Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


مس خان !!!
ایک بہت ہی اچھی نیوز ہے ہمارے لیے ۔۔۔
باس نے جب اسے اپنے میں روم میں بولایا تو جب وہ ان کے روم میں داخل ہوکر ان کے ٹیبل کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تو باس نے اس سے کہا آن کے لہجے سے خوشی ٹپک رہی تھی ہر ہر انداز سے ان کی خوشی ظاهر هو رہی تھی ۔۔
وہ کیا سر ۔۔۔۔
اس نے ان کی خوشی سے چمکتے چہرے کی طرف دیکھ کر ان سے پوچھا
وہ یہ مس خان!!! کے مسٹر sk کو ہماری کمپینی کہ آئدیا بہت زیادہ پسند آئے ہیں ۔۔۔اس لیے وہ اس پروجيکٹس پر ہمارے کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
باس نے اپنی خوشی کی وجہ اس سے شئیر کرتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔ sk کا نام سن کر جیسے اس نے کونین کی گولیاں نگل لی ہوں اپنے منہ میں اس نے ۔۔۔
مس خان !!!
اس نے ان کی طرف دیکھا جو کہ کب سے اسے آوازے دے رہے تھے تو اس نے اپنی ساری توجہ ان پر مرکوز کی اور وہ جو اس کے متوجہ ہوتے ہی باس نے اس سے کہا
مس خان !!!
Sk !!!
نے کہا ہے کہ “مسسز خان ” مس خان آپ مجھے تو مت گھورے انہوں کہا ہے یه سب میں تو بس آپ کو ان کا پیغام آپ تک پہنچا رہا ہوں ۔۔۔۔
اس کو اپنی جانب گھورتے ہوئے دیکھ کر باس نے جلدی سے sk کا پیغام اسے دیا ۔۔۔
کیا کہا اس sk صاحب نے آپ سے ۔۔۔۔
اس نے ناگواری سے کہا
اس نے کہا ہے کہ آج سے مسس۔۔۔میرا مطلب ہے مس خان میری پرسنل سیکریٹری ہے ۔۔۔۔۔
باس مسسز کہنے ہی والے تھے کہ اس کے گھور کر دیکھنے پر اپنی بات جلدی سے بدلتے ہوئے انہوں نے جلدی سے sk کا پیغام اسے دیا تو وہ یه سن کر شاک کے عالم میں ان کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔
😂😂😂😂
تمہارا منہ کیوں سوجھا ہوا ہے ۔۔۔کب سے دیکھ رہی ہوں میں تمہیں any problem …
ثنا جو کب سے اسے نوٹ کر رہی تھی جو کب سے اپنا منہ سوجھا کر بیٹھی ہوئی تھی تب ثنا سے رہا نہ گیا تو وہ اس سے پوچھ بیٹھی تو اس نے اپنے پھولے ہوئے منہ کو اور پھولا کر اس سے کہا
پروبلم !!!
میری پروبلم صرف ایک ہی شخص یے ۔۔۔۔۔اس نے کہا
وہ کون یار ؟؟؟
“SK”!!!
انڈسٹری “SmR” کا مالک اور کون ۔۔۔۔
اس نے منہ بھگارتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
“SK “
تمہارا مطلب ہے ۔۔”Sk “مائے گوڈ تم نے مجھے پہلے
کیوں نہیں بتایا کہ تمہاری ملاقات ہوئی ہیں “sk “یار
کیا بنده ہے ۔۔۔ڈیشنگ ،،اور جب یار اس کے گال پر ڈمپل
پڑتا ہے ناں تو یار قسم سے میرا اس وقت دل چاہتا ہے
کہ یه دنیا ٹہر جائے ۔۔میں صرف اور صرف اسے دیکھوں اور کچھ بھی نہیں بس اسے ۔۔۔
وہ سحر زدگی کہ عالم میں کھوئی ہوئی تھی کہ تب ہی اس نے سامنے پڑی موٹی بک کھینچ کر اس کے سر پر دے مارا تو اس کی سارا سحر بھاپ کی طرح اڑ گیا
کیا ہے یار میرا سارا موڈ خراب کر دیا تم نے ۔۔۔۔ثنا نے اس کی جانب دیکھ کر چلاتے ہوئے کہا
ہوں ہیلو بی بی ۔۔۔تم نے صرف اس کے گالوں کا ڈمپل دیکھا ہے میں نے اس کا مزاج بھی دیکھا ہے جب تم اس کی چلتی زبان دیکھوں گی نہ تو تمہیں لگ پتا چل جائے گا کہ وہ انسان ہے یاں جن ۔۔۔۔
اس نے مزاحیہ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر اس سے کہا
مس خان !!!
