No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اُسے چاہتا ہوں
جو بھی اُس پیڑ کی چھاوں میں گیا بیٹھ گیا
اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اُس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمھیں علم نہیں
چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
اُس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
بات دریاوں کی، سورج کی، نہ تیری ہے یہاں
دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا
بزمِ جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا، بیٹھ گیا
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
شکر ہے چھوٹے خان جی !!آپ آگئے ۔۔۔میں کافی دیر سے ہی آپ کا انتظار کر رہا تھا ،،
رات آٹھ بجے کے قریب وہ جیسے ہی گھر کے اندر انٹر ہوا،،،افضل کو انتہائی پریشانی کی حالت میں ٹہلتے دیکھ کر سنان ٹھٹکا ،،
کیا بات ہے افضل بابا!!آپ اتنے پریشان کیوں ہیں !!سنان نے ان کے چہرے پر پھیلے فکر مند کے جال دیکھ کر پوچھا ،،
چھوٹے خان جی !!وہ میرب بی بی کو بہت تیز بخار ہے اور وہ بخار میں بہت تپ رہی ہیں ،،افضل بابا نے بتایا تو بڑی تیزی سے ہاتھ میں پکڑے کچھ کاغذات سامنے صوفے پر پھینکا اور انہیں اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ تیزی سے روم کی جانب بھاگا ،،
سنان کو روم میں انٹر ہوتے دیکھ کر سلطانہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا جو کب سے میرب کے پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی ،،وہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی ،،
سنان نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چیک کی تو وہ یکدم کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹ گیا ،،،اس کا پورا جسم بخار کی شدت سے جل رہا تھا،،،
افضل بابا!!!کب سے بخار ہے میرب کو ،،،اور آپ مجھے کال کر کے نہیں بتا سکتے تھے ،،،
وہ ان پر چلایا
چھوٹے خان جی ،،،میں آپ کا نمبر کب سے ٹرائے کر رہا تھا ،،مگر آپ کا نمبر مسلسل بند آرہا تھا،،
انہوں نے ڈرتے ڈرتے وضاحت دی ،،وہ جانتے تھے اپنے چھوٹے خان جی کے غصے کو ،،،
میں اگر بزی تھا ،،تو کیا گھر کے باقی افراد مڑ گئے تھے ،،آپ ان کو نہیں بتا سکتے تھے،،،
میرب کو نیم غنودگی کی حالت میں دیکھ کر وہ دھاڑا،،
میں گئی تھی چھوٹے خان جی ،،،مگر بڑی بیگم نے سختی سے یہ کہہ کر وہاں سے روانہ کیا کہ میرب سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے!!! چھوٹے خان جی میں نے میرب بی بی کے پیشانی پر ٹھنڈی پٹیاں بھی رکھا تھا ،،،مگر میرب بی بی کا بخار ہے کہ نہیں اتر رہا ہے،،اس لیے مجبوراً ہم نے چھوٹے خان جی آپ کو کال کرنا پڑا لیکن!!!
