Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 19) 2nd Last Episode

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 19) 2nd Last Episode

Fareeb E Ishq By Momina Shah

” تاشہ میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں نے صرف تم سے محبت کی ہے”۔ وہ بھی اسکے ساتھ زمین پہ دوزانوں ہوکر بیٹھا تھا۔

” پر اب نہیں چاہیئے مجھے تمہاری محبت!! تمہیں تمہاری محبت مبارک ہو”۔ وہ سسکتے لہجے میں کہتی پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔

” ایسے تو نا بولو۔۔!!! تاشہ تم نے مجھے ایک موقع دیا تھا تم بھول رہی ہو”۔ وہ اسکے ہاتھ اسکی شدید مزاحمت کو نظر انداز کرتا تھام گیا تھا۔

” اور میں وہ موقع دے کر بھی پچھتا رہی ہوں”۔ اسنے ٹوٹے ہوئے لہجہ میں کہا۔

” تاشہ پلیز نہیں کرو یہ سب میں مر جاؤں گا تمہارے بن”۔ وہ بکھرا بکھرا سا بولا۔

” کوئ نہیں مرتا کسی کے چلے جانے سے”۔ اسنے روتے ہوئے کہا۔

” مجھے اوروں کا نہیں پتہ پر میں مر جاؤں گا”۔ اسنے بے تابی سے اسکا چہرہ تھام کر کہا۔

” پلیز جابر اگر چاہتے ہو ناں کہ میں خوش رہوں تو۔۔ مجھے طلاق دے دو”۔ دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔

” سوچنا بھی مت ایسا”۔ اسنے یکدم اسے اپنی پناہوں میں لیتے شدت سے کہا۔

” مجھے طلاق دے دو جابر”۔ وہ اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی سسکتے لہجہ میں بولی۔

” تاشہ نہیں۔۔ایسے مت بولو”۔ وہ اسے مزید خود میں بھینچتے تڑپ کر بولا۔ ایک آنسو اسکی آنکھوں سے گر کر تاشہ کے بالوں میں جذب ہو گیا۔

” نہیں جابر مجھے نہیں چاہیئے تمہارا ساتھ ، مجھے بھی حق ہے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا اور میں اپنی باقی زندگی تمہارے ساتھ نہیں گزارنا چاہتی مجھے آزاد کردو۔۔۔ میں تم سے آزادی چاہتی ہوں”۔ اسنے اسے خود سے دور کرتے سسکتے ہوئے کہا۔

” تم سمجھتی کیوں نہیں میں نہیں چھوڑوں گا تمہیں”۔ وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ زینوں پہ بیٹھی فلک اور کمرے کے باہر کھڑے جہانداد اور صبور یکدم دروازہ کھول کر اندر گھسے تھے۔

” پر مجھے طلاق چاہیئے”۔ وہ چیخی۔

” نہیں دونگا میں تمہیں طلاق یہ خوش فہمی اپنے ذہن سے نکال لو”۔ وہ اس سے بھی زیادہ بلند آواز میں چیخا۔

” جابر یہ سوچنا بھی مت کے میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی خوار کرونگی ، مجھے طلاق چاہیئے”۔ وہ شدت سے ایک بار پھر چلائ۔

” نہیں ملے گی تمہیں طلاق”۔ وہ اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر طیش کے عالم میں بولا۔ جہانداد یکدم آگے بڑھا تھا۔ زرتاشہ کو اسکی گرفت سے آزاد کروا کر اپنے پیچھے کیا تھا۔

” میں کہہ رہا ہوں طلاق دے دو ، میں نے کروائ تھی یہ شادی اب میں ہی تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہوں آزاد کردو اسے”۔ جہانداد نے گھمبیر آواز میں کہا۔

” بھائ شادی کروانا آپکا فیصلہ تھا پر اس شادی میں رہنا یا نا رہنا میرا اور اسکا فیصلہ ہے”۔ جابر نے کسی زخمی شیر کی طرح بپھرے ہوئے انداز میں کہا۔

” ٹھیک ہے نا دو طلاق اسے ، اپنے بچے اور پہلی بیوی کو اپنی زندگی سے نکال دو”۔ جہانداد نے درشتی سے کہا۔ فلک کا سانس حلق میں ہی اٹک کر رہ گیا۔

