Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 10)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 10)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

رات آٹھ بج رہے تھے ، وہ لوگ ابھی تک گھر نہیں آئے تھے ، وہ نیوز چینل کھول کر بیٹھی تو ٹی وی پہ چلتی ہیڈلائنز اسکی سانسیں روک گئ تھیں، وہ اٹھی اپنا موبائل اٹھایا جہانداد کو فون کرنے کی غرض سے موبائل ہاتھ میں تھامے اسے یاد آیا کہ اسکا تو نمبر ہی اسکے پاس نہیں ، اسے رونا آیا وہ شدتِ غم سے رونے لگی تھی ، اسکے وجود پہ عجیب سی کپکپاہٹ طاری ہوچکی تھی۔

وہ اپنے چہرے پہ آیا پسینہ بہ مشکل پونچھتی اُٹھی تھی، اپنے بھاری ہوتے قدموں کو لیئے وہ واچ مین تک پہنچی تھی۔

” جہانداد کا نمبر چاہیئے مجھے۔” وہ بہ مشکل بول پائ۔

” باجی ہمارے پاس تو موبائل ہی نہیں ہے ، ہم نہیں استعمال کرتا۔” وہ اسے تکتے سادگی سے بولا تھا۔

” ہمم سہی۔” وہ اپنے آنسو پونچھتی اپنے پیر گھسیٹتی اندر گھسی تھی۔

کپکپاتا وجود لیئے وہ فرش پہ ہی بیٹھ گئ تھی ، چاچی کے کہے الفاظ اسکے کان میں گونجنے لگے تھے۔

” تو پہلے ہی ایک شوہر کو کھا گئ ، اب کس بیچارے کی موت تیری وجہ سے ہوگی۔”

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ، اسکے بال بکھر گئے تھے وہ زرد چہرہ لیئے بیٹھی سسک رہی تھی۔

” نہیں میں منحوس نہیں ہوں۔۔” وہ سسکتے لہجہ میں خود کو دلاسہ دے رہی تھی۔

” ارے یہ تو اسقدر منحوس ہے کہ اسکے پیدا ہوتے ہی اسکا باپ مر گیا ، اور اب شوہر بھی۔” اسے کسی عورت کا کہا جملہ سنائ دیا ، اسنے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے تھے ، عجب ہی کوئ حالت تھی اسکی ، وہ اللہ سے جہانداد کی لمبی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

اس لیئے نہیں کہ اسے اس سے انسیت ہوگئ تھی ، وہ تو یہ بتانا چاہتی تھی ان لوگوں کو کہ وہ منحوس نہیں۔ ہاں شاید وہ خود غرض ہورہی تھی پر یہ خود غرضی بھی اس ظالم سماج کی عطا تھی۔

وہ گھٹنوں میں سر دیئے سسک رہی تھی ، جب کسی نے اسکے کندھے پہ آکر ہاتھ دھرا تھا ، اسنے نظریں اٹھا کر تکا تھا ، سامنے جویریہ تھی۔

“جویریہ ۔۔۔!! تمہارے ڈیڈ کو جو۔۔۔۔ بھی کچھ ۔۔۔ بھی ہوا ہے وہ میری وجہ سے نہیں ہوا ، میں منحوس نہیں ہوں۔” وہ بے ساختہ اٹھ کر اسکی طرف لپکی تھی۔ اسنے دونوں بازوؤں سے اسے تھاما ہوا تھا ، وہ کپکپاتی آواز اور سسکتے لہجے میں صفائ پیش کر رہی تھی۔

” یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ، آپکی وجہ سے کچھ بھی نہیں ہوا۔” وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتی بھاری آواز میں بولی تھی۔

” ہاں ۔۔ ہاں میری وجہ سے کچھ نہیں ہوا۔” اسنے کپکپاتے لہجے میں وہی جملہ ایک بار اور دھرایا۔

” ریلیکس کیا ہوگیا ہے آپکو؟؟۔” وہ اسکے آنسو پونچھتی ، اسے صوفہ پہ بٹھاتی مستفسر ہوئ۔

