No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ہائے !!!!
“مسسز خان “
وہ جو ابھی گلی میں داخل ہوئی ہی تھی کہ آگے ایس
کے کو کھڑے دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نمودار
ہونے لگی اور ایس کے جو مزے سے اس کی جانب بڑھ
رہا تھا کہ بیچ میں بہت سارے بچے آ کر ایس کے
سامنے کھڑے ہوکر اس کا راستہ بلاک کرنے لگے اور یہ
دیکھ کر میرب کی ہسنی چھوٹ گئی اور اسے اس
طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر ایس کے، اس حسین منظر
میں کھو سا گیا اور اسے اس طرح کھوئے ہوئے دیکھ
کر میرب نے سب بچوں کو کچھ اشارہ کیا
“اوئے انکل کدھر” ۔۔۔
تبھی ایک بچے نے ایس کے مضبوط بازوؤں کو ہلاتے ہوئے کہا
ہاں ۔۔۔۔ہاں کیا چاہتے ہو تم لوگ
انکل ہم لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کدھر۔۔۔۔ ہم لوگوں نے پہلے کبھی آپ کو نہیں دیکھا اس ایریا میں اس لیے پوچھ رہے تھے ۔۔۔
ایک بچے نے آرام سے کہہ کر ایس کے کی جانب دیکھا
تو ایس کے نے سامنے دیکھا تو اسے میرب آگے چلتی
ہوئی نظر آئی تو ایس کے ان سارے شیطانوں کی
اولادوں کو دیکھنے کے بعد میرب کو آوازیں دیتے ہوئے کہنے لگا
اوہ ہیلو،،
“مسسز خان”اپنے ان سب گارڈز کو یہاں سے ہٹائے
ورنہ ،، ایس کے نے میرب سے کہتے ہی ان سب
شیطانوں کی جانب دیکھا جو کہ ایس کے اس بات پر
خونخوار نظروں سے ایس کے کی جانب دیکھنے لگے
اوئے ،،سب نظریں نیچے کروں اپنے ورنہ میں ایک ایک کو دیکھ لوں گا سمجھے تم لوگ ،،
ایس کے نے سب شیطانوں کی اولادوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
کیوں نیچے کریں گے ہم اپنی نظریں انکل جو بھی کرنا ہے کروں ہم نہیں ڈرتے آپ سے انکل ،،،
ایک بچے نے آگے بڑھ کر ایس کے ،کے اوپر کچھ
پھینکتے ہوئے کہا تو ایس کے نے اپنی من پسند سفید
کلر کی ٹی شرٹ کی جانب دیکھا جو کہ اب اپنی
اصلی حالت کھو چکا تھا ہر طرف نیل پینٹ کے نشانات
بن چکے تھے ایس کے طیش میں آکر اس شیطان کی
جانب بڑھا تو اس شیطان نے ایس کے کو اپنی طرف
بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہاں سے ڈور لگا دی اور اب منظر
کچھ یوں تھا کہ وہ شیطان کا بچہ آگے اور ایس کے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا
تم میرے ہاتھوں میں تو آؤ گے شیطان کے بچے پھر میں تمہیں بتاؤں گا ،،،
ایس کے اس شیطان کے چیلے کے پیچھے بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آخر کار وہ شیطان کا بچہ ایس کے، کے ہاتھوں لگ گیا تو ایس کے نے اسے کالر سے کھینچ کر اپنے سامنے کیا تو اس شیطان کے چیلے نے ڈرتے ہوئے ایس کے ،کی جانب دیکھا
انکل ،،،مجھے معاف کر دے پلیز ،،میں معصوم ہوں،، بے گناہ ہوں وہ تو سب انجانے میں ہوگیا مجھ سے ،،،
اس شیطان کے چیلے نے منمناتے ہوئے کہا تو ایس کے نے بڑے طنزیہ انداز میں اس شیطان کے چیلے کی جانب دیکھا
معصوم واؤ ،،،تم ہوں ہی معصوم جس کا ثبوت کچھ دیر پہلے تم نے مجھے اس صورت میں دیا ،،
ایس کے نے اسے گھور کر اپنی شرٹ کی جانب اشارہ کیا
انکل ،،پلیز معاف کر دے آپ۔۔۔ آپ جو بولیں گے میں ویسا ہی کروں گا ۔۔۔پلیز اس بار مجھے معاف کر دے ۔۔
اس بچے نے ایس کے کی جانب ہاتھ جوڑ کر کہا
ٹھیک ہے اس بار میں تمہیں معاف کر رہا ہوں لیکن اگلی بار خیال رکھنا کیوں کہ تم شکر کرو کہ ایس کے نے تمہیں معاف کر دیا ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوتا تمہارے لیے ،،اور رہی کچھ کرنے کی بات تو وہ یہ کہ تمہیں اس آنٹی کی ساری معلومات مجھے دینی ہے اور وہ بھی ابھی ،،
ایس کے نے اسے ڈرانے کے بعد اس سے میرب کے بارے میں پوچھا
