No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
👇👇👇👇👇👇
مس خان باس کا بہت برا ایکسڈنٹ ہوا ہے ،، ان کی حالت بہت ہی تشویش ناک ہے ۔۔
جونسن کی کال ریسیو کرنے کے بعد جو بات اس نے
سنی اس کے ہاتھوں سے سیل چھوٹ کر نیچے جا گرا
اور اسے ساکت کھڑے دیکھ کر ثنا نے آگے بڑھ کر نیچے
سے سیل اٹھا کر اپنے کانوں سے لگا کر جو بات اس نے
سنی تو وہ بھی چند لمحے کے لیے ساکت کھڑی رہ گئی
لیکن اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے اس کی جانب
دیکھا جو کہ ابھی تک ساکت کھڑی سامنے دیکھ رہی
تھی اس نے آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر
اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو اس نے حیرت سے ثنا کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
ی۔۔ی۔۔یہ نہیں ہوسکتا !!!
میرب نے ثنا کی جانب بےیقین نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
و۔۔۔وہ مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتا
آنسو اس کی پلکوں کی دہلیز ٹوڑ کے نیچے گرنے لگیں
😔😔😔😔
جب وہ دونوں ہاسپٹل پہنچے تو انہوں نے ریسیپشن پر کھڑی ایک لڑکی سے اس کے روم کے بارے میں پوچھا تو اس نے اسے بتایا تو وہ دونوں بھاگتے ہوئے اس روم کی جانب بڑھ گئے اور جب وہ دونوں اس روم کی جانب پہنچے تو انہوں نے دور سے ہی کھڑے جونسن کو دیکھا جو کہ ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا انہیں دیکھ کر ان کی جانب بڑھنے لگا
مس خان ،،
جونسن نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے ان سنا کرتے ہوئے وہ آگے بڑھ کر روم کے گلاس وال سے اسے دیکھنے لگی جو کہ بےسدھ ہوکر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر پڑا ہوا تھا اسے اس طرح دیکھ کر میرب کی آنکھوں سے عکس بہہ کر نیچے گرنے لگے ۔۔۔
یہ سب کچھ کیسے ہوا تھا جونسن
میرب نے اس پر سے نظریں ہٹائے بغیر جونسن سے پوچھا
مس خان ،،
سر معمول کی طرح آج بھی جوگنگ کے لیے گئے تھے کہ راستے میں انہیں کسی کار نے ہٹ کیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ کر جو بہت زیادہ تکلیف میں وہی سڑک پر گرے ہوئے تھے اپنی کار لے کر وہاں سے چپ چاپ نکل گیا تھا انہیں اس حال میں چھوڑ کر ۔۔۔
آپ میں سے مسسز خان کون ہے ،،
تبھی وہاں ایک ڈاکٹر نے آکر ان دونوں کی جانب دیکھ کر پوچھا
جی میں ہوں ۔۔۔۔
میرب نے ڈاکٹر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
کب سے پیشنٹ آپ کا ہی نام لے رہا ہے بے ہوشی کے عالم میں ،،، آپ جا کر ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر نے میرب کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور جا کر روم کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے آہستہ سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے اسے بےسدھ پڑے دیکھ کر اس کے آنکھوں سے سیل رواں بہنے لگا
خان !!!
آپ مجھے ایسے اچھے نہیں لگ رہے ۔۔۔
میرب نے ایس کے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا جو کہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا
آپ مجھے اچھے تب لگتے ہیں جب مجھے ستاتے ہوئے اور مجھے تنگ کرتے ہوئے اس وقت آپ بہت اپنے سے لگتے ہیں مجھے اور اب آپ ایسے چپ مجھے بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے ہیں خان
میرب نے ایس کے کی جانب دیکھ کر روتے ہوئے کہا
اٹھیں اور دیکھے آپ کہ آپ کی مسسز خان آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے کچھ بھی نہیں ۔۔۔
میرب نے روتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر اپنا سر رکھتے ہوئے کہا
یہ بات سن کر مجھے ایک نئی نویلی زندگی مل گئی ہے مسسز خان ۔۔۔۔
ایس کے کی آواز سن کر اس نے جھٹ سے اپنا سر اٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو کہ اپنا سر اٹھائے اس کی جانب دیکھنے میں مصروف تھا
تو کیسا لگا میرا ڈراما مسسز خان ،،،
ایس کے نے اس کی جانب ایک آنکھ چھپک کے اس سے کہا تو اس نے اس کے سینے پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے اس کی جانب ناگواری سے دیکھا
ہاہاہاہا!!!
“بہت مزا آیا اداکاری کرتے ہوئے مجھے مسسز خان ” ایس کے نے میرب کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا “چھوڑوں مجھے بے ہودہ انسان “
میرب نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
“اور اگر نہ چھوڑا میں نے مسسز ” ایس کے نے اس کے ہاتھوں کو پیچھے لے جاتے ہوئے اسے مکمل اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا “میں بھی دیکھتی ہوں کہ تم کیسے نہیں چھوڑتے ہو مجھے “
میرب نے اپنا سر ایس کے کہ سر پر مارتے ہوئے کہا تو ایس کے نے اسے چھوڑ کر اپنا سر پکڑ لیا
“اب تو مجھے سچ میں ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوگی مسسز خان وہ بھی تم سے _”
ایس کے نے اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے کہا اور ایک شخص انہیں اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھ کر شیطانی انداز میں مسکرانے لگا
😂😂😂😂
