Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 12)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 12)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
” ویسے یار تم اتنے غصہ میں رہتی ہو مجھے تو اپنے مستقبل کے بچوں کی فکر ہو رہی ہے”۔ علی کی زبان میں پھر کھجلی ہوئ۔
” علی میں نے کہا بلکل چپ تو مطلب بلکل چپ”۔ اسنے سخت نگاہوں سے اسے گھورا۔
” یار تم نا بہت وہ ہو”۔ اسنے اسے تکتے منہ بنا کر کہا۔
” کیا ہوں؟؟”۔ اسنے کمر پہ ہاتھ رکھ کر اسکی سمت رخ موڑا۔
” پیاری ہو “۔ وہ مخمور سے لہجہ میں کہتا حوریہ کو سلگا گیا تھا۔
” علی مجھ پہ اپنا وقت مت برباد کرو مل جائیگی کوئ بہت اچھی سی لڑکی ، جو تمہارے جذبات و احساسات کی قدر کرنے والی ہوگی”۔ اسنے دھیمے سے لہجہ میں کہا۔
” پر میرے لیئے تو دنیا کی سب سے اچھی سب سے پیاری لڑکی تم ہی ہو”۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا جذب سے گویا ہوا۔
” میں آفت ہوں ، کسی پہ بھی بے ساختہ پڑ سکتی ہوں ، میں معصوم دکھتی ہوں ، پر ہوں نہیں میں آگ ہوں اور مجھ سے کھیلنے والے جل کر خاک ہوجاتے ہیں علی”۔ وہ جلتے لہجہ میں گویا ہوئ۔
” اور اگر میں کہوں کہ میں دل و جان سے راضی ہوں اس آگ میں جلنے کو ، اس آفت میں پڑنے کو تو پھر ؟”۔ علی نے بات ادھوری چھوڑ کر ایک امید سے اسے تکا۔
” تو پھر بھی میری ناں ہے”۔ وہ اسے تکتی دوٹوک لہجہ اپنائے واپس لیپ ٹاپ پر جھکی تھی۔
” اور اگر میں اس ناں کو ہاں میں بدل دوں تو؟”۔ پر امیدی سے پوچھا گیا۔
” نا ممکن سی بات ہے”۔ اسنے لیپ ٹاپ پہ انگلیاں چلاتے مصروف سے انداز میں کہا۔ علی نے اسے دکھ سے دیکھا اور خود بھی اپنی توجہ لیپ ٹاپ کی روشن اسکرین کی طرف متوجہ کر گیا۔
♧♧♧♧♧♧
جہانداد کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا ، اسنے بختاور کو نکاح کے لیئے منع کر دیا تھا اور اگلے دن بائے ایئر کراچی سے پشاور پہنچا تھا۔
جب وہ اپنی حویلی پہنچا تو ملازموں سے جو خبر اسے ملی وہ خبر اسکے پیروں تلے سے زمین کھینچ گئ تھی۔
وہ فوراً حویلی کے گیراج میں موجود اپنی جیپ لے کر ، جاناں کی امی کی حویلی کی طرف روانا ہوا تھا۔
دو گھنٹے کے سفر کے بعد وہ جاناں کی اماں کی حویلی کے باہر تھا۔
گاؤں کے لوگ رشتدار ہر کوئ وہاں موجود تھا۔ ہر طرف خاموشی سی تھی اسنے بھاری قدم اٹھاتے اپنے قدم اندر حویلی میں رکھے وہ ابھی حال میں پہنچا ہی تھا کہ جاناں روتی ہوئ اسکے سینے سے آکر لگی۔
اور شدتِ غم سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ جابر نے اسکے گرد اپنا ہاتھ لپیٹا تھا اور اسے دلاسہ دیتا اندر لایا تھا۔ اسکی پیاری خالہ جان اس دنیا سے رخصت لے چکی تھیں۔ وہ بھی اس سے خفا خفا ، اپنے عزیز از جان بھانجے کو موقع بھی نا دیا معافی مانگنے کا۔ سات سالہ حوریہ اور جویریہ بھی اپنی ماں کو روتا دیکھ رو رہی تھیں ، اور گیارہ سالہ زرتاشہ بھی خاموش سی آنسو بہا رہی تھی۔ کوئ بھی تو انکا نا بچا تھا اس دنیا میں ، محض ایک خالہ تھی ، جو اسے ناراض ہی یہ دنیا چھوڑ گئ تھی۔