آپ اس کے کیا لگتے ہیں ،،،
اس شیطان نے مشکوک انداز میں ایس کے کی جانب دیکھ کر اس سے پوچھا
ابھی بھی نہیں سدھرنا اس شیطان کے چیلے نے ،،،ایس کے نے بربراتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
انکل کچھ کہا آپ ،،،
اس نے ناسمجھی سے کہا تو ایس کے نے اسے گھورتے ہوئے کہا
کیوں میں نے کیا کہنا تھا تم سے ،،،اور ہاں میں اس تصویر میں نظر آتی آنٹی کا باڈی گارڈ ہوں۔۔۔
ایس کے نے مزے سے اس شیطان کی جانب دیکھ کر کہا
آپ سچ میں میر آپی کے باڈی گارڈ ہیں ،،، سنو دوستوں یہ ہماری میر آپی کے باڈی گارڈ ہے ۔۔
اس نے شور مچاتے ہوئے سب محلے کو اکھٹا کرتے ہوئے سب سے اور خاص کر سامنے کھڑے ایک پلے بوائے نما نوجوان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا
😅😅😅😅
تو تم ہوں مس میرب کے باڈی گارڈ “
ایس کے نجانے کب سے میرب کے انتظار میں ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا کہ تب ہی ایس کے کا راستہ بلاک کرتے ہوئے اس پلے بوائے شخص نے ایس کے کی جانب دیکھ کر پوچھا
ہاں ،،،
میں ہی ہوں وہ باڈی گارڈ ۔۔۔
ایس کے نے بھی اس پلے بوائے شخص کے سامنے کھڑے ہوکر کہا
سالے اپنی نظریں نیچے کر کے بات کروں مجھ سے ۔۔میں یہاں پلے بوائے ہوں ۔۔۔
یہاں کا پلے بوائے حیرت کی بات ہے ،،میں نے سنا ہے پلے بوائے کلب میں یا تو پھر کوئی ہوٹل میں کسی دوشیزہ کے ساتھ نین مٹکوں میں مصروف ہوتا ہے یہاں پہلی بار میں نے دیکھا ہے” پلے بوائے” ۔۔۔
ایس کے نے اس غریب پلے بوائے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تو اس غریب پلے بوائے نے ایس کے کی جانب غصے سے دیکھا
تم ،،،
کیا میں ۔۔میں بھی تمہیں پلے بوائے نظر آرہا ہوں ،،خدا کا خوف کروں میں اور پلے بوائے ،،
ایس کے نے اس غریب پلے بوائے کی بیچ میں بات کاٹتے ہوئے کہا
تم ،،اب حد سے بڑھ رہے ہوں ،،، اور مجھے حد میں رکھنا اچھے سے آتا ہے ۔۔۔
اس غریب پلے بوائے نے طیش میں آکر ایس کے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا
اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ امیر پلے بوائے کیسے ہوتے ہیں ،،غریب پلے بوائے ،،
یہ کہہ کر ایس کے وہاں سے نکلتا چلا گیا اور غریب پلے بوائے ایس کے کو ایسے کچھ بھی کئے بغیر وہاں سے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
✍️✍️✍️✍️✍️
وہ سب گلی کے نکڑ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان سب لوگوں نے اپنی جانب بہت سارے اسپورٹس بائیکس کو آتے ہوئے دیکھا تو سب کے منہ کھولے کے کھولے رہ گئے انہوں نے کہاں اپنی زندگی میں پہلی بار یہ اسپورٹس بائیکس دیکھے ہیں وہ سب اسپورٹس بائیکس عین ان لوگوں کے سامنے آکر رکھ گئے تھے ان سب اسپورٹس بائیکس کے رکھتے ہی ایک نہایت ہی خوبصورت اور مہنگی بلیک کلر کی آسٹن مارٹن آتی ہوئی نظر آئی جیسے دیکھ کر اسپورٹس بائیکس پر سوار سب نے اس آسٹن مارٹن کے لیے جگہ بنائی آسٹن مارٹن آکر ان سب بائیکس کے بیچ میں آ کر کھڑی ہوگئی تھی اور تبھی ان سب کو ایک شخص اس آسٹن مارٹن سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تھا
کیسے ہوں ،، غریب پلے بوائے “
اس شخص نے آگے بڑھتے ہوئے ایک شخص سے کہا جو کہ اس کی جانب منہ کھولے کھڑا ہوا تھا
تم ،،
میرب کے باڈی گارڈ ہوں ناں ،،
اس نے حیرت زدہ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر کہا
ہاں،،
کوئی شک میں ہی ہوں ،،مسسز خان کا پہلا اور آخری باڈی گارڈ ۔۔۔
ایس کے نے ہنستے ہوئے اس غریب پلے بوائے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
😁😁😁😁😁
