Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


میرب!!!!میرب یار کہاں ہوں تم ۔۔۔
وہ پورے گھر میں اسے آوازے دیتے ہوئے آخر میں ٹی وی لاونج میں آتے ہی سامنے رکھے نفیس سے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔
میرب ۔۔۔۔
اس نے پھر سے اسے آواز دی اور وہ جو اس کے ایک ہی آواز میں ہی چلی آتی تھی اور آج اس کے اتنی آوازوں پر بھی وہ نہیں آئی تو اسں نے ایک دم سے پریشانی کے عالم میں اسے سارے گھر میں ڈھونڈنے کے بعد اس نے تھک کر صوفے کے پشت پر اپنا سر ٹھکایا ،،اور تب ہی اچانک سے اس کی نظر سامنے ٹیبل پر رکھے کاغذ پر پڑی تو اس نے جلدی سے اس کاغذ کو اٹھایا اور اسے کھول کر پڑھنے لگا کاغذ کے ایک ایک لفظ کو پڑھتے ہی اس کے چہرے کی رنگت اچانک سے سرخ ہونے لگی تب ہی اس نے وہ کاغذ غصے سے پھاڑ دیا
میرب!!!تم نے یہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔
اس نے چلا کر اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے اور جاکر اپنی کار میں بیٹھ کر اس نے اپنی کار اسٹارٹ کی اور کار کو وہاں سے طوفانی انداز میں آڑا کر لے گیا۔۔۔۔
😠😠😠😠😠
پتا چلا آپ کو آن لوگوں کا۔۔۔۔۔
حیات خان نے قدم جب گھر کے اندر رکھے تو فردوس بیگم نے ان سے پوچھا تو جب فردوس بیگم کی نظر ان کے تھکن سے چور افسردہ چہرے پر پڑی تو انہیں پھر سے مایوسی ہوئی
آپ فکر ناں کریں بھابھی وہ جہاں پر ہونگے الله کے فضل سے ٹھیک ہونگے ۔۔۔انہوں نے فردوس بیگم کو تسلی دیا اور خود کو بھی ۔۔۔کہ تب ہی سنان خان رومی کو گھود میں اٹھائے گھر میں داخل ہوا تو فردوس بیگم کی نظر جب اس پر پڑی تو انہوں نے اس کی طرف اپنے قدم بڑھائے اور جاکر اسے چھو کر وہ اسے محسوس کرنے لگی تھیں ۔۔۔کے تب ہی اس نے اچانک سے ان کے ہاتھ جھٹکے سے اپنے چہرے سے ہتائے تو انہوں نے اس کی اس حرکت پر حیرانی سے اس کی جانب دیکھا جو کہ اب چپ چاپ رومی کو لے کر ان کے سامنے سے ہٹ کر اس نے اپنے قدم اپنے روم کی جانب بڑھائے
حیات بھائی !!! دیکھا آپ نے وہ مجھ سے ابھی تک ناراض ہے ۔۔۔۔اور میرب ۔۔۔میرب نہیں دکھائی دے رہی کہاں ہے وہ ۔۔۔۔وہ تو سنان کے ساتھ تھی ۔۔۔سنان خود اسے لے گیا تھا ۔۔۔۔میرب ۔۔۔میرب بیٹا کہا ہوں آپ ۔۔۔
انہوں نے میرب کو ناپاکر ان سے میرب کے متعلق پوچھا اور آخر میں اسے آوازے دینے لگا
اب کیا فائدہ اسے آواز دینے کا ۔۔۔۔پہلے خیال نہیں آیا آپ کو۔۔۔۔ کہ اس مصوم پر کیا بیت رہی ہوگی جب آپ لوگ اس پر اپنی زبان کے وار سے اس پر ظالم کرتے تھے تو اس پر کیا بیت رہی ہوگی اس کا اندازه آپ کو ہوا نہیں اور آپ لوگ کون ہوتے تھے اس کو زر کی موت کا زمہ دار ماننے والے اور اس کو سزا دینے والا ۔۔۔۔ سورۃ النساء میں بھی یہی کہاں گیا ہے کہ:
فرمان باری تعالی ہے، ترجمہ: ’’ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ سنتا (اور) دیکھتا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: آیت 58 پارہ 5 )