” نہیں میں ایسا بھی کچھ نہیں کرنے والا”۔ اسنے اٹل لہجہ میں کہا۔

” پھر دے دو خاموشی سے زرتاشہ کو طلاق”۔ جہانداد نے سخت گیر لہجہ میں کہا۔

“میں نہیں چھوڑ سکتا بھائ تاشہ کو محبت کرتا ہوں میں اس سے”۔ جابر کی آواز میں واضح نمی تھی۔

” پاپا مما آپ تیون لڑ رے ہو؟؟”۔ ( پاپا مما آپ کیوں لڑ رہے ہو)”۔ ڈری سہمی سی منت پہ نظر پڑتے ہی یکدم دونوں ہوش میں آئے تھے۔ اسکی طرف دونوں ایک ساتھ بڑھے تھے۔ زرتاشہ نے اسے یکدم اپنے سینے سے لگایا تھا۔

” بے بی ہم لڑ نہیں رہے بس بات کر رہے ہیں”۔ زرتاشہ نے اسکے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے کہا۔

” آپ ڈر گئے ہمارے زور سے بات کرنے پہ سوری”۔ جابر نے بھی اسکے گال پہ ہاتھ رکھ کر محبت و نرمی سے کہا۔

منت نے روتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔

” صبور منت کو لے کر جاؤ اپنے روم میں”۔ جہانداد نے سنجیدگی سے کہا۔ صبور منت کو پیار سے بہلا پھسلا کر ساتھ لے گئ۔

” میری یہ بات تم دونوں کان کھول کر سن لو ، اگر تم دونوں کی سیپریشن ہوئ تو منت کو میں واپس لے لوں گا”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔

” پر بھائ میں اسکے بغیر کیسے رہونگی”۔ تاشہ نے تڑپ کر کہا۔

” تاشہ جابر سے طلاق کے بعد تم ساری زندگی تنہا تو نہیں گزاروگی ناں کسی ساتھی کو تو چنو گی اور کیا گیرینٹی ہے کہ وہ منت کو بھی تمہارے ساتھ ایکسپٹ کرے اور اگر کر بھی لے تو بھی میں اپنی بیٹی کو کسی غیر محرم کے گھر نہیں بھیجوں گا”۔ جہانداد نے درشتی سے کہا۔

اور جابر محض غصہ سے اپنے دانت کچکچا کر رہ گیا تھا۔ فلک نم چہرہ لیئے واپس مڑی تھی جابر کی نظر اسپہ پڑی پر اس وقت اسے سب سے پہلے یہ مسئلہ سلجھانا تھا۔ وہ تاشہ کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ بلکل نہیں رہ سکتا تھا۔ اسے چھوڑ کر وہ شاید نہیں یقیناً مر جاتا۔

” پر بھائ ۔۔۔!! میں منت کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی آپی نے مجھے دیا تھا اسے”۔ وہ روتے ہوئے بولی۔

” وہ مجھے نہیں پتہ پر مجھے حیرت ہے شاید اسے بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ ایک دن آئے گا جب تم دونوں اس موڑ پہ آکر کھڑے ہوجاؤ گے اسی لیئے اسنے منٹ کی ایڈپشن کے حوالے سے کچھ کاغذات بنوائے تھے۔ وکیل کو فون کردیتا ہوں میں کل صبح تک وہ کاغذات لے آئے گا”۔ جہانداد دونوں پہ ایک سرد نگاہ ڈالتا کمرے سے نکل گیا تھا۔ ایک بار پھر وہ دونوں اس کمرے میں تنہا رہ گئے تھے۔ جابر اور اسکی نظریں ملی تو تاشہ نے نفرت سے آنکھیں پھیر لیں۔ جابر محض وہ نفرت ہی دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔ اسنے ہمیشہ جسکی آنکھوں میں محبت کے سوا کچھ نا دیکھا آج اسکی آنکھوں میں نفرت دیکھ ایک پل کو اسکے قدم لڑکھڑائے تھے۔

” تاشہ نفرت کرنے لگی ہو مجھ سے”۔ اسنے گہرے دکھ سے پوچھا۔

” شاید یہ بہت چھوٹا لفظ پے میرے احساسات کے آگے جو میں تمہارے لیئے محسوس کرتی ہوں میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی”. وہ پر نم لہجہ۔میں کہتی خود بھی کمرے سے نکل گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧

” علی دیکھو خدا کا واسطہ ہے تمہیں پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو کوئ بھی اچھی لڑکی تمہیں نا نہیں کرے گی ، کیوں مجھ پہ وقت بربادی کر رہے ہو”۔ حوریہ نے سنجیدگی سے ٹیبل پہ اپنے ہاتھ دھرتے کہا۔

” تم بھی تو اچھی لڑکی ہو تم ہی ہاں کر دو”۔ اسنے ضدی لہجہ میں کہا۔

” علی پلیز بچکانی باتیں مت کرو میری زندگی میں شادی کا ذکر کہیں دور دور بھی نہیں ہے”۔ اسنے گہرا سانس خارج کرتے اسے بتایا۔

” پلیز حوریہ تم سمجھنے کی کوشش کرو میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں ، کیوں نہیں سمجھتی تم میری کسی بات کو”۔ اسنے اسکا ہاتھ تھامتے کہا۔

” میرا ہاتھ پکڑنے کی آج تو غلطی کرلی پر دوبارہ کرنے کی سوچنا بھی مت “۔ اسنے اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے نکالا تھ، اور خونخواری سے گویا ہوئ۔

” میں یہ ہاتھ پکڑنے کی غلطی ساری زندگی کرنا چاہتا ہوں پلیز حوریہ مان جاؤ میں تمہیں کبھی دکھ نہیں دونگا ، دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لے آؤں گا”۔ اسنے بے تاب سے لہجہ میں کہا۔

” معافی چاہتی ہوں پر کافی دیر ہوگئ ہے مجھے چلتی ہوں”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھی تھی۔ اپنا سلنگ بیگ کندھوں پہ ڈالتے وہ ریسٹورنٹ سے نکل گئ تھی۔ اور وہ محض اداسی سے اسے خود سے دور جاتا دیکھتا رہ گیا تھا۔

ٹیبل پہ پڑا اسکا موبائل بجنے لگا تھا۔ اسنے موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔

” ہمم”۔ دھیمی سی آواز میں کہا۔

” نہیں مانی؟؟”۔ جویریہ نے جھٹ پوچھا۔

” نہیں”۔ دھیمی سے لہجہ میں کہتا وہ تمسخر سے ہنسا تھا۔

” نا سن کر بھی تمہاری ہنسنے والی بیماری جا نہیں رہی”۔ جویریہ نے طنز کیا۔

” تمہاری بہن بہت ظالم ہے جویریہ”۔ اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکی تھی۔

” علی میں نے تمہیں کہا تھا وہ کبھی نہیں مانے گی پر تم تھے کہ بس۔۔”۔ جویریہ نے بات ادھوری چھوڑی۔

” میں ہار نہیں ماننے والا میں اسے منا کر ہی رہونگا جویریہ”۔ اسنے اٹل لہجہ میں کہا۔

” چلو پھر میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں”۔ جویریہ نے ہنس کر کہا۔

“آپکی دعاؤں کا بے حد شکریہ “۔ وہ بھی دھیرے سے ہنسا۔

کال کاٹ کر وہ موبائل اپنی پاکٹ میں ڈالتا اٹھا تھا اور ایک بار پھر اپنی ہی دھن میں چلتا وہاں سے نکل چکا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

” فلک کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟”۔ وہ اسکے پاس آکر بیٹھتا اسکے ہاتھ تھام کر مستفسر ہوا۔

” میں نے تمہاری زندگی خراب کردی جابر”۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔

” ایسا کیوں بول رہی ہو تم نے کچھ نہیں کیا ساری غلطی میری ہی ہے شروع سے”۔ جابر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتا نرمی سے گویا ہوا۔

” جابر مجھے معاف کردینا”۔ اسنے سسکتے ہوئے اسکے گلے لگ کر کہا۔

” تم کیوں معافی مانگ رہی ہو ، تمہاری کوئ غلطی نہیں”۔ وہ اسکے ماتھے پہ لب رکھتا اسکی کمر سہلاتا نرمی سے گویا ہوا۔

” جابر میں نے جو کچھ بھی کیا بس تمہارے لیا کیا ہے مجھے معاف کر دینا”۔ اسکے رونے میں مزید شدت آئ تھی۔

” کیا کیا ہے کچھ بھی تو تم نے جان بوجھ کر نہیں کیا”۔ وہ اسے خود میں بھینچتے بولا۔

