Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 18)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 18)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

فلک کی آنکھوں سے یکدم خاموش آنسو بہنے لگے تھے۔ جہانداد سمیت جابر ، فلک ، زرتاشہ کی نظریں بھی اسکی سمت گئ تھیں۔ صبور کا رنگ یکدم پیلا پڑ گیا تھا۔ جہانداد نے کچھ کہنا چاہا پر چاہ کے بھی کچھ کہہ نا پایا۔ کچھ دیر بعد وہ خود ہی کپکپاتی آواز میں بہ مشکل اپنے خشک ہوتے حلق سے چند الفاظ ادا کر پائ۔

” میرے بھائ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ، مانا کہ ہم زیادہ وقت ساتھ نہیں رہے پر وہ جب بھی پاس آئے ملنے ۔۔۔ ہمیشہ ان سے بابا کی خوشبو آئ ، ۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نا تھا ، میرے بھائ کا روپ یہ ہوگا ، بھائ تو بہنوں کی طاقت ہوتے ہیں ، آج میری طاقت ختم ہوگئ ، میرا بھائ جو دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ میں حیران ہوں ، اسکی بہن کی عزت دوسروں کے ہاتھوں محفوظ کیسے رہ گئ”۔ سسکتے ہوئے لہجہ میں کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔ زرتاشہ اور فلک نے بھی اسے دکھ سے دیکھا تھا۔ جہانداد انہیں پہلے ہی سب کچھ بتا چکا تھا۔ پر وہ صبور کو اپنے منہ سے بتانے کی ہمت نہیں کر پایا تھا۔

” صبور تم اسکی بہن ہونے کے ساتھ ساتھ ، اپنے والد کی بیٹی بھی ہو ، اور یقین مانوں تمہارے بابا ایک بہترین انسان تھے۔ شاید مستقیم حیدر کی بہن کے ساتھ کچھ برا ہوجاتا پر جانتی ہو تمہیں اللہ نے شجاع حیدر کی بیٹی پیدا کیا تھا۔ شجاع حیدر کی بیٹی کے ساتھ کیسے کچھ غلط ہوسکتا تھا ، وہ شخص جس نے اپنی آخری سانسیں بھی ملک و قوم کی بقاء کی خاطر وار دیں اس ” شجاع حیدر” کی بیٹی کے ساتھ کیسے کچھ غلط ہوسکتا تھا”۔ جہانداد نے آگے ہوکر اسکا ہاتھ تھاما ، جہانداد کے چہرے پہ ہلکے سے درد کے اثرات ابھر کر معدوم ہوئے۔

” آپ میرے بابا کو جانتے ہیں”۔ اسنے سانس روکے جہانداد کو تکتے کہا۔

” ہمم بہت اچھے سے جانتا ہوں بلکہ وہ تو وہ عظیم ہستی ہیں ، جنہوں نے مجھے لوگوں کی خدمت کے لیئے نکلنے پہ مجبور کیا ، آج میں جو کچھ ہوں اپنے والدین کی دعاؤں اور تمہارے والد سے بے حد انسپائر ہونے کی وجہ سے ہوں”۔ اسنے نرم سے لہجہ میں کہا۔

” آپ نے اس دن مجھ سے پوچھا تھا، بھائ کے کام کے بارے میں پر میں سچ کہتی ہوں مجھے کوئ علم نہیں تھا کہ ایسا بھی کچھ ہوسکتا ہے”۔ وہ بھیگے لہجہ میں بولی۔

بادامی آنچل سر پہ ٹکا تھا ، آنکھیں بھیگی سی تھیں ، ناک رونے کی وجہ سے ہلکی سی سرخ تھی۔

” میں نے ایسا کچھ کہا کہ تمہیں کچھ معلوم تھا ؟؟”۔ اسنے سنجیدگی سے پوچھا۔

” نہیں”۔ اسنے سر کو نفی میں جنبش دی۔

” پھر پریشان ہونا بند کردو میں جانتا ہوں یہ سب برداشت کرنا نا ممکن سی بات ہے پر ، وقت ہر زخم کا مرہم ہے”۔ اسنے مسکرا کرا اسے حوصلہ دیا۔

” زخم تو پھر بھی بھر جاتے ہیں پر ناسور ہمیشہ تازہ رہتا ہے”۔ بکھرے ہوئے لہجہ میں کہتی وہ جہانداد کا دل زخمی کر گئ تھی۔

” چھوڑ دو یہ سب سوچنا ، اٹھو چلو بس شاباش”۔ جہانداد نے خود بھی اٹھتے اسکے ہاتھ تھامتے اسے اٹھایا۔