آپ کو باس نے اپنے کمرے میں تلب کیا ہے ۔۔۔ برائے مہربانی آپ باس کے کمرے میں تشریف لے جائیں پلیز ۔۔۔۔۔
تبھی وہاں پیوئن نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اس سے کہا
اچھا یار میں چلی باس کا فرمان سننے ۔۔۔
وہ کھڑی ہوئی اور وہاں باس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی جب باس کے کمرے میں اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کا سارا موڈ خراب ہوگیا اور تب ہی اس شخص کی نظر اس پر پڑی تو اس کے لبوں پر ایک بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ چھا گیا تھا اور اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس نے اپنا منہ بنایا اور آگے بڑھ کر اس کی سائیڈ والی کرسی کے سامنے کھڑی ہو کر باس سے پوچھنے لگی
جی سر ۔۔۔آپ نے بولایا تھا مجھے ۔۔۔۔
مس خان ۔۔۔
میں نے نہیں مسٹر Sk نے آپ کو بولایا تھا انہیں آپ سے ایک کام تھا شاید ۔۔۔کیوں مسٹر sk صاحب ۔۔
باس نے اسے کہہ کر آخر میں Sk کی جانب دیکھ کر پوچھا
یس مسٹر انصاری صاحب ۔۔۔مجھے “مسسز خان ” سے ایک چھوٹا سا کام تھا آپ وہ” چھوٹا سا”کام کرے گی میرا ۔۔۔
ایس کے نے اس کی جانب شرارت سے دیکھتے ہوئے مسسز خان پر زور دیتے ہوئے کہا تو اس نے بھی اس کی جانب غصے سے دیکھا
وہ چھوٹا سا کام کیا ہے” مسٹر ایس کے”
اس نے بھی “مسٹر ایس کے کو کھینچ کر کہا
وہ یہ کہ مسسز خان تین کپ بہت ہی اچھی سی کافی بنا کر یہاں لیں آئے ۔۔۔۔ایس کے نے کہا
جی سر !!!
کیوں نہیں بہت زبردست کافی بنا کر لیں آؤ گی میں آپ کے لیے ۔۔۔
اس نے بھی کچھ سوچتے ہوئے شیطانی انداز میں ایس کے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
کیوں نہیں مسسز خان ۔۔۔آپ کے ہاتھوں کے زبردست کافی تو پینا تھا مجھے آج ہر حال میں ۔۔۔۔
ایس کے نے بھی ہار نہیں مانتے ہوئے اس سے کہا تو وہ ایس کے کی جانب گھور کر باہر کی جانب بڑھ گئی تھی اور اس کے جانے کے ایس کے کو انصاری صاحب کی آواز سنائی دی
مس خان بہت ہی خوبصورت اور۔۔۔۔
آہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ
انصاری صاحب اس سے پہلے کے مس خان کی اور تعریف کرتے کے ایس کے نے آگے بڑھ کر انصاری صاحب کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے اپنے آگے کیا اور سامنے پڑی ایک نوک دار پینسل اس کے ایک ہاتھ پر زور سے ایس کے نے گھومپ دیا اور انصاری صاحب کی جانب دیکھا جو کے اب درد سے بلبلا رہے تھے
اس کی تعریف صرف ایس کے پر فرض ہے صرف ایس کے پر کس پر انصاری صاحب ۔۔۔۔
ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتے ہوئے اور اس کی جانب جھکتے ہوئے ایس کے نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
ای۔۔س ۔۔۔کے
درد سے تڑپتے ہوئے انصاری صاحب نے اٹک کر بڑی مشکل سے کہا
خوش قسمت ہوں تم انصاری کہ آج میں اپنا من پسند کھلونا اپنے ساتھ نہیں لے آیا ۔۔۔۔
ایس کے نے انصاری کی ٹائی کو کھینچ کر اسے نیچے کی جانب جھکانے پر مجبور کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ایس کے نے کہا
😠😠😠😠😠
مس خان آپ اس چیز کا کیا کریں گی ۔۔۔۔
پیوئن نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا وہ جو پیوئن کے ہاتھوں سے وہ پڑیا لیتے ہوئے شیطانی انداز میں اس پڑیا کو اپنے آنکھوں کے سامنے کرے وہ مسکرانے میں مصروف تھی کہ پیوئن کے اس طرح کہنے سے اس نے پیوئن کی جانب گھور کر دیکھا تو پیوئن اس گھورنے سے ایک دم چپ کر کے اس کی کارروائی دیکھنے لگا جو کہ اب ایک کپ میں اس پڑیا کو ڈال کر اس میں چمچہ ہلاتے ہوئے اس کی جانب وہ کپ لے کر بڑھی اور اس کے ہاتھوں میں پکڑے ٹرے پر رکھ دیا اور پیوئن حیرت زدہ سا مس خان کی جانب دیکھتا ہی رہ گیا تھا
یہ کپ تم مسٹر ایس کے کو دوں گے ۔۔۔۔۔کس کو دوں گے ۔۔۔
اس نے پیوئن کی آنکھوں کے سامنے ایک ہزار کے نوٹ کو لہراتے ہوئے کہا
مسٹر ایس کے کو ۔۔۔۔
پیوئن نے للچائی ہوئی نظروں سے ایک ہزار کے نوٹ کو دیکھتے ہوئے اس سے کہا تو اس نے وہ نوٹ پیوئن کی جانب بڑھایا تو پیوئن نے جھپٹ کر وہ نوٹ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا
ارے آرام سے تمہارا ہی ہے ۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے پیوئن کی جانب دیکھ کر کہا
اب مزا آئے گا مسٹر ایس کے جب تمہارے پیٹ میں بہت ڈراؤنی اور پُراسرار سی آوازیں سنائی دیں گی تمہیں تب مجھے سکون نصیب ہوگا تمہیں بھاگتے ہوئے دیکھ کر ہاہاہاہا۔۔۔۔۔
اس نے تصور میں ایس کے کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر شیطانی انداز میں قہقہہ لگایا اور اسے اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر ایک شخص کے لبوں پر بھی ایک شیطانی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی تھی
💞💞💞💞💞💞