Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 9)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 9)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
وہ رات کا کھانا بنا رہی تھی ، جب لاؤنج سے ان سب کی آوازیں آنے لگیں ، اسنے فریج سے پانی کی بوتل نکالی دو گلاس پانی لیئے وہ لاؤنج میں آئ۔ پانی جویریہ اور حوریہ کو دیا ، ان دونوں نے پانی پیا گلاس اسے واپس کیئے ، وہ ان سے گلاس لے کر کچن میں واپس گھسی ، جہانداد نے محض اسکی حرکت کو تھکے ہوئے انداز میں دیکھا پر کچھ بولا نہیں ، تھوڑی دیر بعد وہ اسکے لیئے بھی پانی لائ اسے بھی پانی دیا اور واپس کچن میں گھس گئ ، کھانا پکا کر وہ نکلی تو ان تینوں میں سے کوئ بھی وہاں موجود نا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئ ، کمرے میں داخل ہوئ تو جہانداد سامنے بیڈ پہ لیٹا تھا بازو آنکھوں پہ رکھے تھے ، وہ ہمت مجتمع کرتی بیڈ کی پائنتی پہ بیٹھی ، اور دھیمی گویا ہوئ۔
” جہانداد۔”
” ہمم۔” بازو ہٹائے بغیر کہا۔
” مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔” وہ دھیرے سے کہتی اسے تکنے لگی۔
” کہو۔” ہنوز اسی حال میں پڑا وہ بولا ، اسکی آواز ثبور کے کانوں میں ایسے پڑی جیسے کوئ بڑبڑایا ہو۔
” آپ اُٹھ جائیں تھوڑی دیر۔” اسنے دھیرے سے کہا۔
” جو کہنا ہے کہو ، تنگ نا کرو میرا سر درد کر رہا ہے۔” اسکے لہجہ میں بلا کی بیزاری تھی۔
” کچھ نہیں کہنا مجھے ، آپ آرام کرتے رہیں۔” وہ چڑ کر کہتی اٹھی ، اور کمرے کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ بند کرکے نکل گئ۔
جہانداد نے بازو ہٹا کر دیکھا ، وہ کمرے سے جاچکی تھی، جہانداد کو غصہ آیا تھا۔
” نخرے تو اتنے ہیں کہ گدھا بھی نا اُٹھائے محترمہ کے بندہ پوچھ لیتا ہے ہوا کیا ہے ، تکلیف زیادہ تو نہیں یا پھر بندہ یہ ہی پوچھ لیتا ہے کہ سر میں درد ہے چائے یا ٹیبلٹ دے دوں ، پر نہیں اِن محترمہ سے تو کسی چیز کی امید کی ہی نہیں جاسکتی۔” وہ من ہی من میں بڑبڑایا تھا۔
” توبہ کیسے نخرے دکھا رہے تھے ، جیسے مانو کہیں کے پرائم منسٹر لگے ہوں ، میری بلا سے سر میں کیا دل میں درد پو جائے ، کچھ لوگوں کو ذرا سی اہمیت کیا دے دو ، دماغ ہواؤں میں اڑنے لگتا ہے۔” وہ بڑبڑائے ہوئے لاؤنج میں آکر بیٹھی تھی ، جہانداد پہ آیا غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا ، اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ محترمہ بختاور جہانداد کو بلا کر آئ ، اور وہ موصوف آٹھ کر اسکے پیچھے چلے آئے تھے ، جہانداد کے سر کا درد تو شاید ہوا ہوچکا تھا پر ثبور کا سر شدید درد کرنے لگا تھا ، اسنے جہانداد کو تیوری چڑھا کر دیکھا تھا ، اسکی تیوریوں کو نظر انداز کرتا جہانداد بختاور کے برابر براجمان ہوا۔
” جہانداد کل چلو گے ، ہمارے پرانے فرینڈز نے گیٹ ٹو گیدر رکھی ہے۔” بختاور لال رنگ کا بوس کی لیلن کا ٹخنوں تک چھوتا فراک پہنے ، پیر پہ پیر ڈالے بیٹھی دلکشی سے مستفسر ہوئ، ثبور نے نگاہیں اٹھا کر بختاور کی سمت دیکھا ، لبوں پہ لباس کے ہم رنگ سرخی لگائے بیٹھی وہ بڑی چاہت سے مسکرا رہی تھی۔
” کل ۔۔۔!! اوہ نو تم مجھے پہلے بتاتی ناں۔۔۔۔!!! میں فرصت نکال لیتا ورنہ یقین مانوں تمہیں انکار کرنا بلکل اچھا نہیں لگ رہا۔” وہ بھی بڑی ہی خوشدلی سے بولا۔
” اوہو مجھے پتہ ہوتا تو میں پہلے بتا دیتی، چلو کوئ بات نہیں نیکسٹ ٹائم ضرور چلیں گے۔” وہ اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنا سرخ نیل پینٹ سے سجا ہاتھ رکھ کر مسکرائ۔
” بلکل ضرور کیوں نہیں بختاور ، ویسے بھی یو نو ناں تمھارے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا مجھے کتنا اچھا لگتا ہے۔” وہ بھی جواباً مسکرایا۔
” سر کا درد ٹھیک ہوگیا آپکا۔” ثبور چہرے پہ مصنوئ مسکراہٹ سجا کر بولی۔
” ہاں تھوڑا تھوڑا تھا ، بختاور کے ساتھ بات کرلی وہ بھی اب ٹھیک ہوجائے گا۔” وہ بختاور کو دیکھ مسکرایا تھا۔
” کیا سچی جہانداد۔” بختاور کی آنکھوں میں ایک عجب ہی چمک کوندی تھی۔
” افکارس یار ۔” نرمی سے کہا۔
” کھانا لگا دوں؟؟۔” وہ اپنا غصہ ضبط کرتی مستفسر ہوئ۔
” ہمم لگا دو۔” سرسری سی نگاہ اسپہ ڈال کر وہ نگاہیں موڑ گیا تھا۔
ثبور پیر پٹختی اٹھی تھی ، اور کھانا ڈائینگ ٹیبل پہ لگاتی ایک ایک چیز پٹخ پٹخ کر رکھ رہی تھی۔
جویریہ اور حوریہ بھی کھانا کھانے آگئے تھے ، جہانداد اور بختاور بھی کھانا شروع کرچکے تھے ، ثبور کا موڈ سخت خراب ہو رہا تھا ، وہ خاموشی سے کمرے میں جانے کو مڑی تھی کہ جویریہ کی آواز نے اسے روکا۔
” کھانا نہیں کھا رہیں آپ؟؟؟۔”
” نہیں دل نہیں کر رہا۔”
” ثبور بیٹھ کر کھانا کھائیں۔” جہانداد نے کہا۔
” بھوک نہیں مجھے۔”
میں نے کہا کھانا کھانے بیٹھیں۔”
میں بھی کہہ رہی ہوں مجھے نہیں کھانا۔”
“Why are you arguing??”