” کچھ نہیں ہوا ، وہ ٹھیک ہیں؟؟۔” ایک آس سے پوچھا گیا۔

” انہیں گولی لگی ہے ، انڈر ابزرویشن ہیں ، ہوش نہیں آیا پر آجائے گا۔” وہ اپنے آنسو دھکیلتی ڈھیروں ہمت مجتمع کیئے بولی۔

“۔۔تم مجھے ہاسپٹل لے کر چلو گی ناں؟؟؟۔” اسنے گلابی آنچل سے اپنا چہرا پوچھا تھا۔

” ہمم بلکل لے کر چلوں گی ، آپ اٹھیں چلیں چلتے ہیں۔” وہ اسکا ہاتھ تھامتی اسے اٹھنے کا بولی تھی ، وہ بھی فوراً اسکے ساتھ ہولی تھی۔

وہ جویریہ کے ساتھ ہاسپٹل آئ ، تو حوریہ جو ویٹنگ ایریا میں بیٹھی تھی ، اسکے ساتھ ثبور کو دیکھ طیش میں آگے لہک کر ان تک آ تھی۔

” تم انہیں کیوں لے آئ ، پاگل ہو ، تمہیں اتنی مشکولوں سے بھیجا تم انہیں لے آئ ، فضول میں خوار کر رہی ہو انکو بھی اور خود کو بھی ، پیشنٹ کے ساتھ صرف ایک بندہ الاؤڈ ہے ، ڈیڈ کو ابھی شفٹ کیا ہے روم میں ، ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں ، ہوش آجائے گا انہیں کچھ دیر میں ، ابھی بھی اوپر وہ منحوس علی ڈیڈ کے پاس چپک کر بیٹھا ہے۔” وہ ان دونوں کو اچھا خاصہ ڈانٹ گئ تھی۔

” یہ بہت رو رہی تھیں ، اسی لیئے میں لے آئ انہیں۔” جویریہ منمنائ۔

” آپ پریشان نا ہوں میں علی کو کہتی ہوں وہ نیچے آجائے تو آپکو لے جائے گا اپنے ساتھ ، کارڈ اسکے پاس ہے ، پر آپ ڈیڈ کو دیکھ کر جویریہ کے ساتھ فوراً گھر جائیں گی۔” وہ نرمی سے بولی تھی۔

” ہاں پھر میں چلی جاؤں گی۔” وہ جلدی سے بولی تھی۔

” اوہ مائے گاڈ حوریہ میرے جہانداد کو کیا ہوگیا۔” بختاور نجانے ایک دم سے کہاں سے اکر حوریہ کے گلے لگ کر مکاری کے آنسو بہانے لگی تھی۔

” پلیز ہاسپٹل ہے ، کچھ ہوش کریں اتنا چیخ چیخ کر جاہلوں کی طرح بات نا کریں ، اور پلیز ابھی ڈیڈ کو ہوش نہیں آیا تو آپ چلی جائیے بعد میں آئیے گا۔” وہ بدتمیزی سے کہتی اسے خود سے دور جھٹک گئ تھی۔

” حوریہ۔۔۔ تم ۔۔ بد تمیزی کر رہی ہو۔” وہ دھیمے لہجہ میں کہتی حوریہ کو مزید آگ لگا گئ تھی۔

” میں اس سے زیادہ بدتمیزی کرسکتی ہوں ، اپنا اور میرا تماشہ نا بنائیں اور یہاں سے چلتی بنیں۔” وہ تنفر سے کہتی جویریہ اور ثبور کو اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کر گئ تھی۔

بختاور پیر پٹختی وہاں سے چلی گئ تھی۔

حوریہ نے علی کو کال کی تھوڑی دیر بعد علی آیا اور ثبور کو ساتھ لے کر اوپر چلا گیا۔

