No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ہاں بابو!! بتاؤ تمہیں کس نے بھیجا تھا مسسز خان کے گھر میں ۔۔۔۔
ایس کے نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیلڈ کو ان میں سے ایک شخص کی کلائی پر پھیرتے ہوئے کہا تو اس شخص نے درد سے چلاتے ہوئے اپنا سر نہ میں ہلایا
کیا ،نہیں بتاؤ گے تم مجھے تو ٹھیک ہے ،جونسن ڈئیر ،،،
ایس کے نے اس شخص کے بالوں کو سختی سے اپنے مٹھیوں میں بڑھتے ہوئے جونسن کی جانب دیکھ کر اسے کچھ اشارہ کیا ۔۔۔۔
جونسن نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ایک چھوٹے سے پنجھڑے کو ایس کے کی جانب بڑھایا تو ایس کے نے وہ پنجھڑے کو پکڑتے ہوئے اس شخص کی جانب پرسرار انداز میں دیکھا
چلوں یار ،،
تم مجھے ایک سوال کا جواب سہی سے دوں تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ،
ایس کے نے کچھ سوچتے ہوئے اس شخص کی جانب دیکھ کر کہا
تو پھر بتاؤ ، کے اس پنجھڑے میں کیا ہو سکتا ہے ،،
ایس کے نے اس شخص کے آنکھوں کے سامنے پنجھڑے کو لہراتے ہوئے کہا
اس میں ،، طوطا ہو سکتا ہے ،،
اس شخص نے پر سوچ انداز میں اس پنجھڑے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
ہاہاہاہا ،،،
جونسن ڈئیر !!!
سنا تم نے کے اس پنجھڑے میں ایک طوطا ،،، ہاہاہاہا
ایس کے نے ہنستے ہوئے اس پنجھڑے میں موجود ایک خوانخوار چوہے کو اس شخص کی جانب پھینکتے ہوئے جونسن سے کہا
آہ ،،ہ ،،ہ ،،،ہ ،،ہ
اس چوہے نے جب اس شخص کی ایک انگلی کو کاٹا تو اس شخص کی درد سے چور آواز گونجی جسے سن کر ایس کے مزے سے اس شخص کی جانب دیکھنے لگا ۔۔ جس کی حالت چوہے نے بہت زیادہ خراب کیا تھا ۔۔۔ چہرے سے لے کر ہاتھوں تک خون ہی خون بہہ رہا تھا اس شخص کے ۔۔۔۔۔۔
جونسن !!!
آج کا اتنا ڈوس ہی ان کے لیے کافی ہے ،،، لکین تمہیں بھی جب تک نہیں رکنا جونسن جب تک یہ لوگ اپنے منہ نہ کھول دیتے ،،
ایس کے نے ٹاول سے اپنے ہاتھوں کو پونچھتے ہوئے ٹاول جونسن کی جانب پھینکتے ہوئے ایس کے نے اس سے کہا
💞💞💞💞💞💞
ہلیو،،،
مسٹر بیٹری ،،، کیسے ہوں تم ۔۔۔
اس شخص نے اس آواز کو سن کر نفرت سے آتے ہوئے شخص کی جانب دیکھا جو کہ اب مزے سے اندر آ کر ایک اسٹائل سے اس کے سامنے رکھے چئیر پر بیٹھتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا
بہت ہی اچھا ،،،
اس شخص نے کھا جانے والی نظروں سے اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس شخص نے اس کے سامنے جھکتے ہوئے اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
ایسی محبت بھری نگاہوں سے نہ دیکھوں ، کہیں عشق نہ ہو جائے تمہیں ہم سے ،، ۔بیٹری
اس شخص نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے اس شخص کی جانب دیکھا جو کہ اس شخص کو مکمل گھورنے میں مصروف تھا
کہوں ، کیا کرنے آئے تم “مسٹر ایس کے “
اس شخص نے اس کے نام کو چھباتے ہوئے کہا جیسے کہ وہ شخص اس کے نام کو نہیں بلکہ اسے کچا چبا جانا چاہتا ہوں ۔۔
ملنے بھی نہ آؤ میں اب اپنے بیٹری سے ۔۔۔۔۔
ایس کے نے آگے بڑھتے ہوئے بیٹری کو گلے لگاتے ہوئے کہا تو بیٹری نے غصے سے ایس کے کو جھٹکا دیا مگر وہ بھی ایس کے تھا بیٹری کے اس جھٹکے سے بھی نہ ہل سکا وہ ۔۔۔۔
یہ کیا!!!
تم تو پہلے سے بھی زیادہ کمزور نظر آ رہے ہوں مجھے بیٹری ڈارلنگ ،،،
ایس کے نے اس کے مضبوط کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا کیونکہ بیٹری ایس کے سامنے واقع میں کمزور نظر آ رہا تھا ۔۔ کیونکہ ایس کے اس کے سامنے کھڑا اس سے زیادہ نمایاں نظر آ رہا تھا اور یہ دیکھ کر بیٹری نے غصے سے ایس کے جانب دیکھا
اور ہاں بیٹری ایک اور بات یہ جو میری مسسز خان ہے نہ اس سے تم کوسو دور رہوں ،، تو یہ تمہارے لیے بہتر آپشن ہوگا میری نظر میں بیٹری …
ایس کے نے بیٹری کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے جیسے پس منظر میں اسے دھمکی دیا ہوں اس نے
یہ کہہ کر ایس کے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا اور اس کے باہر نکلتے ہی بیٹری کے لبوں پر مسکراہٹ گہرا ہوتا چلا گیا تھا
ایس کے ، اب تو میں مسسز خان کو اپنی جانب متوجہ ضرور کروں گا ۔۔ ہاہاہاہا
❌❌❌❌❌❌
مس خان !!
باس آپ کو اپنے کیبن میں بلا رہے ہیں ۔
پیوئن نے آکر اسے باس کا پیغام دیا باس کا یہ پیغام سن کر میرب نے خفگی سے اپنا منہ بنایا اور اٹھ کر باس کے کیبن کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
یس سر !!!
آپ نے بلایا مجھے ۔۔۔
میرب نے بیٹری کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے پوچھا
مس خان ،،
آج سے آپ میری پرسنل سیکرٹری کے فرائض سنبھالے گی ،، مجھے ابھی اور اسی وقت اس ڈیل کا سارا ڈیٹا چاہیے مس خان ،،،
بیٹری کی اس بات کو سن کر میرب ایک دم سے خوش ہوگئی ۔۔۔
(چلوں اس لنگور سے جان تو چھوٹ گئی میری ) باس کے اس فیصلے نے میرب کے اندر جیسے دیروں سکون بھر دیا ہوں ،
ہیلو ،،،
بیٹری مجھے پتہ تھا ،، تم یہ ہی کارنامہ انجام دوں گے ،، اس لیے میں یہاں یہ بتانے آیا ہوں کے مسسز خان آپ کی نہیں بلکہ میری پرسنل سیکرٹری ہے اور رہی گی ،،، کیوں مسسز خان ،
ایس کے اندر داخل ہوں کر سیدھا بیٹری کے سامنے جا کر کھڑا ہوا اور اس کی جانب دیکھ کر کہنے لگا ۔۔ ایس کے نے آخر میں شرارت سے میرب سے پوچھا
“But why Mr Sk “
وہ کیوں میری پرسنل سیکرٹری نہیں بن سکتی ،، اور مسٹر ایس کے تم شاید بھول رہ ہوں کہ یہ آفس میرا ہے ،،، سو میں جو مرضی کروں ، چاہے تو مس خان کو اپنی پرسنل سیکرٹری بناؤ یا کسی اور کو اس سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ،،،
بیٹری نے نفرت سے ایس کے کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تو ایس کے ہنستے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
مسٹر بیٹری !!!
تم بھی شاید بھول رہے ہوں ،، کے اس کمپنی میں میرے شئیرز سب سے زیادہ ہے، بیٹری تم سے بھی زیادہ ،، تو اس کمپنی میں ایس کو کوئی بھی نہیں روک سکتا تم بھی نہیں بیٹری ۔۔۔
ایس کے نے بیٹری کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو بیٹری نے غصے سے ایس کے کی جانب دیکھا
“مسسز خان “
میرے لیے ایک کپ کافی اور بیٹری کے لیے ایک گلاس ٹھنڈا پانی لیکر آؤ یہاں شاید اس سے بیٹری کا دماغ چل جائے ،،
ایس کے نے کرسی کھینچ کر عین بیٹری کے سامنے رکھا اور اس پر ایک اسٹائل سے بیٹھ کر اس نے میرب سے کہا ۔۔۔
❌❌❌❌❌❌
اچھا بلا میرا پیچھا چھوٹ رہا تھا اس مسٹر چھچھورے سے لیکن کہا،،، میری ایسے قسمت یار
میرب ثنا کے سامنے اپنے وہی دہرائے ہوئی بات پھر سے اس سامنے دہرا رہی تھی اور ثنا اس کی ساری باتیں بوریت سے سن رہی تھی ۔۔
اب کیا ، کیا بقول تمہارے اس مسٹر چھچھورے نے ،،،
ثنا نے اس کی جانب بیزاری سے دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ ۔۔ نہ پوچھو کہ اس چھچھورے نے کیا کیا نہیں کیا میرے ساتھ ،،
میرب نے خفگی سے منہ بناتے ہوئے کہا
کیا کیا نہیں کیا اس چھچھورے نے تمہارے ساتھ ،، یہ بھی تم بتا دوں مجھے ۔۔۔
ثنا نے میرب کی جانب گھور کر کہا
اچھا بلہ سر مجھے اپنا پرسنل سیکرٹری بنا رہے تھے ،کہ بیچ میں آ کر اس چھچھورے نے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ۔۔۔۔
میرب نے ثنا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
یہ تو تمہارے ساتھ واقعے میں اس چھچھورے نے اچھا نہیں کیا ،،،
ثنا نے افسوس سے میرب کی جانب دیکھ کر کہا
میں بھی اسے سبق سکھا کر رہوں گی ،،،
میرب نے کچھ سوچتے ہوئے ثنا کی جانب دیکھ کر کہا
💞💞💞💞💞💞
