Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

😆😆😆😆😆😆
اب وہ جان گئی تھی کہ یہ زندگی کتنی خوبصورت اور خوابناک ہے ،شامیں کیسے ڈھلتی ہے اور راتیں کیسی گزرتی ہیں ۔۔۔کچھ بھی خبر نہیں تھی آسے ۔۔۔وہ تو بس سنان کے رنگوں میں رنگ رہی تھی وہ پوری طرح اپنی پچھلی ذات کو بھول رہی تھی ۔۔۔۔اب اس کے ذہن میں وہ خربناک عکس باقی نہ رہا تھا اب اس کی زندگی میں وہ ماضی نا رہا تھا ۔۔۔۔سنان نے اس کی زندگی حسین جو بنا دی تھی ۔۔۔۔
میرب ۔۔۔۔۔میرب یار کہاں هوں تم ۔۔۔۔۔
جب وہ کچن میں داخل ہوا تو اسے شدید قسم کا جھٹکا لگا کیونکہ وہاں میرب کھڑی کباب تلنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔جس نے کبھی بھی غلطی سے بھی اگر اس ایریا کا رک کیا بھی تھا تو صرف فریج سے پانی پینے کے لیے ہی کیا تھا ۔۔۔ آج وہ وہاں کھڑی کچھ بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔اور جب اس کی نظر اس کے اوپر پڑی تو قدم خودبخود وہی پر رک گئے تھے اس کے۔۔۔سرخ رنگ کے سوٹ میں دوپٹے سے بے نیاز ۔۔۔آہستینیں پولڈ کئے پوری طرح کام میں مصروف تھی۔۔۔سنان کی موجودگی سے بے خبر ۔۔۔کچھ پل وہ ایسے ہی کھڑا آسے دیکھتا رہا ۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر دبے قدموں آگے بڑھا ۔۔ اور شرارتی مسکراہت سے پاس پڑے اس کے سرخ دوپٹے کو اپنے ہاتھوں میں لپیٹے ہوئے آہستہ آہستہ اس طرف بڑھنے لگا اور اس کے سر پر پہنچھتے ہی کہنے لگا ۔۔۔۔ وہ جیسے ہی پلٹی تو بری طرح سے سنان سے ٹکرا گئی ۔۔۔۔اسے اپنے اتنے نزدیک دیکھ کر اس کا دل زور زور سے ڈھرکنے لگا جیسے ابھی پسلیاں ٹور کر باہر آنے کے لیے بے تاب ہونے لگا تب ہی خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اس نے سنان کے شرٹ کو تھامنا چاہا تو اس کی نظر سیدھے اس کے ہاتھ میں لپیٹے اپنے دوپٹے پر گیا تو یکدم سے جیسے آسے کرنٹ لگ گیا ہوں۔۔۔۔اس نے اپنے سہولت کے لیے پاس پڑے چھوٹے سے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا تھا اس نے اور اب وہ اس وقت پورے کے پورے سنان خان کے کسٹڈی میں تھا ۔۔۔۔اچانک سے اسے اس وقت سنان سے ڈھروں شرم محسوس ہونے لگی ۔۔۔فورا سے وہ اس دور ہٹتے ہوئے دیوار سے جا لگی اور جٹ سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھتے ہوئے اپنی نظریں جھکانے لگی اس سے ۔۔۔وہ جو اس کے
ایک ایک کیفیت پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا ۔۔۔
اس کی اس حرکت پر ایک بلند سا قہقہہ لگا بیٹھا ۔۔ اور چل کر اس کے قریب آ کر کھڑا ہوگیا اور آتے ہی اسکے دائیں بائیں اپنے ہاتھ جماتے ہوئے اس پر جھکا ۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔میں کتنا لکی ہوں کہ مس میرب سنان خان اپنے ان پیارے پیارے گورے ہاتھوں سے میرے لیے یعنی سنان خان کے لیے کھانا بنا رہی ہیں ۔۔۔ واؤ یہ تو میرے لیے مزے کی بات ہے ۔۔۔۔
بھرپور نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے اس نے شرارت سے کہا وہ ایک بار تو وہ بری طرح سے سٹپٹائی پھر اسے غصے سے گھورنے لگی
دیکھے خان مجھے جانے دیں ۔۔۔
ایک تو اس کی شوخ نگاہوں سے وہ پزل ہورہی تھی اور اوپر سے اس کی بے باک طریقے سے دیکھنے پر وہ شرم سے سرخ ہورہی تھی
اور اگر جانے نا دوں تو ۔۔۔۔۔۔اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے گھمبیر لہجے میں کہا ایک پل اس نے اپنی نظریں اٹھائے اس کی سبز رنگ خوبصورت آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔کیا نہیں تھا اس کی خوبصورت سبز آنکھوں میں کئی رنگ تھے محبت کے ۔۔۔۔کچھ بولتے ہوئے ۔۔۔۔ اپنے سحر میں جکڑتے ہوئے ۔۔۔۔اپنائیت کے۔۔۔اس نے گھبرا کر اپنی نگاہیں نیچے جھکالیں
پلیز ۔۔۔خان واپس کریں میرا دوپٹہ ۔۔۔
کب سے وہ اس کے سامنے بنا ڈوپٹے کے کھڑی تھی ۔۔۔۔اس کی خود پر جمی نگاہوں سے کنفیوز ہو کر وہ۔۔۔ اس نے اپنے اوپر سے اس کا دھیان ہٹاتے ہوئے اس نے کہا
یہ ۔۔۔۔لوں میں نے کب تمہیں انکار کیا ۔۔۔