علی اسے روم میں چھوڑ کر خود باہر چلا گیا تھا ، وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اسکے پاس آئ تھی۔ اسکا چہرہ دیکھ وہ اپنے آنسو نا روک پائ تھی ، اسکا چہرہ ہلدی کی مانند پیلا پڑا تھا ، ثبور نے دھیرے سے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ دھرا ، آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں ، وہ اسقدر کمزور ہوگیا تھا ، وہ آنسو پونچھتی مڑی ہی تھی کہ اسکا آنچل کھینچا، وہ بے ساختہ مڑی تھی اس آس پہ کہ اسکا آنچل اسنے تھاما ہوگا ، مگر اسکے بستر کی پائنتی میں پھنسا آنچل دیکھ اسکا دل بھر آیا تھا۔ وہ آنسو پیتی کمرے سے نکل گئ تھی اور پھر وہ اور جویریہ گھر واپس آگئی تھیں۔ حوریہ وہیں ہاسپٹل میں تھی۔ حالانکہ علی نے اسے بھی گھر چلے جانے کو کہا تھا۔ پر وہ صاف انکار کر گئ تھی۔ آخر کیسے وہ اپنے باپ کے معاملے میں کسی بھی طرح کی لاپرواہی کرتی۔

♧♧♧♧♧♧

” جویریہ اب بھائ کیسے ہیں ؟؟”۔ جابر کے لہجہ میں تڑپ تھی۔

” چاچو اب پاپا کافی بہتر ہیں “۔ نم سی آواز میں جواب آیا۔

” جویریہ تم پریشان نا ہو بچے ہم آج ہی آتے ہیں ٹھیک ہے صبح فجر تک پہنچ جائیں گے”۔ وہ اسے تسلی دیتا گویا ہوا۔

” جی ٹھیک ہے”۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی دھیمے سے کہتی کال کاٹ گئ تھی۔

” تاشہ ۔۔ فلک آپ لوگ اپنی پیکننگ کر لیں”۔ جابر کال کٹتے ہی دونوں سے پیکنگ کرنے کا کہتا خود اپنی سیکرٹری کو کال کر رہا تھا۔ پشاور سے کراچی کی فلائٹ کی ٹکٹس بک کروانے کو۔

” ہوا کیا ہے ؟؟”۔ تاشہ نے پریشانی سے پوچھا۔

” وہ بھائ پہ حملہ ہوا ہے ، بس دعا کرو انکو ہوش آجائے چلو جلدی پیکنگ کر لو”۔ وہ اسے نرمی سے بتاتا اسے پیمنٹ کا کہتا خود موبائل کان سے لگاتا منظر سے ہٹ گیا تھا۔

” یا اللہ خیر کرنا”۔ وہ دل پہ ہاتھ رکھتی گویا ہوئ۔

وہ دونوں اٹھی تھیں انہوں نے پیمنٹ کی تھی رات ایک بجے کی انکی فلائٹ تھی۔ وہ لوگ گھر سے نکل چکے تھے۔ ائیرپورٹ پہنچے ویٹنگ ایریا میں بیٹھے تھے۔ جب ان دونوں نے محسوس کیا کہ انکے برابر بیٹھی لڑکیاں جابر خانزادہ کو دیکھتی تبصروں میں گم تھی۔ نا چاہتے ہوئے بھی دونوں کے کان انکی باتوں کی طرف لگ گئے تھے۔

” یار یہ بندہ اسقدر ہینڈسم ہے ناں”۔ ایک لڑکی نے اپنے برابر بیٹھی دوسری لڑکی سے کہا۔

” ہاں بہت زیادہ “۔ دوسری نے بھی فوراً تائید کی۔

” اسکے ساتھ یہ لڑکیاں اور بچی نجانے کون ہے ، اسکی کیا لگتی ہونگی”۔ اسی پہلے والی لڑکی نے کہا۔

“مجھے تو بہنیں لگتی ہیں “۔ دوسری اندازاً بولی۔

” نہیں مجھے تو لگتا ہے ایک بیوی ہوگی اور دوسری بہن”۔ دوسری نے بھی تکا مارا۔

” ایسے نا بول دعا کر ایک بھی بیوی نا ہو”۔ پہلی والی نے دہل کر کہا۔

زرتاشہ تو خاموش ہی رہی پر فلک کا صبر تمام ہوگیا تھا اسنے خونخوار ہوتے اپنا رخ انکی سمت کیا۔

