Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


کون ہوں تم !!!
اور مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہوں ۔۔۔
وہ رسیوں سے جھکڑے اپنے آپ کو چھڑانے میں لگی ہوئی تھی کہ تبھی اس نے ایک سیاہ فام شخص کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو چلا کر اس سے پوچھنے لگی وہ۔۔۔
میں جو کوئی بھی ہوں ۔۔اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ہاں رہی بات تمہیں یہاں لانے کی تو یہ بات تمہیں میرا باس بتائے گا ۔۔۔
اس سیاہ فام شخص نے اس کی جانب دیکھ کر سختی سے کہا
بلاؤ اپنے باس کو میں بھی تو دیکھوں کے میرا یہ نیا دشمن کون ہے ۔۔۔ہاہاہاہاہا
اس نے پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے اس سیاہ فام شخص کی جانب دیکھ کر کہا
بہت شوق ہے غزل بی بی تمہیں اپنے دوشمن کو دیکھنے کا تو یہ لوں تمہارا دوشمن حاضر ہے ۔۔۔
تبھی ایک شخص نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس سے کہنے لگا اور غزل نے شاک کے عالم میں ایس کے کو اپنے سامنے دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کے اوپر آسمان آن گرا ہوں
تم !!!
ہاں میں ۔۔۔کیوں تم یہاں کسی اور کا انتظار کر رہی تھی کیا مس غزل ۔۔۔
ایس کے نے جھک کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے پوچھا
مجھے کیوں لائے ہوں یہاں تم آخر میری کیا غلطی کیا ہے ہاں بولوں کیا ہے ۔۔۔۔
اس نے پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا تو ایس کے نے طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر کہا
غلطی !!!
تمہاری غلطی بہت ہی بڑی ہے غزل بی بی !!!
ہاہاہاہا !!
مجھے پتا تھا کے تم آرام سے نہیں بیٹھوں گے ۔۔۔
غزل نے جنونی انداز میں ایس کے کی جانب دیکھ کر کہا
تو اب غزل بی بی تمہیں پتہ تو چل گیا ہوگا کہ میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں ۔۔۔
ایس کے نے غزل کی جانب دیکھ کر اس سے کہا
ہاں اچھے سے مسٹر ایس کے ۔۔۔
اس نے ایس کے جانب دیکھ کر اس کی بات کا جواب دیا
کیوں کیا تھا تم نے ایسا بولوں مجھے ۔۔۔
ایس کے نے پوچھا
اس دن جب یونیورسٹی میں تم سے اپنی محبت کا
اظہار کرنے ہی والی تھی میں کے تم نے اپنی محبت کا
ذکر چیر کر میرے اندر آگ بھڑکا کر خود تم چلے گئے
تھے اور میں دن رات یہ سوچ کر جلتی رہی کہ تم مجھ
سے نہیں بلکہ کسی اور سے محبت کرتے ہوں یہ بات
مجھے نہ سونے دیتی تھی نا سکون سے رہنے دیتی تھی
اور جب تمہاری کزن زرتاشہ اس پونی میں کیا آئی تم
تو اس کے آگے پیچھے گھوم پھر کر مجھے بھولنے ہی
لگیں تھے ۔۔۔لیکن ایک دن مجھے یہ سن کر خوشی
ہوئی کہ زرتاشہ تمہاری محبت نہیں ہیں بلکہ تمہاری
محبت کوئی اور ہیں یہ جان کر میں ایک لمحے کو ڈر
گئی کہ شاید وہ کوئی اور ہوں ۔۔لیکن میرا یہ شک بھی
اس دن یقین میں بدل گیا جس دن میں نے تم سے اپنی
محبت کا اظہار کیا اور تم نے بڑی سبھاؤ سے مجھ سے
یہ کہہ کر منع کر دیا کہ تم کسی اور سے محبت کرتے
ہوں ،،اس دن سے مجھے تمہاری اس اندیکھی محبوبہ
سے شدید ترین نفرت محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔ لکین
افسوس کہ تمہیں تمہاری محبت نہیں ملی کیونکہ
کچھ دنوں بعد مجھے تمہاری زرتاشہ کے ساتھ شادی کا
پتہ چلا تو میں خوشی محسوس کرنے لگی تھی
کیونکہ مجھے میری محبت نہیں ملی تھی تو تمہیں
بھی تمہاری محبوبہ نہیں ملی تھی ہاہاہاہا
