Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Last updated: 6 October 2025

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq By Momina Shah

ایک پاکستانی لباس پہنے سجی سنوری سی اپنے سیاہ نینوں میں اذیتیں لیئے بیٹھی تھی تو دوسری مشرقی لباس میں اپنی سنہری آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں لیئے بیٹھی تھی۔
جابر خان گلا کھنکارتا سامنے پڑے ون سیٹر صوفہ پہ براجمان ہوا ۔ ایک شان سے ایک پیر کو دوسرے پیر کے گھٹنے پہ ٹکایا۔ اور دونوں کو تکتا گویا ہوا۔
" میں نے سوچا نہیں تھا ویسے ، جب تم دونوں سامنے آؤ گی تو اتنی خاموشی ہوگی"۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔
" سوچنے سے کیا ہوتا ہے جابر خان ، ضروری تو نہیں کے ہر بار تمہاری سوچ کے مطابق ہر کام ہو"۔ پاکستانی لباس میں بیٹھی زرتاشہ سلگ کر بولی۔
" ہمم خوب کہی ، یہ بھی تم نے ٹھیک کہا محترمہ کے ضروری نہیں کے ہمیشہ میری سوچ کے مطابق ہرکام ہو"۔ وہ اسے دیکھتا چڑاتی ہوئ مسکان اسے پاس کرتا بولا۔
" میں تھک گئ ہوں ، مجھے آرام کرنا ہے جابر"۔ مشرقی لباس پہنے بیٹھی فلک لاڈ سے کہتی ، زرتاشہ کو زہر لگی تھی۔
" سوری فلک میں باہر لوگوں سے ملتے ملتے اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ تمہاری تھکن کا تو احساس ہی نا ہوا "۔ وہ محبت سے کہتا فلک کو سرشار کر گیا تھا۔ اور فلک کے مقابل بیٹھی زرتاشہ بیزاری سے رخ موڑ گئ تھی۔
" نہیں کوئ بات نہیں، جابر آپ اتنے عرصہ بعد واپس اپنے علاقے آئیں ہیں تو میں سمجھ سکتی ہوں کہ آپ مصروف رہیں گے ابھی آنے والے کچھ دنوں تک "۔ فلک کے لہجے میں چاشنی سے گھلی ہوئ تھی۔
" تم کتنی انڈر اسٹینڈنگ ہو فلک تھینک یو مجھے سمجھنے کے لیئے ، چلو آؤ میں تمہیں تمہارے روم میں چھوڑ آؤں "۔ وہ محبت سے کہتا ایک اچٹتی نگاہ پاس بیٹھی زرتاشہ کے غصہ سے سرخ ہوتے چہرے پہ ڈال کر بولا۔
" میرا روم یا ہمارا روم "۔ وہ معنی خیزی سے بولی۔
اور یہیں زرتاشہ کی بس ہوگئ تھی ، اسکے صبر کا پیالہ یک دم چھلک پڑا تھا۔
" کیا نام ہے تمہارا ہاں فلک ۔۔۔ ہے ناں فلک نام ہی ہے ناں تمہارا ، ہمم تو سنو مری کیوں جارہی ہو اسقدر ، دیکھو اگر مجھ سے خوفزدہ ہو تو بلکل بےوقوف ہو کیونکہ یہ اب تمہارے ساتھ ہی رہنے والے ہیں پہلی بات خود تو یہ آئیں گے نہیں میرے روم میں اور کبھی آنا بھی چاہا نا تو تمہیں انکی ٹوٹی ٹانگیں دیکھ اندازہ ہوجائے گا ۔۔۔ بہر حال اس گھر میں میری چار سالہ چھوٹی سی بیٹی بھی رہتی ہے اور میں اسکی تربیت کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہوں تو آپ سے گزارش ہے کہ چھچھور پنتی کہ یہ مظاہرے میری بچی کے سامنے نہیں ہونے چاہیئں"۔ وہ ٹھنڈے لہجہ میں تمسخر سے کہتی اک شان سے اٹھی تھی ، اور پروقاریت سے چلتی جابر خان کے پاس سے ہوکر گزرنے ہی لگی تھی کہ یکدم اسکی سخت گرفت میں اسکی کلائ آئ ، زرتاشہ نے طیش سے مڑ کر اسے دیکھا۔ جابر بھی اسے ہی تک رہا تھا۔
" بیگم یہ جو میری ٹانگیں ٹوٹیں گی، انکو توڑنے والی آپ ہوں گی"۔ اسنے اسے تکتے شرارت سے پوچھا۔
" آپکو کوئ شک ہے "۔ وہ دانت پیس کر کہتی ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے اپنی کلائ آزاد کرا گئ تھی۔
" نہیں شک تو نہیں پر پھر بھی سوچا کنفرم کر لوں "۔ وہ ایک آنکھ دبا کر کہتا اسکا دماغ خراب کر گیا تھا۔ وہ خونخوار نظروں سے اسے گھورتی ہال سے پیر پٹختی نکلتی چلی گئ تھی۔
" جابر آپ میرے سامنے اس سے کیسے اتنی محبت سے بات کر سکتے ہیں"۔ فلک خونخوار لہجہ میں کہتی جابر کے ماتھے پہ سلواٹیں لے آئ تھی۔
" فلک یہ بات آج تو کردی پر دوبارہ کبھی نا کرنا جیسے تم میری بیوی ہو ویسے ہی زرتاشہ بھی میری بیوی ہے ، ہاں اسوقت وہ مجھ سے کچھ ناراض ہے پر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ میرے لیئے معنی نہیں رکھتی"۔ وہ اسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔
" اگر وہ اتنا ہی معنی رکھتی تھی تو مجھ سے شادی کیوں کی "۔ پل میں فلک کا لہجہ بھیگا تھا۔
" پلیز رونا نہیں یار ابھی بلکل چپ کرانے کا موڈ نہیں ، سب کر لونگا تم دونوں کے لیئے بس یہ رونا دھونا برداشت نہیں ہوتا مجھ سے ، سر میں درد ہوجاتا ہے میرے "۔ وہ قدرے بیزاری سے
کہتا اسکے پاس آیا تھا۔ اور اسکا ہاتھ نرمی سے تھامتا اسے ساتھ لگا کر چلتا زینے چڑھنے لگا تھا یقیناً وہ اسے اسکے کمرے میں لے کر جارہا تھا