Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 7)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 7)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
“زندگی کی ہے ہر ڈگر الگ مگر مجھے اس ڈگر پہ جانا ہے جس ڈگر پہ تم ہو ” بختاور ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھی بڑے ہی شاعرانہ انداز میں جہانداد کو تکتے بولی۔ جہانداد تو یکدم گھبرا گیا تھا۔ کل کی پوری رات باہر گزارنے کے بعد اسے کوئ تمنّا نہیں تھی۔ دوبارہ مچھروں کے سنگ اپنی رات خوار کرنے کی ، اسنے چور نظروں سے بختاور کو دیکھا تو وہ محترمہ لگی ۔ اسے ہی تاڑنے میں مصروف تھی۔ اسکے ماتھے پہ پسینہ آنے لگا تھا۔ ٹیبل پہ پراٹھے رکھتی ثبور نے تیوری چڑھا کر جہانداد کو گھورا تھا۔ مانوں ساری صورتحال میں غلطی سراسر ہی جہانداد کی ہو۔ جہانداد نے اسکی گھوری کو نظر انداز کرتے اپنا ہاتھ پراٹھے کی پلیٹ کی طرف بڑھایا تھا۔ اسکا ہاتھ ہوا میں ہی محلق رہ گیا تھا وہ پراٹھے کی پلیٹ اٹھاتی جویریہ اور حوریہ کی طرف بڑھا گئ تھی۔ وہ منتظر تھا کہ اب اسکی باری آئے گی پر یہ کیا پلیٹ میں پڑا آخری پراٹھا وہ اپنی پلیٹ میں ڈال چکی تھی۔ جہانداد نے اسے گھورا تھا۔
” ناشتہ کہاں ہے میرا “۔ اسنے آنکھیں دکھائیں۔
” آپ ناشتہ کریں گے؟؟؟ “۔ اسنے اسے معصومیت سے تکا۔
” ہم سب کیوں بیٹھے ہیں یہاں “۔ وہ چڑا۔
” ناشتہ کرنے”۔ وہ مسکائ۔
” تو پھر مجھے بھی دے دو ناشتہ “۔ وہ بڑے ضبط سے بولا تھا۔
” ہاں تو کریں ناں ناشتہ آپکے اور اپنے لیئے ہی نکالا ہے ایک ہی پلیٹ میں مل کر کھاتے ہیں “۔ وہ جہانداد کو مسکرا کر دیکھتی پلیٹ تھوڑی سی کھسکا کر اسکی طرف کر گئ ۔ جہانداد اسکی بات پہ مسکرایا تھا۔
” کیوں نہیں بلکل ساتھ کھائیں گے ایک ہی پلیٹ میں “۔ وہ مسکراتا نوالا بنانے لگا۔
” جہانداد تمھارا آج انٹرویو تھا ناں “۔ بختاور نے جہانداد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانی چاہی۔
” ہمم ہاں ۔۔۔ آج دوپہر میں ہے “۔ اسنے نارمل سے لہجہ میں جواب دیا۔
” ثبور شاید آج ہم تینوں لیٹ ہوجائیں”۔ وہ ناشتہ کرتے نرمی سے اسے بتاتا بختاور کو زہر لگا تھا۔
” کیوں؟؟؟”۔ ثبور الجھی۔
” آفس ورک ہے تھوڑا بہت تو اسکی وجہ سے لیٹ ہوجائیں گے “۔ اسنے چائے کا کپ اٹھایا۔
” اچھا۔۔ سہی “۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” جویریہ حوریہ چلیں “۔ وہ نیپکن سے ہاتھ پوچھتا اُٹھا۔
” جی پاپا۔۔۔چلیں “۔ وہ دونوں اٹھی تھی۔ اور اپنے باپ کے پیچھے ہو لیں تھیں۔
” چائے پیئیں گی آپ؟؟ “۔ ان تینوں کے جانے کے بعد ثبور نے بختاور سے چائے کا پوچھا۔
” نو میں چائے نہیں پیتی “۔ اسنے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” سہی کھانے میں کیا کھانا پسند کریں گی آپ بتا دیجیئے آج آپکی مہمان نوازی میں کچھ بنا لوں “۔ رساں سے پوچھا۔