اب کے سلطانہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا!!!تو سنان کا جی چاہا کہ نیچے جا کر اس گھر کے افراد سے پوچھ لیں کہ وہ اتنے بے حس کسے ہوگئے تھے وہ ،،،جس کی ذرا سی تکلیف پر ان سب کی جان نکلتی تھی اور جس کی ہلکی سی آہ بھی اس گھر کے دور دیوار ہلا کر رکھ دیتا تھا ،،،آج اس کے درد و تکلیف اور آنکھوں میں سے نکلے آنسو کرائیں بھی کسی کو پگھلا نہیں سکے تھے،،،شاید ان کے دل کی جگہ پتھر لگا ہوا تھا،،،جو کہ ان پر کسی چیز کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا ،،
افضل بابا،،،آپ ڈرائیور کو کہیں جلدی سے گاڑی نکالے،،اور سلطانہ تم رومی کو لے میرے گاڑی میں بیٹھ جاؤں ،،فورا ۔۔۔
ان دونوں کو ہدایت دینے کے بعد وہ جلدی سے میرب پر جھکا اور اس کے نازک وجود کو بازوؤں میں بھرا اور بھاگنے کے انداز میں گاڑی کے طرف جا کر اسے گاڑی میں ڈال دیا،،،
گل خان،،،میرب کو جلدی سے ہاسپٹل لے جا کر پہنچو ۔۔۔میں بس ایک منٹ میں آرہا ہوں،،،
خان ہاؤس کے پرانا ڈرائیور جو کہ ہر وقت الرٹ رہتا تھا،،سنان کی ہدایت پر وہ جلدی سے گاڑی رئورس پر ڈال کر وہاں سے گاڑی زن سے بھاگا گیا،،
ان لوگوں کے جانے کے بعد سنان نے بنا ٹائم ضائع کیے بغیر وہ روم کی جانب بڑھ کر ،،اپنے چند ضروری ڈاکومنٹس اور ضروری سامان بیگ میں ڈال کر ،،تیزی سے روم سے نکل کر سیڑھیاں عبور کر کے نیچے آگیا ،،اور رک پورے گھر پر ایک نظر ڈالی ،،،
Goodbye ,,,
خان ہاؤس ،،والوں ،،،تم لوگوں نے مجھے خود مجبور کیا اس فیصلے پر ،،،ایسے تو ایسے ہی سہی ،،،،
پورچ میں جاکر اپنی سیاہ مرسیڈیز کی جانب بڑھ کر اپنا بیگ رکھا ،،،اور جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور گاڑی ہاسپٹل والے رستے پر ڈال دی اس نے ،،،
ڈاکٹر آذر !!کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے ن،،
اپنے فیملی ڈاکٹر کو ایمرجنسی وارڈ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر اس نے پوچھا ،،اس کا لہجہ تشویش سے چوڑ تھا ،،،
ینگ مین ,,ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے ،،،میں نے انہیں سکون آور انجکشن لگا دی ہے ،،،چند گھنٹے وہ دواؤں کے زیر اثر ہے ،،آپ چاہے تو انہیں گھر لے جا سکتے ہیں،،،
کیا میں مل سکتا ہوں اس سے ،،،اس نے پوچھا
وائے نوٹ کیوں نہیں آپ اسے دیکھ سکتے ہیں،،،
ڈاکٹر آذر اسے کچھ ہدایات دیں کر اپنے روم کی جانب بڑھ گئے اور وہ بھی اس روم کی جانب بڑھ گیا جس میں میرب ایڈمیٹ تھی ،،،،
سنان روم میں داخل ہو کر میرب کے اوپر جھک کر اس کے پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ،،،اور اس کے نازک وجود کو بازوؤں میں بھر وہ ہاسپٹل سے نکل کر وہ اپنے گاڑی کے طرف بڑھ کر اس نے ڈور کھول کر میرب کو احتیاط سے سیٹ پر لیٹا کر پر اس نے سلطانہ کی گود سے رومی کو لے کر وہ افضل بابا کی جانب آیا ،،،
افضل بابا !!آپ سب کچھ چیک کر لیا ناں کچھ رہ تو نہیں گیا،،،،
نہیں چھوٹے خان جی!!!افضل بابا نے سر جھکائے افسردگی سے کہا
بابا !!!یہ آپ کو منہ کیوں لٹکا ہوا ہے ،،،
