Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

یار باس کے روم میں دھماکہ ہوا کہ نہیں !!!
جب وہ شرمندگی سے باس کے روم سے نکل کر ثنا کے ٹیبل کی جانب آئی تو ثنا نے اسے دیکھ کر کہا تو اسے اندر کا سارا واقع پھر سے یاد آیا تو اس کے گلابی گال شرم سے سرخ ہوگئے اور یہ دیکھ کر ثنا نے اس سے پوچھا
“Is there any problem”
پروبلم بہت بڑی پروبلم ہے یار کافی اس “ایس کے “کہ بجائے باس نے پیا ہے اب کیا ہوگا یار جب وہ پیوئن باس کو سب کچھ سچ بتا دے گا میری تو جاب پکی چلی گئی ۔۔۔۔۔یار
اس نے اچانک سے دھماکہ کر دیا تو ثنا نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا جو کہ اب پریشانی سے ادھر ادھر چکر کاٹ رہی تھی
ییہ۔۔۔۔یہ کیسے ہوا یار تم نے تو اس پیوئن کو پیسے بھی دیئے تھے پھر بھی اس نے یہ سب کیا یار مجھے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے پتا لگاوں مس خان کے یه کس کی چال ہے ۔۔۔۔
اچانک سے ثنا کی cid والی روح نمودار ہوگئی تو اس نے بےزاری سے ثنا کی جانب دیکھا جو کہ اب بلکل cid کی هر کسی کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے میں مصروفے عمل تھی
مجھے پتہ ہے کہ یہ کس کا پلان ہے ۔۔۔۔
اس نے کچھ سوچتے ہوئے ثنا کی جانب دیکھا
👇👇👇👇👇👇👇
کک۔۔کون ہوں تم لوگ !!!
ایک شخص رسیو سے جھکڑا ہوا کب سے چلا رہا تھا کہ تب ہی اس کی آواز اپنے اوپر ٹھنڈے یک پانی گرنے سے بند ہوگئی تھی
ہاہاہاہاہا
تمہاری موت!!!!!
اس آواز کو سن کر اس شخص کو اصل میں اپنی موت نظر آ رہی تھی ۔۔۔اسے لگا کے موت کا فرشتہ اس کے آس پاس ہی یہی کہیں تھا اسے یکدم سے پسینے آنے لگے ۔۔
دیکھوں تمہیں جتنے بھی پیسے چاہیئے میں دینے کو تیار ہوں ۔۔۔تم مم۔۔مجھے چھوڑ دوں بس
اس شخص نے ڈرتے ہوئے ان سے کہا جو اس کے سامنے کھڑے آسے گھورنے میں مصروف تھے تبھی ان میں سے ایک شخص نے اس کی جانب بڑھتے ہوئے اس کے اوپر ٹھنڈے یک پانی گرایا تو وہ شخصں بلبلا کر رہ گیا
بہت پیسہ آگیا ہے تمہارے پاس رشید !!!
یہ آواز سن کر اس شخص کی ہوائیاں اڑ گئی اور اس نے دوسرے شخص کو کچھ اشاره کیا تو اس نے آگے بڑھ کر اس شخص کے آنکھوں پر سے بندھی پٹی اتارا تو اس نے آگے بڑھ کر اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
آپ !!!!
ہاں میں !!!!کیوں چونک گئے تم !!!مجھے بتاؤ تم کے تم نے یہ گھٹیا کام کس کے کہنے پر کیا ہے بتاؤ مجھے ۔۔۔۔
مس خان !!
میرے کہنے پر” مسسز خان”
تب ہی وہاں وائٹ کلر کے Sleeveless vest اور بلیک کلر
کی Skinny jeans میں ملبوس ایس کے نمودار ہوا تو اس
نے حیرت سے ایس کے کی جانب دیکھا جو کہ اسی کی
جانب متوجہ تھا اور اسے اپنی طرف دیکھتے پاکر ایس کے
نے شرارت سے اپنی ایک آنکھ چھپکایا تو اس نے ناگواری سے ایس کے کی جانب دیکھا
تمہیں شرم نہیں آئی باس کے ساتھ ایسا مذاق کرنی کی ۔۔۔۔
اس نے ناگوار انداز میں ایس کے سے کہا
تمہیں شرم آئی تھی اس وقت جب میری کافی میں وہ چیز ڈالتے ہوئے “مسسز خان “
ایس کے نے نہایت ہی سنجیدہ انداز میں اس کی جانب
دیکھ کر کہا تو اس نے ڈرتے ہوئے ایس کے کی جانب دیکھا
جو کے اس کی جانب پوری طرح سے متوجہ تھا
میں نے کب ملایا آپ کی کافی میں مسٹر ایس کے صاحب ۔۔۔۔
اس نے بھی ہار نہ مانتے ہوئے ایس کے کی جانب دیکھ کر ڈھٹائی سے کہا
اچھا جی !!!تو یہ کیا ہے” مسسز خان”
ایس کے نے جونسن کو کچھ اشارہ کیا تو اس نے آگے بڑھ کر اس کے سامنے ایک لیپ ٹاپ بڑھایا تو اس نے ناسمجھی سے ایس کے کی جانب دیکھ کر وہ لیپ ٹاپ پکرا اور جب لیپ ٹاپ میں اس نے جو چیز دیکھا تو اس کے چہرے کی رنگت یکدم سے آڑ گئی تھی
یہ۔۔۔یہ کیا ہے مسٹر ایس کے !!!