وہ بے دلی سے اسکے ساتھ اٹھی تھی۔ جابر بھی خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا تھا۔ فلک اور زرتاشہ وہاں رہ گئ تھیں۔

فلک نے ایک خاموش نگاہ اسپہ ڈال کر اسے دیکھا۔ وہ جابر جس سمٹ گیا تھا۔ اس سمت پہ نگاہ ڈالے بیٹھی تھی۔

” بہت محبت کرتی ہو ناں اس سے”۔ فلک نے نرمی سے پوچھا۔

” میری چھوڑو تم اپنی بتاؤ”. زرتاشہ نے خاموش نگاہیں اسکے چہرے پہ مرکوز کیں۔

” میرا تعلق اس سے بہت مختلف سا ہے”۔ فلک نے سادہ سے انداز میں کہا۔

” تم کہنا چاہتی ہو بات محبت سے آگے کی ہے؟”۔ زرتاشہ کا حلق یہ بات کہتے باقائدہ سوکھا تھا۔

” نہیں میں کہنا چاہتی ہوں ، کہ میرا اور اسکا رشتہ عزت کا ہے ، اسنے مجھے اپنی عزت بنایا ہے ، اسنے ہمیشہ میری بہت عزت کی ہے ، پر اپنی عزت بنا کر اسنے یہ بات ثابت کردی کہ وہ میری بے انتہا عزت کرتا ہے ، پر شاید مجھے اس عزت کا احساس دلانے کے چکر میں وہ کسی کو بے انتہا محبت کا احساس دلانا بھول گیا”۔ اسنے نرم لہجہ میں کہتے تاشہ کو دیکھا جو اسکی آخری بات پہ اپنی آنکھوں کی نمی دھکیل گئ تھی۔

” محبت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ کہتا تھا ، اور اسنے ثابت بھی کر دیا کہ محبت نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے ناں تو وہ جابر خان پہ اثر نہیں کرتی”۔ اسکا لہجہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔

” اسکے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ، پتہ عشق و محبت کی خاص بات کیا ہوتی ہے؟”۔ فلک نے اسے دیکھ بات کو سوالیہ انداز میں ادھورا چھوڑا۔

” کیا ہوتی ہے؟”۔ تاشہ نے بھی پوچھا۔

” تم نے نہیں سنا پگلی عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے”۔ اسنے مسکا کر کہا۔

” ہمم خوب کہتی ہو تم بھی عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے حالانکہ میں نے آج تک اسکے انداز و اتوار میں اپنے لیئے نا عشق دیکھا نا محبت۔۔!!”۔ وہ تمسخر سے ہنس کر کہتی اٹھی تھی۔

” مجھے دکھ گیا وہ عشق اسکے ہر انداز میں تمہارے لیئے ، پر کہتے ہیں ناں دو محبت کرنے والوں کو لگتا ہے کہ کوئ انکی محبت کو دیکھ نہیں سکتا پر در حقیقت سارے جہاں کو خبر ہوتی ہے انکی محبت کی”۔ فلک پیر پہ پیر ڈال کر مسکراتے لہجہ میں گویا ہوئ اور اپنا سر صوفہ کی پشت پہ ڈال کر آنکھیں موند گئ۔

زرتاشہ نے اسکی بات سن کر سر ہلکا سا موڑ کر اسے دیکھا اسے آنکھیں موند کر مسکراتے دیکھ اسے اسکے سکون پر رشک آیا۔

♧♧♧♧♧

جابر اپنے کمرے میں آکر قدرے اندھیرے میں کرسی پہ بیٹھا تھا۔ اسکی سوچیں بھٹک بھٹک کر ماضی کی طرف جارہی تھیں۔ نظروں کے سامنے ماضی کا ایک حسین منظر لہرایا۔

