Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

مجھے لگتا ہے ،،سرکار یہاں سے کوئی بھی نہیں ملے گا ہمیں ۔۔۔
تبھی باہر سے انہیں بولنے کی آواز آئی تو ایس کے نے
میرب کو سائد پر کرتے ہوئے آگے دروازے کے سامنے
جاکر دروازے سے ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو باہر وہ
تینوں شخص کھڑے کچھ کہنے میں مصروف تھے کہ
تبھی ان میں سے ایک آگے دروازے کی جانب بڑھنے لگا
تو ایس کے وقت ضائع کیے بنا میرب کے ہاتھ پکڑ کر
کھڑکیوں کی جانب بڑھ گیا اور میرب کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔
“مسسز خان “
فورا نیچے جمپ کروں ۔۔۔
ایس کے‌ نے کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوکر نیچے
جھانکتے ہوئے میرب سے کہا تو میرب نے پہلے تو آگے
بڑھ کر کھڑکی سے نیچے جھانکا اور پھر حیرانگی سے
ایس کے کی جانب دیکھا جو کہ میرب کو کھڑکی سے نیچے کا اشاره کر رہا تھا ۔۔
کیا !!!!
تم پاگل ہوں !!!
میرب نے چیخ کر ایس کے کی جانب دیکھا جو کہ‌ اس
کی جانب متوجہ تھا جب اس کے چہرے پر ہوائیاں
دیکھ کر یکدم سے قہقہہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگا
مم۔۔میں اس کھڑکی سے نیچے جمپ کروں گی ۔۔۔تم شاید پاگل ہوگئے ہوں، اس لیے مجھے یہ سب کرنے کو کہہ رہے ہوں ۔۔۔
میرب نے غصے سے ایس کے کی جانب دیکھ کر کہا
“Jump quickly”
مسسز خان !!!
ایس کے نے میرب کی بات کو انسنا کرتے ہوئے اس کی جانب بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے کھڑکی سے نیچے جمپ لگایا میرب جو پہلے سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے لیکن جب اس نے خود کو ایس کے مضبوط بازوؤں میں دیکھا تو اپنی نظریں نیچے زمین پر گھاڑ دیے اس نے ،اور یہ دیکھ کر ایس کے نے شرارتن میرب کو تھوڑا نیچے کیا تو اس نے ڈرتے ہوئے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایس کے ، گلے میں ڈالتے ہوئے وہ اس کے ساتھ ڈر کر چپکی ہوئی کھڑی تھی ۔۔۔ تب ہی میرب نے نیچے دیکھا تو وہ اور ایس کے زمین سے تھوڑا اوپر لٹکے ہوئے تھے ۔۔۔
اگر میں مر گئی نہ تو یاد رکھنا تم مسٹر ایس کے میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی ،،،،
میرب نے ایس کے کی جانب دیکھ کر چلاتے ہوئے کہا
تم مروں گی تو مجھے کیسے زندہ چھوڑوں گی ،،،
“مسسز خان”
ایس کے نے معصومیت سے اپنی آنکھیں پھٹپٹھاتے ہوئے میرب کی جانب دیکھ کر کہا
سرکار !!!
یہاں کوئی نہیں ہے ،،
تبھی اوپر سے آواز آئی تو ان دونوں نے سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا جہاں انہیں کوئی بھی دیکھا تو ایس کے نے نیچے جمپ لگایا اور جا کر نیچے گر پڑا اور میرب اس کے اوپر آکر گر پڑی چند لمحے کو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہ گئے تھے پھر میرب کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ایس کے ،کے اوپر سے اٹھ کر اس سے تھوڑی دور کھڑی ہو کر اس سے نظریں چرانے لگی ۔۔۔۔
اب مسسز خان ، کیا آپ کو انویٹیشن دینا پڑے گا ،
ایس کے اپنے کار کی جانب بڑھتے ہوئے میرب سے کہنے
لگا تو میرب نے آگے بڑھ کر جب پچھلی سیٹ کا دروازہ
کھولا تو ایس کے نے آگے بڑھ کر کار کی پچھلی سیٹ
کا دروازہ ڈھپ سے بند کیا اور اس کی طرف مڑ کر
ایس کے نے اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے اسے آگے
بیٹھایا اور خود جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار اسٹارٹ کر کے زن سے آگے بڑھا دیا ۔۔۔
💞💞💞💞💞
“مسسز خان “
آج سے تم یہاں رہوں گی ۔۔۔اچھے سے سمجھ گئے یا پھر میں بہت ہی اچھے سے تمہیں سمجھا دوں مسسز خان ۔۔۔۔۔
ایس کے نے ایک بہت ہی خوبصورت گھر کے قریب کار کو روکتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