اسکی ایک آنکھ سے خاموش سا آنسو لڑکھا تھا پر کسی اور کے دیکھنے سے پہلے ہی وہ اس آنسو کو نا محسوس طریقے سی اپنے ہاتھ کی پشت صاف کر گیا تھا۔
” جہانداد اماں چھوڑ گئ ہمیں”۔ اسکے سینے سے لگی سسکتی جاناں اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لائ تھی۔
اسنے نرمی سے اسکا سر سہلایا تھا۔
” رو نہیں جاناں شش۔۔ انکی مغفرت کی دعا کرو”۔ اسنے اسے تکتے نرمی سے کہا۔
” ہمم ۔۔آپ۔۔آپ سہی کہہ رہے ہیں”۔ اسنے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے تھے اور اس سے دور ہوئ تھی۔
” تم نے مجھے کیوں نہیں بلایا “۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ شکوہ کر گیا۔
” مجھے کسی چیز کا ہوش نا تھا”۔ وہ سسکی۔
” پر میں آخری بار خالہ جان کو تو دیکھ لیتا”۔ اسنے قرب سے آنکھیں مینچ کر کہا۔
” وہ مجھے معاف کردیں”۔ اسنے ڈرتے ہوئے کہا۔
” ہمم “۔ اسنے اسے دیکھ ہنکارا بھرا۔
” آج اماں جان کا تیجہ ہے ، دعا ہو جائے تو کیا آپ مجھے گھر واپس لے کر چلو گے”۔ اسنے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
” میں تمہیں لینے ہی آیا تھا ، پر حویلی پہنچ کر پتہ چلا کہ خالہ جان ۔۔۔”۔ اس سے مزید کچھ کہا ہی نا گیا۔
” آپ سچ میں ، آپ بہت اچھے ہیں”۔ جاناں کا چہرہ فرط جذبات سے سرخ پڑ گیا تھا۔
” میں کہاں سے اچھا ہوں ، اگر میں اچھا ہوتا تو خالہ جان یوں ناراض تو ہوکر نا جاتیں مجھ سے”۔ اسنے نم سے لہجہ میں کہا۔
” آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں”۔ جاناں نے تڑپ کر کہا۔
جہانداد نے بغور اسکا چہرہ تکا۔ سبز رنگ لمبی پلکوں والی آنکھیں ، چھوٹی سی ناک ، گلاب کی پنکھڑیوں سے گداز لب ، گول کتابی چہرہ ، جس کی بھی نگاہ پڑھتی پلٹ کر ضرور واپس اس پہ اٹھ کر آتی پر۔۔!!
جہانداد کو نجانے کیوں اس سے۔۔ چڑ تھی ۔۔۔ نفرت تھی۔۔۔ آج تک نجانے کیوں۔۔؟؟
وہ اسکی بیٹیوں کی ماں تھی ، وہ اسکی شریک حیات تھی ، پھر بھی ایک عجب سا تعلق تھا۔ جسے توڑنے کا سوچتا تو بھی سانسیں اٹھنے لگتی اور جوڑے رکھنے سے غصہ رہتا پر وہ عجیب سی بے چینی نا ہوتی۔ آج تک ان دونوں کا تعلق کیسے چلا تھا یہ محض وہ ہی جانتا تھا۔ کتنا مشکل تھا ، اس رشتے کی ڈور کو تھام کر چلنا۔
” یہ سب چھوڑو تم دعا کے بعد تیار رہنا ، تاشہ کا بھی سامان پیک کر لینا وہ بھی ہمارے ساتھ چلے گی”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” جی ٹھیک ہے”۔ اسنے آنسو پونچھے کہا۔
اور جہانداد خاموشی سے ہال سے نکل گیا۔ باہر حویلی کے گارڈن میں تمام مرد حضرات موجود تھے وہ انکے پاس جاکر بیٹھا۔
♧♧♧♧♧♧♧
وہ لوگ کراچی آچکے تھے ، زندگی ایک بار پھر اپنی ڈگر پہ چل پڑی تھی ، وہ اپنے آفس کے کام میں بری طرح مصروف ہوگیا تھا۔ اسکا چھوٹا بھائ جابر بھی اپنے بورڈنگ سے چھٹیوں پہ گھر آیا ہوا تھا۔ پر جہانداد کے پاس کسی کو بھی وقت دینے کا ٹائم نا تھا۔
