No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“دو سال بعد اس نے آج اس سر زمین پر اپنے قدم رکھے
تھے ایک لمحے کو رک کر اس نے اس سر زمین کی مٹی
کو اپنے مٹھیوں میں لے کر چوما اور جونسن حیرت
سے اس کے پیچھے کھڑا اپنے سر پھرے باس کو دیکھنے
لگا جو اپنے صاف صفائی کا خاص خیال رکھتا تھا لیکن
آج اپنے باس کو اس طرح دیکھ کر اسے سخت حیرت
ہوئی تھی تب ہی اس نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا تو
اسے حیرت سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے اس نے اپنے
قدم اس کی طرف بڑھائے اور جا کر اس کے آنکھوں کے
آگے اپنی مٹھیوں کو کھولا جس میں سیاہ رنگ کی مٹی تھی ۔۔
تمہیں پتہ ہے جونسن !!!
اس مٹی نے کتنے ماں کے لالوں کے خون اپنے اندر
سموئے ہوئے ہونگے اسکا تمہیں کیا اس پوری دنیا کو
بھی اندازہ نہیں ہوگا ۔۔کتنی لوگوں نے اس سر زمین پر
پنا ہ گزینوں کی مدد کی ضرورت کی اپیل کی ہوگی ۔۔
تم انگریزوں کو اس بات کا کہا اندازہ ہوگا ۔۔۔
نہیں سر !!!
جونسن نے ڈر کر اس کی طرف دیکھا
تم انگریزوں کی پتہ ہے کیا پروبلم ہے ۔۔۔یہی کے تم ہر
کسی کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہوں ۔۔اپنا غلام
اپنی رعایا ۔۔۔اور یاد رکھنا میں ان پاکستانیوں جیسا
بلکل بھی نہیں ہوں جو کے تم جیسے کتوں کی غلامی
پر فکر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔
انتہائی نفرت انگیز لہجے میں کہہ کر اس نے جونسن
کی جانب دیکھا جو کے اس کی جانب متوجہ تھا اور
اس کے ہر ہر انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ابھی اسے
مار دے گا لیکن اس نے صبر سے کام لیا
مجھے پتا ہے !!ہر کوئی اپنے ملک کے خلاف غلط بات
نہیں سن سکتا ۔۔۔اور جہاں میرے ملک کی بات آئے تو
میں اس بندے کی کھوپڑی آڑا کر رکھ دیتا ہوں ۔۔
“So be careful” …
اور جونسن کو لگا کے باس نے اس کی کل رات کی
ساری باتیں سنی ہوگی اس لیے وہ اس سے ایسے react کر رہے تھا ۔۔۔۔اسے آخر میں آرام سے دھمکی
دیتے ہوئے وہ وائٹ کلرر کی مرسیڈیز کی جانب بڑھ
گیا تھا اور وہ بھی اس کے پیچھے بھاگنے والے انداز
میں بھاگ کر اس سے پہلے مرسیڈیز کے پچھلے حصے
کا دروازہ اس کے لیے کھولا اور وہ اپنے ازلی مغرورانہ
چال چل کر مرسیڈیز کے پچھلی سیٹ پر ایک شان سے
بیٹھ گیا تو اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے خود آگے
فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے ڈرائیور کو اشارہ کیا تو
ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کیا اور گاڑی آئر پورٹ کے حدود سے باہر نکل کر سڑک پر دوڑنے لگی ۔۔
سر !!!
یہ شخص اور کتنا انتظار کروائے گا ہمیں سر ؟؟؟؟
وہ اور اس کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھے اس کے باس
اس سے پہلے کہ وہ یہ پوچھ پاتے کہ آخر کس کا
انتظار کیا جا رہا تھا، سربرائی چئیر پر بیٹھے شخص
نے تمام حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا
اور تسلی بھی دی کہ ’فکر نہ کرو سب کا انتظار ابھی ختم ہوگا
تبھی آفندی انڈسٹری کے ایک شخص نے اپنی دائیں جانب چیئر پر بیٹھے شخص سے مخاطب ہو کر کہا یہ ’شخص ‘ ہمیں اور کتنا انتظار کروائے گا؟ اس sk نامی شخص نے انہیں اور میٹنگ میں موجود متجسس افراد کو دس منٹ مزید انتظار کروایا۔
اس دوران چند لوگوں سے پوچھنے پر اسے معلوم ہوا
کہ نیویارک سے تعلق رکھنے والے مشھور و معروف
بزنس مین sk پاکستان آیا ہوا تھا
میٹنگ روم میں داخل ہوتے وقت sk کو ملنے والے
پرتپاک استقبال یہ ظاہر کرتا تھا کہ یہ business world کا بے تاج بادشاہ ہے اس کی اس دنیا میں حیثیت ایک ہیرو کی سی ہے۔….