” میں آرگیو نہیں کر رہی ” وہ دھیرے سے بولی۔
” so what are you doing?? “۔ وہ بھی چڑا۔
” پلیز مجھے نہیں کھانا کھانا تو کیوں تنگ کر رہے ہیں۔” وہ چٹخ کر کہتی اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔
وہ بھی کھانا چھوڑتا اسکے پیچھے گیا تھا ، بختاور اسے دیکھتی رہ گئ تھی۔ جویریہ اور حوریہ خاموشی سے اپنے کھانے کیطرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
” کھانا کیوں نہیں کھا رہی تم۔” اسنے اسے کلائ سے تھام کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
” کہہ تو دیا ہے بھوک نہیں مجھے۔” وہ چڑی۔
” تمہیں بھوک نہیں پر میں کہہ رہا ہوں کھانا کھانے چلو۔” وہ اسے تکتے بولا۔
” میں آپکی مرضی کی غلام نہیں۔”
” میں نے کب کہا تم میری مرضی کی غلام ہو۔”
” آپکی باتوں سے تو یہی اندازہ لگا سکی ہوں میں۔”
اندازے کیوں لگاتی ہو ، مجھ سے ڈائیریکٹ پوچھ لیا کرو۔” اسنے نرمی سے کہا۔
” ہاتھ چھوڑیں میرا ، اور جاکر کھانا کھائیں آپکی بختاور آپکے انتظار میں آدھی ہوگئ ہوگی۔” وہ چڑ کر کہتی اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے آزاد کرانے لگی۔
” اسکو چھوڑو ابھی مجھے اپنی بیوی پہ فوکس کرنے دو جو جل جل کر خاک ہوگئ ہے۔” وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔
” میں اور جلوں گی۔۔۔!! میری جُتی بھی نہیں جلتی۔” اسکو تو آگ لگ گئ تھی۔
” پر مجھے ایسا کیوں لگتا ہے بختاور سے تمہیں خاصی جلن محسوس ہوتی ہے۔” پرشوق نظروں سے اسے تکا گیا۔
” آپکی غلط فہمی ہے یہ۔” اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاذھ کر ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
” قسم کھاؤ۔” وہ ہنسا۔
” کیوں کھاؤں میں قسم ، میں نہیں کھا رہی کوئ قسم وسم۔” وہ چڑی۔
” نا کھاؤ قسم ، پر کھانا کھا لو۔” وہ اسے ساتھ زبردستی لے کر کمرے سے نکلا تھا۔
” مجھے غصہ آرہا ہے ہاتھ چھوڑیں میرا۔” وہ اسکے ساتھ گھسیٹتی چیخی۔
” بلکل چپ خاموشی سے چلو۔” اسکے چیخنے پہ اسنے مڑ کر اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔
” مجھے کھانا نہیں کھانا ناں۔” اسنے رونی صورت بنائ۔
” تھوڑا سا کھا لو۔” وہ اسے چیئر پہ بٹھاتا خود بھی بیٹھا تھا۔
اسکی پلیٹ میں کھانا نکالا ، اور پھر اپنے لیئے کھانا نکال کر کھانا شروع ہوا ، ثبور بھی خاموشی سے کھانا کھانے لگی تھی۔
بختاور نے اسے جلتی آنکھیوں سے تکا تھا ، جویریہ اور حوریہ لگی کوئ بات کرتی ہنس رہی تھیں۔
” کیا ہوا بھئ کیوں ہنسا جارہا ہے۔” جہانداد انکی طرف متوجہ ہوا۔
” ڈیڈ بات ہی ایسی ہے یہ دیکھیں ، آپکو بھی ہنسی آجائے گی۔” جویریہ اپنا موبائل اسکے پاس لے کر آئ۔
” علی گر گیا تھا ، اسنے مجھے بتایا نہیں ، لگی تو نہیں ناں علی کو۔” وہ ہنسنے کے بجائے فکرمند ہوا تھا۔
” اوہو ڈیڈ اتنا بھی کوئ موم کا نہیں بنا کہ لگ جاتی ، ڈھیٹ ہڈی ہے پورا۔” حوریہ چڑی تھی۔
” پاپا سہی کہہ رہی ہے یہ آپکو پتہ ہے وہ سیدھا تشریف کے بل جاکے گرا تھا، میں تو اتنا ہنسی تھی ، اور وہ پاگل خود بھی بہت ہنس رہا تھا۔” جویریہ نے چہکتے ہوئے بتایا۔
” پاگل ہو تم تینوں بلکل۔” وہ اپنی بیٹیوں کو محبت سے تکتا ہنسا تھا۔
” جویریہ آجاؤ یار جلدی کھانا کھاؤ پھر مووی بھی دیکھنی ہے ہم نے۔” حوریہ نے اسے پکارا تھا۔
بختاور ثبور کو خون آشام نظروں سے گھورتی اٹھ گئ تھی۔ کھانا کھا کر وہ لوگ فارغ ہوئے ، ثبور برتن دھو رہی تھی کچن میں جب جہانداد کچن میں آیا۔
” واک پہ چلیں؟؟۔” نرمی سے پوچھا گیا۔
” ابھی ۔۔۔؟؟۔” اسنے حیرت سے سر موڑ کر اسے دیکھا۔
” ہمم ابھی ۔۔۔!!۔” اسنے پرشوق نظروں سے اسے تکا۔
” میں یہ برتن دھو لوں پھر چلتے ہیں۔” وہ دھیمے سے بولی۔
” واپس آکر دھو لینا۔” وہ اسکی پشت پہ کھڑا ہوتا اسکے کمر تھام گیا تھا۔