” بھابھی کیا بنا رہی ہیں “۔ سولہ سالہ جابر کچن کی سلیب پہ بیٹھ کر مستفسر ہوا۔
” تمہاری فیورٹ بریانی بنا رہی ہوں”۔ جاناں نے اسے تکتے محبت سے کہا۔
جابر نے نگاہیں ترچھی کرکے پاس کھڑی زرتاشہ کو دیکھا جو گم صم سی کھڑی تھی۔
” واؤ”۔ جابر نے چہک کر کہا۔
جاناں اسے دیکھ مسکرائ تھی پر زرتاشہ ویسے ہی گم صم سی کھڑی تھی۔
” تاشہ واٹ ہیپنڈ وتھ یو”۔ جابر نے آبرو آچکا کر پوچھا۔
” نتھنگ”۔ اسنے اسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔
” چلو لیٹس پلے “۔ اسنے سلیب سے اتر کر اسکی کلائ کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑا۔
” جابر مجھے نہیں کھیلنا”۔ اسنے سستی سے کہتے اپنی کلائی اسکے ہاتھ سے آزاد کروائی۔
” پلیز چلو مزہ آئے گا حوریہ اور جویریہ کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں باہر گارڈن میں ملکر کھیلینگے”۔ اسنے دوبارہ اسکی کلائ تھامی۔ اور اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے باہر گارڈن میں لایا۔
” پلیز جابر مجھے نہیں کھیلنا”۔ وہ بے بسی سے گویا ہوئ۔
” کیوں نہیں کھیلنا بے بی”۔ اسنے اسے تکتے نرمی سے پوچھا۔
گیارہ سالہ زرتاشہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، جابر جو خود سولہ سال کا تھا ، خود کو اسکا بڑا بنا بیٹھا۔
” ڈونٹ کرائے اوکے مجھے پتہ ہے تم کیوں رو رہی ہو”۔ اسنے اسکے گال پہ محبت سے ہاتھ رکھ کر کہا۔
” تمہیں پتہ ہے”۔ زرتاشہ نے معصومیت سے پوچھا۔
” ہاں مجھے پتہ ہے ناں بے بی”۔ اسنے اسے محبت سے ساتھ لگاتے کہا۔
“جابر پھر بتاؤ نا میں کیا کروں”۔ اسنے آنکھوں کی نمی کو دھکیلتی پوچھا۔
” دیکھو مجھے پتہ ہے تمہیں خالہ جان بہت یاد آتی ہیں تمہیں رات کو انکے بغیر بہت ڈر بھی لگتا ہے پر تمہیں پتہ ہے ۔۔!! یہ ڈر تو وقتی ہے”۔ وہ اسے اپنے ساتھ گھانس پہ بٹھاتا بولا۔
جابر کے سپید ہاتھ میں اپنا سنوالا ہاتھ دیکھ وہ یکدم نظریں اٹھا کر حیرت سے جابر کا چہرہ دیکھنے لگی۔ کچھ دیر اسے تکتے تکتے وہ کھلکھلائ۔
” کیا ۔۔؟؟”۔ جابر نے بھنویں آچکا کر پوچھا۔ کہ اسمیں اتنا کھلکھلانے والی کیا بات ہے۔
” جابر تم کتنے پیارے ہو ناں “۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ٹھوڑی کے نیچے رکھتی معصومیت سے بولی۔
” ارے تم خود بھی تو اتنی پیاری ہو”۔ وہ اسے ہنستے دیکھ نرمی سے بولا۔
“کہاں سے میں کہاں پیاری ہوں میں تو کالی ہوں”۔ وہ اپنے سانولے رنگ کو دیکھتی ہنستے ہوئے بولی۔
” نا کہاں سے تم کالی ہو تم تو سانولی ہو اور بہت پیاری ہو۔۔”۔ وہ اسے دیکھتا گویا ہوا۔
” اچھا پر میرے اسکول میں تو سب مجھے کالی کہا کرتے تھے”۔ اسنے قہقہہ لگا کر بتایا۔
” اوہ تو تم انہیں کچھ کہتی نہیں تھی”۔ اسنے حیرت سے پوچھا۔
” نہیں اماں۔۔۔ کہتی تھیں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا”۔ وہ جوش سے بولتی اپنی ماں کا ذکر پہ رکی تھی پھر دھیرے سے بات مکمل کرتی رونے لگی تھی۔