“Hello how are you all”
وہ جو اپنی فائل پر نظریں جھکائے ہوئی تھی ایک
گھمبیر آواز چاروں اطراف گھونجی تو اس نے فائل سے
اپنا سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک لمحے کو اسے لگا
کے وہ پتھر کی هو جائے گی ۔۔۔۔جبکہ مقابل بھی اب اپنی بات بھول کر سامنے کھڑی اس نازک اندام سی لڑکی پر نگائیں جمائے وہی کا وہی کھڑا رہ گیا تھا جبکہ وہ سامنے کھڑے اس چھ فٹ کے قدو سراپا کے مالک کو اپنی چمکتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جو کہ اب اس کے توقع کے بلکل برعکس تھا لیکن یہ صرف ایک لمحے کی بات تھی اس نے اپنی نظریں پھیرتے ہوئے سامنے لگے LCD screen پر اپنی نظریں مرکوز کی اور مقابل نے بھی اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے سامنے کھڑے شخص سے مل کر اس کے عین سامنے والی چئیر گھیسٹ کہ اس پر بیٹھتے ہوئے سامنے اس کی جانب دیکھنے لگا اور اس نے ناگواری سے اس کے دمکتے ہوئے چہرے کی جانب دیکھا
آپ سب لوگ جانتے ہے کہ آج کا یہ میٹنگ بہت ہی اہم
ہے سب کے لیے اور جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہے کہ
مسٹر sk دنیا کا جانا مانا نام ہے اسے کسی ایسے
معمولی پروجیکٹس کی ضرورت بھی نہیں ہے آج جو
پروجیکٹس کی بات ہو رہی ہے اس میٹنگ میں وہ بھی
ان ہی کی وجہ سے اور مسٹر sk ، چاہتے ہیں کہ وہ
اس پروجیکٹس میں کام کرے اس لیے یہ میٹنگ میں
نے مسٹر sk کے کہنے پر ارینج کیا ہے ۔۔۔۔ سو گائز
میں امید کرتا ہوں کہ آپ میں سے جس کسی کا بھی
پروجیکٹ انہیں پسند آیا تو وہ ان کی کمپنی کے ساتھ
کام کرنے کے لیے تیار هو جائے گے کیوں مسٹر sk میں نے ٹھیک کہا ناں ۔۔۔
سربرائی چئیر پر بیٹھے شخص نے سب کی جانب دیکھ کر آخر میں sk کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا تو sk نے سب کی طرف دیکھ کر آخر میں سامنے بیٹھی اس نازک لڑکی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جبکہ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر اس نازک لڑکی نے چڑ کر اپنا رخ بدلا اور اس کی اس حرکت پر اس نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا
بلکل آپ نے ٹھیک کہا اور مسٹر ارسلان میں ان سب سے ایک بات کلیئر کرنا چاہوں گا کہ مجھے جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے والوں سے سخت نفرت ہے ۔۔کیوں “مسسز خان”۔۔۔آخر میں اس کی جانب دیکھ کر اس نے “مسسز خان” پر زور دیتے ہوئے کہا
تصحیح کرلیجیے مسٹر sk میرا نام مسسز خان نہیں مس خان ہے ۔۔۔
لیکن مجھے آپ کو مسسز خان کہنا اچھا لگ رہا ہے ۔۔”مسسز خان۔۔”
آخر میں اس کی طرف دیکھ کر شرارت سے اس نے کہا تو اس نے ناگواری سے اس کی جانب دیکھا
اسکیوزمی ۔۔۔
میں آپ سب سے معزرت خواه هوں کہ میں نے آپ لوگوں کو انتظار کی سولی پر لٹکا یا اور اب مجھے ایک بہت ہی important کام کے لیے جانا ہے ،پھر ملاقات ہوگی ۔۔۔
ایک دم سے سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ اٹھا تو سب بھی اس کی تقلید میں اٹھ گئیں ۔۔۔سب جانے لگے تو وہ جو باہر جارہی تھی وہ دو تین قدم چل کر اس کے عین سامنے جاکر رکا ۔۔نگاہوں نے دیوانہ وار اس کے چہرے کو چھوا ۔۔ اس کی نگاہوں کی تپش سے اس کی نظریں عارض پر جھک گئی تھی ۔۔۔
“میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی
تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں
پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو
میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں
چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں
عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے
زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی
اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے
میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں
تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے
کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے
کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے
پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی
تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں
تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں
ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن
میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں
تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم
تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں
تیرے ہاتھوں کی حرارت، ترے سانسوں کی مہک
تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں
ڈھونڈھتی رہتی ہیں تخیل کی بانہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں
تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ہے مگر
یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو
تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام
دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو
کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ہے
قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں
دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں
دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں
میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے
مضمحل خواب کی تعبیر بتادے مجھ کو
تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی
میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
ن-م راشد کا ایک شعر پڑھتے ہوئے اس نے اپنے قدم آگے بڑھائے تو اس کے آنکھوں سے آنسو پھسلتے ہوئے اس کے رخسار پر بہنے لگ گئے تھے ۔۔۔۔