” بس دھل گئے تھوڑے سے ہی تو ہیں۔” اسنے برتن جلدی جلدی دھوتے ہوئے کہا ، کہ یکدم اسکے لمس پر وہ سٹپٹائ تھی۔
” جلدی کرو ناں۔” وہ اسکے کندھے پہ اپنی ٹھوڑی رکھتا اسکے کان کی لو کو چومتا نرمی سے گویا ہوا۔
” دھو تو رہی ہوں۔” وہ اسے خود سے دور کرنے لگی۔
” بس دھل گئے جلدی صاف کرو یہ آخری برتن۔” اسنے اسکے گال پہ لب رکھے تو اسکے ہاتھ سے پلیٹ چھوٹ کر سینک میں واپس گری تھی۔
” دھل گئے چلیں۔” وہ اسے خود سے دور کرنے کے جتن کرتی افسوس سے گویا ہوئ۔
” ہمم چلو۔” وہ اسے ایک جھٹکے سے موڑتا اپنے لب دھیرے سے اسکی گردن پہ رکھ گیا تھا۔اور اسکا ہاتھ تھامتا اسے گھر سے باہر لے کر نکل گیا تھا۔
وہ دونوں گھر سے باہر اپنی سوسائٹی کی گلیوں میں واک کر رہے تھے۔ جب ساتھ چلتے چلتے ثبور نے ایک گھر میں لگے درخت کو دیکھ اس سے پوچھا۔
“یہ کس چیز کا درخت ہے؟؟۔” اسنے انگلی کے اشارے سے پوچھا۔
” یہ درخت تو کسی اور چیز کا ہے پر اسپہ یہ بیل انگور کی ہے۔” اسنے درخت کو تکتے کہا۔
” اسکی ساخت کتنی مختلف ہے ناں۔” وہ اس درخت کو مسمرائز ہوکر تک رہی تھی۔
” ہمم مختلف تو ہے۔” وہ بھی دھیرے سے بولا۔
” ثبور آپ نے کچھ کہنا تھا ، اسوقت میرے سر میں حقیقتاً درد تھا۔” اسنے اسے دھیرے سے بتایا۔
” جی بلکل آپکے سر میں حقیقتاً درد تھا ، پر بختاور سے بات کرکے بلکل ٹھیک ہوگیا۔” اسنے اسکے ساتھ ہم قدم چلتے طنز کیا۔ رات کے دس بج رہے تھے ، ماحول بے حد مسمرائزنگ سا تھا ، ٹھنڈی فضا ، خالی سڑکیں ، لوگوں کے گارڈنز میں لگے پودوں کی خوشبو ، رات کا اندھیرا ، چاند کی چاندنی اور وہ دونوں ایک ساتھ ہم قدم ہو کر چل رہے تھے۔
” چھوڑو بھی اس بات کو ، میں نے کچھ اور بھی پوچھا ہے ، آپ سے محترمہ۔” اسنے نگاہیں ترچھی کرکے اسے تکا۔
” بات تو کرنی تھی ، پر شاید آپ میری مدد کرنے کو راضی ہوں یا نا ہوں۔” وہ دھیرے سے بولی۔
” ایسی کیا بات ہوگئ ، کہ میں مدد نہیں کرونگا۔” اسنے حیرت سے پوچھا۔
” میری سہیلی تھی۔ انشال نام تھا اسکا۔۔۔ قتل کر دیا گیا۔” وہ دھیرے سے نم آواز میں بولی۔
” قتل کیسے ہوا؟؟ کیوں ہوا؟؟ کس نے کیا؟؟؟۔” اسنے بے ساختہ اس سے پوچھا۔
اسنے دھیرے دھیرے سری رواداد اسے سنائ ، وہ اسکی بات سنتا اسے تکنے لگا۔
” بس محض اتنی سی بات ہے ، وہ غلط نہیں تھی جہانداد وہ مظلوم تھی ، پر اسے گنہگار بنا دیا گیا ، اسکے تین سال کے ننھے سے بچے کو بن ماں کا کردیا ، جہانداد وہ نارمل بچہ نہیں تھا ، وہ چل نہیں سکتا تھا، وہ اپنی ماں کے بغیر ایک پل بھی نا رہ سکتا تھا، اسے اسکی ماں سے جدا کر دیا ، میں نے آپکی ٹیم کو ای میل بھی کیا تھا ، پر دادی کو جیسے ہی پتہ چلا انہوں نے میری رخصتی کردی ، میں نے حارث سے بہت کہا پر نا وہ خود آمادہ تھا ، ناں مجھے انصاف کی جنگ لڑنے دی۔” وہ سسکی۔
” ثبور۔۔۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں مس انشال کو انصاف دلوانے میں کامیاب ہو بھی پاؤں گا یا نہیں پر میں یہ جنگ لڑے بغیر ہار نہیں مانوں گا ، یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ میری ٹیم کے پاس ای میل آیا ہوگا ، میں چیک کرواتا ہوں ، ثبور کیا آپکو جوابی ای میل موصول ہوا تھا؟؟۔” وہ دھیرے سے کہتا ، اس سے مستفسر ہوا۔
” پتہ نہیں میں نے دوبارہ چیک ہی نا کیا اور پھر میرا وہ ای میل اکاؤنٹ میرے یوز میں ہی نا رہا۔” وہ اپنے آنسو صاف کرتی ، بھری آواز میں بولی۔
” ہمم کوئ بات نہیں ، میں دیکھتا ہوں ، آپ بے فکر رہو۔” وہ اسکا ہاتھ تھامتا بولا۔
” کبھی بھاگی ہو۔” جہانداد نے نظریں موڑ کر اسے تکا۔
” ہیں ؟؟؟ ۔” وہ حیراں ہوئ۔
” کبھی سڑکوں پہ دوڑی ہو۔” وہ ہنستا ، اپنی بات دوبارہ دہرا گیا تھا۔
” نہیں۔۔”۔ اسنے دھیرے سے کہا۔
” تو پھر انتظار کس بات کا ہے بھاگو۔” اسکی کلائ مضبوطی سے تھامے وہ اسے خود کے ساتھ دوڑنے پہ مجبور کر گیا تھا۔ وہ دونوں نکلے واک کرتے ہوئے تھے ، پر گھر واپس بھاگتے ہوئے پہنچے تھے ، گھر کے دالان میں داخل ہوتے ہی دونوں بے تحاشہ ہنسے تھے۔ ثبور نے ہنستے ہوئے اسکے کندھے پہ تھپڑ مارا تھا۔