” مجھے جو کھانا ہوگا میں خود بنا لوں گی۔ اور رہی مہمان نوازی کی بات تو میں اس گھر میں مہمان نہیں”۔ بختاور نے لٹھ مار جواب دیا۔
” سہی کہہ رہی ہیں آپ آپکا اپنا ہی گھر ہے یہ۔ اپنا گھر سمجھ کر آرام و سکون سے رہیئے۔ ویسے آپکے اپنے گھر کا رینویشن کب مکمل ہوگا”۔ وہ نرمی سے بولی۔
” تمہیں کس نے بتایا؟؟؟؟ “۔ وہ چونکی۔
” میرے شوہر نے”۔ وہ مسکرا کر جواب دیتی ٹیبل پہ پڑے گندے برتن سمیٹنے لگی۔
” جہانداد نے”۔ حیرت سے پوچھا۔
” جی کیوں۔۔؟؟ کوئ مسئلہ ہے”۔ ثبور نے مصنوئ پریشانی سے پوچھا۔
” ن۔۔نہیں “۔ اٹک کر یک لفظی جواب دیا۔ اور ٹیبل پہ پڑا اپنا موبائل اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی گئ۔ ثبور نے سر اٹھا کر اسکی پشت کو تکا تھا اور ہولے سے مسکائ تھی۔ اس پر سے دیہان ہٹاتی وہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئ تھی۔
♧♧♧♧♧♧♧
جابر کی آنکھ کھلی تو یکدم نظر سامنے لگی وال کلاک پر گئ۔ گھڑی کی سوئیوں کو دس بجاتے دیکھ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا تھا۔ اپنے برابر میں نظر ڈالی تو اسکی بیٹی سو رہی تھی۔ پر اسکی بیٹی کی ماں غائب تھی۔ اسے رات کی تمام باتیں یاد آئیں تو اسکا موڈ خراب ہوا۔ وہ بیزاریت سے اٹھتا واشروم میں گھسا تھا فریش ہونے۔ وہ نک سک سا تیار ہوا ناشتہ کرنے کے لیئے نیچے جانے لگا کہ ابھی زینوں سے اتر ہی رہا تھا کہ یکدم اسکے موبائل پہ نوٹیفیکیشن آئ اسنے واٹس ایپ پہ آئ ویڈیو کھولی تو اسکے ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ رینگ گئ تھی۔ یکدم اسکا موڈ فریش ہوا تھا ، اور وہ مسکراتا ہوا۔ اپنی چیئر گھسیٹ کر بیٹھا تھا۔ فلک اور تاشہ دونوں بیٹھی تھی۔ زرتاشہ اسے نظر انداز کر رہی تھی جبکہ فلک بار بار اسے وقفہ وقفہ سے نگاہ اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ وہ موبائل سائڈ پہ رکھتا نگاہیں اٹھا کر اسے تکتا محبت سے مسکرایا تھا۔ اسنے غور سے فلک کو دیکھا ، جسکے چہرے پہ یکدم سکون سا اتر آیا تھا محض اسکے دیکھ لینے سے۔
” ناشتہ کیا آپ دونوں نے”۔وہ دونوں کو نرمی سے تکتا مستفسر ہوا۔
” نہیں ابھی کر رہے ہیں ، تمہیں چائے نکال کر دوں”۔ فلک جھٹ سے بولی۔ وہ اسکی بے تابی پہ مسکرایا تھا
” ہمم بلکل نکال دو ۔۔ویسے بھی یہ شوہر والا پروٹوکول بڑی مشکل سے تم دونوں دیتی ہو “۔ وہ دلفریب سے لہجے میں کہتا مسکرایا تھا۔
” بس بھی کرو اب”۔ فلک نے منہ پھلایا اسکے شکوے پہ۔
” زرتاشہ منت کے اسکول میں ایڈمیشن کے حوالے سے تم نے کچھ سوچا”۔ اب وہ کھوئ ہوئ سی زرتاشہ کو تکتا گویا ہوا۔ فلک نے نگاہیں اٹھا کر اسے تکا۔ اور جابر کی چائے اسے تھمائ۔ جابر نے ہلکی سی مسکان پاس کرکے اسکے ہاتھ سے کپ تھام لیا۔