عدل کے معنی حق دار کو اس کا پورا حق ادا کر دینا ہے۔ اسلام میں عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے چوں کہ یہ وہ وصف ہے جسے اپنانے والی اقوام سربلندی و سرفرازی سے ہم کنار ہوتی ہیں اور جن معاشروں میں اس گوہر گراں مایہ سے محرومی پائی جاتی ہے وہ رُو بہ زوال ہو کر تباہی و بربادی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں عدل و انصاف کے قیام پر بے انتہا زور دیا گیا ہے۔ بہ حیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ رب العالمین کے احکامات اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ پر کماحقہ عمل پیرا ہوں اور جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات میں فیصلہ کر دیں تو انہیں بے چوں و چرا تسلیم کرلیں اور انہی احکامات کی روشنی میں اپنے معاشرے میں صحیح معنوں میں عدل و انصاف کو جاری کریں۔
مالک کائنات نے اہل ایمان کو تاکیداً فرمایا کہ جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کیا کرو یعنی اگر کوئی حکم راں ہے یا منصب قضا پر فائز ہے یا پنچایت کا سربراہ‘ اسی طرح برادری کا بڑا ہو علیٰ ہذالقیاس کوئی بھی شخص کسی بھی لحاظ سے انصاف کرنے کی پوزیشن میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہ فریقین کے دلائل‘ حالات و واقعات اور شہادتوں یا اقرار کی صورت میں ٹھیک ٹھیک عدل کرے اور مظلوم کو اس کا پورا حق دلائے اور ظالم و غاصب کے خلاف قرآن و سنت کی روشنی میں تادیبی کارروائی کرے۔
اور آپ لوگوں نے ایک بے گناه کو سزا دیا یہ جانے بغیر کہ زر کی زندگی بس اتنی ہی تھی اور تو اور آپ لوگوں نے الله کے فیصلے کو ماننے کے بجائے اس مصوم پر الزام لگایا اور اس پر ظلم کیا ۔۔۔۔۔
اس نے ان سب کو آئینہ دیکھایا ۔۔۔۔تو انہیں آئینے میں اپنے بدصورت چہرے نظر آنے لگے اور سب کے شرمندگی کہ احساس سے سر جھک گئے تھیں یہ سوچ کر کہ الله کے فیصلے کو نہ مان کر ان لوگوں نے ایک مصوم لڑکی پر ظلم کیا ۔۔۔۔۔لڑکی بھی وہ جو کبھی ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوا کرتی تھیں ۔۔۔
❌❌❌❌
“دوسال بعد”
آج وہ پھر ایک نئی امید کے ساتھ اس بلند وبالا عمارت کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔نجانے اور کتنا کھٹن سفر کرنا ہوگا اسے۔۔۔ نجانے اس کی منزل کہاں آکر رکھی گی اسے اس بات کا بلکل بھی اندازہ نہیں تھا یا تو آج وہ کامیاب ہوگی یا پھر ناکام ۔۔۔۔اس عمارت کے اندر داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر ڈھنگ رہی گئی وہاں پہلے ہی سے کافی تعداد میں امیدوار بیٹھے اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔اسے ایک دم سے مایوسی ہونی لگی آج پھر اس کی قسمت شاید اس کا ساتھ نا دیں ۔۔۔لیکن اللّٰہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔وہ جو ابھی اپنے قدم باہر کی جانب بڑھا ہی رہی تھی کہ تبھی پیچھے سے ایک نسوانی آواز آئی ۔۔۔
ارے ۔۔۔۔ واؤ یار یہ تم ہی ہو ناں ۔۔۔
اس نے آواز کی سمت مڑ کر دیکھا تو ایک نہایت ہی خوبصورت لڑکی اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہی وہ اسے جٹ سے پہچان گئی وہ اس کی یونی فیلو تھی تب ہی اس لڑکی نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے اس نے اس سے پوچھا
تم یہاں کیا کرہی ہوں ۔۔۔. مائے کیوٹی گرل
وہ یار میں یہاں جاب کے سلسلے میں آئی تھی لیکن یہاں پہلے سے بہت سے امیدوار دیکھ میں ابھی مایوس ہو کر یہاں سے جانے ہی لگی کے تمہاری آواز سن رک گئی میں اور تم بتاؤ تم یہاں کیا کر رہی ہوں ۔۔۔اس نے تفصیل سے اسے بتائیں ہوئے آخر میں اس سے پوچھا
