Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

خان ہاؤس میں آجکل عجیب طرح کا سناٹا چھایا ہوا تھا،،،حیات خان ،،،حسب معمول آفس میں تھے سلطانہ کچن میں کھانا بنانے اور افضل بابا لان میں مالی بابا کو کچھ ہدایات دیں رہے تھے ،،،اور گھر کے باقی ملازمین بھی اپنے اپنے کام سر انجام دے رہے تھے ،،،،
فردوس بھابھی ،،،سنان نظر نہیں آیا ،،،اتنے دنوں سے میرب کو ہاسپٹل لے کر گیا تھا،،،بھابھی دو دن تو ہوگئے ہیں ،،،ابھی تک وہ لوگ نہیں آئے ہیں ،،،،پتہ کرے ناں آپ کے کوئی مسئلہ تو نہیں ،،،،کہیں زیادہ میرب کی طبیعت خراب تو نہیں ہے بھابھی ،،،،
تانیہ نے ان کی جانب دیکھ کر تشویش زادہ انداز میں پوچھا آخر ماں تھی کب تک ایسے اپنے جگر کے ٹکڑے سے کٹ کر رہتیں وہ ،،،،لاکھ کوششوں کے باوجود وہ خود پر ضبط نہ کر سکیں تھی،،،
واقعی میں تانیہ بہت ہوچکی ہے اب انہیں آنا چاہیے تھا مگر ابھی تک وہ لوگ نہیں آئے ہیں اور ساتھ ہی اس نےرومی کو بھی اپنے ساتھ لے گیا ہے ،،،،دو دن میں اس نے ایک بار بھی گھر کا چکر نہیں لگایا ہے ،،،میرب کی طبیعت پتہ نہیں کیسی ہوگی ،،،،کم از کم بندہ اطلاع ہی تو دے دیں ہمیں ،،،یہ لڑکا بھی ناں ،،،غصے میں کوئی الٹا سیدھا قدم نہ اٹھا لیں ،،،،
اب کے فردوس بیگم کو بھی تشویش ہونے لگی تھیں ،،،،اور اپنے غلط رویے اور غلط سلوک کی وجہ سے ان دل نے یکدم سے خوف کے پنجے گاڑ لیے تھے
فردوس بھابھی !!!آپ افضل بابا سے ان کے بارے میں پوچھ لیں ناں ،،،ہوسکتا ہے انہیں ان کے بارے میں کچھ معلوم ہوں
اگر انہیں ان کہ بارے میں پتہ ہوتا تو وہ سیدھے آکر مجھ سے کچھ کہتے ،،،تم کہہ رہی ہوں تو تمہاری تسلی کے لیے ان سے پوچھ لیتی ہوں ،،،افضل بابا !!!
ان سے کہہ کر افضل بابا کو آوازیں دینے لگیں وہ ،،،افضل بابا ان کی ایک ہی آواز میں ان کے سامنے پیش ہوگئے تھے
جی بی بی !!!آپ نے بولایا مجھے ،،،انہوں نے نہایت ہی مؤدب انداز میں کہا
افضل بابا !!!یہ بتائیں کہ جب سنان میرب کو لے کر جب ہاسپٹل گیا تھا تو آپ ان ساتھ تھے
انہوں نے ان سے پوچھا تو ان کے چہرے کے اوپر اچانک سے ہوائیاں اڑنے لگی تھی خوف نے ان کے چہرے کے اوپر اپنے پنجے گاڑ لیے تھے ،،،اور ان کی اس کیفیت کو آن دونوں نے محسوس کیا
جی بی بی میں ان کے ساتھ ہی تھا
وہ خود سے چوڑ لہجے میں ان سے بولے
یہ بات آپ آب بتا رہے ہیں ہمیں ،،،افضل بابا کہ آپ ان کے ساتھ تھے کون سے ہاسپٹل میں ہیں وہ لوگ
انہوں نے انتہائی غصے سے آن جانب دیکھتے ہوئے آخر میں ان سے ان کے بابت پوچھا
وہ ہاسپٹل میں نہیں ہیں بی بی ،،،
انہوں نے سر جھکائے آہستگی سے انکشاف کیا
کیا مطلب ہے اس بات کا کہ وہ ہاسپٹل میں نہیں ہے ،،،افضل ،،،تو پر کہا پر ہیں وہ لوگ
تانیہ پہلی بار ان سے مخاطب ہوئی ،،،انہیں ایسا لگا جیسے کچھ برا ہونے والا ہے
مجھے نہیں پتہ بی بی !!! چھوٹے خان جی نے ہمیں ہاسپٹل سے سیدھا گھر بھیج دیا تھا۔۔اور خود میرب بی بی کو اپنے ساتھ پتہ نہیں کہا لے گئے ہیں وہ ۔۔۔۔
خبر تھی کہ بم ۔۔۔۔ جو کے ان دونوں کے سماعت پر پھٹا تھا ۔۔۔وہ دونوں پھٹی پھٹی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں
بغیر بتائے وہ کہا میرب کو لے گیا ہے۔۔۔۔اور افضل بابا آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا کہ سنان نے ایسا کیا ہے ۔۔۔کیوں نہیں بتایا آپ نے بتائے ۔۔
فردوس بیگم ان پر برس اٹھی تھیں ۔۔۔انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ سنان اتنا بڑا قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔۔
مجھے نہیں پتہ بی بی !!!کے وہ میرب بی بی کو کہا لیں گئے ہیں۔۔۔پر ہاں وہ بہت غصے میں تھے اور انہوں نے کہا تھا ۔۔کہ کہہ دینا “خان ہاؤس والوں کو ۔۔۔کہ میرب سے تعلق تو توڑ دیا ہے خان ہاؤس والوں نے ۔۔۔۔انہوں نے دو بیٹیوں کو تو کھویا ہے ہی ۔۔۔اور اب ان لوگوں نے ایک بیٹے کو بھی کھویا ہے ۔۔۔ان سے کہنا کہ اب وہ لوگ اپنے اس بیٹے کی شکل کو بھی تر سیں گے وہ لوگ ساری عمر کے لیے ۔۔۔۔
اب افضل بابا نے تو آئٹم دھماکہ ہی کر دیا ہوں ان کے سروں پر ۔۔۔فردوس بیگم اور تانیہ نے شاک کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔یہ کیا کردیا تھا انہوں نے۔۔۔اپنے ہاتھوں ہی اپنے بچوں کو جیتے جی مار دیا تھا انہوں نے۔۔۔۔تانیہ تو یہ سب سن کے بے ہوش ہوگئیں تھیں ۔۔۔۔ایک بیٹی تو وہ کھو ہی چکیں تھی اب دوسری اپنی رویے سے کھو دیں تھیں انہوں نے۔۔۔
💞💞💞💞
ہائے !!!
What a surprise Suni!!!
یہ تم ہی ہوں ناں oh my God تم نے مجھے پہچانا میں عزل ۔۔۔۔۔سنان میرب کو ایک شاپنگ سینٹر کے لیدیز بوتیک میں کچھ ڈریسز کی شاپنگ کے لیے لایا تھا ۔۔۔۔ جب وہ دونوں بوتیک کے اندر انٹر ہوئے تو تب ہی ایک ماڈ سی لڑکی سنان کی جانب بڑھتے ہوئے خوشی سے چہک کر بولی تو پاس ہی کھڑی میرب نے حیرت سے اس لڑکی کو خوشی سے پاگل ہوتے دیکھا
اہوں!!! غزل یہ تم ۔۔۔۔تم تو ایسی غائب ہوئی جسے عید کا چاند غائب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔کہاں تھی تم اتنے سالوں ۔۔۔۔۔
سنان نے اس لڑکی کو پہچان کر اس سے پوچھا
یار میں کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔۔میں یہی تھی ۔۔۔۔۔گئے تو تم تھے میری زندگی سے I mean تم مجھے پر کھبی نظر نہیں آئے تھے تم یونی کے بعد ۔۔۔۔اور یہ بتاؤ تمہاری زر سے ہوئی کے نہیں ۔۔۔۔۔اور یہ کیوٹ سی لڑکی کون ۔۔۔۔۔۔
یکدم سے اس لڑکی کے ایک ایک جملے میں پرسرایت ٹھپکنے لگی تھی میرب کو ایسا لگا کہ وہ لڑکی اس سے جیلس ہورہی تھی اسے سنان کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی نے جلیسی سے سنان سے میرب کے بارے میں پوچھا
غزل !!!!یہ کیوٹ میری پیاری سی وائف میرب سنان خان ہے ۔۔۔۔۔سنان نے میرب کی جانب پیار بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے غزل سے کہا اور غزل سنان کو اس کی جانب مہبوت ہوکر دیکھتے ہوئے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگی ۔۔۔۔میرب کو سنان کے ساتھ بوتیک میں انٹر ہوتے دیکھ کر اسے ناگواری محسوس ہوئی تھی میرب سے ۔۔۔۔۔وہ سنان کو کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھی پھر اس چھوٹی سی لڑکی کو کیسے دیکھتی وہ سنان کے ساتھ ۔۔۔۔یونی کے زمانے میں بھی زر کو سنان کے ساتھ دیکھ کر اسے زر سے شدید ترین نفرت محسوس ہوتی تھی اسے ۔۔۔۔۔اور اب میرب کو دیکھ کر اسی اسے طرح کی فیلنز محسوس ہورہی تھی اسے
سنان ۔۔۔۔کیا تم نے زر سے شادی نہیں کی ہے ۔۔۔۔زر کا کیا ہوا سنان تمہارے اس محبت کا کیا ہوا جو تم زر سے بے پنا کرتے تھے تم سنان ۔۔۔۔۔
اس نے یکدم سے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اس سے طنزیہ انداز میں میرب جانب دیکھ کر اس نے سنان سے کہا
غزل !!!زر اس دنیا میں اب نہیں ہے وہ خالق حقیقی سے جا ملی ہیں ۔۔۔۔۔میں نے زر سے شادی کی تھی ۔۔۔۔اور میرا اور زر کا ایک بیٹا بھی ہے ۔۔۔۔رومی نام ہے اس کا ۔۔۔۔۔
سنان نے افسردگی سے کہتے ہوئے آخر میں خوش ہوکر اسے رومی کے بارے میں بتایا ۔۔۔تو غزل نے شاک سے اس کی جانب دیکھا