” نہیں سوچا ہم نے ویسے بھی یہاں نہیں رہنا جہاں ہم جائیں گے وہاں ایڈمیشن لے دوں گی اسے “۔ وہ سرد سے لہجہ میں کہتی نظریں جھکا گئ تھی۔
” کہاں جا رہے ہیں ہم”۔ جابر نے سب جانتے مجھے بھی انجان بن کر پوچھا۔ اور فلک نے بھی حیرت سے اسے تکا۔
” آپ لوگ نہیں صرف میں اور منت”۔ وہ گہرا سانس خارج کرتی گویا ہوئ۔
” کہاں جارہی ہو یار مجھے بھی لے چلو”۔ یکدم فلک بھی چہک کر بولی۔
” جابر مجھے تم سے طلاق چاہیئے “۔ وہ بہ مشکل بولی۔
” کیا چاہیئے دوبارہ کہنا”۔ اسنے سرد لہجہ میں کہا۔
” مجھے طلاق چاہیئے”۔ وہ سن سی بیٹھی کسی بت کی مانند گویا ہوئ۔
” مجھے سنائ نہیں دیا تمہیں کیا چاہیئے”۔ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچتا گویا ہوا۔
” مجھے تم سے طلاق چاہیئے “۔ اب کے وہ کرسی سے کھڑی ہوتی قدرے چلا کر بولی۔ جابر خان بھی کرسی سے اٹھا تھا۔ ہاتھ میں موجود چائے کا کپ اسنے اٹھا کر زمین پہ پٹخا تھا۔ فلک سہم کر پیچھے ہوئ تھی ۔ اسنے جابر کو پہلے کبھی ایسے غصہ میں نہیں دیکھا تھا۔ پر زرتاشہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی تھی۔ جابر نے جنونی انداز میں ٹیبل پہ پڑی چھری اٹھائ تھی اور یکدم وحشی انداز لیئے اسکی طرف لپکا تھا۔ فلک کہ منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی۔ جابر خان نے چھری کو زرتاشہ کی گردن پہ رکھا اور اسے گدی سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
” طلاق چاہیئے تمہیں ۔۔ آزادی چاہیئے مجھ سے ۔۔ یہ آزادی تمہیں صرف دو ہی صورتوں میں مل سکتی ہے یا تو تمہارے مرنے سے یا پھر میرے مرنے سے”۔ وہ خون خوار ہوتا چاقو کا دباؤ اسکی گردن پہ بڑھا گیا تھا۔ اسکا وحشی پن دیکھ یکدم زرتاشہ کی آنکھوں میں بھی خوف ہلکورے لینے لگا تھا۔ یکدم ہی اسے اپنی گردن پہ جلن کا احساس ہوا تھا۔ اور پھر اسکی گردن سے ہلکی سی خون کی لکیر بہہ نکلی تھی۔ زرتاشہ کی آنکھوں میں خون دیکھ مزید خوف ابھرا تھا۔ کہ یکدم وہ سہمے لہجے میں گویا ہوئ۔
” چھوڑیں۔۔۔مجھے”۔ اسکی آنکھوں سے آنسو گرنا شروع ہوئے۔
” کیوں آزادی نہیں چاہیئے”۔ اسنے اپنے ہاتھوں کی مٹھی میں اسکے بال جکڑ کر پوچھا۔
” جابر۔۔۔ مجھے درد ہورہا ۔۔ہے”۔ وہ سسکی۔
” پر تم ابھی خود آزادی مانگ رہی تھی”۔ اسنے جنونی انداز میں کہا۔
” نہیں۔۔۔ چاہیے ۔۔ چھوڑو مجھے”۔ وہ اسکی آنکھوں میں جنونی پن دیکھ اندر تک خوفزدہ ہوگئ تھی۔
اس سے پہلے کہ جابر کچھ کہتا۔ پیچھے سے جابر کے سر پہ کسی نے بھاری ڈنڈے سے کاری ضرب لگائی تھی۔ یکدم اسکی گرفت زرتاشہ پہ کمزور پڑی ، درد سے تڑپ کر سر کی پشت پہ ہاتھ رکھے اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فلک ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے کھڑی تھی۔ زرتاشہ اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی پیچھے ہٹی تھی۔