” جابر میری بات سنو”۔ وہ اسکی گردن میں چہرہ چھپائے سسک کر بولی۔

” ہاں بولو۔۔۔!!!”۔ جابر نے محبت سے کہا۔

” آئ لو یو”۔ وہ اسکے گال پہ لب رکھتی محبت سے بولی۔

جابر یکدم ٹھٹکا۔۔۔ اسکا چہرہ اپنے سامنے کرتے غور سے اسے تکا۔

” کیا کیا ہے تم نے؟”۔ جابر نے خشک حلق تر کرتے پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں”۔ اسنے مسکرا کر کہا۔

” فلک مجھے بتاؤ کیا کیا ہے تم نے”۔ وہ بے چینی سے اسکے ہاتھ پیر چہرہ تھام کر دیکھتا گویا ہوا۔

” صرف محبت۔۔!!!”۔ اسنے اسکے چہرہ پہ ہاتھ رکھتے کہا۔

” فلک۔۔۔!”۔ اسکے منہ سے جھاگ نکلتے دیکھ اسکے منہ سے ہلکی سی سرگوشی نکلی۔

” نہیں فلک ۔۔ فلک تم ایسا کیسے کر سکتی ہو”۔ وہ اسکے چہرے کو تھپتپاتا چلایا تھا۔ فلک کی ناک سے خون کی ہلکی سی لکیر نکلی تھی وہ تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی اسے دیکھ کر مسکرائ تھی۔

جابر اسے بانہوں میں بھرتا یکدم بھاگا تھا۔

” بھائ ۔۔۔ تاشہ۔۔۔۔ بھابھی ۔۔۔”۔ وہ زینے اترتا پاگلوں کی طرح چیخا۔

” کیا ہوا”۔ کچن میں کام کرتی صبور نے باہر جھانک کر دیکھا تو اسکے ہاتھ میں موجود کفگیر زمین بوس ہوئ تھی۔

” فلک ۔۔۔”۔ صبور بھی بھاگ کر اسکے پاس گئ تھی۔

” کیا ہوا اسے جابر”۔ صبور نے اسکی زرد پڑتی رنگت دیکھ خوفزدہ ہوکر کہا۔ ہاتھ اسکا سیدھا دل پہ پڑا تھا۔

” بھابھی میں اسے ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں”۔ وہ بوکھلائے ہوئے لہجہ میں اپنی آنکھوں کی نمی دھکیلتا ہوا بولا۔

” فلک۔۔”۔ زرتاشہ بھی اپنے کمرے سے نکل کر چیخ کر فلک تک آئ تھی۔

” اسے کیا ہوگیا جابر۔۔؟؟”۔ تاشہ کی آنکھوں سے نمی روانی سے بہنے لگی تھی۔

” پتہ ۔۔ نہیں”۔ جابر بنا کوئ سہی جواب دیے اسے لے کر نکلا تھا کچھ ہی دیر میں وہ ہاسپٹل میں تھی۔ ڈاکٹرز نے پہلے پولیس کیس کہہ کر علاج کرنے سے انکار کیا تھا پر جابر کے بے حد شور مچانے پہ اسے آئ۔سی۔یو میں لے گئے تھے۔ دو گھنٹے ایسے بیتے جیسے دو سال کچھ دیر بعد تاشہ صبور جہانداد حوریہ اور جویریہ بھی وہاں آگئے تھے۔ جابر ایک پل بھی سکون سے نہیں بیٹھا تھا۔ دو گھنٹے وہ مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ چکر کاٹ رہا تھا۔ اور زبان پر فریاد تھی بس اتنی۔

” یا اللہ میری زندگی بھی فلک کو لگ جائے یا اللہ اسے زندگی دے دے یا اللہ اسے سانسیں دے دے”۔

دو گھنٹے کا کٹھن انتظار بھی آخر کو گزر ہی گیا جابر ڈاکٹر کی طرف بے تابی سے بڑھا۔

” فلک اب کیسی ہے”۔ اسنے بے تابی سے پوچھا۔

” سوری ہم انہیں نہیں بچا سکے”۔ ڈاکٹر جابر کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر حوصلہ کن لہجہ میں بولا۔ ڈاکٹر کی بات سن وہ یکدم گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھا تھا۔ شدت سے چلا کر رونے سے بھی جب اسے تشفی نا ہوئ تو اسکے ہاتھ بے ساختہ اپنے چہرے پہ پڑے تھے۔ وہ اپنے بال نوچ رہا تھا۔ وہ خود کو مار رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ پر اسکے دل کو قرار نہیں آرہا تھا۔ وہ بین کرکے رو رہا تھا۔ ہاں شاید وہ جہالت کی حد تک رو رہا تھا۔ دل تھا کے مانوں ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کو تھا۔

