No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ابھی پھر سے پھوٹے گی یادوں کی کونپل
ابھی رگ سے جاں ہے نکلنے کا موسم
ابھی خوشبو تیری مرے من میں ہمدم
صبح شام تازہ توانا رہے گی
ابھی سرد جھونکوں کی لہریں چلی ہیں
کہ یہ ہے کئی غم پنپنے کا موسم
سسکنے سلگنے تڑپنے کا موسم
✨✨✨✨
دسمبر کا مہینہ بھی کتنا عجیب ہے خاموش تنے بے کیف سے دن اور ٹھڑتیں سرد ترین راتیں ،اداسی میں لپٹے ہوئے شامیں دل میں یادوں کے نشتر چھبوتے ہیں!!! آنسوؤں سے دامن بھر دیتے ہیں … آنکھوں میں گزرے لمحوں کی گرد ٹھر سی جاتی ہے…جب یہ گرد ڈول اڑاتی ہے تو بہتے ماہ وسال کے سارے منظر دھندلا دیتی ہے کوئی چارہ گر کوئی مسیحا کار گر ثابت نہیں ہوتا محبت اذیت کی صورت آنکھوں کے رستے دل میں اترتی چلی جاتی ہےاور وجود میں لہو کی مانند سرسرانے لگتی ہے ،،،ایسے میں بیتے لمحوں کی گزرتی تلخ یادیں ایک بھیانک خواب کی طرح کرب ناک عذاب کی صورت اختیار کر جاتی ہے !!! اس نے بےدردی سے اپنی آنکھیں میچتے ہوئے اپنی دونوں کنپٹیاں سہلائیں ،،،اس کےآنسو ایک تواتر سے بہتے چلے جا رہے تھے ،،،گزرے لمحوں کا ہر اک پل اک یاد اسے اندر تک رونے پر مجبور کر رہی تھی ،،،خود پر لگے ہر الزام کو وہ کیسے بھول سکتی تھی ،،،کیسے بھول جاتی ان اذیت اور دکھ کے ماوسال کو !!! رات کی تنہائی میں جب ہر ذی روح انسان نیند کی آغوش میں ڈوبی ہوئی ہر چیز سے بے گانہ و بے صبر نیند کے مزے لوٹ رہی تھی ،،ایسے میں “میرب احیات خان”بیتے لمحوں کا ایک ایک منظر اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی ،،،، “مجھے معاف کر دینا آپی ،،میں آپ کی گناہگار ہوں،،،آپی اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ آپ اتنا بڑا قدم اٹھائیں گی ،،تو آپی میں وہ سب کبھی نہ ہونے دیتی کبھی بھی نہیں ،،آپی ایک ۔۔ایک بار تو آپ مجھ سے کہہ تو دیتی ،،آپ مجھ پر اعتبار تو کرتی ،،تو میں آپ کی دنیا سے بہت دور نا آنے کے لیے چلی جاتی آپ نے ایک بار کہہ دیا ہوتا مجھے ،،،،کیوں کیا آپ نے آپی یہ سب ہاں کیوں مجھے عمر بھر کا روگ دے کر خود آپ ایسی جگہ گئی جہاں لوٹنے کا کوئی امکان نہیں کیوں ،،،جہاں سے پلٹنا آپ کے اخیار میں نہیں ،،،آپ نے مجھے اتنی مہلت تو دی ہوتی کہ میں اپنی صفائی ان لوگوں کے سامنے پیش کرتی جو کہنے کو میرے اپنے ہیں ،،،آپ نے تو سب سلسلے ناطے ایک جھٹکے میں ٹوڑ ڈالے ،،،مجھے اپنوں کی نظروں میں گناہگار ٹھہرا کر ،،،کیا قصور تھا بتائیں کیا قصور تھا کیوں اتنی بڑی سزا دے دی آپ نے کیوں!!! یہ کہہ کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ بے آواز رونے لگی ،، سنان خان نے ایک نظر خود سے لڑتی اس پاگل لڑکی پر ڈالی ،،اور پر وال کلاک پر ٹائم دیکھا ،،تو وال کلاک پر رات کے بارہ بجے ہو رہا تھا ،،اور یہ بےوقوف اور پاگل اس کے انتظار میں اپنی ننھی جان پر خود ظلم کر رہی تھی،،یہ جانتے ہوئے بھی کہ لاحاصل انتظار طویل اور گہرے سمندر کی طرح ہوتا چلا جائے گا،،،اور وہ اس گہرے خوف ناک سمندر میں ڈوب کر ابھرتے سورج کی روشنی کے مانند وہ پر سے بے یقینی کی سمندر میں گرتی چلی جائے گی ،،،لیکن وہ پاگل لڑکی اس گناہ کی تلافی کرنا چاہ رہی تھی ،،،جو کہ اس پاگل لڑکی سے سر زد ہوا ہی نا تھا !!! اس سے پہلے کے اس