” پلیز تاشہ تم رو تو مت مجھے روتے لوگ بلکل نہیں پسند”۔ جابر نے اپنے ہاتھوں سے اس چھوٹی سی زرتاشہ کے آنسو پونچھے تھے۔
” تمہیں نہیں پسند”۔ اسنے حیرت سے دیکھا۔
” بلکل نہیں”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” چلو تاشہ میں جویریہ اور حوریہ کو لاتا ہوں پھر چلتے ہیں”۔ اسنے ہنستے کہا۔
” کہاں چلتے ہیں”۔ اسنے ہنس کر پوچھا۔
” سامنے والے پارک میں کھیلنے “۔ اسنے مسکرا کر کہا۔
” کیا کھیلنے ۔۔!! نہیں میرا من نہیں”۔ اسنے خفگی سے کہا۔
” کیوں من نہیں چلو اٹھو میں ان دونوں چڑیلوں کو بھی بلا کر لاتا ہوں”۔ جابر نے اسے زبردستی اٹھایا۔
اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ سامنے پارک میں کھیل رہے تھے، حوریہ جویریہ کی چہچہاہٹیں ، جابر اور فلک کے چھوٹے قہقہہ ارد گرد ماحول میں گونج رہے تھے۔۔۔
وقت رفتہ رفتہ بیتتا گیا ، اور جابر کا میٹرک کمپلیٹ ہوگیا۔ وہ بورڈنگ سے واپس آگیا تھا۔ وہ ایک انتہائ ذہین ، شرارتی اور حساس بچہ تھا۔
وہ جب پیدا ہوا تو ، گاؤں بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ تھی۔ کیونکہ جہانداد بیس سال کا تھا ، جب جابر پیدا ہوا۔ ایک طرف جیسے جابر کے ماں باپ کے لیئے یہ شرم کی بات تھی کہ ایک جوان اولاد کے ہوتے ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ سب کو لگا تھا شاید جہانداد بھی اس بات پہ شرم محسوس کرے گا۔ پر وہ تو اپنے چھوٹے سے بھائ کو دیکھ نہال ہوگیا تھا اسپہ۔۔۔
اور جب اسنے اپنی ماں کے الفاظ جابر کے لیئے سنے تو اسکا تو رنج و غم سے برا حال ہوگیا۔ اسکی ماں جہانداد سے معافی مانگ رہی تھیں کہ باہر لوگ اس بات پر انکی جوان اولاد کا مزاق بنائیں گے پر جہانداد کے الفاظ سن کر انکی ماں کے دل میں سکون اتر آیا تھا۔
” ادے یہ کیسی بات کر دی تم نے ، یہ میرا بھائ ہے کوئ اس بات پہ میرا مذاق کیوں اڑائے گا اور جو اڑائے گا وہ خود پہ ہنسے مجھ پہ یا میرے بھائ پہ ہنسنے کی کسی کو کوئ ضرورت نہیں”۔ وہ مسکایا تھا۔
” نام تو رکھ لو اسکا”۔ اسکی ماں اسے محبت سے دیکھ کر گویا ہوا۔
” ہمم “جابر” اسکا نام ہے ” جابر خانزادہ ” پیارا ہے ناں”۔ اسنے اپنے بھائ کے گالوں پہ محبت سے بوسہ دے کر پوچھا۔
” بہت پیارا بلکل میرے جہانداد جیسا”۔ اسکی ماں نے اپنا ہاتھ شفقت سے اسکے گالوں پہ پھیرا۔
” ادے تم نا دنیا کی سب سے پیاری عورت ہو”۔ وہ اپنی ماں کے ہاتھ تھامتے لب اپنی ماں کی ہتھیلیوں پہ رکھتا عقیدت سے گویا ہوا۔
” چل پاگل۔۔!! آج تو مجھے کہہ رہا ہے کہ تم دنیا کی سب سے پیاری عورت ہو کل اپنی بیوی کو کہے گا”۔ وہ ہنسی تھیں۔
” نہیں ادے ایسا کبھی نہیں ہوگا”۔ اسنے مسکا کر کہا۔
” ارے ایسے نہیں بولتے ، میں تو سوچ رہی ہوں تمہاری خالہ سے کہہ کر جاناں کا اور تمہارا نکاح کرا دوں”۔ انہوں نے شفقت سے کہا۔
” نا اماں ابھی نہیں”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” ایسے کیسے ابھی نہیں “۔ انہوں نے اسے خفگی سے تکا۔