” ۔۔ توبہ۔۔۔آپ ۔۔۔تو بلکل ۔۔۔ بچے ہیں۔” وہ بہ مشکل گہری سانسیں لیتی بول پائ تھی۔
” تم۔۔۔ نے نہیں۔۔۔ سنا کے بڑھاپے میں بچپن دوبارا آتا ہے۔” وہ اپنی سانسیں بہال کرتا گارڈن میں پڑی کرسی کھینچ کر بیٹھا تھا۔
ثبور بھی اسکے پیچھے آئ تھی اور۔ہنستے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھی تھی۔
” سنا تھا ، آج دیکھ بھی لیا۔” وہ ہنسی تھی۔
” تو پھر کیسا لگا دوڑنے کا ایکسپیرہنس۔” وہ مستفسر ہوا۔
” بہت ہی برا، ایسا لگ رہا تھا۔ ہمارے پیچھے کتے لگے ہیں۔” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی۔
” بڑی ہی کوئ ڈیش لڑکی ہو۔” اسنے قہقہ لگایا۔
” کیوں ڈیش ہوں بھئ ایسا کیا کہہ دیا میں نے۔” اسنے برا منا کر کہا۔
” سیدھے طریقے سے بھی تو کہہ سکتی تھی ناں کہ بہت مزہ آیا۔” اسنے وجہ بتائ۔
” آپ سمجھ گئے ناں کے مجھے مزہ آیا ہے ، پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ سیدھے طریقہ سے بتاؤں۔” وہ اسکو تکتی سنجیدگی سے بولی۔
” ہمم یہ بھی ہے۔” اسنے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
” چائے بنا کر لاؤں۔” اسنے اسکی نظروں سے نگاہ چرائ۔
” لے آؤ۔” محبت سے کہا۔
وہ مسکرا کے کچن میں گئ تھوڑی دیر بعد گرما گرم چائے بنا کر لائ، ایک کپ اسے تھمایا، ایک کپ خود اپنے ہاتھ میں تھامے اسکے مقابل بیٹھی۔
” شکریہ۔” جہانداد نے دھیرے سے کہا۔
” کس لیئے۔” وہ الجھی۔
” چائے کے لیئے۔” اسنے کپ اٹھا کر کہا۔
” آپکا بھی شکریہ۔” وہ بھی دھیرے سے بولی۔
” کس لیئے؟؟۔”
” اتنا ہنسانے کے لیئے۔” اسنے مسکرا کر کہا۔
” یہ تو میرا فرض ہے ملکہ عالیہ۔” وہ ہنسا تھا۔
” اوہ ایسی بات ہے۔” وہ بھی ہنسی۔
” بلکل ایسی ہی بات ہے۔” اسنے گرم چائے کا گھونٹ بھرا۔ ثبور اسے دیکھ کر مسکرائ تھی۔ وہ بھی دھیرے سے مسکراتا چائے پینے لگا تھا۔ اوپر بالکنی میں کھڑی بختاور ان دونوں کو خون آشام نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر اپنی ہی دنیا میں گم تھے۔
♧♧♧♧♧♧
وہ زینے چڑھتا اوپر آیا تھا ، ایک فلاور بکے تاشہ کے روم میں رکھا اور دوسرا فلک کے۔ پھر فلک کے روم میں ہی موجود کبرڈ سے اپنے کپڑے اٹھائے اور فریش ہونے کی غرض سے واش روم میں گھسا۔ نہا دھو کر فریش ہوکر وہ کمرے سے نکلا تو۔۔ وہ دونوں اب بھی بیٹھی فلم دیکھنے میں گم تھیں۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے انہیں تکا اور پھر ون سیٹر صوفہ پہ پیر پر پیر چڑھا کر بیٹھ گیا۔ نگاہوں کے حصار میں وہ دونوں تھیں۔ انکے بیچ بیٹھی منت کو دیکھا جو شاید بیٹھے بیٹھے ہی سو گئ تھی پر ان دونوں کوئ ہوش نا تھا فلم دیکھنے میں اسقدر محو تھیں۔
” تم دونوں کو کچھ ہوش ہے ، بچی بیٹھے بیٹھے سو گئ ہے پر تم دونوں کو کوئ پرواہ نہیں”۔ اسنے انہیں کچھ ہوش دلانا چاہا۔
” منت۔۔ بے بی آپ سو گئے”۔ زرتاشہ نے فوراً منت کو تکا اور اسے بے ساختہ گود میں اٹھاتی اٹھی تھی۔ اور اوپر زینے چڑھتے اسے اپنے کمرے میں لیٹا کر واپس آئ تھی۔ اترتے ہوئے اسکی نگاہ انجانے میں جابر پہ پڑی تھی۔ جو فلک کو محبت سے تک رہا تھا۔ یکدم زرتاشہ کا حلق سوکھا تھا۔ کیفیت عجیب سی ہوئ تھی ، دل فلک سے بد زن ہونے لگا تھا۔ پر وہ ہمت مجتمع کرتی اچاٹ دل کے ساتھ صوفہ پہ بیٹھی تھی۔ فلک نے گردن ترچھی کرکے اسے تکا اور مستفسر ہوئ۔
” کھانا کھائیں؟؟”۔
” ہمم”۔ وہ بہ مشکل خشک ہوتے حلق سے بولی تھی۔
” میں بھی آتی ہوں ملکر کھانا لگاتے ہیں”۔ وہ اسکے پیچھے اٹھی تھی۔
جابر نے گہری سانس خارج کی ، وہ دونوں اسے زور و شور سے اگنور کر رہی تھیں۔
” کھانے میں کیا بنایا ہے؟؟”۔ وہ ان دونوں کے پیچھے کچن میں آیا کچن کاؤنٹر کے پاس آکر کھڑا ہوا۔