وہ کافی دنوں بعد کراچی آیا تھا۔ اپنے کچھ دوستوں سے ملنے وہ جارہا تھا۔ نک سک سے تیار ، کالی پلین شرٹ بلیو جینز پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیئے وہ بے حد دلکش دکھ رہا تھا۔ وہ زینوں سے پھلانگتا ہوا نیچے اتر رہا تھا کہ زینوں کے پاس بنے کمرے سے اس سے بھی زیادہ جلدی میں نکلتا وجود اس سے بری طرح ٹکرایا تھا۔ اسکے نازک ہاتھ یکدم جابر کے سینے پہ پڑے تھے۔ اور جابر کے ہاتھ سیدھا اسکے بازؤں پہ ، جابر نے ایک گہری نظر اس سہمے ہوئے وجود پہ ڈالی۔ جو جامنی رنگ کا پلین لانگ فراک پہنے جس کے گلے پہ ہلکا ہلکا نگوں کا کام ہوا تھا۔ بالوں کو کمر پہ کھلا چھوڑ رکھا تھا۔ کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے پہنی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ نظریں جو دونوں کی ملی تو دنیا بھول بیٹھے تھے ، نا ان دونوں کو اپنا ہوش تھا۔ اور نا کسی اور کا۔ لمحے بیتتے گئے اور وہ دونوں یونہی ایک دوسرے میں گم رہے کہ یکدم حوریہ اور جویریہ کے رونے کی آواز پہ اسنے اسکے بازو چھوڑے اور وہ بھی ہوش میں آتی اس سے دور ہوئ۔

وہ اپنے دل کی بگڑی حالت سنمبھال کر واپس اپنی جون میں آیا تھا۔

“کہاں جارہی ہو چڑیل؟؟”۔زرتاشہ کو سجا سنورا دیکھ چڑانے کو بولا۔

“اپنی سہیلی کی شادی میں اور چڑیل ہوگے تم”۔ اسنے غصہ سے منہ پھلا کر کہا۔

“اوو میرے بےبی کا موڈ خراب ہوگیا”۔ وہ اسکے گال کھینچتا گویا ہوا۔

” جابر میں اب بڑی ہوگئ ہوں ، کچھ شرم کرو”۔ اسنے اپنے سرخ گالوں پہ ہاتھ رکھتے طیش کے عالم میں کہا۔

” تو کیا ہوا رہو گی تو ہمیشہ میرا بے بی ہی ناں”۔ جابر نے اسکے سر پہ چپت رسید کرتے ہنس کر کہا۔

” پلیز جابر یہ نا کہا کرو تمہیں نہیں پتہ یہ کسکو کہتے ہیں”۔ اسنے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کہا۔

” ” کس کو کہتے ہیں؟”۔ اسنے اسکا ہاتھ تھامتے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے کہا۔

” اب یہ بھی میں بتاؤں”۔ اسنے آنکھیں گھما کر کہا۔

” تم نے ہی تو کہا کہ مجھے نہیں پتہ”۔ جابر سنجیدگی سے بولا۔ اور ساتھ ہی زور دار ہانک لگا کر بھابھی کو آواز دی۔

” بھابی میں جا رہا ہوں تاشہ کو بھی میں چھوڑ دوں گا اسکی دوست کی شادی کے وینیو پہ”۔ اسنے بلند آواز میں کہا۔ اور وہ دنوں گھر سے نکل کر پورچ میں آئے جہاں جابر کی گاڑی کھڑی تھی جو گیراج سے جابر کے آنے کے بعد نکلتی تھی۔ جابر نے فرنٹ سیٹ کا پیسنجر ڈور کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ مسکرا کر بیٹھی تھی۔ اور پھر جابر گھوم کر خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر بیٹھا تھا۔ گاڑی گھر سے نکال کر سڑک پر ڈالتے اسنے سنجیدگی سے اس سے دوبارہ وہی سوال پوچھا۔

” ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھی کہ جو مجھے نہیں پتہ”۔ اسنے سرسری سے لہجہ میں موڑ مرتے کہا۔

” نہیں کچھ نہیں”۔ اسنے اپنا رخ باہر کے منظر کی طرف کیا۔

” اچھا اور تمہاری فرینڈ کی شادی کا کونسا فنکشن ہے آج؟”۔ جابر نے کار ڈرائیو کرتے پوچھا۔

” برات ہے ، مہندی کے فنکشن میں تو میں جا نہیں سکی طبیعت کچھ بہتر نہیں تھی”۔ اسنے منہ پھلا کر کہا۔

” اوہو کوئ بات نہیں پر اب برات تو اٹینڈ کر رہی ہو ناں ۔۔!!”۔ اسنے مسکرا کر کہا۔

” ہاں پر تمہیں پتہ ہے مہندی کے فنکشن میں بہت مزہ آتا ہے اور تمہیں پتہ ہے میری فرینڈ کی لو میرج ہے کتنی لکی ہے ناں وہ اسکا ہسبینڈ اس سے ایکدم سچا والا پیار کرتا ہے”۔ تاشہ نے چہک کر کہا۔

