۔” اگر یہ بھی اس جیسی ہی نکلی تو ۔۔۔”

یہ سوچ آتے ہی آفتاب نے ایک جھٹکے سے زینیہ کو خود سے الگ کیا تھا ۔۔۔”

کہ بمشکل ہی وہ گرتے گرتے بچی ۔۔۔”

زینیہ نے حیرت بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔”

جس نے اسکی بکھری ہوئی حالت اور لبوں سے غائب لپ اسٹک کو دیکھتے نظریں چرا کر فورا اپنا رخ بدلہ تھا ۔۔۔”

جبکہ اسکی بےرخی ایک بار پھر زینیہ کی آنکھوں میں آنسو لے آئی تھی ،،،، اور ساتھ اپنی عزت نفس کی توہین پر غصہ بھی ۔۔۔۔”

جسکے چلتے وہ آفتاب کے وہاں سے جانے سے پہلے تیز قدم لیتی اسکے راستے میں حائل ہوئی تھی ۔۔۔”

زینیہ کی حرکت پر آفتاب نے لب بھینچتے ہوئے راستہ بدل کر جانا چاہا جب اس نے ایک بار پھر آگے ہوتے اسے روکا ۔۔۔”

کیا چاہتیں ہیں ؟؟؟؟

ہار کر وہ غصے سے چلا اٹھا تھا ۔۔۔”

بس اتنا کہ جاننا چاہتی ہوں کہ آپ مجھ سے نظریں کیوں چرا رہے ہیں آفتاب ملک ؟؟؟؟

اسکے قریب ہوتے زینیہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا تھا ۔۔۔”

آفتاب نے اسکے سوال پر غصے سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور چند پل یوں دیکھنے کے بعد استہزائیہ مسکرایا ۔۔۔۔”

آ گیا یقین ۔۔۔کوئی نظریں نہیں چرا رہا میں آپ سے ۔۔۔اب مجھے راستہ مل سکتا ہے ۔۔۔”

اسکے چہرے پر مسکراہٹ جبکہ لفظوں میں گہرا طنز بول رہا تھا ۔۔۔”

زینیہ کو تو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ وہی آفتاب ہے جو چند منٹ پہلے اسے خود میں سما لینا چاہتا تھا ۔۔۔

اور اب پل میں کیسے انجان بن کر کھڑا تھا ۔۔۔”

لیکن پھر بھی سب کچھ بھولائے اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔”کیا ہوا ہے آفتاب میری کوئی بات آپکو بری لگی ۔۔۔”

ابھی تھوڑی دیر پہلے تو ،،،،،، وہ بس ایک کمزور لمحہ تھا ۔۔۔”

اسکے چھونے سے پہلے ہی درمیان میں فاصلہ پیدا کرتا سپاٹ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔”

زینیہ کی آنکھوں سے دو آنسو بےمول ہوتے زمین پر گرے ۔۔۔

جبکہ اسکے الفاظ تو آفتاب کے اس ایک جملے نے ہی چھین لیے تھے ۔۔۔” اسکا چہرہ زرد پڑتے سانسیں بند ہونے کے قریب پہنچ چکی تھیں ۔۔۔

وہ بس ایک کمزور لمحہ تھا ،،،، وہ بس ایک کمزور لمحہ تھا ،،،، یہ الفاظ بار بار اسکے کانوں میں گونجتے اسکی روح کو توڑنے کا سبب بن رہے تھے ۔۔۔”

وہ لمحے جو زینیہ کیلئے اسکی محبت کے سب سے خوبصورت لمحات تھے ،،،، آفتاب کی نظر میں وہ صرف ایک بھول سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔”

اس چیز نے زینیہ کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا تھا ۔۔۔”

اپنی بات کرنے کے بعد وہ چند لمحے اسکے چہرے کو دیکھنے کے بعد جس پر آنسو ابھی بھی ٹھہرے ہوئے تھے ۔۔۔سائڈ سے ہوتا اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ حیرت میں گری اپنی ذات اپنی محبت کی بےوقعتی پر ٹھیک سے رو بھی نا سکی ۔۔۔”