” فلک تم کسی دن میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جاؤ گی “۔ وہ خونخوار لہجہ میں اسپہ دھاڑا۔
” مجھ پہ نا دھاڑو نہیں تو ابھی جان لے لونگی میں تمہاری اس ڈنڈے سے”۔وہ اپنے اندر کا خوف چھپاتی پیچھے ہوئ۔
” ابھی تو مجھے ہورہی ہے بہت دیر واپس آکر دیکھتا ہوں تم دونوں فضول عورتوں کے ساتھ”۔ وہ دونوں کو گھورتا ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاتا تن فن کرتا نکل گیا تھا۔ اسکے نکلتے ہی یکدم زرتاشہ زمین پہ گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی جیسے پیر بے جان ہوگئے ہوں۔ فلک نے اپنے ہاتھ سے ڈنڈے کو دور پھینکا اور بھاگتی ہوئ اسکے پاس آئ تھی ۔ اور یکدم دونوں ایک دوسرے کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
وہ گھر کے کام کرکے فارغ ہوئ ۔ لاؤنج میں آکر بیٹھی ٹی وی آن کیا۔ چینلز کی سرچنگ کرتے اسکی نظر سکرین پہ چلتے جہانداد کے چہرے پہ رکی۔ سامنے وہ کالی کمیز شلوار پہنے بیٹھا ایک اینکر کے کیئے گئے کسی سوال کا جواب دے رہا تھا۔ اسنے ریموٹ سائڈ پہ رکھا اور ٹی وی اسکرین کو بغور تکنے لگی۔
” تو سر آپکو کیا لگتا ہے کہ چائلڈ ابیوس کی شرح میں جو اضافہ ہو رہا وہ کیوں ہو رہا ہے۔۔؟؟ اور اگر اضافہ ہو رہا ہے تو آخر اس کی وجہ کون ہے۔ کون زمیدار ہے اس چیز کا؟؟؟”۔ اینکر نے پرجوشی سے سوال داغا۔
” چائلڈ ابیوس کی شرح میں اضافہ۔۔۔کیوں ہورہا ہے۔۔؟؟؟ اسکا جواب تو بے حد آسان ہے۔ معید “۔ وہ اسکا سوال دھراتا ہنسا تھا۔ اپنی نگاہیں کیمرے کی طرف کرتا دونوں ہاتھوں کو باہم پھنسائے بیٹھا۔ وہ بولنے کو الفاظ جمع کر رہا تھا۔ چند پل کی خاموشی کے بعد وہ گویا ہوا۔
” جانتے ہو معید چائلڈ ابیوس کی شرح میں اضافہ ہم ہونے دے رہے ہیں اسی لیئے ہورہا ہے۔ ہم مختلف پلیٹ فارمز پہ بیٹھ کر اس ٹاپک کو ڈسکس کرتے ہیں۔ کوئ بھی اس طرح کا کیس ہماری نظروں سے گزرتا ہے۔ ہمارا میڈیا شور برپا کر دیتا ہے۔ انصاف انصاف کے نعرے لگنے لگتے ہیں۔ لوگوں کی پروفائل پکچر کی زینت بن جاتا ہے وہ ٹاپک ، اُن دنوں آپ اپنی فرینڈ لسٹ کھول کر دیکھیں تو آپکو انکی ٹائم لائن پہ اُس وِکٹم کی پکچر اور اُسپہ لکھے چند جذباتی جملوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔۔۔آپ کوئ بھی سوشل میڈیا ایپ کھول لو۔۔۔ ہر جگہ ایک ہی بات ہوتی ہے انصاف دو، اور بس انصاف دو پر کبھی آپ نے یہ نوٹ کیا ہے کہ وہ سلسلہ چند دن یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ چلتا ہے۔ اور اسکے بعد سب کے جذباتی نعروں پہ ٹھنڈا ٹھار پانی گر جاتا ہے۔ سب اپنے حصہ کا کام کرجاتے ہیں سوشل میڈیا پہ ، باقی رہا وہ وکٹم ۔۔۔ !!! اسے تو ویسے بھی انصاف نہیں ملنا۔۔۔ رہی بات مجرم کی تو وہ تو بھئ آرام سے پھرتا رہے گا اور اپنا نیا شکار ڈھونڈے گا۔سہی کہہ رہا ہوں ناں میں معید ؟؟؟ “۔ اسنے اپنی بات کے اختتام میں معید کی رائے مانگی۔