” اچار گوشت اور روٹی”۔ زرتاشہ نے نجانے کیسے جواب دیا حلانکہ اس وقت وہ جس کیفیت سے گزر رہی تھی اسے بیاں کر پانا نا ممکن تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں، وہ مڑی سامنے جابر کھڑا اسے ویسے ہی محبت بھری نگاہوں سے تک رہا تھا جیسے فلک کو کچھ دیر پہلے تک رہا تھا۔ اسے ایسا لگا جیسے اسکے اندر کا چور اسنے پکڑ لیا ہو ، اسکا دل مزید برا ہونے لگا وہ فلک کے پیچھے نکلی تھی جو پلیٹس ٹیبل پہ رکھ رہی تھی۔ فلک اسے دیکھ کر مسکرائ پر۔۔!! اسے اور دنوں کی طرح اسکی مسکراہٹ میں خلوص نا دکھا جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اس پہ ہنس رہی ہے۔ وہ ہمت کرتی ڈائینگ ٹیبل کی چیئر کھسکا کر بیٹھی۔ فلک بھی بیٹھی ، فلک کو اسکا گم سن کچھ سوچتا ہوا انداز کافی عجیب لگا۔ فلک بھی بیٹھ گئ اور اسکے ساتھ ہی جابر کچن سے نکلا اور اپنی سربراہی کرسی کھسکا کر بیٹھا۔ ایک نظر دونوں پہ ڈالی دونوں خاموشی سے کھانا کھا رہی تھیں۔
وہ بھی بسم اللہ کرتا کھانا کھانے لگا تھا۔
کھانا کھا کر فارغ ہوئے دونوں نے ملکر سب کچھ سمیٹا زرتاشہ ان دونوں سے بنا کوئ بات کیئے اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔
فلک بھی اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔ جابر اٹھا تھوڑی دیر زرتاشہ کے روم میں وقت گزارنے کی غرض سے پھر سونا تو اسے ویسے بھی فلک کے روم میں تھا۔
” تاشہ “۔ وہ کمرے میں آیا تو زرتاشہ کو پھوٹ پھوٹ کر روتے پایا۔
” تاشہ کیا ہوا یار کیوں رو رہی ہو”۔ اسنے یکدم بے قراری سے لپک کر اسکے قریب بیٹھتے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے پوچھا۔
” کچھ ۔۔ نہیں”۔ وہ اسے خود سے دور کرتی منمنائ ، ہلکی سی سسکی بھرتی وہ اس سے دور ہونے لگی تھی۔
” تاشہ ادھر دیکھو میری طرف “۔ اسنے اسکا چہرہ ایک بار پھر ہاتھوں میں لینا چاہا۔
” پلیز جائیں میرے روم سے”۔ وہ سسکی۔
” اوکے چلا جاؤں گا پہلے بتاؤ رو کیوں رہی تھی اسقدر”۔ وہ اسکی گردن پہ لگے زخم پہ ہلکے سے انگلی پھیرتے بولا۔
” ویسے ہی دل بھر آیا تھا”۔ وہ اسکے ہاتھ اپنے زخم سے ہٹاتی بولی۔
” تاشہ ادھر دیکھو۔۔ ، آئ لو یو جاناں”۔ وہ اسکی کیفیات سمجھ گیا تھا۔ اسنے دھیرے سے اسکا چہرہ اٹھایا اور نرمی سے اسکا گال سہلاتا گویا ہوا۔
” تم دوغلے ہو “۔ وہ اسکے زندگی میں پہلی بار کیئے اظہارِ محبت پہ تڑپ ہی گئ تھی۔
” پر تمہارا ہوں”۔ دو بدو کہا۔
” مجھے نہیں ہے تمہاری چاہ “۔ وہ سسکی۔
” پر مجھے تو ہے ناں”۔ وہ اسکے گالوں پہ بہہ جانے والے آنسو پوروں پہ چنتا محبت سے مسکرایا۔
” تم مجھ پہ خود کو زبردستی مسلط نہیں کرسکتے”۔ اسنے سرخ آنگارہ نگاہوں میں شکوہ لیئے کہا۔
” ان چھ سالوں میں نہیں کر سکا میں خود کو تم پہ زبردستی مسلط ، آگے بھی نہیں کرونگا سو جاؤ آرام سے”۔ وہ اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دیتا اٹھا تھا۔
یکدم زرتاشہ کو اپنی روح تک میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا۔ کیسی کملی ہوتی ہے ناں عورت بھی ذرا سے اظہار ذرا سی توجہ ، ذرا سی محبت پہ ہزاروں شکوہ بھول جاتی ہے۔ عورت عظیم ہوتی ہے ، ہاں حقیقتاً عورت ایک عظیم ہستی ہے۔ ۔
جابر تاشہ کے روم سے فلک کے روم میں آیا تو فلک کو پنک نائٹ ڈریس جس پہ وائٹ کٹی ( kitty ) بنی تھی دیکھ کر بے ساختہ ہنسا تھا۔
” تم بڑی نہیں ہوسکتی کبھی”۔ وہ اسکے نائٹ ڈریس پہ چوٹ کرتا ہنسا تھا۔
” نہیں “۔ پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا گیا۔
” تم بھی ناراض ہو”۔ وہ اسکے قریب آتا اسکی کلائ تھام کر اسے کھینچتا اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔
” ہاں “۔ اسنے منہ بناتے کہا۔
” تو پھر میں منانا شروع کروں”۔ وہ معنی خیزی سے کہتا اسکے اوسان خطا کر گیا تھا۔
” نہیں کوئ ضرورت نہیں”۔ وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے دور کرتی بولی۔