یہ ،، کس کا گھر ہے اور میں یہاں کیوں رہوں گی ،،
میرب نے اس خوبصورت گھر کی جانب دیکھتے ہوئے ایس کے سے پوچھا
یہ گھر پہلے تو میرا تھا ،،لیکن آج سے اور ابھی سے یہ گھر مسسز خان کے نام میں لکھ چکا ہوں بلکل اپنی زندگی کی طرح ،،،
ایس کے نے محبت پاش نظروں سے میرب کی جانب دیکھ کر کہا
چلوں ،اندر چل کر تمہارے اس خوبصورت گھر کو دیکھے اندر سے ،،
ایس کے نے کار سے باہر نکل کر اس کی جانب والے سیٹ کے اوپر جھک کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
بلکل ، ضرور کیوں نہیں ،،
میرب نے یہ کہتے ہی کار کا دروازہ کھولا تو ایس کے سیدھا جا کر زمین پر گر پڑا ،اور یہ دیکھ کر میرب کی ہنسی چھوٹ گئی اور ایس کے جو نیچے گرا اسے گھور رہا تھا کہ اس کے اس طرح ہنسنے پر وہ مہبوت ہو کر اس کی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔
“مسسز خان “
اب تم ایسے ہی بندریا کی طرح ہنستی رہوں گی ، یا مجھے اٹھاؤ گی بھی ،یا نہیں” مسسز خان “
ایس کے نے آخر میں شرارت سے بندریا کہہ کر اس کی جانب دیکھا جو کہ ہنسنا بھول کر اب اسے گھورنے میں مصروف تھی
⁦✍️⁩⁦✍️⁩⁦✍️⁩⁦✍️⁩⁦✍️⁩⁦✍️⁩
تمہیں پتہ ہے میرب اس کمپنی کا ایم ڈی آج آنے والا ہے ،،,,
ثنا نے اس کی جانب دیکھ کر ایک نئی خبر سنائی اسے جیسے سن کر اس کا منہ خفگی سے پھول گیا تھا ۔۔جیسے دیکھ کر ثنا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا تو اس نے اس کی طرف خفگی سے دیکھا
یار ،،ایک کم تھا جو دوسرا بھی آ رہا ہے اس کمپنی میں ،،،
میرب نے چڑتے ہوئے ثنا سے کہا
یار ،،
اب تو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا ،،
ثنا نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے اس سے کہا
وہی تو کر رہی ہوں ،،، لیکن یہ شخص اب میری برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے یار ،، مجھے ایسا لگتا ہے یار کے یہ شخص میرے ہاتھوں سے ایک دن ضائع ہو جائے گا۔۔۔
میرب نے دانت پیستے ہوئے ثنا سے کہا
میں تیار ہوں ،،، مسسز خان آپ کے ہاتھوں سے ضائع ہونے کے لیے ،،،
تبھی وہاں سے گزرتے ایس کے نے جب اس کی بات سنی تو کہہ بغیر نہ رہ سکا
مسٹر ایس کے ایک دن ضرور میں یہ کام کر گزرو گی ،،،
میرب یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی اور ایس کے اسے مسکرا کر جاتے ہوئے دیکھنے لگا جو کہ اب دوسری جانب مڑ کر غائب ہو گئی تھی ۔۔۔
😉😉😉😉😉😉
جونسن تم نے پتہ کر لیا ، ان لوگوں کے بارے میں
ایس کے نے جونسن کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
سر !!!
میں نے ان سب کو آپ کے خفیہ ٹھکانے پر پہنچا دیا ہیں اب آپ خود ہی ان سے پوچھ لیں سر ،،،
جونسن نے ایس کے کی جانب دیکھ کر کہا
“Good job “
جونسن تم نے انہیں پکڑ کر بہت ہی اچھا کام کیا ہے ،،، یہ لوں تمہارا انعام ،،،،
ایس کے نے جونسن کی جانب ایک چیک بڑھاتے ہوئے کہا
سر !!!
یہ ۔۔۔۔۔
جونسن نے اس خالی چیک کی جانب دیکھ کر ایس کے سے کہا
ہاہاہاہا !!!
جونسن تم ایسے چلاتے ہوئے پتہ ہے کس کی طرح لگے مجھے بلکل میری مسسز خان کی طرح لگے ،،
ایس کے نے جونسن کی جانب دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا تو جونسن نے ایس کے کی جانب خفگی سے دیکھا
سر ،،
اب میں اس خالی چیک کا کیا کروں ،،،
جونسن نے ایس کے کی جانب چیک کو بڑھاتے ہوئے کہا
جونسن ،،
اس چیک کو تم چاہے تو پھاڑ دوں یا پھر اس کا اچار بنا کر کھا لوں،، یا پھر اس میں اپنی مرضی کا رقم ڈال کر بینک سے نکال دوں ،،،
ایس کے نے جونسن کی جانب دیکھ کر کہا
مجھے آپ کی آخری والی بات زیادہ پسند آئی سر ،،
جونسن نے ایس کے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا