No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
سر !!
اس ڈھانچے نما انسان کو میرے حوالے کر دے ۔۔پھر
دیکھے آپ کے میں اس کی کیا حالت کرتا ہوں ۔۔۔
جونسن نے غریب پلے بوائے کی آنکھوں میں اپنی سرخ
رنگ کی آنکھیں گھارتے ہوئے کہا اور غریب پلے بوائے
نے جب جونسن کی آنکھوں میں دیکھا تو ڈر کر اپنی
نظریں ایس کے کی جانب بڑھا کر ایس کو دیکھنے لگا
“Cool down” My baby “
نہیں جونسن بیٹا ،یہ میرا شکار ہے،اور مجھے یہ شکار
کرتے ہوئے بہت مزا آ رہا ہیں ،کیوں غریب پلے بوائے ،،
ایس کے نے جونسن کو پرسکون کرنے کے بعد غریب پلے
بوائے کی جانب دیکھ کر مزے سے کہا
کک۔۔۔کیا مطلب اس بات کا ،
غریب پلے بوائے نے ڈر کر ایس کے سے پوچھا
جونسن ڈئیر!!!
اب اسے سمجھانا پڑے گا کہ اس کا کیا مطلب ہے کیوں
جونسن ،،
ایس کے مزے سے چیونگم چباتے ہوئے جونسن سے
کہنے لگا تو جونسن نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملایا
اور جاکر ایس کے کی آسٹن مارٹن سے ایک جدید ماڈل
کا پستول لے کر ایس کے جانب بڑھ کر اس پستول کو
ایس کے کی جانب بڑھایا تو ایس کے نے ہاتھ آگے کرتے
ہوئے اس پستول کو جونسن کے ہاتھوں سے تھام کر
غریب پلے بوائے کے پیشانی پر رکھ دیا تو غریب پلے
بوائے نے ڈرتے ہوئے اپنی نظریں اوپر اٹھائی جہاں اس
نے پستول کو اپنی پیشانی پر رکھے ہوئے دیکھا تو ڈر کر کانپنے لگا
تو پھر تم تیار ہوں ،غریب پلے بوائے مرنے کے لیے ۔۔۔
پستول غریب پلے بوائے کی پیشانی پر ہلکے سے مارتے ہوئے ایس کے نے اس غریب پلے بوائے سے پوچھا
پلیز ،،پلیز مجھے جانے دوں میری ماں میرا انتظار کر رہی ہوں گی پلیز ۔۔۔
غریب پلے بوائے نے نیچے زمین پر گر کر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایس کے ،کے پیرؤں کے اوپر رکھتے ہوئے
گرگرا کر ایس کے سے کہنے لگا تو ایس کے نے اپنے پیروں سے اسے دکھا دیتے ہوئے کہا
پہلے کیوں یاد نہیں آئی تمہیں وہ ماں جس نے تمہیں جنم دینے کے بعد پالا پوسا تمہاری ہر جائز ناجائز خواہشات کو پورا کیا اس ماں نے ،،پہلے کیوں یاد نہیں آیا تمہیں ہاں بولوں کیوں ،،،
ایس کے نے غراتے ہوئے اس غریب پلے بوائے کے پیشانی پر پستول سے مارتے ہوئے کہا
پلیز مجھے معاف کر دوں ،،میں آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا جس سے میری ماں کو تکلیف پہنچتی ہوں پلیز ،،پلیز مجھے جانے دوں ،،
اس کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا اور وہ ایس کے کی جانب ہاتھ جوڑے کھڑا اس سے معافی مانگ رہا تھا اسے احساس دلایا گیا تھا کہ وہ جو آئے روز لڑکیوں کو چھیڑنا اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ آوارہ گردیاں کرنا اسے سب کچھ اس سمے یاد آنے لگا تھا۔۔۔
اور تم لوگ مجھے اس ایریا میں دوبارہ نظر آئے تو میں تم سب کی چمڑی ادھیر کر رکھ دوں گا ۔۔ سنا تم لوگوں نے چمڑی ادھیر کر رکھ دوں گا ،،