” شش خاموش ۔۔ ، میرا حق مجھے چاہیئے”۔ وہ اسکے گالوں کو لبوں سے چھوتا سرگوشی نما آواز میں بولا۔
” جابر نہیں”۔ وہ اس سے دور ہونے لگی۔
” فلک ہاں”۔ وہ مدہوش سی آواز میں کہتا ، اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے قریب تر کمرے کے بیچ و بیچ کھڑے تھے۔ وہ مدہوش سا اس میں گم تھا۔ وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا ہٹا تھا۔ اسنے یکدم اسے خود میں اسقدر زور سے بھینچتا کہ وہ سسک اٹھی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسکی پسلیاں ٹوٹ گئ ہوں ، یکدم وہ اسے بیڈ پہ گرانے والے انداز میں لٹاتا اس پہ جھکا تھا۔ اور اب کہ اسکا وار اسکی گردن پہ تھا۔ اسکے دانت اپنی گردن پہ گرھتے محسوس کرتی وہ سسکی تھی۔ کہ یکدم اسکے ہاتھ سرکتے ہوئے اسکے نائٹ ڈریس کی شرٹ پہ آئے تھے جنہیں وہ ایک ایک کرکے کھولنے لگا تھا۔ اور یکدم وہ خود پر اور اس پر کمبل گرا گیا تھا۔ کہ یکدم وہ اسکے اگلے لمس پہ تڑپ اٹھی تھی، کہ اسنے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر محبت سے اسے تکا تھا۔ اور اسکے کان کے پاس جھک کر سرگوشی کی۔
” میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دونگا فلک”۔ وہ اسکے کان کی لو کو چومتا۔ اسکی اور اپنی جان ایک کر گیا تھا۔ دور چاند بھی شرما کر بادلوں کی اوٹ میں ہوگیا تھا۔
♧♧♧♧♧♧
اگلے دن صبح کا سورج خاصہ روشن تھا۔ وہ سب جاچکے تھے۔ بختاور بھی اپنے فلیٹ پہ گئ تھی ، کچھ ضروری کام تھے جو وہ اپنی نگرانی میں کروانا چاہتی تھی۔ وہ لگی گھر کی صفائیاں کرنے میں مصروف تھی۔ جب وہ حوریہ اور جویریہ کے کمرے میں صفائ کرنے گئ۔ انکا کمرہ سمیٹا الماری کھول کر سمیٹ رہی تھی وہ جب حوریہ کے کپڑے نیچے گرے اسنے جھک کر حوریہ کے کپڑے اٹھائے تو ساتھ ہی حوریہ کے کپڑوں میں سے ایک خاکی رنگ کی ڈائری گری ، ثبور نے ڈائری بھی اٹھائ ، اشتیاق کے مارے اسنے ڈائری کھولی تو اسکے فرنٹ پیج پی بڑے بڑے حروف میں ” جاناں کی ڈائری ” لکھا دیکھ اسے اس ڈائری کو پڑھنے کا مزید اشتیاق ہوا۔ اسنے مزید ایک اور پننا پلٹا۔
” زندگی انسان سے بڑے کڑے امتحان لیتی ہے آج ہماری شادی کو دو سال ہونے کو آگئے ہیں ، پر آج تک میں جہانداد کے دل میں جگہ نا بنا پائ ، میری خدمت ، میری محبت سب رائیگاں ہے ، وہ شخص شاید دل کی جگہ پھتر لیئے پھرتا ہے۔ ہماری دو جڑوا بیٹیاں ہوئیں تو مجھے لگا۔ وہ بدل جائے گا پر نہیں وہ نہیں بدلا آج انکی پیدائش کو پورا ایک سال ہوگیا ہے پر آج تک وہ شخص نا بدلا۔ نجانے کونسے گناہ کی سزا ہے یہ زندگی میری سمجھ سے باہر ہے۔ اپنی بیٹیوں سے اسے بے حد محبت ہے ، مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ اسے اپنی اولاد سے تو محبت ہے ناں۔۔!۔”
ثبور نے اگلا صفحہ پلٹا اور پڑھنا شروع کیا۔
” محبت کے بغیر انسان کی زندگی پھر بھی گزر جاتی ہے، پر عزت کے بغیر انسان ایک قدم نہیں اٹھا سکتا ، میرا قصور کیا ہے آخر یہی کے میں من چاہی بیوی نہیں ، جہانداد مجھے ہر کسی کے سامنے بے عزت کرتے ہیں ، کیا میری کوئ عزتِ نفس نہیں ، جہانداد نے میری زندگی بے معنی کرکے رکھ دی ہے۔”
ثبور کا دل چھن سے ٹوٹا تھا ، کانپتے ہاتھوں سے اسنے مزید صفحہ پلٹے۔
” جہانداد جو دنیا کی نظروں میں ایک پرفیکٹ انسان ہے ، وہ اتنا بھی پرفیکٹ نہیں ، جو انسان اپنی بیوی کو زندگی کا سکون نا دے سکے ، وہ پرفیکٹ کیسے ہوسکتا ہے۔” صفحہ پہ آنسوؤں کے نشانات تھے ، ثبور مزید ڈائری پڑھتی تو بس دل جہانداد سے مزید کالا ہونے لگتا ، اسے نفرت سی محسوس ہو رہی تھی جہانداد سے ، اسنے اپنے آنسو صاف کیئے ڈائری کو واپس اپنی جگہ پہ رکھا اور کمرہ سمیٹ کر باہر آگئ۔
