Hayat E Zindagi By Sumyia Baloch Readelle50184

Hayat E Zindagi By Sumyia Baloch Readelle50184 Last updated: 23 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hayat E Zindagi

By Sumyia Baloch

سر !! اس ڈھانچے نما انسان کو میرے حوالے کر دے ۔۔پھر دیکھے آپ کے میں اس کی کیا حالت کرتا ہوں ۔۔۔ جونسن نے غریب پلے بوائے کی آنکھوں میں اپنی سرخ رنگ کی آنکھیں گھارتے ہوئے کہا اور غریب پلے بوائے نے جب جونسن کی آنکھوں میں دیکھا تو ڈر کر اپنی نظریں ایس کے کی جانب بڑھا کر ایس کو دیکھنے لگا "Cool down" My baby " نہیں جونسن بیٹا ،یہ میرا شکار ہے،اور مجھے یہ شکار کرتے ہوئے بہت مزا آ رہا ہیں ،کیوں غریب پلے بوائے ،، ایس کے نے جونسن کو پرسکون کرنے کے بعد غریب پلے بوائے کی جانب دیکھ کر مزے سے کہا کک۔۔۔کیا مطلب اس بات کا ، غریب پلے بوائے نے ڈر کر ایس کے سے پوچھا جونسن ڈئیر!!! اب اسے سمجھانا پڑے گا کہ اس کا کیا مطلب ہے کیوں جونسن ،، ایس کے مزے سے چیونگم چباتے ہوئے جونسن سے کہنے لگا تو جونسن نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملایا اور جاکر ایس کے کی آسٹن مارٹن سے ایک جدید ماڈل کا پستول لے کر ایس کے جانب بڑھ کر اس پستول کو ایس کے کی جانب بڑھایا تو ایس کے نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے اس پستول کو جونسن کے ہاتھوں سے تھام کر غریب پلے بوائے کے پیشانی پر رکھ دیا تو غریب پلے بوائے نے ڈرتے ہوئے اپنی نظریں اوپر اٹھائی جہاں اس نے پستول کو اپنی پیشانی پر رکھے ہوئے دیکھا تو ڈر کر کانپنے لگا تو پھر تم تیار ہوں ،غریب پلے بوائے مرنے کے لیے ۔۔۔ پستول غریب پلے بوائے کی پیشانی پر ہلکے سے مارتے ہوئے ایس کے نے اس غریب پلے بوائے سے پوچھا پلیز ،،پلیز مجھے جانے دوں میری ماں میرا انتظار کر رہی ہوں گی پلیز ۔۔۔ غریب پلے بوائے نے نیچے زمین پر گر کر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایس کے ،کے پیرؤں کے اوپر رکھتے ہوئے گرگرا کر ایس کے سے کہنے لگا تو ایس کے نے اپنے پیروں سے اسے دکھا دیتے ہوئے کہا پہلے کیوں یاد نہیں آئی تمہیں وہ ماں جس نے تمہیں جنم دینے کے بعد پالا پوسا تمہاری ہر جائز ناجائز خواہشات کو پورا کیا اس ماں نے ،،پہلے کیوں یاد نہیں آیا تمہیں ہاں بولوں کیوں ،،، ایس کے نے غراتے ہوئے اس غریب پلے بوائے کے پیشانی پر پستول سے مارتے ہوئے کہا پلیز مجھے معاف کر دوں ،،میں آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا جس سے میری ماں کو تکلیف پہنچتی ہوں پلیز ،،پلیز مجھے جانے دوں ،، اس کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا اور وہ ایس کے کی جانب ہاتھ جوڑے کھڑا اس سے معافی مانگ رہا تھا اسے احساس دلایا گیا تھا کہ وہ جو آئے روز لڑکیوں کو چھیڑنا اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ آوارہ گردیاں کرنا اسے سب کچھ اس سمے یاد آنے لگا تھا۔۔۔ اور تم لوگ مجھے اس ایریا میں دوبارہ نظر آئے تو میں تم سب کی چمڑی ادھیر کر رکھ دوں گا ۔۔ سنا تم لوگوں نے چمڑی ادھیر کر رکھ دوں گا ،، ایس کے غریب پلے بوائے کو احساس دلانے کے بعد اب ان سب آواروں کے سامنے کھڑے ہوکر غراتے ہوئے کہنے لگا تو سب ایس کے کی بات مانتے ہوئے وہاں سے بھاگنے والے انداز میں رفو چکر ہوگئے اور جونسن انہیں اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھ کر اپنی ہنسی پر کنٹرول نہ رکھ سکا اور ہنستا ہی چلا گیا ⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩⁦♥️⁩