No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“مسسز خان “
بہت شوق ہے نہ تمہیں ڈئنر کرنے کا تو آج میں تمہیں اپنے اسپیشل ہاتھوں کی اسپیشل ڈئنر کرواؤں گا ۔۔۔
“So get ready for a special dinner”
ایس کے نے کار روکتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا تو اس کی یہ بات سن کر میرب نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا۔۔۔ایس کے نے آگے بڑھ کر اس کی سائیڈ والی ڈور کھولی اور کھڑے ہوکر اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا
مم۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے اسپیشل ڈئنر کا سمجھے تم ۔۔۔۔
میرب نے اپنے تصور میں اس کے اس اسپیشل ڈئنر کا سوچا تو اس کا دل ابھی سے متلانے لگا
مسٹر بیٹری کے ساتھ تو بڑے مزے سے اپنے شوق پورے کیے جارہے تھے اس وقت ،،،
ایس کے نے اس کی جانب دیکھ کر بڑے طنزیہ انداز میں کہا
میری مرضی میں جس کے ساتھ بھی چاہوں گی ۔۔ ڈئنر کروں گی ۔۔۔۔
میرب نے ایس کے کی جانب ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا تو ایس کے نے اسے گھورا تو اس نے بھی اسے گھوری سے نوازا ۔۔۔۔
پہلے تو میں تمہیں سزا دونگا پھر اس کے بعد اسپیشل ڈئنر !!!
ایس کے نے کہتے ساتھ ہی اسے اٹھایا اور گھر کے جانب بڑھنے لگا تو وہ صرف یہ کہتے ہی رہ گئی کہ یہ کیا کر رہے ہوں چھوڑوں مجھے ،،،
ایس کے اسے ایک نہایت ہی بکھرے ہوئے روم میں لاتے ہی اسے پھٹکنے والے انداز میں نیچے بیٹھا کر خود اس کے سامنے گھوٹنے کے بل بیٹھ کر اس کی جانب دیکھ کر کہنے لگا۔۔
“مسسز خان “
“This is a beautiful punishment ۔۔۔You should try۔۔Mrs. Khan “
ایس کے مزے سے کہہ کر وہاں سے اٹھا اور باہر کی جانب بڑھنے لگا اور اسے اس طرح باہر نکلتے دیکھ کر وہ چلا کر کہنے لگی ۔۔۔
میں کروں گی اس روم کی صفائی ،،،
ہاں تم ہی کروں گی ،، کیسے کروں گی یہ میں نہیں جانتا ،،، ایس کے نے مڑ کر اس کی جانب دیکھ کر کہا اور باہر کی جانب نکل گیا ۔۔۔
😂😂😂😂😂
سر !!!
وہ تینوں اس شخص کے رحم و کرم پر ہیں اس وقت پتہ نہیں وہ شخص اب ان کا کیا حال کر رہا ہوں گا ۔۔ اس کا اندازه آپ کو کیا مجھے بھی نہیں ہے سر ،،،
ایک شخص نے اپنے سامنے بیٹھے شخص سے کہا تو اس شخص نے اپنے سامنے گرے شخص کو اپنے غصے کا شکار بنایا اور اس شخص کے سامنے آ کر کھڑے ہوکر اس سے کہنے لگا
آخر اس شخص کی کوئی کمزوری تو ہوگی نہ ڈائمنڈ ،،
ہو سکتا ہے سر اور نہیں بھی !!!
ڈائمنڈ نے پر سوچ نظروں سے اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
ڈائمنڈ !!