” سر آپکی بات تو بلکل درست ہے ایسا ہی ہوتا ہے پر یہ ساری عام عوام ہے یہ اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتی ہے۔جتنا عوام کے بس میں ہے عوام اتنا کر گزرتی ہے”۔ معید نے سنجیدگی سے اسکی بات کا جواب دیا۔
” سہی بلکل سہی کہہ رہے ہیں آپ معید یہ عام عوام ہے یہ وہ عوام ہے جو بس ظاہری طورپر یہ دکھانا چاہتی ہے کہ بھئ ہم تو ایسے نہیں دیکھو ہم نے تو زینب کو انصاف دلانے کے لیئے پروفائل پک بھی زینب کی لگائی تھی۔ یہ عوام بس دنیا کی نظروں میں اچھی بننا چاہتی ہے۔ پاکستانی عوام اپنے ملک کہ لیئے کچھ نہیں کرنا چاہتی ۔ انکے چار دن کے دھرنوں سے ان معصوموں کو انصاف نہیں ملنے والا “۔ فرطِ جذبات سے اسکی آنکھیں سرخ ہوگئ تھیں۔
” بٹ سر آپ بتائیے کیا کرے یہ عوام۔۔۔۔ ؟؟؟ جب ملزم ہی کا اتہ پتہ نا ہو تو پھر کیسے ملے گا کسی معصوم کو انصاف”۔ اینکر کی طرف سے سوال داغا گیا۔
” معید مجرم ہمارے بیچ ہی ہوتا ہے۔ پر اسے چھپا کے رکھا جاتا ہے۔ ہاں سوال اچھا کیا آپ نے کے ہماری بیچاری عام عوام کیا کرے۔۔۔۔ کچھ بھی کرے پر بس یہ دوغلا پن نا کرے۔۔۔۔!!!! ہر وہ دوسرا تیسرا شخص جو انصاف مانگ رہا ہوتا ہے نا وکٹم کے لیئے۔۔۔۔!!! میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔ کہ اس شخص نے بھی کسی کو وکٹم بنا کر رکھا ہوتا ہے”۔ اسکی آواز میں بھاری پن سا آگیا تھا۔
” سر یہ تو آپ بہت بڑا دعوا کر رہے ہیں”۔ اینکر اسکے جواب پہ پریشان ہوا۔
” اتنا بڑا بھی نہیں یہ دعوا معید حقیقت ہے یہ ہمارے بیمار معاشرے کی”۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔
” سر آپ دعوا کر رہے ہیں تو کیا آپ چند ایسے لوگوں کو ایکسپوز کرسکتے ہیں”۔ معید کا انداز خاصہ چیلنجنگ تھا۔
” نا کریں معید صاحب کہیں اگلے ہفتے آپکو ہی نا ایکسپوز کر رہا ہوں میں آپکے شو میں “۔ وہ ہنسا
” نہیں سر الحمداللہ میں بلکل کلین ہوں “۔ معید بھی جواباً ہنسا تھا۔
” چلیں دیکھ لیتے ہیں اگلے ہفتے پھر آئیں گے ہم آپکے شو پہ دوبارہ “۔ جہانداد بہت زیادہ سنجیدگی سے بولا۔
” اوکے انشاءاللہ ۔۔۔ ضرور سر چلیں ایک آخری سوال کیطرف بڑھتے ہیں۔ تو سوال ہے کہ چائلڈ ابیوس میں غلطی کس کی ہوتی ہے”۔ معید نے مسکرا کر پوچھا۔