اسکا سر شدت سے درد کر رہا تھا۔ وہ نہانے چلی گئ جب وہ نہا کر نکلی تو ظہر کی اذان ہو رہی تھی ، اسنے جائے نماز بچھا کر نماز پڑھی۔ دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو جاناں کے لیئے بھی مغفرت کی دعا مانگی۔
بھوک کا احساس ہوا تو کچن میں آئ ایک روٹی ڈالی ، رات کا سالن فریج سے نکال کر گرم کیا ، کھانا کھایا اور کمرے میں سونے چلی گئ۔
عصر کی اذان کا ٹائم تھا ، وہ اٹھی باہر آئ آزانوں کا انتظار کرنے لگی ، گھر میں کوئ نا تھا۔ پورا گھر سنسان پڑا تھا ، وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی۔
” میں چلی جاؤں گی یہاں سے مجھے نہیں رہنا اس آدمی کے ساتھ۔”
” پر میں کہاں جاؤں گی؟؟۔” دل سے سوال اٹھا۔
” اپنے گھر جاؤں گی۔” دماغ نے کہا۔
” کونسا گھر وہ گھر جو اب تمہارا رہا ہی نہیں۔” دل سے آواز آئ۔
” کہیں بھی چلی جاؤں گی پر جہانداد کے ساتھ نہیں رہوں گی۔” دماغ اپنے فیصلے پہ اٹل تھا۔
” اپنے سر پہ سے اپنے سر کا سایہ ہٹا کر کس سڑک پہ بیٹھو گی؟؟۔” دل نے پوچھا۔
” کہا ناں کہیں بھی چلی جاؤں گی پر ایسے آدمی کے ساتھ نہیں رہوں گی جو عورت کی عزت نہیں کرنا جانتا۔”
” حیرت ہے کیا کبھی اسنے تمہاری عزت نہیں کی ؟؟؟۔” دل نے سوال داغا۔
” میری عزت تو کی ہے پر جاناں کو اسنے ساری زندگی بے عزت کرکے رکھا۔”دماغ نے تاویل دی۔
” تو یہ تمہارا مسئلہ تو نہیں وہ اسکا ماضی تھا۔” دل نے کچھ عقل دلانہ چاہی۔
” تو کیا مطلب میں اس سے خفا بھی نا ہوں۔” دماغ نے کہا۔
” خفا ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اسے چھوڑ کے چلی جاؤ.”دل نے کہا۔
” یہ بھی ہے۔” دماغ آخر دل کی ماں ہی گیا تھا۔
آزانیں ہوئیں تو وہ نماز پڑھنے چلی گئ ، نماز پڑھ کر فارغ ہوئ ، تو لان میں آکر بیٹھی کرسی کھینچ کر بیٹھتے اسے رات کا منظر یاد آیا تو وہ ہنس دی۔ وہ آسمان کو تکتے مسکراتی رہی ، پر پھر ہنسی سمیٹتی وہ منہ بنا گئ تھی ، اسنے جہانداد سے خفا ہونے کا پورا پکا ارادہ بنا لیا تھا۔ جب اسکے کانوں میں کسی کا کچھ دن پہلے کہا جملہ گونجا۔
” دستخط کردو بیٹا ، ہم چاہتے ہیں ان جائداد جیسی بے مایہ چیزوں کے چکر میں تم نا پڑو کہیں کوئ تمہیں جائیداد کی لالچ میں کچھ کر نا دے۔” چاچی نے بڑی محبت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتےکہا۔ دادی کا کل ہی انتقال ہوا تھا ، اور آج چاچی اس سے گھر اور جائیداد کے کاغذات پہ دستخط کرانے پہنچ گئ تھیں۔
” کہاں کرنا ہے دستخط۔” اسنے دھیرے سے پوچھا۔
” یہاں پہ۔” چاچی نے فورا فائل کھول کر سامنے رکھی۔
” پین۔۔ ” اسنے کاغذوں کو گھورتے قلم مانگا۔
” ہاں ۔۔۔ یہ لو۔۔ ۔” چاچی نے جھٹ پین اسکے آگے کیا۔
اسنے ایک نظر چاچی کو دیکھا اور خاموشی سے دستخط کردیئے۔
” اچھا اب تم آرام کرو ، میں چلتی ہوں نیچے سب فاتحہ کے لیئے آرہے ہیں۔” چاچی دستخط کراتی واپس نیچے چلی گئ تھیں، اور وہ تن تنہا بیٹھی رہ گئ تھی۔
اسکے بعد اوپر اگلے دن چاچی آئیں تھیں ، پر آج انکا رویہ پہلے کے دنوں سے خاصہ مختلف تھا۔
” سنو نیچے آجاؤ ہزاروں کام پڑے ہیں ، میری بچیاں ہی لگی رہیں گی کیا سارا سارا دن تیجے کی دعا ہے لوگوں کا رش لگا پڑا ہے نیچے ، ساری زندگی دادی کا پیسہ کھایا تم نے اب یہ ہلاکتیں میری بیٹیاں جھیلیں۔” چاچی اسکے سر پہ آکر گرجی تھیں۔
” چا۔۔چی کیا ہوا آپ اتنا غصہ کیوں ہیں۔” وہ لڑکھراتے لہجہ میں حیرت سے مستفسر ہوئ۔ یہ تو وہ چاچی نا تھیں ، جو اسکے آگے پیچھے پھرتی تھکتی نا تھیں۔
” دل جلا کر رکھ دیا ساری زندگی ، اب کہتی ہے چاچی اتنا غصہ کیوں ہیں۔” وہ جاہلوں کی طرح چیخی۔
” آپ ایسے کیوں بول رہی ہیں۔” ثبور کی آنکھوں میں آنسو چمکے۔
” کیوں نا کہوں میں کچھ ، کہتی ہوں تیرے چاچا کو کسی کے پلے باندھ کر نکالے ، پر تُو تو محنوس ہے پہلے ہی ایک شوہر کو کھا گئ اب دوسرے کس بیچارے کی موت تیری وجہ سے ہوگی۔” وہ اسکے سر پہ تھپڑ مارتی بولی تھیں۔
” چاچی۔۔” وہ انکے طرزِ تخاتب پہ حیراں ہوئ تھی۔