وہ یار میں یہاں جاب کرتی ہوں ۔۔۔اچھا ہوا کہ میں تمہیں مل گئی ورنہ اس کمپنی کو ایک بہت بڑا نقصان ہوتا ۔۔۔۔اس نے ڈارمائی انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کیوں ۔۔۔۔بلا انہیں کیوں نقصان ہوگا ۔۔۔اس نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھ کر اس سے پوچھا
وہ اس لیے دئیر ۔۔۔۔کیوں اس کمپنی کو پھر کبھی تمہاری طرح کا امپلائی کبھی نہیں ملے گا انٹیلیجنس ، محنتی ،اپنے کام سے کام رکھنے والی ۔۔۔۔اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے اس نے اس کی طرف پیار سے دیکھا تو اس نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا
💞💞💞💞
سر !!!کیا میں اندر آسکتی ہوں ۔۔۔۔
اس نے ڈور نوک کرتے ہوئے ان سے اجازت مانگی تو انہوں نے سر کے اشارے سے اسے اندر آنے کی اجازت دی تو وہ اندر داخل ہوئی اور ان کے ٹیبل کے پاس عین ان کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے ایک بلیک کلر کی فائل ان کی طرف بڑھائی تو انہوں نے وہ فائل اس سے لے کر اس کا تفصیلی سے جائزہ لینے لگے اور وہ کھڑی ان کے متوقع ردعمل کا انتظار کرنے لگی تب ہی انہوں نے اس کی طرف دیکھا
I did not even expect you to be more intelligent…
اس کی طرف حیرت سے دیکھ کر انہوں نے کہا تو اس نے ان کی جانب دیکھا اور ان سے کہا
Thanks sir ,,,
یہ میری محنت کا صلہ انشاء اللہ ہم ضرور کامیاب ہونگے میں نے اس اہم میٹنگ کے لیے بہت محنت کی ہے سر ،،،،اب کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔۔۔۔
اس کے لہجے میں یقین تھا خود پر مان تھا اسے کے وہ یہ ڈیل ضرور وہ لوگ ہی حاصل کرے گے لیکن اسے پتا نہیں تھا کہ ان کے سامنے ایک نہایت ہی طاقتور بزنس مین کھڑا ہوا ہے جس نے کبھی بھی ہارا نہیں تھا بلکہ اس کی زندگی میں کبھی بھی ہار کی گنجائش پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔۔۔”ہار” اس لفظ کا کبھی بھی اس نے سامنا نہیں کیا تھا بلا وہ اب کرے گا
لیکن مس ۔۔۔۔ تمہیں شاید اس بات کا اندازہ نہیں کے جو ہمارے مقابل کھڑا ہے ۔۔۔وہ بھی ہم سے کم نہیں ہے بلکہ وہ ہم سے اور اس کمپنی سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ہے اگر وہ چاہے تو اس کمپنی کو ایک ہی جھٹکے میں تباہ کر دے اور اگر چاہے تو ایک ہی جھٹکے میں یہ ڈیل ہمارے سامنے پلیٹ میں سجا کر ہمارے سامنے رکھ کر ہم سے یہ کہہ دے کہ یہ لوں اور میری طرف سے انجوائے کروں تم لوگ ۔۔۔کیوں کے یہ ڈیل میرے معیار کا نہیں تھا ۔۔۔۔۔
سر یہ تو سراسر پاگل پن ہے کیسے کوئی اپنا کروڑوں کا ڈیل حاصل کر کے کسی اور کو یہ کہہ کر پیش کر دے کہ وہ اس کے معیار کا بلکل بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ اس نے حیرت سے ان کی جانب دیکھا
مس ۔۔۔وہ ایسا ہی ہے ۔۔۔اسے پوری دنیا یا مغرور کے نام سے جانتی ہے یا دیار دل کے نام سے وہ کبھی ظالم بنتا ہے تو کبھی رحم دل ۔۔۔۔
انہوں نے اس اندیکھے شخصیت کی تعریفوں کہ پل باندھتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو منہ کھولے کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی
سر !!!!اب تو اس شخص کا دیدار ہونا ہی چاہیئے کیوں ٹھیک کہاں ناں ۔۔۔۔
اس نے کچھ سوچتے ہوئے ان کی جانب دیکھ کر کہا تو انہیں نے صرف اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔
🤔🤔🤔🤔