” معید میرے خیال سے ان تمام معملات میں سب سے زیادہ غلطی اگر ہوتی ہے تو وہ محض والدین کی ہوتی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو میری نظر سے ہوکر گزری ایک سات سالہ بچی رات گیارہ بجے اپنے گھر سے چیز لینے نکلی تھی۔ کوئ شخص تھا جس نے اس بچی کو دیکھا تو اس بچی کے اکیلے ہونے کے خیال سے اسکے پیچھے اپنی گاڑی چلاتا گیا۔ اور اسے اسکے گھر تک باحفاظت پہنچا کر وہ واپس پلٹا۔ اس ویڈیو میں وہ بتا رہا تھا کہ یہ بچی بہت دور گئ تھی رات گیارہ بجے چیز لینے۔۔۔!! کیا اس بچی کے والدین کو اس بات کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے تھا کہ رات کا وقت ہے۔ گلیاں بلکل سنسان ہیں۔ ہماری بچی چیز لینے نکل رہی ہے۔ گھر کے پاس تو کوئ دکان ہی نہیں پر اگر بالفرض ہے بھی تو کیا آدھی رات کو اسکے والدین کو اس بچی کو اسکے گھر سے نکلنے دینا چاہیئے تھا۔۔۔؟؟؟؟”۔ وہ بہت دھیرے دھیرے بہترین الفاظ کا چناؤ کرکے بولا۔
” سہی تو آپ کہنا چاہ رہے ہیں زیادہ غلطی والدین کی ہے”۔ معید سمجھنے والے انداز میں بولا۔
” بلکل معید والدین کی غلطی ہے یہ ، والدین کو چاہیئے کے وہ اپنے بچوں میں اویئرنیس پیدا کریں دورِ حاضر کے حالات سے انکی شناسائ کرائیں۔ انہیں بتائیں کے ماں اور باپ کے علاوہ کوئ تمھارا خیر خواہ نہیں ، بچوں کو بتائیں کہ آپ انکے والدین اپنی اولاد کے بہترین دوست ہیں۔ اپنے بچے کو بتائیں کہ آپ انہیں سمجھتے ہیں، اپنے بچے کو اپنا دوست بنائیں۔ تاکہ جب وہ اسطرح کے کسی بھی مرحلے سے گزرے تو وہ بنا ڈرے اعتماد کے ساتھ آپکو تمام بات سے آگاہ کریں۔ اور خدارا میری ان ماؤں سے اپیل ہے جو اپنی بچیوں کے منہ بند کروادیتی ہیں بدنامی کے ڈر سے خدارا ایسا نا کریں “۔ وہ بڑی عاجزی سے بولا تھا۔
ثبور بیٹھی ٹی وی سکرین کو دیکھ رہی تھی۔ شو ختم ہوچکا تھا۔ اسنے ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا پر اسکے کانوں میں اب بھی جہانداد کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ اپنا سر صوفہ کی پشت سے ٹکا گئ تھی۔ وہ خاصی تھکی تھکی سی تھی۔ پر یہ تھکن جسم کی نا تھی۔ یہ تھکن تو روح کی تھی۔
♧♧♧♧♧♧
وہ اپنے آفس میں سر تھام کر بیٹھا تھا۔ زرتاشہ کی بار بار کی طلاق کی ضد سے وہ تنگ آگیا تھا۔ نجانے وہ کیوں نہیں سمجھ رہی تھی اس بات کو کہ وہ دونوں اسکے لیئے اہم ہیں۔ وہ دونوں کو ساتھ رکھنا چاہتا ہے وہ چاہتا پے کہ دونوں خوش رہیں۔ دونوں ہی تو زندگی کی تکلیفوں سے لڑ کر اسکی زندگی میں آئی تھیں۔ وہ کیسے ان میں سے کسی ایک کو بھی واپس اسی کھائ میں دھکیل دیتا۔ شاید وہ یہ اعتراف کبھی کسی سے نا کر پاتا پر اسے ان دونوں میں سب سے زیادہ عزیز تاشہ ہی تو تھی۔ بے شک فلک تاشہ سے پہلے اسکی زندگی میں آئ تھی۔ پر تاشہ تو اسکے نکاح میں آنے والی پہلی عورت تھی۔ تاشہ ہی تو وہ عورت تھی جس نے جابر خان کی ہر بد تمیزی کو ہنستے برداشت کیا تھا۔ اسکی خاطر خود پہ اتنے طعنہ تشنہ سہہ لیئے تھے۔ وہ دونوں کو بہت زیادہ خوشیاں دینا چاہتا تھا۔ فلک تو شاید سنمبھل بھی جاتی پر اب اسے تاشہ سنمبھلتے نا دکھ رہی تھی اسکا سر شدت سے دکھنے لگا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔ اسکا سر دکھ رہا تھا۔ اسے وہ لمحہ یاد آیا جب وہ فلک سے نکاح کرکے گھر آیا تھا اور اسنے تاشہ کو جب اپنے دوسرے نکاح کا بتایا تو وہ کیسے ٹوٹ کے بکھری تھی۔