” رہنے دو تاشہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی بس دل کو بہلانے کو ایک لفظ ہے”۔ جابر نے ہنس کر کہا۔

” کیوں نہیں ہوتی محبت ہوتی ہے تمہیں کیا پتہ”۔ اسنے خفگی سے کہا۔

” تمہیں بڑا پتہ ہے ناں جیسے محبت نہیں سیدھا عشق کھڑکا بیٹھی ہو”۔ جابر نے اسکی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ زرتاشہ نے یکدم اسکی طرف دیکھ نظریں چرائ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اسے یہ نا کہہ پائ تھی کہ ہاں اسے “عشق” ہے۔ اور تم سے ہی ہے۔

” وینیو بتاؤ؟؟”۔ جابر نے اسے کوئ جواب نا دیتے دیکھ پوچھا۔ اسنے اسے وینیو کا ایڈریس بتایا اور پھر باقی کا سفر خاموشی کی نظر ہوگیا تھا۔ وہ اسے وہاں چھوڑ کر اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا تھا۔ اور واپسی میں اسے اپنے ساتھ پک کرتا گھر واپس لایا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

اگلا دن بڑا روشن تھا۔ سورج اپنی آب و تاب سمیت نیلے آسمان پر چمک رہا تھا۔ صبور لگی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی۔ زرتاشہ اور فلک بھی لگی اسکی مدد کروا رہی تھیں۔ کہ یکدم فلک منہ پہ ہاتھ رکھے واشروم کی طرف دوڑی تھی زرتاشہ اور صبور بھی اسکے پیچھے گئ تھیں۔ فلک یکدم بے حال سی ہوتی واشروم سے نکلی تھی اور صوفہ پہ ڈھے سی گئ تھی۔ رنگ اسکا یکدم کملا سا گیا تھا۔

” کیا ہوا تمہیں؟”۔ زرتاشہ نے پریشانی سے پوچھا۔

” پتہ نہیں”۔ اسنے اپنے زرد چہرہ پہ ہاتھ کی پشت کو پھیرا۔

” اٹھو میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ، شاید فوڈ پوائزن تو نہیں پوگیا؟”۔ زرتاشہ فکر مندی سے بولی۔

” نہیں میں ٹھیک ہوں ایسا کچھ بھی نہیں”۔ نقاہت زدہ سی آواز میں کہا گیا۔

” پھر بھی چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں اٹھو”۔ اسنے اسے زبردستی اٹھاتے کہا۔

وہ سستی سے اٹھی تھی زرتاشہ نے بھاگ کر اپنے روم سے اپنا بیگ لیا پیسے چیک کیئے ، اور اسے لیئے باہر نکلی جہانداد کی گاڑی آج جویریہ اور حوریہ لے کر گئ تھیں پر اتفاق سے جس گاڑی میں وہ دونوں جاتی تھیں وہ گھر پہ تھی۔ اور ڈرائیور بھی اسنے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہا۔

وہ دونوں کچھ ہی دیر میں قریبی کلینک پہنچے تھے۔ کچھ ٹیسٹس کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے انہیں جو خبر سنائ وہ دونوں کو سناٹوں میں ڈال چکی تھی۔

” مبارک ہو آپ اسپیکٹ کر رہی ہیں”۔ ڈاکٹرنی نے شائستہ لہجہ میں کہا۔

” جی۔۔!!”۔ فلک نے زرد رنگت لیئے ڈاکٹر کو تکا۔ زرتاشہ کے تو پیر مانوں ہلنے سے انکاری تھے۔ پر پھر بھی وہ بہ مشکل ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے نکلی تھیں۔ دونوں گھر پہنچی تو جابر پریشان سا انکے پاس آیا۔

” کیا ہوا فلک تم ٹھیک ہو؟؟”۔ جابر نے پریشانی سے پوچھا۔ وہ بس گم صم سی کھڑی رہی ، کچھ نا بولی اس سے کچھ بولا ہی نا گیا۔

” زرتاشہ تم بتاؤ کیا ہوا تھا اسے”۔ جابر نے اب زرتاشہ سے پوچھا۔ زرتاشہ جسکی آنکھوں میں نا چاہتے ہوئے بھی نمی تیرنے لگی تھی اسنے کسی برف کے مجسمے کی طرح ایک ہی پوزیشن میں کھڑے رہ کر اسے تکا۔ اور یکدم تمسخر سے ہنستی گویا ہوئ۔