اس نے چلا کر ایس کے کی جانب دیکھا
یہ وہ چیز ہے “مسسز خان” جس سے سب کو پتہ چل جائے گا کہ مس خان نے اپنے باس کے کافی میں کچھ ملا کر اسے مارنے کی کوشش کی تھی لیکن باس کی خوش قسمتی کہیں یا پھر مسس اوہ سوری مس خان کی بدقسمتی جو کہ جائے واردات پر پکڑی گئی تھی ۔۔۔تو کیسا لگا میرا فلم “مسسز خان”
سارا منظر بتا کر ایس کے نے آخر میں شرارت سے “مسسز خان”کہہ کر اس کی جانب دیکھا جو کہ پہلے تو اس کی جانب خوف سے دیکھ رہی تھی مگر اس کے آخر میں شرارت سے مسسز خان کہنے پر ایس کے کی جانب غصے سے دیکھنے لگی
کیا مطلب ہے اس کا مسٹر ایس کے !!!
وہ ایس کے مدمقابل کھڑی اسے غصے سے گھورتے ہوئے
بول رہی تھی کہ ایس کے نے اپنے ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے
ہوئے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کی جانب کسی ٹوٹے
ہوئے شاخ کی طرح اس کی جانب آ گری تھی اس کے سینے
سے لگنے کے ڈر سے اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر
رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن یہ اس کی بس
کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ ایک مضبوط توانا مرد تھا اور
وہ ایک نازک سی لڑکی تھی وہ کہاں اس سے مقابلہ کر
سکتی تھی آخر تھک ہار کر اس نے مزاحمت ترک کرتے ہوئے
اس کی جانب دیکھا جو کہ اس کے ایک ایک نقش کو اپنے
آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا
تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہوں “مسسز خان “
اس نے گھمبیر آواز میں کہتے ہی آخر میں اس کی جانب
شرارت سے دیکھا تو اس نے اسے دکھا دے کر خود‌ سے دور
کیا اور اس سے دو قدم پیچھے ہٹ کر اس کی جانب
ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
You dare so much that you touched me again
کیوں آئے ہوں تم میری زندگی میں پھر سے ہاں بتاوں مجھے کیوں کیا پہلے تمہیں سکون نہیں ملا مجھے برباد کر کے بتاو مجھے ۔۔۔۔
ایس کے کا گریبان جھنجھوڑتے ہوئے اس نے چلا کر اس سے کہا تو ایس کے کی خوبصورت کالے رنگ کے کانچ سے ایک آنسو چھلک کر نیچے گر گیا ۔۔۔۔۔
چلے جاؤ میری زندگی سے چلے جاؤ جاؤ ۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ نیچے گرتی کہ ایس کے نے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور نیچے بیٹھتا چلا گیا تھا
جانم تم نے مجھ پر اعتبار تو کیا ہوتا ۔۔۔۔مجھے سمجھا ہوتا، تم جانتی ہوں جانم کہ میں کبھی بھی ایسا کوئی کام نہیں کرتا جس سے میرے بڑوں کا سر شرم سے جھک جائے تم نے یہ سوچا بھی کیسے ۔۔۔ کہ میں وہ گری ہوئی حرکت کروں گا ۔۔ہاں بولوں جانم کیوں مجھ پر اعتبار نہیں کیا تم نے اس وقت بولوں کیوں !!!!
نیچے بیٹھے ایس کے نے اپنے گود پر رکھے اس کے سر پر انگلیاں چلاتے ہوئے ضبط سے اس کی جانب دیکھ کر چلا تے ہوئے کہا