اسکی نگاہوں کے آگے وہ منظر ایک بار پھر چلنے لگا۔
” تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے جابر خان “۔ وہ سسکتی ہوئ اسکا گریبان تھامے اپنی سیاہ آنکھوں میں دنیا جہاں کی کرچیاں بسائے ٹوٹے ہوئ لہجے میں بولی۔
” کیسا دھوکہ میں نے کوئ دھوکہ نہیں دیا ، یہ بات تو اول روز سے طے تھی کہ میں اپنی پسند کی شادی۔کرونگا ، اب کرلی تو پھر تمہیں تکلیف کس بات کی ہورہی ہے اسقدر”۔ وہ خونخوار ہوا ، اپنے گریبان پہ پڑا اسکا ہاتھ ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا۔
” تم۔۔۔ تمہیں ذرا دکھ نہیں اپنے کیئے پر “۔ صدمے سے بھرائ آواز میں وہ دکھ سے مستفسر ہوئ۔
” اس میں دکھ کی کیا بات ہے ، میں خوش ہوں میں نے اپنی پسند کی شادی کر لی ہے “۔ وہ اپنی سرد آنکھوں سے اسے تکتا ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا۔
” ٹھیک سہی کر لی تم ۔۔۔ نے ۔۔ شادی اب مجھے طلاق دے دو ۔۔، ابھی اسی وقت مجھے طلاق دو “۔ وہ بھپری ہوئ شیرنی کی طرح ایک بار پھر اسکا گریبان جکڑتی بولی۔
” ایسا تو ممکن نہیں ، قطعا ممکن نہیں “۔ وہ۔اسکے بالوں کی آوارہ لٹ کانوں کے پیچھے اڑستا بولا۔
” میں نے کہا مجھے طلاق دو “۔ وہ خونخوار ہوتی جنونی انداز میں بولی۔
” نا ممکن “۔ اسنے گہرا ہنکارا بھرتے پرسکون لہجے میں کہا۔
” مجھے طلاق چاہیئے جابر خان تم سے “۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اسکے سینے پہ تھپڑ مارنے لگی تھی۔
” تاشہ میں طلاق نہیں دوں گا تمہیں”۔ وہ سرد لہجہ میں کہتا تاشہ کو سخت زہر لگا تھا۔
” کیوں نہیں دو گے تم مجھے طلاق ، مجھے طلاق دو”۔ وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔
” کیونکہ میں تمہیں ساری زندگی ایسے ہی گڑگڑاتے دیکھنا چاہتا ہوں”۔ وہ نجانے کس رو میں یہ کہہ گیا تھا اسے خود بھی آج تک سمجھ نہیں آئ تھی۔
” نا۔۔ نہیں کرو ۔۔ میں مر جاؤں گی “۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اپنے چہرے پہ تھپڑ مارنے لگی تھی کہ یکدم جابر نے اسکے ہاتھوں کو تھاما۔
” جہالت مت دکھاؤ زرتاشہ”۔ اسنے دانت پیس کر کہا۔
” جہالت ؟ میں جہالت دکھا رہی ہوں۔۔؟؟ اور جو تم نے کیا۔۔۔؟؟ اسکا کیا جابر خان؟؟”۔ اسکے لہجہ میں مان و محبت کی ٹوٹی ہوئ کرچیاں تھیں۔
” دوسری شادی کی ہے کوئ گناہ نہیں “۔ اسنے غصہ سے پھولتی نسوں والی کنپٹی سہلائ۔