اس کی طرف جھکتے ہوئے سنان نے کہا ۔۔۔تو میرب نے جلدی سے اس کے ہاتھوں سے ڈوپٹہ نکلنے کی کوشش کی اسی کوشش میں اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب سنان اس کے اتنے قریب چلا آیا کہ ان دونوں کے درمیان بس چند انچ کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا جب سنان اس کے چہرے کے اوپر جھک کر کوئی گستاخی کرنے ہی والا تھا تب ہی اسے ہوش آیا اور اس نے ایک ہی جھٹکے میں سنان کو دھکا دیا اور سنان جو اس کے چہرے کے اوپر جھکا ہوا تھا اس جھٹکے سے وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا اور اسے حیرت سے دیکھنے لگا
آدم بے زار لڑکی ۔۔۔۔کبھی تو خوش کر دیا کروں ۔۔۔اس کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے وہ مصنوعی غصے سے بولا
کون سی خوشی خان۔۔۔
وہ انجان بن کر بولی تو سنان نے اسے غصے سے گھورا
اس خوشی کی ۔۔۔۔۔۔۔
اسے بھرپور نظروں کی گرفت میں لے کر گمبھیر لہجے میں کہتے ہی وہ اس کے حیا سے سرخ چہرے پر جھکا
خان ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے رومی جاگ گیا ہے ؟؟؟
اس سے پہلے کے وہ اپنے خواہشات کو پوری کرتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی گستاخی کرتا ۔۔۔ اس کی آواز نے سنان کا سارا موڈ خراب کر دیا تھا اور اس نے اسی موقع کا فائدہ اٹھایا اور اسے اپنے اوپر سے دھکیلنے والے انداز میں اسے دکھا دیا اور کچن سے باہر نکل کر بھاگی وہ اس اچانک پڑنے والی اس افتاد پر بری طرح سے چکرایا اور پھر جب سمجھ میں آئی تو دانت پیستے ہوئے وہ اس کے پیچھے بھاگا
روکوں میرب ۔۔۔۔ورنہ تمہاری خیر نہیں ۔۔۔۔
اور وہ اسے اپنے پیچھے بھاگتے دیکھ کر کھلکھلانے لگی اور اس کو اس طرح کھلکھلاتے دیکھ کر وہ بھی قہقہہ لگانے لگا
✨✨✨✨✨✨
آج اس نے سوچا کہ کیوں نا سنان کو اس کے آفس جا کر سرپرائز دیا جائے اس لیے اس نے اس دن کی مناسبت سے ایک جدید تحرین سرخ رنگ کے ریشم کی ساڑی میں ملبوس وہ نظر لگ جانے کی حد تک وہ حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور جب وہ اس کے آفس کے بلند عمارت کے سامنے کھڑی تھی تو اسے ایک دم سے اندر قدم بڑھانے میں نروس فیل ہو رہی تھی تبھی اس نے اپنے اندر ہمت ،اور حوصلہ پیدا کیا اور اپنے قدم اس بلند و بالا عمارت کے اندر رکھتے ہوئے وہ اندر بڑھی اور جا کر اس کے آفس کے شاندار روم کے سامنے کھڑی کچھ دیر اپنے اندر ہمت پیدا کیا ،اور اپنا ایک ہاتھ روم دروازے کی طرف بڑھایا ،اس کے ہاتھ کے دباؤ سے دروازه ایک ہی جھٹکے میں کھل گیا ۔۔۔۔اور جو منظر اس نے دیکھا تو کچھ لمحے وہ شدت سے کھڑی سامنے دیکھنے لگی اور جب اسے ہوش آیا تو وہ وہاں سے روتے ہوئے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔یہ دیکھے بنا کہ اس نے جو دیکھا وہ صرف اس کے نظروں کا دھوکا تھا
💔💔💔💔💔💔
یہ اچھا نہیں کیا تم نے ۔۔۔۔۔
جب انہوں نے اس کے روم کا دروازہ کھولا تو اس کے روم کی حالت زار دیکھ کر انہوں نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا جو کے بیڈ کے بیک گراون سے ٹیک لگائے اپنی آنکھیں موندے ہوئے تھا
بیٹا کوئی پریشانی ہے کیا ۔۔۔۔تب ہی انہوں نے اس کی جانب اپنے قدم بڑھاتے ہوئے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو جھٹکا اور بیڈ سے نیچے اتر کر ان کے مقابل آ کھڑا ہوا
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی ۔۔۔۔اس نے غراتے ہوئے ان سے کہا
بیٹا ۔۔۔میں ۔۔۔۔ابھی انہوں نے اپنی بات پوری طرح مکمل بھی نہیں کی تھی کہ اس نے ان کی بات بیچ میں کاٹ کر غراتے ہوئے ان سے کہا
آپ ۔۔۔۔۔ہی تھی نا اس سے شدید نفرت کرنے والی ناں۔۔۔بتائیں مجھے کیوں کیوں کیا آپ نے ایسا بتائیں مجھے ۔۔۔آپ کو پتا بھی تھا کہ میں اس سے جنون کی حد تک اس سے عشق کرتا ہوں ۔۔۔۔۔آپ نے جان کر بھی اسے مجھ سے جدا کیا کیوں ۔۔۔۔۔۔
اس نے غصے سے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے اپنے سارے مہنگے فرفیوم کے بوتل ایک ہی چھانکے سے سارے زمین بوس ہوگئے تھے اور یہ دیکھ کر ان کے رونگتے کھڑے ہوگئے تھے آج سے پہلے کبھی بھی انہوں نے اسے اتنے جنونی انداز میں نہیں دیکھا تھا
🔥🔥🔥🔥🔥