سنان خان نے سب کے افسردہ چہروں پر نظر دوڑا کر افضل بابا سے پوچھا
آپ کیوں جا رہے ہیں چھوٹے خان جی !!!اور اگر بڑی بیگم اور بڑے خان جی نے پوچھا آپ کے بارے میں تو ہم کیا جواب دیں گے”
تم لوگوں کو کسی کے سامنے جواب دینے کی ضرورت نہیں ،،،،میں خود ہینڈل کر لوں گا ،،،سمجھ گئے ،،،اور اگر بالفرض پوچھ بھی لیا تو کہہ دینا ان سے ،،آپ کا میرب کے ساتھ کوئی تعلق رشتہ نہیں رکھنا چاہتے ہیں ،،،تو پھر سنان کو بھی بھول جائیں ،،،،
خان ہاؤس ،،،میں سنا ن خان اس وقت قدم رکھے گا جب وہ اپنے دل میں میرب سنان خان کے لیے گنجائش پیدا کر سکیں گے،،،اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے ،،،،تو بھول جائیں کہ کبھی کوئی سنان خان اس گھر میں بستا تھا ،،
فیصلہ تو وہ کر چکا تھا ،،،اس گھر کے مکینوں نے اسے اسقدر سنگدل بننے پر ان لوگوں نے خود مجبور کیا تھا،،،اس نے یہ فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا،،،
✨✨✨✨✨
کوئٹہ میں رات بھر بارش ہوئی اور صبح بادلوں سے برف کے گولے گرنے لگے،چمن ، چاغی ،کوہ خواجہ عمران اور توبہ اچکزئی میں برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا کوئٹہ میں گزشتہ رات ہونے والی بارش کے بعد صبح برف باری کا سلسلہ شروع ہوا، وادی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک پینچ گیا تھا
کوژک ٹاپ پر شدید برفباری سے کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہوئی، کوژک ٹاپ سے بھاری مشینری کی مدد سےبرف ہٹائی جارہی تھی۔ رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری تھا۔
اس کی تو بارش کے موسم سے جان جاتی تھی ،،،،اب بھی وہ ڈر کے مارے کمبل کے اندر اپنے آپ کو چپائے ہوئی تھی ،،،،سنان صبح کا گیا ابھی تک نہیں آیا تھا نجانے آج کیوں اس نے دیر کر دی تھی پہلے کبھی اس نے اتنا دیر نہیں کیا تھا باہر برف باری اور طوفانی بارش اپنے جوبن پر تھی ،،،تب ہی اچانک سے روم کی light چلی گئی تو اس کے ڈر میں اور بھی زیادہ اضافه ہوگیا ،،، ستم یہ کے اچانک سے آندھی اور طوفان سے بادل زور سے گرجتے برستے بجلی زور دار طریقے سے کڑھتے تو وہ ڈر کے مارے کمبل میں گھس جاتی تھی ،،،،پتا نہیں بارش کیوں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ،،وہ کمبل کے اندر بیٹھی بارش رکنے کی دعا مانگنے لگی
اسے یاد آیا کہ کیسے وہ خان ہاؤس میں جب کبھی بھی ایسے موسم میں وہ سارا دن ساری رات ڈر کے مارے ماں کے گھٹنوں سے چپکی رہتی تھی ،،اور تب تک ان کے روم سے باہر نہیں نکلتی جب تک بارش ختم نہیں ہو جاتی تھی ،،،ان کا خیال آتے ہی اس کے پرانے زخم پر سے ہرے ہونے لگے ،،،گزرے ان لمحے کے تکلیف ده اور درد زاده حقیقتوں سے اس کی آنکھوں سے ابر برسنے لگا ،،،،
مما !!!آپ نے مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کیا ،،،،میں نے تو کبھی بھی ایسا نہیں چاہا مما آپ نے تو مجھے اپنی نظروں میں گرا دیا کیوں آخر کیوں ،،،میں تو آپ کی بیٹی تھی کم از کم آپ تو مان رکھتیں میرا ،،،دیکھے مجھے آپ کے بنا ڈر لگ رہا ہے ،،،پلیز مما مجھے اپنے پناہوں میں چھپالیں پلیز ،،،میں آپ کو کبھی بھی تنگ نہیں کروں گی ،،،پلیز مما مجھے بلالیں ،،،صرف ایک بار پلیز مما ،،،،پلیز مجھے بلالیں ،،،