” ہم دونوں اس ہینڈسم سے آدمی کی بیویاں ہیں پر ہاں ۔۔ تیسری چوتھی کی جگہ خالی ہے اگر تمہیں بکنگ کروانی ہو تو بتانا میں تمہیں نمبر دے دیتی ہوں اپنا”۔ وہ چبا چبا کر کہتی پہلی لڑکی پہ مکمل طور پہ جھک آئ تھی بس کثر رہ گئ تھی تو منہ نوچنے کی۔ جابر نے اسے کسی لڑکی کہ ساتھ خونخوار لہجہ میں بات کرتے دیکھا تو یکدم اسکے پاس آیا اسکو بازو سے تھام کر پیچھے کیا۔

” کیا کر رہی ہو فلک “۔ اسنے اسے گھورا۔

” تم تو چپ ہی رہو”۔ اسنے اسے انگلی دکھاتے کہا۔

وہ لڑکیاں اسکے بگڑے تیور دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر بھاگی تھیں اور وہ جابر کو اب بھی بری نظروں سے گھور رہی تھی۔ اسنے غصہ میں آگے بڑھ کر اسکے بال جو اچھے جیل لگا کر سیٹ کیئے تھے بگاڑ دیئے ، زرتاشہ نے با مشکل اپنی ہنسی دبائ تھی اسکے بچپنے پہ ،

“یہ جیکٹ اتارو سارا قصور ہی اسکا ہے”۔ وہ اسکی لیدر کی جیکٹ پہ جھپتتی اسے اتارنے کا بولی۔

” پاگل ہوگئ ہو ، انسان بن کر بیٹھو پاگل عورت”۔ وہ اسے زبردستی چیئر پہ بٹھاتا ہلکی آواز میں پھنکارا تھا۔

” تم انسان بن جاؤ ، نہیں تو چمڑی اکھیڑ دونگی”۔ وہ تپتی بولی۔

” فلک کیا ہوگیا چھوڑ دو”۔ زرتاشہ نرمی سے بولی۔

” توبہ کیسی لڑکی ہو وہ تمہارے شوہر پہ لائن مارنے کی پوری تیاری میں تھیں ، اور تم ہو کہ سکون سے بیٹھی ہو”۔ فلک نے اسے بھی گھورا۔

” جس کے شوہر پہ پہلے ہی کوئ اور عورت قابض ہوگئ ہو اسے پھر کوئ فرق نہیں پڑتا کہ اسکے شوہر کو مزید اور کون دیکھتا ہے یا کیا سوچتا ہے”۔ وہ دھیمے سے عام سے لہجے میں گویا ہوئ ۔ پر فلک کا دل یکدم اسکی بات پہ ڈوبا تھا۔ فلک نے چور سی نظریں اسکی طرف کی تو وہ دھیرے سے منت کی کسی بات پہ مسکائ تھی۔ فلک کا دل یکدم ہر چیز سے برا ہوا تھا ، اسکا دل گھبرانے لگا تھا۔ لفظ ” قابض ” اسکے ذہن میں چمٹ کر رہ گیا تھا۔

رات کے چار بج رہے تھے وہ لوگ کراچی پہنچ گئے تھے جابر ان دونوں کو اپنے بھائ کے گھر چھوڑ خود ہاسپٹل کے لیئے نکل گیا تھا ۔ فلک تو بلکل انجان تھی سب سے پر زرتاشہ کی تو بھانجیاں بھی اس گھر میں موجود تھیں۔

زرتاشہ مین ڈور کھولتی اندر گھسی تو گھر گہرے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ منت فلک کی گود میں تھی۔ زرتاشہ نے ہاتھ بڑھا کر بورڈ ٹٹولا اور بٹن دباتے ہی لاونج کی تمام لائٹس آن ہوگئ تھیں۔ وہ دونوں اندر آکر صوفہ پہ بیٹھیں ، گارڈ انکا سارا سامان اندر لایا۔