پاگل آنکھوں والی لڑکی کے آنسو اسے پگھلا کر موم کر دیتے ،،جس سے خاموشی سے وہ گھر اندر انٹر ہوا تھا ،،اسی خاموشی سے وہ دبے قدموں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا،،، تب ہی مسجد میں سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی ،،تو اس نے بے بسی سے وال کلاک کی جانب دیکھا ،،جو اب کے چار بجا رہی تھی ،،،یکدم اس کے ذہن میں اک جھما کا سا ہوا ،،اور ساتھ ہی ساتھ اک ناموس سی خوشبو اس کے ناک سے ٹکڑا کر چاروں طرف احاطہ کئے ہوئے تھی ،،اس خوشبو کو وہ لاکھوں میں کیا کڑوں میں پہچان سکتی تھی ،،،اک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر وہ اس کے روم کی جانب ڈور لگا دی اس نے !!!اور روم کے بیچوں بیچ پورے انہماک سے سنان خان کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ پر سکون انداز میں روم کے اندر انٹر ہوئی ،،اور بیڈ کے سرے سے ٹک کر اس کا انہماک سے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی !!! سنان خان جب نماز سے فارغ ہو کر جائے نماز تہہ کرتے ہوئے احترام سے صوفے کے پشت پر رکھ دیا ،،،اور بیڈ کی طرف پیش قدمی کی اور اسے بیڈ کی جانب پیش قدمی کرتے دیکھ کر وہ جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر ہر روز کی طرح کا دہرایا فقرہ ایک بار پھر سے دورانے لگی !!! کھانا لے کر آؤ آپ کے لیے !!! اس نے ایک نظر پاس کھڑی اس موم کی گڑیا پر ڈالی ،،پھر پاس ہی بے خبر سوتے ننھے رومی کو پیار کرتے ہوئے اس سے پوچھا ،، کیا بنا ہے کھانے میں !!!ہر بار وہ سہولت سے انکار کر دیتا تھا ،،مگر نجانے آج وہ کس جذبے سے وہ پوچھ بیٹھا ،،،اس کے اس سوال پر وہ چونک گئی ،،بلا جس بات سے وہ خود لاعلم تھی ،،،وہ اس کو کیسے بتاتی !!! پتہ نہیں!! وہ ہولے سے کہہ اٹھی سنان نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ،،اس طرح کی سچویشن کا وہ توقع بھی نہیں کرسکتا تھا ،،ہر بار کی طرح اس کا اس لمحے بھی اس کا جی چاہا کہ وہ انکار کر دے مگر نجانے کیسے اس کے الفاظ منہ سے پھسل گئے اور وہ اس سے پوچھ بیٹھا ،،اور اب جب کے وہ سوتےننھے رومی کے چہرے کو انگلیوں کی پوروں سے چھو کر محسوس کر رہا تھا،،اس کی بات سن کر حیرت سے یکدم بیڈ سے اٹھا اور اس بلکل عین مقابل آن کھڑا ہوا،، کیا مطلب ہے اس کا کہ تمہیں پتہ نہیں !!! وہ اس سے پوچھ رہا تھا اور میرب سر جھکائے بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخاتی اور اپنے دانتوں سے لب کچلنے لگی تھی،،،اس کے پاس جواب ہوتا تو وہ دیتی ،،، تم نے کھانا کھایا ہے ؟”کوئی جواب نا پاکر اس نے اس سے سوال کیا !! تو اس نے اپنا سر نفی میں ہلایا ،، کیوں؟”
مجھے بھوک نہیں تھی اس لیے !!اسے نادانستہ جھوٹ بولنا پڑا ،،اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ وہ تو کئی دنوں سے بھوکی تھی ،،خان ہاؤس کے سبھی افراد کے تذلیل اور ہتک آمیز انداز نے اس کے قدم روک لیے تھے ،،وہ تو کئی دنوں سے اس روم سے باہر نہیں نکلی تھی ،،کھانا کیا خاک کھاتی ،،
لیکن اس یہ مطلب نہیں کہ تم ہر چیز سے بے خبر ہو جاؤ ،،،اب کے سنان نے اس کی بے خبری پر چوٹ کی ،،تو اس کی آنکھیں بےاکتیار برس اٹھی ،،
وہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے!!!
