No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
اس نے اپنے ہاتھوں کو ادھر ادھر مارا تو اسے محسوس
ہوا کے وہ ایک نرم سی چیز پر لیٹی ہوئی تھی تو جٹ
سے اس نے اپنی آنکھوں کو کھولتے ہوئے چاروں اطراف
کا جائزہ لیا تو اس کے منہ سے ایک دم سے واؤ نکلا
کیونکہ اس نے خود کو اس وقت ایک بہت ہی اسٹائلش
ماسٹر بیڈ روم میں پایا یہ ایک نہایت ہی ڈیزائننگ
بیڈروم تھا جہاں چھت پر ہر طرف لائٹ ہی لائٹ تھی
اس روم میں ڈیزائنر نے نہایت ہی قدرتی طرز کا ٹچ
بھی شامل کیا تھا جہاں سے ڈیزائن جدید ڈیزائن سے
تھوڑا سا اور زیادہ قدرتی اور نرم نظر آتا ہے اور اس
بیڈروم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس بیڈ روم
کی کھڑکیاں دوسرے بیڈروم سے بہت زیادہ الگ اور
خوبصورت طرز کی جدید اسٹائلش اور دیوہیکل
کھڑکیاں تھی اسکائی لائٹس، فرش سے چھت تک آتی
کھڑکیاں منظر کو اور بھی زیادہ خوبصورتی بخش رہی
تھی وہ مکمل طور پر اس بیڈروم کے سحر میں جکڑ چکی تھی !!!
آہہہہہہ ۔۔
کیسا لگا ہمارا بیڈروم مسسز خان !!!
اس کا سارا سحر ایس کے کی آواز نے تھوڑا تو اس نے
ایس کے کی جانب دیکھا جو کہ دروازے کے بیچوں
بیچ کھڑا اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا تو
اس نے اپنی نظریں جلدی سے دوسری جانب پھیرلیں
اور اسے اس طرح نظریں پھیرتے ہوئے دیکھ کر ایس
کے نے اس کی جانب اپنے قدم بڑھائے اور جا کر اس کے
سامنے کھڑے ہوکر ایس کے نے اس کے چہرے کو اپنے
دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور جھک کر اس
کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے تو اس کی اس حرکت
پر وہ شاک کے عالم میں ایس کے کی جانب دیکھنے لگی
جانم !!!
تم نے اس دن میرے آفس میں جو کچھ بھی دیکھا تھا
وہ صرف تمہاری نظروں کا دھوکا تھا صرف دھوکا ۔۔اور
ایسا دھوکا جس کی لیپٹ میں ہم دونوں نہیں بلکہ وہ
بھی آئی تھی جس نے مجھ سے میرے پیار اور میرے
عشق کو چھیننے کی کوشش کی اور تمہیں دکھ
پہنچانے کی۔۔اور دیکھوں جانم اس کا انجام اللّٰہ نے
بہت سے اس جیسے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنایا ہیں ۔۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ “سنان خان “
میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔۔جب تمہارے وہاں سے چلے جانے کے بعد اس نے ۔۔۔۔
وہ پھر ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر اس دن کا سارا واقع اسے بتانے لگا تو وہ پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہو کر اس کی ساری باتیں سننے لگی ۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️
وہ اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھولے کچھ ضروری میل چیک کر رہا تھا کہ پاس پڑا انٹرکام بجنے لگا تو اس نے مصروف انداز میں ہاتھ بڑھا کر انٹرکام اٹھایا اور اپنے کان سے لگایا تو دوسری طرف اس کا سیکرٹری تھا جو کہہ رہا تھا
سر !!!
کوئی مس غزل آپ سے ملنا چاہتی ہے ۔۔تو میں انہیں کیا جواب دوں ۔۔۔۔
تم ایک کام کروں جونسن اسے انتظار کرنے کا کہوں تب تک جب تک میں یہ سارے امپورٹڈ میل چیک نہ کر لوں ٹھیک ہے جونسن ۔۔
اس نے وہی مصروف انداز میں کہہ کر انٹرکام رکھا اور پھر سے میل چیک کرنے میں مصروف ہوگیا اور پھر ٹھیک آدھے گھنٹے بعد اس کے آفس کا دروازہ کھول کر غزل اندر داخل ہوئی اور اس کے ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنی لگی
کیسے ہوں ایس کے جان !!!
اس کی جانب دیکھ کر اس نے فدایانہ انداز میں سنان سے پوچھا
مجھے تو ٹھیک لگ رہے ہوں تم بلکہ پہلے سے زیادہ ہینڈسم اور اسمارٹ لگ رہے ہوں ڈارلنگ ۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے اپنی ایک آنکھ جھپکاتے ہوئے کہا تو سنان نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا
What do you mean by all these things?
مطلب !!!
مطلب بہت نکلتے ہیں جان تم بس ایک بار میرے ہو جاؤ تو میں تمہیں سارے مطلب سمجھاؤ گی ۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے اور جا کر اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور اس کے بعد اس نے اپنے ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو تھام کر اس نے بھوسہ دیتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو کہ اب اس کی جانب نہایت ہی غضب ناک تیوروں سے دیکھ رہا تھا
Your so daring girl you touched me
why!!!
اس نے غضب ناک انداز میں اپنے ہاتھوں کو ایک جھٹکے میں اس کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے اس نے کہا
اس کے ایک ہی جھٹکے سے وہ سنبھل نا سکی اور دو قدم پیچھے جا کر گر گئی تھی
اب تم مجھے چھوڑنا چاہتے ہو اس چھوٹی سی لڑکی کے لیے ایس کے پہلے تو تم نے مجھ سے کیا کیا نہیں کہا تھا کہ میں تمہارے لیے یہ کروں گا وہ کروں گا اب تمہارے وہ وعدے کہاں چلے گئے بتاؤ مجھے کہاں چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے غزل نے رونا شروع کیا تو سنان نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا جو کہ صاف جھوٹ بول کر اب کے دروازے کی جانب دیکھنے لگی تو اس نے بھی اس کی نظروں کے تاقب میں دیکھا جہاں اسے میرب کا انچل لہراتا ہوا نظر آیا تو اسے یکدم سے غزل کے اس سارے گیم کا پتا چل گیا کہ غزل نے یہ ڈرامہ کیوں راچایا تھا
ہاہاہاہاہا!!!
تو کیسا لگا میرا ڈرامہ مسٹر ایس کے ۔۔۔
اس نے پاگلوں کی طرح قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا
ایس کے عرف سنان خان تمہارے خیال میں مجھے اس اداکاری کے لیے کوئی ایوارڈ ملنا چاہیے ۔۔کیوں میں نے ٹھیک کہاں ناں ۔۔
اس نے ایس کے عرف سنان خان کی جانب دیکھتے ہوئے مزے سے کہا
ایوارڈ !!!
تم نے ٹھیک کہا مس غزل تمہیں اس گیم کے لیے ایک بہت ہی بڑا ایوارڈ ملنا چاہیے وہ بھی ایس کے کی جانب سے ۔۔۔۔
ایس کے نے غزل کی جانب نفرت سے دیکھ کر غراتے ہوئے کہا اور وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔ اور جب اسے پارکینگ کی جانب بڑھتے دیکھ کر جونسن نے اس کے لیے پھچلے سیٹ کا دروازه وا کیا اور اس کے بیٹھنے کا انتظار کیا اور جب ایس کے بیٹھ گیا تو اس نے دروازه بند کیا اور آگے جاکر بیٹھ گیا
جونسن !!!
یس سر !!!
ابھی جو لڑکی میرے آفس میں آئی تھی جونسن تم اسے ایسی جگہ لے کر جاؤ گے جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے سمجھے جونسن !!!
ایس کے نے سنجیدگی سے جونسن سے کہہ کر گاڑی سے باہر دیکھا تو جونسن نے ناسمجھی سے اپنے باس کے سنجیده چہرے کی جانب دیکھا جہاں کچھ بھی پڑھنا ناممکن تھا
😠😠😠😠😠