ثبور جو تہجد پڑھنے کے لیئے اٹھی تھی باہر سے شور کی آواز سن کر باہر آئ تھی۔ لاونج میں انجان لوگوں کو دیکھ وہ یکدم کنفیوز ہوئ تھی۔ کہ اپنے روم سے جویریہ بھی نکل آئ تھی۔

” اسلام و علیکم “۔ جویریہ نے سلام کیا ، تو تاشہ نے آٹھ کر فوراً اسے سینے سے لگایا تھا۔

” ٹھیک ہو گڑیا”۔ اسنے اسکے گال پہ محبت سے ہاتھ رکھ کر پوچھا۔

” جی تاشہ خالہ میں بلکل ٹھیک ہوں آپ بیٹھیں تھک گئ ہونگی”۔ وہ محبت سے اپنی خالہ کی تھکن کا احساس کرتی بولی۔

” یہ میری خالہ بھی ہیں اور چاچی بھی”۔ جویریہ نے ثبور کو بتایا۔

” اسلام و علیکم “۔ ثبور نے جھٹ سلام داغا۔

” وعلیکم اسلام”۔ تاشہ نے اس کم عمر سی لڑکی کو دیکھتے نرمی سے جواب دیا۔

” خالہ یہ کون ہے؟؟”۔ جویریہ نے فلک کے بارے میں پوچھا۔

” یہ آپکے چاچو کی وائف ہیں”۔ تاشہ سے دوسری نا لگایا گیا اسے ایسا لگا کہ شاید فلک کو دکھ ہو۔

” ہیں کونسے چاچو کی وائف”۔ وہ حیران ہوئ۔

” تمہارے کونسے پچاس چاچو ہیں ایک ہی ہیں نا جابر “۔ اسنے نگاہیں جھکا کر سادگی سے کہا۔

” خالہ چاچو آپکے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں”۔ جویریہ نے بہ مشکل کہا۔

” اوہو جویریہ بس کرو تھک گئے ہیں ہم روم دکھا دو فلک کو میں تو چلتی ہوں اپنے روم میں”۔ وہ بات کو ادھر ادھر کرتی اٹھی ۔

” پر خالہ “۔ اسنے حیرت سے دیکھا۔

” فلک آئیے میں آپکو آپکا روم دکھا دوں”۔ ثبور فلک کو دیکھتی نرمی سے گویا ہوئ فلک بھی اٹھی ، تاشہ نے فلک سے منت کو لیا۔

” کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا فلک “۔ تاشہ نے نرمی سے کہا۔

” اوکے “۔ فلک دھیرے سے کہتی ثبور کے پیچھے چل پڑی تھی۔

” یہ روم ہے آپکا”۔ اسنے مسکرا کر فلک کو بتایا۔

” تھینک یو”۔ فلک نے نرمی سے کہا۔

” ویلکم “۔ ثبور نے ہنس کر کہا۔

اور اسکے روم سے نکل گئ ، فلک گم سن سی بیڈ کی پائنتی کے پاس بیٹھ گئ۔

♧♧♧♧♧♧♧

جابر ہاسپٹل پہنچا تو حوریہ اسے دیکھ کر چونکی۔

” چاچو آپ یہاں “۔ وہ اسے ملتی مستفسر ہوئ۔

” تم تو پٹ جاؤ گی کسی دن مجھ سے تمہیں کیا لگا بتاؤ گی نہیں تو پتہ نہیں چلے گا مجھے سوشل میڈیا کا دور ہے یہاں لوگ میرے بھائ کی صحت یابی کے لیئے دے دھڑا ڈر پوسٹیں لگا رہے ہیں اور میں ہونق بنا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ پھر کوئ رومر ہے”۔ وہ اسپہ خفا ہوا۔

” ساری چاچو میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی”۔ وہ بنا شرمندہ ہوئے سنجیدگی سے بولی۔

” اوہ واؤ تم کتنی سمجھدار ہوگئ ہو ۔۔!! اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ میں یہ بولنے والا ہوں تو سوچنا بھی مت فضول لڑکی”۔ وہ میٹھے لہجے میں بولتا آخر میں بھڑک اٹھا تھا۔