” جابر۔۔ ہوش کرو”۔ جہانداد نے اسے آکر اٹھایا تھا۔

پر وہ خاموش رہا اس نے کچھ نا کہا اس سے کچھ کہا ہی نا گیا۔ فلک کی میت گھر لے کر آئے۔ اسکا چہرہ یکدم زرد پڑ چکا تھا ہونٹ ایکدم نیلے ، وہ تو کہیں سے بھی وہ حسین سی فلک نا تھی۔ تاشہ کی اسکے چہرے پہ نظر پڑی تو وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ، اسے اس سے پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات یاد آئ۔

صبور کی بھی آنکھیں آشکبار تھیں۔ جہانداد جابر کو لایا کہ وہ اسے آخری بار دیکھ لے ، جیسے ہی جابر کی نگاہ اسکے کملائے چہرے پہ پڑی اسکی سسکیاں بندھ گئیں۔ اسے کفن میں لپٹا دیکھ اسکی روح تک کانپ گئ تھی۔ اور جب وقت اسے منوں مٹی تلے دفن کرنے کا آیا تو ، جابر خان لڑکھڑا گیا ، اسکا دل کانپ اٹھا ، اسے وہ وقت یاد آئے جب وہ اسے زندگی کی طرف لانے میں لگا تھا۔ اسے وہ وقت یاد آئے جب وہ ڈری سہمی سی اسے ملی تھی ۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ اسے پیار کے دھوکے میں ڈال کر مار دیا کرتی تھی۔ مشکل مرحلہ تھا پر طے پایا ۔ رسم دنیا نبھا لی گئ ، فلک کو مٹی تلے دفن کردیا گیا۔۔۔۔۔ پر ایک بے چینی تھی جو جابر کو سکون نہیں لینے دے رہی تھی آج پورے تین دن مکمل ہوچکے تھے جابر تنہا باہر لان میں بیٹھا تھا جب زرتاشہ اسکے پاس آئ۔

” کھانا کھا لو”۔ اسنے نرمی سے کہا۔

” تمہیں جب طلاق چاہیئے ہو بتا دینا دے دونگا”۔ وہ سرد لہجہ میں کہتا آنکھیں موند گیا تھا۔

” ہمم پر ابھی چلو کھانا کھا لو”۔ اسنے بھی سنجیدگی سے کہا۔

” نہیں بھوک نہیں”۔ وہ آسمان پہ تارے تکتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔ تاشہ کو بخوبی اسی کی آنکھوں میں نمی دکھ رہی تھی۔

” تم کھانا کھا لو جابر ، میں جانتی ہوں تم فلک کے اس دنیا سے چلے جانے پہ بے حد دکھی ہو پر کھانا کھا لو”۔ وہ نرمی سے کہتی اسکے جواب کی منتظر رہی۔

” دکھ تو بہت چھوٹا لفظ ہے وہ پاگل تو مجھے ساری زندگی کا پشتاوا دے گئ ہے”۔ جابر خان زخمی سی مسکراہٹ ہنسا۔

” موت تو بر حق ہے ناں”۔ تاشہ نے اسے حوصلہ دیا۔

” بے شک موت بر حق ہے پر وہ جو آپکی ہو ، زہر کھا کر خودکشی کرکے حرام موت مر جانا بر حق نہیں”۔ اسنے گہرے دکھ سے کہا۔

” پر جابر جسکی جیسے لکھی ہو”۔ وہ اسے دیکھ کر بولی۔

” نہیں پلیز تاشہ خاموش ہوجاؤ اس سب پہ بات کرنا بے حد تکلیف دہ ہے میرے لیئے پلیز جاؤ یہاں سے”۔ وہ شدت غم سے اسے بھی جھڑک گیا تھا۔ تاشہ بغیر مزید کچھ کہہ اٹھ کر چلی گئ تھی۔ جابر کی آنکھ سے ایک خاموش آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