” مبارک ہو جابر خان باپ بننے والے ہو تم”۔ وہ سرد لہجہ میں کہتی وہاں سے چلی گئ تھی۔ جابر نے یکدم فلک کیطرف دیکھا تو وہ بھی خاموشی سے اندر چلی گئ تھی۔ جابر کو سمجھ نہیں آئ کہ وہ اس خوشی کے موقع پہ خوش ہو بھی تو کیسے ہو۔۔۔؟؟ وہ جائے تو کس کے پاس جائے۔۔؟؟

” یا اللہ “۔ اسنے سر آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔ پہلے پہل اسے یہ سب کچھ اتنا مشکل نہیں لگ رہا تھا پر اب حالات حقیقتاً بے حد مشکل ہوتے جا رہے تھے۔ جن کو سلجھانا شاید جابر خان کے بس کی بات نا تھی۔

وہ گہرا سانس لیتا خود بھی اندر چلا گیا تھا۔

اسنے سوچا وہ فلک کے پاس چلا جائے پر یہ دل کمبخت تو زرتاشہ کی آنکھوں میں پڑے ڈھیروں شکوؤں کی اور ہمکنے لگا۔

وہ دل کی آواز پہ لبیک کہتا جیسے ہی اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر گھسا ، اسے بیگ میں اپنے اور منت کے کپڑے رکھتے پایا۔

” یہ کیا کر رہی ہو تاشہ”۔ جابر نے یکدم لپک کر اسکے ہاتھ سے کپڑے لیئے۔

” دور رہو مجھ سے سمجھے ، جاؤ تمہاری بیوی کو تمہاری ضرورت ہوگی”۔ اسنے ٹوٹے ہوئے لہجہ میں چلا کر کہا۔

زینوں سے اوپر بنے فلک کے کمرے تک اسکی آواز گئ تھی۔ فلک کمرے سے نکل کر بکھری حالت میں زینوں کے وسط میں آکر کھڑی ہوئ تھی۔

” تاشہ میری بات سنو پلیز ایک بار”۔ جابر نے اسکے بازو سے اسے تھامنا چاہا پر اسنے اسکے سینے پہ زور دار دھکا دے کر اسے خود سے دور کیا۔

” میں نے کہا ناں مجھ سے دور رہو تو مطلب دور رہو، نہیں ہے مجھے تمہاری ضرورت”۔ وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی شدتِ غم سے چلائ۔

” تاشہ ایک بار سن لو پلیز”۔ اسنے منت کرتے لہجہ میں کہا۔

” اب کچھ بچا ہے سننے کو ، میرا حق ۔۔۔!!! کھا گئے تم جابر خان میں تمہیں اسکے لیئے کبھی معاف نہیں کرونگی”۔ وہ شدت سے چیخی تھی۔ صبور اور جہانداد بھی اسکے کمرے کے باہر آکر کھڑے ہوگئے تھے۔ دونوں نے ایک نظر فلک کو دیکھا جسکی رنگت زرد سی ہورہی تھی۔

” میں کھا گیا یا کبھی تم نے لینے ہی نہیں دیا مجھے میرا حق ۔۔۔!!”۔ وہ بھی اس کی بات پہ چیخا تھا۔

” تم جیسا دوغلا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اتنے ہی اگر تم میری رضا یا مرضی کے پابند تھے تو پچھلے ایک مہینے سے تم میری طرف پیش رفت کرتے ہو کیا میرے بلانے یا میری اجازت دینے پہ کرتے ہو نہیں ناں۔۔!! حقیقت تو یہ ہے کہ تم پہلے روز سے ہی مجھے قبول نا کر پائے ۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے خبر نہیں اس رات جہانداد بھائ تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر مجھ سے شادی کرنے کی منتیں کر رہے تھے ، اور تم بار بار انکار کر رہے تھے اور آخر میں مانے بھی کیسے جیسے کوئ بھاری بوجھ آپڑا ہو تم پہ۔۔۔ ، تو میں کیوں خود کو تمہارے آگے زلیل ہونے کو پیش کر دیتی”۔ وہ روندھی ہوئ آواز میں حلق کے بل چلائ تھی۔

” تاشہ تم بوجھ نہیں ہو محبت ہو میری کیوں تکلیف دے رہی ہو”۔ وہ اسکی سمت قدم بڑھاتے نرمی سے بولا۔ باہر کھڑی فلک انکے جھگڑے کی آواز سن کر رونے لگی تھی اسکی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے تھے۔

” محبت میں تمہاری محبت ہوں تو وہ کون ہے”۔ وہ چیختے ہوئے زمین پہ بیٹھی تھی۔