یہ ۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہوں سنان یہ نہیں ہوسکتا زر ۔۔۔۔میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی ۔۔۔۔کہوں کہ یہ جھوٹ ہے جھوٹ ۔۔۔۔ابھی تو میں نے اس سے دیر سارا باتیں کرنا تھا مجھے وہ ایسا کیسے کرسکتی ہے سنان
یکدم سے روتے ہوئے اس نے سنان کے کندھوں پر اپنا سر ٹکاتے ہوئے اپنی آنکھیں موندے اسے محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔اور اس کی خوشبو کو اپنے دل کے اندر اتارنی لگی کتنی لمحے تو وہ اس کی سحر میں جکڑی رہی ہوش تو اسے تب آیا جب ایک ہی جھٹکے میں اسے کسی نے سنان سے الگ کرتے ہوئے اسے دور دھکا دیا تو اس نے اس دھکیلنے والے کی جانب غصے سے دیکھا تو ڈنگ رہ گئی سامنے میرب غضب ناک تیور لیے اسے گھورنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔اور سنان اسے اس طرح غصے میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ کبھی بھی اس طرح غصہ نہیں کرتی تھی جب کہ اب اسے ایسا لگ رہا تھا کہ آج یا تو وہ غزل کو مار دے گی یا پھر خود کو اسے اس طرح دیکھ کر سنان کو خوشی ہوئی چلو محبت نا سہی جلیسی ہی سہی ۔۔۔سنان نے دل ہی دل میں خود سے کہا
مانا کہ آپ کو آپی کا دکھ ہو رہا ہے۔۔۔۔لیکن یہ کون سا طریقہ ہے اپنے دکھ کو کم کرنے کا ہاں بتاؤ مجھے زرا ۔۔۔۔سنان میرا شوہر ہے اور میں کسی ایری گیری کو اپنے شوہر کے ساتھ بات کرنے نا دوں اور آپ نے تو پوری حد کراس کر دی ہے ۔۔۔۔۔
میرب نے تیوری چڑھاتے ہوئے غزل کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا غزل ابھی تک شاک کے عالم میں اس چھوٹی سی لڑکی کو اپنے اوپر برستے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ چھوٹی سی نظر آنے والی لڑکی کے پاس ایٹمی طاقت جیسی زبان بھی موجود ہے سنان اب کی بار تو منہ کھولے اپنی پٹاکہ بیوی کو دیکھنے کے مجبور ہوگیا
سوری ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔مجھے اندازہ نہیں ہوسکا کہ میں اپنا دکھ کس طرح بیان کروں سنان سے اس لیے مجھے اندازہ ناں ہوسکا ۔۔۔۔
غزل نے اٹک اٹک کر گھبراہٹ سے میرب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کہ ابھی تک اسے غصے سے دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
وہ کیا ہے ناں غزل میرب اپنے علاوہ کسی لڑکی کو بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دی ہے مجھے میرب میرے معاملے میں بہت ہی پوزسیو ہے یہ ۔۔۔۔۔۔پتا ہے ایک بار کیا ہوا تھا غزل ۔۔۔۔جب ہم باہر ڈینر کرنے کے لیے گئے تھے تو ایک لڑکی مجھے بار بار گھورنے میں مصروف تھی کہ تب ہی میرب کی نظر اس لڑکی پر پڑی تو غزل تم اندازہ لگاؤ کہ میرب نے اس لڑکی کے ساتھ کیا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔
سنان کے اتنے سفید جھوٹ ہے میرب کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی ہی چلی گئی ۔۔۔۔۔اسے ہی پتہ نہیں کہ اس نے اس لڑکی کے ساتھ کچھ کیا ہوگا
کیا کیا تھا میرب نے اس لڑکی کے ساتھ ۔۔۔۔۔غزل نے سنان سے پوچھا
میرب نے جا کر اس لڑکی سے کہا بہن اپنے بھائی کو اس طرح مت دیکھوں ورنہ تمہارے بھائی کو نظر لگ جائے گی ۔۔۔۔۔تو میرب کے بھائی کہنے پر اس لڑکی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی ۔۔۔۔ہاہاہاہا
سنان نے محضوظ کن انداز میں کہہ کر آخر میں قہہقہ لگایا تو غزل بھی نا چاہتے ہوئے مسکرانے پر مجبور ہوئی