اس دنیا میں ہر شخص کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے ۔۔ جیسا کہ میری کمزوری میری جان ہے ڈائمنڈ ۔۔ تو اس شخص کی بھی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوگی ڈائمنڈ ،،
اس شخص نے ڈائمنڈ کی جانب دیکھ کر کہا
🤔🤔🤔🤔🤔
“مسسز خان “
میرے اسپیشل ہاتھوں کی اسپیشل ڈئنر تو تیار ہے ،، لیکن مجھے لگتا ہے ابھی تک تم وہی بیٹھی یہ سوچ رہی ہوں کہ کہا سے انجوائے کروں ۔۔۔ I mean صفائی
ایس کے روم میں داخل ہوتے ہی شروع ہوگیا تو میرب جو اوپر کھڑی cupboard کی صفائی کرنے میں مصروف تھی ۔۔ ایس کے کی آواز سنتے ہی وہ ابھی نیچے گرتی کہ ایس کے نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے گرنے سے بچایا ۔۔۔
یہ کیا “مسسز خان ” ویسے تو مجھ سے بڑی تیس مار خان بن کر لڑتی ہوں اور اب ایسے ڈر رہی ہوں مجھ سے جیسے کہ میں کوئی جن بھوت ہوں۔۔۔ مجھے حیرانی ہو رہی ہے تم پر مسسز خان ۔۔۔۔ویسے ایک لمحے کو تو میں خود کو بھی ایک جن سمجھ بیٹھا تھا ۔۔۔
ایس کے نے اسے اٹھایا اور بیڈ کی جانب بڑھ کر اس کی جانب دیکھ کر کہنے لگا تو اس نے ناگواری سے اپنا رخ بدل کر دوسری جانب دیکھا
اب “مسسز خان ” تم یہاں بیٹھ کر میرے اسپیشل ہاتھوں کی اسپیشل ڈئنر کروں گی ‘
ایس کے نے مزے سے اس کی جانب دیکھ کر کہا
تو کیسا لگا تمہیں ، مسسز خان میرے اسپیشل ہاتھوں کی اسپیشل ڈئنر ،،،
میرب کے بنتے بھگڑتے منہ کی جانب دیکھتے ہوئے ایس کے نے اس سے پوچھا
بہ۔۔۔۔بہت اچ۔۔۔۔اچھا ڈینر
میرب نے اٹک اٹک کر کہا تو ایس کے نے اس کی پیلٹ میں اور ڈالا تو میرب نے ایس کے کی جانب حیرت سے دیکھا تو ایس کے نے آگے بڑھ کر اس کے کھلے منہ میں چمچ ڈالتے ہوئے کہا
یہ لوں اور کھاؤں “مسسز خان ” دوسال سے تم بہت زیادہ کمزور نظر آ رہی ہوں مجھے ۔۔۔۔ کیوں ٹھیک کہاں ناں میں نے مسسز خان ،،،
میرب نے ایس کے کو گھورتے ہوئے نوالہ نگلا تو اس کو اس طرح کرتے دیکھ کر اچانک سے ایس کے کا قہقہہ چھوٹ گیا ۔۔۔۔
😂😂😂😂😂😂
“کیا !!”
“مسٹر ایس کے تمہارا شوہر ہے .” ثنا کی حیرت سے چیخ نکل گئی یہ بات سن کر
“آہستہ بولوں یار .” میرب نے اس کی جانب گھورتے ہوئے کہا
“ہاں یار وہ میرا شوہر ہے اور مجھے اس بات کا بہت زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ وہ میرا شوہر کیوں بنا ” میرب نے افسوس سے کہہ کر ثنا کی جانب دیکھا “افسوس “
یار تمہیں اس بات سے افسوس ہے کہ وہ تمہارا شوہر کیوں بنا ” ثنا نے کہا تو اس نے ہاں میں اپنا سر ہلا تو ثنا نے پھر سے کہا اور مجھے اس بات پر افسوس ہو رہا ہے کہ وہ بندہ بھی کس چڑیل کا شوہر بنا ہے یار “
ثنا یہ کہہ کر وہاں سے بھاگی اور جب اسے ثنا کی بات سمجھ میں آئی تو وہ بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگی اور ایس کے اپنے آفس کیبن کے گلاس وال سے انہیں اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگا
“کب بڑی ہوگی تم مسسز خان جب میں بوڑھا ہو جاؤ گا تب _” ایس کے نے جب اپنے کئے ہوئے آخری لفظوں پر غور کیا تو قہقہہ لگاتا چلا گیا اور جونسن جو اس سے کچھ اہم پوائنٹ ڈسکس کرنے آیا تھا سب کچھ بھول کر ایس کے کی جانب نا سمجھی سے دیکھنے لگا جو کہ گلاس وال سے باہر دیکھتے ہوئے قہقہہ لگا رہا تھا
😂😂😂😂