” اٹھ بھی جاؤ اب کر لو گھر کے کام۔” وہ اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلاتی کمرے سے چلی گئ تھیں وہ محض آنسو بہاتی رہ گئ تھی۔ آنسو پونچھ کر وہ نیچے چلی گئ تھی۔
اگلے دن اسکے چچا نے اسے بتا دیا تھا کے وہ اسکا رشتہ پکا کرکے آگئے ہیں ، یہ سنتے ہی وہ بہت چیخی تھی بہت چلائ تھی۔
” مجھے نہیں کرنی شادی ، چچی حارث کے ساتھ بے وفائ نہیں کر سکتی میں۔” وہ سسکی تھی۔
” یہ نخرے نا دکھا ہم نہیں اٹھا سکتے تیرا بوجھ ، اور خدا کا واسطہ ہے گھر بسا لینا یہ نا ہو کے اپنی منحوسیت کے رنگ وہاں بھی چھوڑ آئے۔” وہ گہرا طنز کرتی اسے بے حد سفاک لگی تھیں۔
” چچی میں نہیں بنوں گی آپ لوگوں پہ بوجھ میری اتنی جائداد ہے ، میرا گزر ہوجائے گا۔” اسنے انہیں منانا چاہا۔
” کونسی جائداد۔” چچی نے ہاتھ کمر پہ رکھ کر بد معاشی سے پوچھا۔
” چچی میری جائداد۔” وہ دھیرے سے بولی۔
” وہ جائداد اب تیری نہیں ہماری ہے میرے بچوں کی ہے۔” وہ نفرت سے بولی تھیں۔
” چاچی۔” اسے ایک بار پھر گہرا دکھ ہوا تھا۔
دادی کی کہی گئ باتیں حقیقت بنتی جا رہی تھیں ، یہ لوگ تو سرے سے ہی بدل گئے تھے۔ وہ سب کے بدلے رنگ ڈھنگ دیکھ اپنے بخت کو روی دی تھی۔
وہ کچھ دن پہلے ہوئے واقعات کو سوچ کر ہنسی تھی۔ دل میں اپنا گھر بسانے کا خود سے عہد کر گئ تھی۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
فلک کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو جابر کے تنگ حصار میں پایا ، رات کو بیتے لمحہ یکدم اسکی نظروں سے گزرے ، دل عجیب سی کیفیت کا شکار تھا۔ اسنے جابر کا ہاتھ خود پہ سے ہٹا کر اٹھنا چاہا ، پر اسکی گرفت مزید تنگ ہوگئ تھی اسپہ ، اسنے خفا ہوتی نظروں سے اسکو دیکھا۔
” جابر پلیز ہاتھ ہٹائیں”۔ اسنے چڑتے ہوئے کہا۔
” میں کیسے ہاتھ ہٹاؤں میں تو سو رہا ہوں ناں”۔ وہ بند آنکھوں کو ہلکا سا وا کرتا گویا ہوا۔
” جابر پلیز ہر وقت مذاق کا نہیں ہوتا ہٹیں”۔ اب کے وہ غصہ سے چٹخی۔
” میں مذاق کر بھی نہیں رہا ، چھچھوری عورت تم نے کل کیا کیا میرے ساتھ میری عزت پہ ڈاکا ڈال دیا”۔ وہ اسے مزید خود میں بھینچتا اسکے کان کے پاس شرارت سے کہتا فلک کی پوری آنکھیں وا کروا گیا تھا۔
” میں نے۔۔۔ ؟؟ شرم نہیں آتی تمہیں مجھ پہ جھوٹا الزام لگاتے ہوئے”۔ وہ اپنے سینے پہ انگلی ٹھونک کر بولی۔
” نا اگر مجھے شرم آتی تو تم ایسے اتنے قریب ہوتی میرے”۔ اسکے کان کی لو پہ دانت گاڑھتے پوچھا گیا۔
” جابر بس چھوڑو مجھے دیر ہوگئ ہے تمہیں آفس بھی جانا ہوگا”۔ وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو گئ تھی پر وہ تھا کہ ہٹ کر ہی نا دے رہا تھا۔
” آج سنڈے ہے ڈارلنگ”۔ وہ اسے محبت سے تکتا اسکا ٹینشن زدہ مکھڑا اپنے ایک ہاتھ کی گرفت میں لیتا اسکے لبوں پہ دھیرے سے مہر ثبت کرتا مسکایا۔
” ہٹیں ناں پلیز ۔۔۔۔ تاشہ انتظار کر رہی ہوگی”۔ وہ بے بسی سے کہتی اسے قہقہہ لگانے پہ مجبور رک گئ تھی۔
” ہائے کتنا اچھا لگ رہا ہے تمہیں یوں بے بس سا دیکھنا ، الفاظ میں بیاں کر پانا نا ممکن ہے “۔ وہ ہنستا اسکی ناک دبا گیا تھا۔
” جابر۔۔”۔ فلک کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا تھا۔
” اوکے اوکے جاؤ”۔ وہ اسکے ماتھے پہ پیار کرتا اسے خود سے آزاد کر گیا تھا۔
” بہت ہی کوئ منحوس آدمی ہو ، میرے منہ نا لگنا اب” وہ غصہ سے بڑبڑاتی اپنی نائٹ ڈریس کی شرٹ کے بٹن بند کرتی اٹھی تھی۔
” چیلنج نا کرو ، ابھی آکے دوبارہ منہ لگ جاؤں گا پھر تمہیں ہی شکوہ ہوگا”۔ وہ کمینے پن سے مسکراتا فلک کو سخت زہر لگا تھا۔ یکدم فلک نے دور سے ہی اسے ہاتھ گھما کر لعنت دی تھی ، اسنے اسے لعنت دینے پہ اسے گھورا تھا۔ پر وہ اسکی گھوریوں پہ توجہ دیئے بغیر ہی کبرڈ سے اپنے کپڑے اٹھاتی واشروم میں گھس گئ تھی۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