°°°°°°°°°°°°°°°

ارے یار کہاں چلا گیا تھا تو ۔۔۔میں کب سے تجھے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔”

آفتاب کو آتا دیکھ شعیب فورا اسکی طرف بڑھا ۔۔۔

کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔میں تیرے پاس ہی آنے والا تھا ،،،، ارے آفتاب بھائی زینیہ بھابھی کہاں پر ہیں ؟؟؟؟ آپکے ساتھ گئیں تھیں نا ؟؟؟؟

اس سے پہلے آفتاب شعیب سے کوئی بات کرتا ،،،، ندا نے آگے بڑھتے زینیہ کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔”

ہاں بھابھی میں وہی کہنے والا تھا ۔۔۔ایکچلی انکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ۔۔۔

اس لیے میں آپ لوگوں سے اجازت لینے آیا تھا ۔۔۔”

کیا ہوا بھابھی کو ۔۔۔اسکی اجازت والی بات کو نظر انداز کرتے شعیب نے زینیہ کی طبیعت کے بارے دریافت کیا ۔۔۔”

کچھ خاص نہیں بس تھوڑی سی طبیعت خراب ہے ۔۔۔گھر جا کر ریسٹ کرینگی تو ٹھیک ہو جائیں گیں ۔۔۔”

دیکھ آفتاب میں ایک بات تجھے کلیر لی بتا دوں ۔۔۔میں کیک کٹ کرنے سے پہلے ہرگز بھی تجھے جانے نہیں دوں گا ۔۔۔”

لیکن پہلے تو میری بات تو سن زینیہ ۔۔۔”

میں اس طرف ہی آ رہا ہوں ۔۔۔”بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔میں ہوٹل میں ان کیلئے اعلی سا روم بک کروا دیتا ہوں ۔۔۔”

جہاں وہ آرام بھی کر لیں گی ۔۔۔اور اگر تو کہے تو ڈاکٹر کو بھی بلا دیتا ہوں ۔۔۔”

وہ جو اس بھیڑ بھاڑ والی جگہ سے بھاگنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔شعیب نے اسکے ہر جواز کو رد کرتے اپنی خدمات پیش کر دی تھیں ۔۔۔”

اچھا بھائی زینیہ بھابھی ہیں کہاں ۔۔۔مجھے بتائیں میں انکے پاس چلی جاتی ہوں ۔۔۔”

وہ ،،،،، ارے وہ دیکھے اس طرف ہی آ رہی ہیں ۔۔۔”

آفتاب ابھی کوئی جواب دیتا ،،،، ندا کو وہ اسی طرف آتے دکھائی دی ۔۔۔”

ندا کی بات پر پلٹتے ہوئے اس نے اس کی طرف آتی زینیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔جسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا ۔۔۔جسے دیکھ کر اسے اپنے چند منٹ پہلے کے اپنے رویے پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔

لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔کیونکہ تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔جسے وہ چاہ کر بھی واپس نہیں لا سکتا تھا ۔۔۔

زینیہ بھائی بول رہے تھے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں سب ٹھیک تو ہیں نا ۔۔۔”

اسکے قریب آتے ہی ندا فکرمندی سے گویا ہوئی ۔۔۔

اس نے ایک پل کیلئے اپنی خالی نظریں اٹھا کر آفتاب کی طرف دیکھا جو پرسوچ نظروں سے اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

پھر ندا کی طرف دیکھتے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔

آر یو شیور ،،،، بھابھی اگر طبیعت ٹھیک نہیں تو میں روم بک کروا دوں اسی ہوٹل میں ۔۔۔۔”

نہیں اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔”

اس نے نفی میں سر ہلاتے شعیب کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔”

جس پر وہ دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔”

چلیں ٹھیک ہے پھر آ جائیں ۔۔۔کیک کاٹتے ہیں ۔۔۔مسکرا کر کہتے وہ ابھی سٹیج کی طرف بڑھے ہی تھے ۔۔۔

جب فضاء میں گونجتی یاسر کی آواز نے سب کے قدم جکڑے ۔۔۔”

ہائے ایش ،،،،، اس نام پر آفتاب سمیت شعیب اور ندا نے بھی پلٹ کر اس طرف دیکھا ۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *