No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
مسٹر بیٹری ، اوہ سوری ،،،
مسٹر اشعر ،،، میں یہ کہنے آئی تھی آپ سے کے آج میں اور ثنا باہر ڈینر کرنے جا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو بھی انوائیٹ کیا جائے اس لیے میں آپ سے یہ پوچھنے آئی ہوں کہ آپ کو ہمارے ساتھ باہر ڈینر کرنے میں کوئی پروبلم تو نہیں ،
میرب کے منہ سے جلدی میں مسٹر بیٹری نکلا تو اس نے شرمندگی سے سامنے دیکھا تو اسے اپنی جانب حیرت سے تھکتے ہوئے پایا تو اس نے جلدی سے اسے سوری کرتے ہوئے کہا
“Why not miss khan”
کیوں نہیں ضرور ،،مجھے کیا پروبلم ہوسکتا ہے ،، آپ کے ساتھ ڈئنر کرنے میں مس خان ،
بیٹری نے مسکرا کر میرب کی جانب دیکھ کر کہا
تو پھر چلے ہم ،،،
میرب نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ دونوں باہر کی جانب نکل گئے ۔۔۔
💞💞💞💞
ایس کے صاحب !!!
ایس کے کب سے اپنی نظریں مرکوز کیے سامنے ہنستے
ہوئے ان دونوں کو غصے سے دیکھنے میں مصروف تھا
کہ اپنے ساتھ بیٹھے مسٹر جوزف کی باتیں بھی دھیان
سے نہیں سن سکا وہ ۔۔ جو کہ کب سے اسے آوازیں
دینے میں مصروف تھے مگر وہ کہاں متوجہ تھا وہ تو
سامنے غصے سے ان دونوں کو دیکھ رها تھا کہ اچانک
سے اس کے ہاتھوں میں پکڑا گلاس اس کے ہاتھوں کہ
دباؤ سے ایک چھناکے سے ٹوٹ کہ اس کے ہاتھوں کو
لہو لہوان کر گیا مگر اسے کہا فرق پڑا وہ اسی طرح
بیٹھا ان کی جانب گھورنے میں مصروف تھا انہیں ،،
اور اس کے ہاتھوں سے بہتے لہوں کو دیکھ کر جونسن
نے آگے بڑھ کہ اس کے ہاتھوں کو پکڑنا چاہا لیکن اس
نے ناگواری سے جونسن کی جانب دیکھا اور اٹھ کر ان کی جانب بڑھنے لگا ،،،
واۂ !!!
یہاں تو دعوت اڑائی جا رہی ہے ،،، مجھے بتائے بغیر
ایس کے نے راستے میں ایک ٹیبل کے سامنے سے ایک کرسی اٹھائی اور بلکل میرب کی کرسی کے سامنے رکھتے ہوئے اس پر ڈھپ سے بیٹھ کر بیٹری کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا
ایس کے !!!
بیٹری اور اس سے آگے کچھ بولتا کہ ایس کے نے اس کی جانب گھورتے ہوئے دیکھا تو وہ اس سے آگے کچھ بھی نہ کہہ سکا ،،،
بیٹری میں نے تمہیں صاف کہا تھا نہ کہ میری “مسسز ” سے دور رہنا لیکن شاید تم ایسے نہیں سمجھو گے ،، اس سے پہلے کے میں تمہیں trailer دیکھا دوں تم خود ہی یہاں سے چلے جاؤ بیٹری !!!!
ایس کے نے اپنی سرخ انگارہ آنکھوں کو بیٹری کی آنکھوں میں گھاڑتے ہوئے کہا
مسٹر ایس کے تمہیں جو کرنا ہے جا کر کروں ہم تم سے نہیں ڈرتے سنا تم نے ،،،،
میرب نے ایس کے کی جانب ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا ،تو ایس کے یکدم سے اٹھ کر اس کی جانب جھکنے لگا اور اسے اس طرح اپنی جانب جھکتے دیکھ کر میرب پیچھے ہٹنے لگی مگر اچانک سے اس نے اسے اپنے دونوں مضبوط بازؤں میں بھر کر اسے اٹھایا اور طنزیہ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے اسے لیکر باہر کی جانب بڑھنے لگا اور وہ شرم سے اپنی نظریں جھکانے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔
😠😠😠😠😠😠
چھوڑو مجھے !!!
میں نے کہا چھوڑو مجھے سنا نہیں تم نے ،،
ایس کے اسے ایسے ہی اٹھائے باہر کی جانب نکل رہا تھا ، کہ یکدم اس کے چلانے سے ایک لمحے کو رکھ کر اس کے چہرے کی جانب دیکھنے لگا تو اسے اپنی جانب دیکھتے پاکر میرب نے اپنی نظریں دوسری جانب موڑ لی ۔۔۔اور اس کے اس طرح کرنے سے ایس کے نے اسے پھکینے والے انداز میں نیچے بیٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ نیچے بیٹھ کر مکمل اس کی جانب متوجہ ہو کر اسے دیکھنے لگا
تو مسسز خان کونسی سزا آپ کو پسند ہے ۔۔۔
ایس کے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا
کیا مطلب ہے اس بات کا “مسٹر ایس کے “
میرب نے مسٹر ایس کے کو کھینچ کر اس کی جانب دیکھ کر کہا
مطلب یہ کہ تمہیں سکون ملتا ہے ناں مجھے تنگ کرنے میں “مسسز خان “
ایس کے نے اپنا ایک ہاتھ اس کے دائیں اور ایک بائیں طرف رکھتے ہوئے اس کی جانب جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس سے کہنے لگا
ہاں ملتا ہے مجھے سکون تمہیں تنگ کرتے ہوئے تمہیں ترپاتے ہوئے بہت زیادہ سکون ملتا ہے مجھے مسٹر ایس کے ،،،
اسے اپنی جانب جھکے دیکھ کر اس نے ناگواری سے اس کی جانب دیکھ کر کہا
بہت اچھی بات ہے مسسز خان کے تم صرف مجھے نوٹ کرتی ہوں ،،، صرف مجھے ۔۔۔
ایس کے اس کے چہرے پر اٹکلیاں کرتے شرارتی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہنے لگا