رات کا وقت تھا ہاسپٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا ، بہت کم لوگ جو مریض کے ساتھ روکے تھے وہ ہی موجود تھے۔ کچھ لوگ تو اس شخص کو غصہ سے گھور رہے تھے جو ڈنگر جتنا لمبا تھا ، پر ہاسپٹل میں آواز کو دھیما رکھنا ہے اس بات سے نا بلد تھا۔ حوریہ نے نظریں گھما کر لوگوں کو معذرت خواہ نظروں سے دیکھا۔ اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتی ہوئ ، کوریڈور سے جس روم میں جہانداد تھا اس روم میں لے کر گئ۔

” چاچو آپ بہت نوائسی (noisy) ہو”۔ وہ اسے گھور کر بولی۔

” منہ بند رکھو تم “۔ وہ اسے گھورتا جہانداد کی طرف بڑھا تھا۔ پر اسے اس حال میں دیکھ وہ با مشکل خود پہ ضبط رکھ پایا تھا۔ اب تھا ہی کون اسکا مزید اسکے بڑوں میں سوائے اس ایک بھائ کے ، جس نے ساری زندگی اسے اولاد سمجھ کر پالا ، وہ محض اسکا بڑا بھائ تو نا تھا۔ وہ تو اسکا باپ ، بھائ ، دوست ، ماں ، سب کچھ تھا۔

” ڈاکٹرز نے کیا کہا کب تک ہوش آئے گا”۔ اسنے اپنے کندھے پہ حوریہ کا ہاتھ محسوس کرکے ہمت بہال کرکے پوچھا۔

” چاچو ، آجائے گا ہوش آپ فکر نا کریں “۔ وہ اپنے بھائ جیسے چاچو کے کندھے پہ سر رکھتی گویا ہوئ۔

” میرا بیٹا تمہیں مجھے جلدی انفارم کرنا چاہیئے تھا ناں”۔ وہ اسکے سر پہ شفقت بھرا بوسہ دیتا گویا ہوا۔

” میں پھر کہوں گی کہ میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی”۔ اسنے سر اٹھا کر اپنی نم آنکھوں کو پونچھ کر کہا۔

” حوری۔۔ اگر تم خود بتاتی تو شاید میں اتنا پریشان نا ہوتا جتنا دوسروں سے پتہ چلنے پہ ہوا تھا وہ تو شکر ہے میں نے جویریہ کو کال کرکے پوچھا اور اسنے مجھے سب کچھ سہی سے بتایا”۔ وہ نرمی سے کہتا سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھا تھا۔

” تاشہ خالہ بھی آئ ہیں ساتھ؟؟ “۔ اسنے بھی اسکے ساتھ صوفہ پہ بیٹھتے پوچھا۔

” ہاں وہ بھی آئ ہیں ، اور ۔۔”۔ اسنے دھیرے سے بتایا اور اگلی بات بتاتے ہوئے ذرا سا جھجکا۔

” اور؟؟”۔ حوریہ نے بھنوئیں آچکا کر پوچھا۔

” اور فلک بھی آئ ہے”۔ اسنے ہمت کرتے کہا۔

” کون فلک”۔ اسنے کچھ چونک کر پوچھا۔

” میری دوسری بیوی”۔ اسنے ڈر کر کہا ، ڈرتا کیوں نا آخر اسکے سامنے تاشہ خالہ کی دیوانی بیٹھی تھی۔ کب پکڑ کر اسکا قتل کر دیتی اسے اندازہ نہیں تھا۔

” اگر یہ مذاق تھا تو انتہائ گھٹیا مذاق تھا چاچو”۔ وہ متغیر صورت لیئے بولی۔

” یہ مذاق نہیں ہے حوریہ یہ سچ ہے”۔ اسنے دھیمے سے کہا۔

” چاچو میں کہہ رہی ہو مکر جاؤ نہیں تو پیروں پہ چلنے کے قابل نہیں رہو گے”۔ اسنے اسے تکتے ٹھنڈے لہجہ میں کہا۔