ایس کے غریب پلے بوائے کو احساس دلانے کے بعد اب ان سب آواروں کے سامنے کھڑے ہوکر غراتے ہوئے کہنے لگا تو سب ایس کے کی بات مانتے ہوئے وہاں سے بھاگنے والے انداز میں رفو چکر ہوگئے اور جونسن انہیں اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھ کر اپنی ہنسی پر کنٹرول نہ رکھ سکا اور ہنستا ہی چلا گیا
♥️♥️♥️♥️
اوں ،تو مسسز خان مجھے بے چینی دے کر خود مزے سے سو رہی ہے ،ابھی بتاتا ہوں مسسز خان کے تم نے کس کو بے چین کیا ہے ،،
ایس کے چوری چھپے جب میرب کے گھر میں داخل ہوا تو اندازے کے مطابق آگے بڑھتے ہوئے ایس کے نے ایک ایک روم کو چیک کیا اور آخر میں ایک روم کے سامنے کھڑے ہو کر جب اس نے اس روم کا دروازہ آہستہ آواز میں کھولا تو اندر کے منظر پر نظر پڑھتے ہی اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اندر داخل ہوں کر کہنے لگا ابھی ایس کے میرب کی جانب بڑھتا کہ ایک دم سے اس کے تیزگام جیسے کانوں نے باہر ہوتی ہل چل کو سنا ،تو دروازے کی طرف بڑھ کر اس نے دروازہ آہستہ سے کھول کر باہر دیکھنے لگا ۔۔جہاں تین چار آدمی اسی جانب بڑھ رہے تھے ،تو یہ دیکھ کر ایس کے نے اپنی پینٹ کی جیبوں کو ٹھٹھول کے اپنی من پسند کھلونے کی موجودگی کا احساس کیا جو کہ ایس کے کی جیب میں موجود تھا اس وقت ،
تم !!!
تمہاری اتنی ہمت کے تم یہاں تک بھی پہنچ گئے ۔۔۔
ایس کے جو دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا باہر دیکھنے میں مصروف تھا کہ اس کی آواز سن کر اس نے اپنی آنکھیں بند کر دی ،
اسے بھی ابھی جھاگنا تھا ، تھوڑی دیر اور نہیں سو سکتی تھی یہ چڑیل بیگم،،،،
ایس کے بربراتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگا جو کہ اس کی جانب گھور کر دیکھنے میں مصروف تھی
ہمت کو چھوڑوں مسسز خان ،،ابھی صرف چپ چاپ کھڑی رہوں تم سمجھے ،،ورنہ یہ جو باہر تمہارے بھائی مجھے ڈھونڈنے میں مصروف ہے ناں ،،اگر ہم دونوں ان لوگوں کو مل گئے نہ تو کل صبح نیوز میں یہ خبر آ رہی ہوگی کہ ایس کے اور اس کی محبوبہ کو کچھ نامعلوم افراد نے رات کے آندھرے میں بیدردی سے دقتل کر کے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔۔۔
ایس کے نے میرب کی جانب بڑھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اس کے بازوؤں پر رکھتے ہوئے بغور اس کی جانب دیکھ کر اس سے کہنے لگا۔۔
کک۔۔۔کون ہے باہر ۔۔۔
میرب نے ایس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا اور ڈرتے ہوئے ایس کے سے پوچھنے لگی ۔۔
ریلیکس !!! ڈئیر
تم یہاں اکیلی نہیں ہوں ،،میں ہوں نہ تمہارے ساتھ یہاں ،،اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ یہ تمہارے بھائی ہمارا کیا بھگاڑتے ہیں جاناں ،،
ایس کے نے میرب کی جانب نرم نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آخر میں شرارت کیا تو میرب نے ایس کے کو ایک دم سے گھورتے ہوئے دیکھا ۔۔