آئم سوری !!میرب “
سنان کو جٹ سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ،،وہ پہلے سے ہی اذیت میں تھی ،،اور اس نے اسے اور اذیت پہنچانے کی کوشش کی!!!
میں کھانا لاتی ہوں آپ کے لیے !!!
میرب یہ کہتے ساتھ ہی مڑ کر وہاں سے جانے لگی ،،،اور تب ہی سنان اسے کھانا لانے سے منع کردیا!!!
نہیں میرب !!مجھے بھوک نہیں ہے ،،،میں نے تو ایسے تم سے پوچھ لیا تھا تم سے ،تم آرام کرو،،تمہاری طبیعت پہلے ٹھیک نہیں ہے اور ویسے بھی اس وقت کون کھانا کھاتا ہے ،،،
سنان نے اپنائیت سے کہا تو میرب چپ چاپ بیڈ پر آگئی!!!
👇👇👇👇👇
خان ہاؤس !!!کے بڑے سے ہال نما روم میں اس وقت گھر کے سبھی افراد موجود تھے ۔۔۔۔اور خوشگوار موڈ ناشتے سے انصاف کر رہے تھے ،،،داداجان ،فردوس بیگم ،تانیہ ،سنان ناشتے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے!!!
یکدم سے سنان کا جوس کے جگ کی جانب بڑھتا ہاتھ ٹھٹھکا اور اس نے سب کی جانب دیکھا اس وقت سب ہی ناشتے کے ٹیبل پر موجود تھے ،،،اور موجود نہیں تھی تو بس میرب !!!اور یہاں کسی ایک کو بھی اس کی غیر موجودگی کا احساس بھی نہیں ہو رہا تھا ،،جیسے وہ خان ہاؤس کی فرد ہی نا ہوں !!!
لیکن اس لمحے سنان کو اس کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہونے لگا تھا،،،اس نے ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور کرسی کسکا کر اٹھ کھڑا ہوا!!
کیا بات ہے سنان بیٹا !!آپ نے اس طرح ناشتہ کیوں چھوڑ دیا ،،،
اسے یوں بنا ناشتہ کئے اٹھتا دیکھ کر فردوس بیگم نے پوچھا
ممی آپ لوگ ناشتہ کریں ،،میں ابھی آیا !!
فردوس بیگم کو پریشانی سے اپنی طرف دیکھا تو ان اطمینان سے کہتے ہوئے وہ اپنے روم جانب بڑھ گیا !!
میرب !!!روم میں پہنچ کر اس نے اسے پکارا
وہ جو رومی کو نہلانے کے بعد اسے چینج کروانے میں مصروف تھی ،،،اس کی پکار پر فوراً سے بیڈ کے اوپر سے اتری !!جب تک وہ بھی اس تک پہنچ گیا تھا
تمہیں ناشتے کے لیے کیا شاہی انداز میں انویٹیشن دینا ہوگا !!!
میرب نے بس ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر جھکالی اس نے !!!
مجھے بھوک نہیں لگ رہی تھی !!!
مس میرب حیات خان !!! آپ شاید بھول رہی ہیں کہ خان ہاؤس میں کچھ roll ہے ،،اور آپ شاید ان rolls کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں،،،جب آپ کو پتہ ہے کہ بھوک ہو یا نا ہوں خان ہاؤس کے سبھی مکینوں کو کھانے ٹیبل پر موجود ہونا ہے پھر تم کیوں ایسا کر رہی ہوں !!
اس کا ہر لفظ طنز سے بھرپور اور حقیقت سے مبنی تھا!!
اب وہ اسے کیا بتاتی ،،وہ تو اس گھر کی ڑولز اور خوشیوں کو قائم رکھنا چاہتی تھی مگر اس گھر کے افراد ہی اس ڑولز کو توڑنے میں عمل پیرا تھے
خان مجھے واقع میں بھوک نہیں لگی ہے اور ویسے بھی ابھی رومی جھاگا ہے۔ اسے میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ہوں !!!
اس نے جواز پیش کر دیا
میں سلطانہ سے کہہ دیتا ہوں کہ رومی کو سنبھال لے ،،،اور تم ابھی میرے ساتھ چلو گی ،،،
اب کی بار سنان کا لہجہ نرمی لیے ہوئے تھا
آپ میری بات سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں!!!مجھے بھوک نہیں ہے !!
وہ رو دینے والے انداز میں اب کے بولی
خان ہاؤس کے کسی بھی شخص کا سامنا کرنے کا ابھی کم از کم اس ہمت نہیں تھی،،وہ کہاں سے لاتی اتنی ہمت ،،،وہ تو آپی کے ساتھ اس دن دفن ہوگئی تھی جس دن اس پر بے بنیاد الزام لگایا گیا تھا ،،وہ تو اسی دن مڑ گئی تھی!!!
میرب تم مجھے سختی کرنے پر کیوں مجبور کر رہی ہوں،،،تم میری نرمی کا فائدہ لے رہی ہوں ،،اس سے پہلے کے میں تمہیں اٹھا کر ناشتے کے ٹیبل تک لاؤں ،،،شرافت سے چلو میرے ساتھ ورنہ تم مجھے اچھے سے جانتی ہوں ،،،کہ میں ایک بھی لمحہ ضائع کئے بنا اس پر عمل بھی کرسکتاہوں یہ تم اچھے سے جانتی ہوں،،،،
غصے سے کہتا وہ یکدم سے اس کی جانب بڑھا ،،تو میرب کو مجبوراً اٹھنا پڑا ،،،آ خر کو وہ خان کے غصے کو جانتی تھی،،وہ صرف کہتا نہیں بلکہ اس پر عمل بھی کرتا ہے وہ اس کے اسی غصے سے خوفزدہ ہو جاتی تھی،،
ان دونوں کو ایک ساتھ ناشتے کی ٹیبل کی جانب بڑھتا دیکھ کر فردوس بیگم کا نوالہ منہ کی جانب جاتا وہی پر رک گیا ،،انہوں نے ناگواری نوالہ پلیٹ پر پٹخا اور کرسی گھسیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئیں !!!ان کی تقلید میں تانیہ نے بھی ناشتہ وہی چھوڑ دیا ،،جب کے چائے پیتے حیات خان نے صرف اسے غصے بھری نگاہوں سے دیکھا،،اور پھر خاموشی سے وہاں اٹھ کر چلے گئے
سنان یہ یہاں کیوں آئی ہے !!
فردوس بیگم نے خونخوار نظریں میرب پر گاڑتے ہوئے سنان سے بولیں
میں لایا ہوں نما اسے !!!آپ جو کہنا ہیں تو بہتر ہے مجھ سے کہیں !!!
سنان نے ہی نہایت غصے سے بھنویں اچکاتے ہوئے آگے ان کے مقابل آن کھڑا ہوا
بہت حیرانی ہو رہی ہیں مجھے تم پر سنان خان !!تم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی تم اسی کی سائیڈ لے رہے ہوں ،،،اس نے گھر اجاڑا ہے تمہارا ،،ڈاکہ ڈالا ہے اس نے تمہاری خوشیوں کا !!!اور تم اس کے باوجود بھی اسی کا ساتھ دے رہے ہوں !!
اب کے تانیہ نے اسے لتاڑا تو وہ یکدم سے آپے سے باہر ہوگیا
کسی نے میری خوشیوں پر ڈاکہ نہیں ڈالا چاچی !!اور نا ہی میرا گھر اجڑا ہے !!میرے خدا نے جو میرے نصیب میں لکھا تھا وہ مجھے ملا !!اور میں اپنے خدا کی رضا میں راضی ہوں !!اور بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے آپ پر تانیہ چاچی،،،بیٹی ہے یہ آپ کی کوئی دشمن نہیں آپ اپنا کا خون ہے یہ کم از کم آپ اسے بےاعتبار نہ کریں!!
وہ فرودس بیگم سے ہوتا ہوا تانیہ کی طرف آیا ،،کیا کوئی ماں باپ اپنی سگی بیٹی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرسکتا ہے ،،وہ بے پنا شاک میں تھا تو اسی لحاظ سے اسے غصہ بھی بے طرح آرہا تھا!!
ایسی ہوتی ہیں بیٹیاں ،،،ہاں سنان خان ایسی ہوتی ،،،جو کے اپنی بڑی بہن کو دکھ و تکلیف دینے والی ،،،اس کا آباد گھر اجاڑنے والی بھی یہی ہے ،،اسی کی وجہ سے آج ہماری زرتاشہ مڑ گئی ہے ،،،اس گھر کی ساری خوشیاں کھا گئی ہے یہ !!!میرا بس چلے تو میں اس کا گلہ گھونٹ دوں !!!لیکن کیا کروں سنان بیٹا میں مجبور ہوں،،بیٹا پتہ نہیں وہ کیسے ہمت والے لوگ تھے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفنا ہوگا!!!بیٹا میں اتنا حوصلہ کہا سے لاؤں بتاؤں مجھے بیٹا !!!