وی دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپائے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ،،
سنان کچھ دیر روم کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا اسے دیکھتا رہا ،،،کچھ دیر ہی پہلے وہ گھر آیا تھا ،،،جب روم کے اندر اس نے قدم رکھے تو میرب کی سسکاریوں کے درمیان اس کے ادا ہوتے لفظوں نے اس کے قدموں کو وہی جکڑدنے پر مجبور کر دیا ،،،
وی کتنا خوش فہم تھا ،،کہ اسے اپنے آپ پر پورا یقین تھا ،،،کہ وہ اپنی محبت سے اس کی ساری دکھ درد اور تکلیفوں اور تہنائیاں بانٹ لے گا ،،،ان بھولی بسری یادوں کو کبھی بھی اس کے پاس بھی بھٹکنے نہیں دے گا ،،،
میرب میں نے کیا کہا تھا تم سے ،،،،کہ تم آب ان سنگدل لوگوں کو کبھی یاد نہیں کروں گی ،،،،،آگے بڑھ کر سنان نے اس کے اوپر سے کمبل پرے ہٹاتے ہوئے اسے بری طرح جھنجھوڑتے ہوئے بولا
خان!!!بارش۔۔۔۔۔۔۔روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھی
سنان نے اب کی بار اس کا بغور چہرہ مطالعہ کیا،،،جابجا
رونے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ،،،،اذیت سے چوڑ آنکھیں اس کے ڈر کا علان کر رہی تھی ،،،ایک دم سے سنان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ،،،بارش سے تو وہ شروع سے ڈرتی تھی ،،اب بھی اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کا ڈر کے مارے برا حال ہوگیا تھا
سنان نے آگے بڑھ کر اسے شدت سے اپنے سینے سے لگا دیا تو وہ اس کے سینے سے لگی بلک بلک کر رونے لگی ،،سنان نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اسکے پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے ،،،،
اب تم وعدہ کروں کہ تم دوبار ایسے نہیں روؤں گی ،،،،سنان اس کے آنسو پہنچتے ہوئے اس سے بولا تو اس نے صرف اپنا سر ہلایا ،،،،
اچھا اب یہ بتاؤ کہ تم نے کھانا کھایا،،،سنان نے اس سے پوچھا
نہیں ،،،،میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی،،،میرب اس سے بولی
ٹھیک ہے ،،،،جب تک تم کھانا لے کر آؤ تب تک میں فریش ہو کر آتا ہوں ،،،،وہ اس سے بول کر فریش ہونے کے لیے واش روم کی جانب بڑھ گیا
🌷🌷🌷🌷🌷🌷
میں آپ سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں ،،،،اس کے لہجے میں اتنی شدت اور آنکھوں میں بے پنا پیار اور عقیدت بھرا احساس تھا ،،،وہ بھی اپنی آنکھوں میں دیر سا پیار لیے اسے تکنے میں مصروف تھا اور اس کے اس اظہار پر وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساس سے اس کی جانب دیکھنے لگا ،،،حیرت تو دور کھڑے ایک اور نفوس کو بھی ہوا تھا ان کو اس طرح ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے انداز میں دیکھ کر ،،،، اب کے وہ نفوس شاک کی عالم میں پاس پڑے صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی تھی،،،
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ،،،،نہیں نہیں ،،،،یہ کہہ کر وہ نفوس بھاگنے والے انداز میں وہاں سے چلی گئی تھی ،،،