” اچھا دوسری شادی کی ہے گناہ تو نہیں ہاں۔۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہو تم۔۔۔ پر میرے دل کا کیا اسکا تم نے توڑ دیا کسی کا دل توڑنا کیا گناہ نہیں”۔ وہ سسکتی شکوہ کرگئ۔
” بچکانی باتیں نا کرو ، دل ہے کوئ کھلونا نہیں کہ ٹوٹ گیا”۔ وہ اسے غصہ سے دیکھتا کمرے سے نکل گیا تھا۔
وہ یکدم خیالوں سے نکلا اس دن کے بعد اچانک اب پھر وہ طلاق مانگ رہی تھی۔ کیا اسے اس سے اتنے عرصہ میں اتنی بھی انسیت نا ہوسکی کہ وہ اسکی خاطر خاموشی سے اس رشتے میں رہ لے۔
پر دل سے یا پھر شاید یہ ضمیر کی آواز تھی جو اسے جھنجھوڑ گئ تھی۔
” کیوں جابر خان وہ اس رشتے میں کیوں رہے کیا وہ انسان نہیں اسے اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق نہیں”۔ ضمیر کی آواز پہ یکدم جھنجھلا اٹھا۔
” اسے حق ہے پر وہ اس رشتے کو نبھائے گی اگر ہمارا یہ رشتہ ختم ہوا تو اسکی زندگی کا وہ سیاہ باب ایک بار پھر کھل جائے گا اور وہ کبھی اپنی تاشہ کو دوبارہ اس اذیت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
وہ اپنی گردن چیئر کی پشت پہ ٹکاتا آنکھیں موند گیا تھا اسکے انگ انگ سے بے چینی پھوٹ رہی تھی۔ ۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
” یار سر آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔ اچھے خاصے جذباتی ہوجاتے ہیں آپ تو۔۔۔!!”۔ معید ہنستا ہوا کافی کا مگ اسکی طرف بڑھا گیا تھا۔
” جزباتی۔۔۔!!”۔ اسنے جھانکتی نگاہوں سے اسے تکا۔
” ہاں جذباتی “۔ اسنے دوبارہ دھرایا۔
” بیٹا میں کوئ کم عمر انسان نہیں کے میں جذباتی ہو جاؤں۔۔۔!!! آپ بس انتظار کرو اور دیکھو کہ ہوتا کیا ہے۔ جانتے ہو معید یہ جو سامنے ہے نا یہ تو کچھ بھی نہیں جو ڈھکا چھپا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک دل دھلا دینے والا منظر ہے”۔ جہانداد نے بھاپ اڑاتا کپ لبوں سے لگایا۔
” کیا مطلب ۔۔۔؟؟؟ “۔ معید کو حیرت ہوئ۔
” جلد جان جاؤ گے ہر مطلب معید بس مزید کچھ دن کی بات ہے”۔ وہ ایک عزم سے کہتا معید کو دیکھ مسکرایا تھا۔
” چلیں دیکھ لیتے ہیں۔ کہ ایسا کیا دل دہلا دینے والا منظر پہ آنے والا ہے”۔ معید بھی مسکرایا۔
” بلکل ضرور بہت جلد “۔ جہانداد اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر بولا۔
” اچھا معید میں چلتا ہوں ، کچھ ضروری کام ہیں مجھے ٹھیک ہے۔ بائے دا وے تھینکس فار دی کافی “۔ وہ مصاحفہ کے لیئے ہاتھ بڑھاتا کھڑا ہوا تھا۔ معید بھی فوراً اسکے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔
” رک جاتے سر تھوڑی دیر مزید”۔ اسنے پیش کش کی۔
” نہیں پھر سہی ابھی چلتا ہوں”۔ وہ مسکراتا اس گرمجوشی سے ملتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
♧♧♧♧♧♧