تانیہ تائی کے لہجے میں غصے کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کا دکھ تھا ،،ان کے لہجے میں اس قدر بے بسی تھی کہ خود بخود ان کی آنکھوں کے رستے سے رواں ہونے لگے تھے!!فردوس بیگم نے انہیں سہارا دیتے ہوئے اندر کی جانب اپنے قدم بڑھائے ،،،اب روم میں صرف تین نفوس باقی رہ گئے تھے ،،حیات خان جو بس خاموشی سے سب سن رہے تھے ،،بلہ وہ اتنا حوصلہ کہا سے لاتے ،،اور وہ ان لوگوں کے سامنے ،،جو کچھ سننا بھی نہیں چاہتے تھے ،،اور قریب ہی سر جھکائے میرب جو کہ آگے آنے کی ہمت بھی نہیں کر پائی تھی ،،اور اس قدر تذلیل اور ہتک آمیز رویے پر اس آنکھوں سے خودبخود اس آنسو بہنے لگے ،،،کاش وہ یہ سب سننے سے پہلے کہیں غائب ہو جاتی ،،،وہ اس لیے تو باہر آنے سے کتراتی تھی ،،وہ سنان خان کے سامنے خان ہاؤس کے مکینوں کا رویہ سامنے لانے سے بھی ڈر رہی تھی ،،یہ سب ظاہر کر کے وہ اس گھر کے نفوس کو مزید تکلیفوں کے بوجھ تلے دبانا نہیں چاہتی تھی،،وہ اسی لیے خاموش سب کچھ سہہ رہی تھی ،،لیکن وہ بھی ان کے رویے سے بے خبر نہیں تھا ،،زرتاشہ کی موت کے کیسے ان لوگوں نے پینترا بدلہ تھا ،،اپنے رویوں اور اپنے لفظوں کی مار سے اسے بری طرح سے ٹارچر کیا گیا تھا اس کے ساتھ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں تھا،،،
غصہ تو اسے حیات خان پر بھی تھا،،کس قدر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی تھی انہوں نے جو کے اس گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے مگر آج ان کی اپنی بیٹی جیسی بھاتیجی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہیں تو وہ صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے !!!
دیکھ رہے ہیں آپ ان سب کو آغا جان ،،ان سب کے رویوں کو ،،بلکہ میرے سامنے یہ حال ہے تو میرے پیٹھ پیچھے تو آپ لوگ شاید اس کا جینا حرام کر دیتے ہونگے ،،،مجھے تو آپ پر حیرانی ہورہی ہیں آغا جان !!سب کچھ آپ کی نظروں میں ہے اور آپ صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں ،،،وائے،،وائے
سنان نے کہتے ہوئے انہیں بری طرح جھنجھوڑا،،،
سنان بیٹا ،،میں بہت مجبور ہوں ،،
انہوں نے بس اتنا ہی کہا ،،سوائے تماشا دیکھنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ،،
سنان تو گویا ان کی بات سن کر بھڑک اٹھا ،،
تو پھر ٹھیک ہے آغا جان !!ایک فیصلہ آپ نے میری زندگی کے بارے میں بہت ہی پہلے کیا تھا ،،اب ایک فیصلہ میں کروں گا!!!اور آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ میرے فیصلے ہمیشہ اٹل ہوتے ہیں ،،،کہہ دیجئے آپ سب سے یا تو میرب کے ساتھ اپنا رویہ درست کر لیں ،،یا پھر میرا فیصلہ سننے کے لیے تیار رہیں ،،اور ہوسکتا ہے آپ لوگوں کو میرے اس فیصلے سے دکھ پہنچے ،،لیکن یہ میرب کی زندگی کا سوال ہے ورنہ میں جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچ جاؤں گا !!
پورے یقین ،، اعتماد عزم اور غصے کے ملے جلے احساس سے وہ انہیں وارن کرتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا،،اور غصے سے باہر کی جانب بڑھا،،
اور پیچھے رہ گئے دونوں نفوس ،،سنان خان کے اس فیصلے سے پوری جان سے کانپ گئے تھے،،