میں بھی تم سے بے پنا محبت کیا جاناں عشق کرتا ہوں ،،،،جاناں تم نے اظہار کر کے میرے عشق کو اور بھی زیادہ بلند ترین آسمانوں پر پہنچا دیا ہے جانم ،،،،،اس نے کہہ کر اس کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے اس پر اپنے لب رکھ دیئے تھے ،،،،اور اس کے طرح کرنے سے اس کے چہرے کی رنگت سرخ انار ہوگئی تھی اور اس کو اس طرح شرم سے سرخ گلاب کی طرح سرخ ہوتے دیکھ کر وہ یکدم سے مسکرا کر رہ گیا تھا ،،،،
✨✨✨✨✨
میں نے کہا تھا ناں آپ سے کے ان کی بیچ کچھ چل رہا ہے لیکن آپ نے ہر بار مجھ سے کہا کہ مجھے ان دونوں ہے پورا یقین ہے ،،،اب دیکھے ناں کیسے ان دونوں نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے ،،،،
جب وہ شخص اپنے روم میں داخل ہوئی تو اس کے بیڈ کے سامنے پڑے ٹیبل لیمپ کے اوپر اس کا سیل بجنے لگا اس نے ٹیبل تک پہنچ کر سیل اٹھایا تو سیل پر مانوس نمبر دیکھ کر اس نے جٹ سے کال ریسیو کر کے اس نے روتے ہوئے کچھ دیر پہلے اپنے اوپر جو قیامت برپا ہوا تھا دوسرے طرف کے شخص سے کرنے لگی تھی اور اس کی بات سنتے ہوئے اس شخص نے اس سے کہا
تم ٹھیک کہہ رہے تھے ،،،،میں ہی پاگل تھی جو ان کے اوپر بھروسہ کر بیٹھی تھی ،،،،انہوں نے ایسا کیوں میرے ساتھ ہاں کیوں ،،،،،میں نے ان پر بہت بھروسہ کیا اور ان لوگوں نے میرے بھروسے کے بدلے میں کیا دیا ،،،دکھ،،اذیت رسوائی ،،،دھوکا دہی ،،،کیا کچھ نہیں دیا ان لوگوں نے مجھے ،،،،
اس شخص کے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا ،،،غصہ ،،،اذیت ،،،دکھ ،،،،نفرت ،،،جب کے دوسرے جانب وہ شخص اب کے بے زاری سے اس کی باتیں سن رہی تھیں ،،،،وہ تو یہی چاہتی تھی کہ ان دونوں کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ ہوں ،،،،اور اپنے پلان کو successful ہوتے دیکھ کر وہ اپنے آپ کو خوشی سے نہیں سنبھال رہی تھی ،،،تب ہی اسے دوسری طرف کچھ گرنے کی آواز آئی ،،،،تو وہ ہلیو ہلیو تم ٹھیک ہوں یار ،،،،کرنے لگی ،،،تو اسے کوئی رسپانس نہیں ملا تو اس نے خوشی سے سیل رکھا اور تصور میں اس جذباتی لڑکی سے کہنے لگی
یار وہ کیا ہیں کہ تم میرے ان آنکھوں میں کچھ زیادہ ہی چھب رہی تھی اس لیے یار پہلے تمہیں ہی ٹھکانے سے لگانا تھا مجھے IAM sorry dear مجھے معاف کر دوں مجھے تمہارے مرنے کا بہت افسوس ہوگا ،،،کیا کروں یار محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ،،،میرے راستے سے کانٹا تو نکل گیا اگر اب کے کسی نے ہمارے بیچ آنے کی کوشش کی تو یار اس کا انجام بھی تمہاری طرح کا ہی ہوگا ہاہاہاہاہا،،،وہ صرف میرا صرف میرا ،،،،ہاہاہاہا،
سامنے کھڑی وہ دیوار پر لگے ایک بہت ہی بڑے پینٹنگ پر پیار سے اپنا ہاتھ رکھ کر اس تصویر میں نظر آتے شخص سے باتیں کرنے لگی تب ہی اسی کچھ یاد آیا تو غصے سے سامنے آئینے پر تاؤ سے اپنا ہاتھ مارنے لگی اور مارنے دوران وہ یہ سب کہہ کر نیچے بیٹھ کر اپنے خون سے رنگے ہاتھوں کو سامنے لے آتے ہوئے جنونی انداز میں ہنس ہنس کر آخر میں شدت سے رونے لگی ،،،