ایس کے اس دن میں خوشی بھی محسوس کر رہی تھی اور دکھ بھی ۔۔۔۔میں کیسے تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ سکتی تھی اس لیے میں نے اس زرتاشہ کا کام تمام کر دیا تھا
اس نے جنونی انداز میں ایس کے کی جانب دیکھ کر کہا تو ایس کے نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا
کیا ،تم نے اس معصوم کو موت کے گھاٹ اتارا افسوس مجھے تم پر سخت افسوس ہو رہا ہے غزل بی بی یہ تمہاری محبت نہیں بلکہ حوس تھی کوئی محبت میں بھی ایسا گرتا ہے یہ میں نہیں سوچ سکتا محبت تو دو دلوں کا ملن ہے محبت ایک پاکیزہ سا احساس ہیں اور تم جیسے حوس پرست یہ بات نہیں سمجھ سکتے غزل بی بی نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔
مسٹر ایس کے تم نے میرے ساتھ آپی اور اپنی اس اندیکھی محبوبہ کو بھی دھوکے میں رکھا ۔۔۔۔
اس کے اتنے زور سے چلانے پر ایس کے نے ماضی سے حال کا سفر کیا اور اس کی جانب دیکھا جو کہ ناگواری سے اسے گھورنے میں مصروف تھی تو ایس کے نے اس کی جانب بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنے ہونٹوں کو اس کی پیشانی پر رکھتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو کہ اب اپنی نظریں نیچے گرائے ہوئی تھی یہ دیکھ کر ایس کے کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی
میں نے نہ تمہیں اور نہ تمہاری آپی کو اور نہ ہی اپنی اس اندیکھی محبوبہ کو دھوکے میں رکھا تھا میں جو بھی کرتا ہوں ڈھنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں جس کا ثبوت ابھی میں نے پیش کیا تھا “مسسز خان “
ایس کے نے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں اس کے کچھ دیر پہلے والی حرکت سے اس کا پورا چہرا لال گلابی ہو رہا تھا
اچھا مسسز خان باقی باتیں بعد میں کیونکہ مجھے اس وقت ایک اہم میٹنگ کے لیے نکلا ہے ۔۔۔۔
ایس کے یہ کہہ کر اپنے قدم وہاں سے بڑھانے ہی لگا تھا کہ کچھ سوچتے ہوئے مڑ کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا
اور ہاں مسسز خان اب تم آفس نہیں آؤ گی ۔۔۔۔
کیوں ۔۔میں کیوں نہیں آسکتی آفس ۔۔۔
اس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایس کے کی جانب دیکھ کر کہا
وہ اس لیے مسسز خان کے میری مسسز خان کو میرے علاوہ کوئی نہ دیکھے کیونکہ ایس کے کو یہ گوارا نہیں کے ایس کے کی مسسز خان کو کوئی اور دیکھے ۔۔۔
شرارت سے کہتے ہی ایس کے نے باہر قدم بڑھائے اور جا کر پورچ میں اپنے لیے تیار کھڑی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩
“مسسز خان “
مجھے پہلے سے ہی شک تھا کہ تم بےوقوف اور پاگل لڑکی ہوں لیکن اب مجھے سو فیصد یقین ہو رہا ہے کہ تم اس سے کہیں زیادہ بےوقوف ، پاگل جذباتی لڑکی ہوں مائے کیوٹی گرل ۔۔۔ہاہاہاہاہا
ایس کے نے اسے سوچتے ہوئے خود سے کہا اور باہر کی جانب نکل کر سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اس نے جونسن کو اشارہ کیا تو جونسن نے آگے بڑھ کر اس سے کہا
“Yes sir “
جونسن تمہیں ایک کام سونپ رہا ہوں میں ۔۔۔
یہ تصویر دیکھ رہے ہوں ناں ۔۔۔تمہیں اس کے رہائش کا پتا چلانا ہے ۔۔۔۔ اور اس کے ہر ایک ایکٹویٹی پر نظر رکھنا ہے جونسن تمہیں ۔۔۔۔۔۔سمجھے تم اب جاؤ
یہ کہہ کر ایس کے باہر کی جانب نکل گیا ۔۔۔۔۔
اب باس کو اس سے کونسی دوشمنی ہے ۔۔۔یہ تو مجھے بہت ہی کیوٹ دیکھ رہا ہیں ۔۔۔۔ God جانے باس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ہم تو معمولی انسان ہے ۔۔۔
جونسن نے تصویر پر نظر آتے شخص سے کہا جیسے کہ وہ شخص اس کی باتیں بڑی دلجمعی سے سننے میں مصروف ہوں ۔۔۔