” نہیں ادے ابھی جاناں چھوٹی ہے”۔ جہانداد نے عذر تراشا۔
” ارے کہاں چھوٹی ہے پورے تیرا برس کی ہے”۔ انہوں نے ہنستے کہا۔
” ادے ابھی وہ چھوٹی ہے”۔ اسنے انکو تکتے افسوس سے کہا۔
” پر ہمارے علاقے میں تو اس ہی عمر میں شادیاں ہوتی ہیں”۔ انہوں نے اسکی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا۔
” پر ادے میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں”۔ اسنے ہمت مجتمع کرتے کہا۔
“کسے؟؟”۔ انہوں نے زرد رنگت لیئے دکھ سے پوچھا۔
” بختاور کو”۔ اسنے اپنی ماں کے ہاتھ محبت سے تھامتے بتایا۔
” وہ جو تمہارے دادا جان کے دوست کی پوتی ہے ، جو ابھی ایک سال پہلے امریکہ سے پاکستان آئ ہے”۔ انہوں نے کچھ یاد کرتے پھیکے سے لہجے میں کہا۔
” جی ادے وہی “۔ اسنے انکے چہرے کو بغور تکتے کہا۔
” بیٹا انکے گاؤں سے تمہاری خالہ بھی تو ہے وہ بتا رہی تھی کہ وہ لڑکی اچھی نہیں ، دیر رات کو نا محرم مردوں کے ساتھ آرہی ہوتی ہے ، گاؤں کے لوگوں نے اس پہ بہت شور بھی مچایا ہے”۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو باز رکھنا چاہا۔
” اماں وہ ایسی ویسی لڑکی نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسی تو بلکل نہیں ہے”۔ اسنے برا مناتے کہا۔
” میں نے کب کہا کہ وہ ایسی ویسی لڑکی ہے پر کیا کوئ اچھی لڑکی رات دیر کسی نامحرم کے ساتھ گھر واپس لوٹتی ہے اور وہ بھی لوگوں کی بات کے نشے میں دھت آتی ہے”۔ انہوں نے رساں سے کہا۔
” اماں ایسا کچھ بھی نہیں بس وہ تھوڑی ماڈرن ہے”۔ اسنے عذر تراش۔
” ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی جب تم سب جانتے بوجھتے خود کو اس آگ میں پھینک رہے ہو تو میں کیا کر سکتی ہوں ، پر جاناں مجھے بہت پسند ہے”۔ انہوں بات ختم کرتے کہا۔ وہ بھی بنا کچھ کہے اپنے چھوٹے سے بھائ کو پیار کرتا کمرے سے چلا گیا تھا۔
وہ ابھی زینوں پہ ہی تھا کہ یکدم اسکے سامنے اسکے کندھوں تک آتی لڑکی جو پاگلوں کی طرح لڑھک لڑھک کر چل رہی تھی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
اسنے بغور اسے دیکھا تو وہ جاناں تھی ۔۔ بھلے ہی وہ تیرا سال کی تھی پر اسنے قد ایسا نکالا تھا کہ کچھ دنوں میں وہ جہانداد کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو پاتی۔
” جہانداد لالہ مبارک ہو ، آپکا چھوٹا سا بھائ ہوا ہے ناں”۔ اسنے چہک کر کہا۔
جابر کی نظریں اسکے حسین آنکھوں پہ پڑی ، اور پھر اسکے تمام حولیہ پہ لمبی کالی کمیز کھلا پجامہ اور سر پہ سفید پشاور شال جسے اسنے اپنے ارد گرد لپیٹا ہوا تھا۔ گلابی لب ، سرخ و سپید رنگت ، گھنی خم دار پلکیں وہ بلاشبہ بے حد حسین تھی ، پر جہانداد کو اس سے کوئ انسیت نا تھی اسے بختاور پسند تھی اور اسے اس سے ہی شادی کرنی تھی۔
وہ خیر مبارک کہتا اسکے پاس سے گزر کر چلا گیا تھا۔ اور وہ بھی اسکے سامنے سے ہٹتے ہی پاگلوں کی طرح خوشی سے اوپر کی طرف بھاگی تھی۔
♧♧♧♧♧♧