” یار حوریہ ڈرا کیوں رہی ہو ، سچ ہے میں نے کر لی ہے دوسری شادی پر وجہ تھی”۔ وہ تھوک نگلتا کھڑا ہوا تھا۔

” چاچو ڈر و مت صبر رکھو پہلے تمہاری فلک کی ٹانگے توڑوں گی پھر تمہاری بیٹھ جاؤ “۔ وہ روکھے سے لہجہ میں کہتی جابر کی طرف سے رخ موڑ گئ تھی اور پھر اگلے دن کا سورج نکلنے تک وہ اسے نظر انداز کرتی رہی تھی۔

صبح کے سات بج رہے تھے جہانداد کو بھی ہوش آگیا تھا۔ اسے دیکھ کر جہانداد محبت سے مسکرایا تھا۔ ۔” میرا شیر آیا ہے”۔ وہ اسے دیکھتا محبت سے گویا ہوا۔

” بھائ یار مانا کہ بوڑھے ہوگئے ہو پیر قبر میں لٹکے ہیں ، پر اتنی بھی کیا جلدی ہے صبر رکھو آرام سے کوچ کرنا”۔ وہ شودے پن سے بولا۔

” بڑی ہی کوئ کمینی شہ ہو تم “۔ جہانداد بھی اسکی بات پہ نقاہت سے ہنسا تھا۔

” ڈیڈ آپ ٹھیک ہیں اب ، کیسا محسوس کر رہے ہیں “۔ وہ جابر کو سرد نظروں سے گھورتی اپنے باپ کو نرمی سے دیکھتی محبت سے مستفسر ہوئ۔

” میرا بچہ میں بلکل ٹھیک ہوں “۔ اسنے محبت سے جواب دیا۔ حوریہ نے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لیا۔ وہ اسکی محبت پہ مسکرایا۔

” بیٹا ڈسچارج لے لو ہاسپٹل سے بس مجھ سے یہاں ان دواؤں کی سمیل میں نہیں رہا جائے گا”۔ وہ سنجیدہ سا بولا۔

” نہیں بابا ابھی آپکی طبیعت مکمل طور پہ ٹھیک نہیں”۔ اسنے نفی کی اور جابر نے بھی حوریہ کی ہاں میں ہاں ملائ۔

” نہیں بیٹا بس مجھے نہیں رہنا یہاں گھر چلو میں اب بہتر محسوس کر رہا ہوں”۔ وہ نرمی سے بولا۔

” پر بابا”۔ اسے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی ، جہانداد اسکی بات کاٹ گیا تھا۔

” میں نے کہا ناں نہیں مجھے گھر جانا ہے”۔ وہ چڑتا ہوا بولا۔

” اوکے “۔ وہ اسے چڑتا دیکھ نرمی سے کہتی کمرے سے نکل گئ تھی۔ اور جابر بھی اسکے پیچھے ہی نکلا تھا۔ جہانداد نے نقاہت سے سر تکیہ پہ سیدھا کیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

وہ لوگ ابھی جہانداد کو گھر لے کر آئے ، جابر اور علی نے جہانداد کو سہارا دے کر روم میں لاکر بیڈ پہ لٹایا تھا۔ اور اب اسکے چاروں طرف وہ سب کھڑے تھے۔

” بھائ اب آپکی طبیعت کیسی ہے آپ ٹھیک ہیں”۔ زرتاشہ نے جہانداد کو تکتے نرمی سے پوچھا۔

” جی بیٹا ابھی بہتر ہوں”۔ اسنے اسے تکتے نرمی سے کہا۔

” چلیں آپ آرام کریں آپکو آرام کی بہت ضرورت ہے”۔ زرتاشہ اسکے چہرے پہ تکلیف کے آثار دیکھتی نرمی سے کہتی کمرے سے نکل گئ تھی۔

” یہ فلک ہے؟؟”۔ اسنے انجان سی لڑکی کو کھڑے دیکھ جابر سے پوچھا۔

” جی بھائ فلک ہے”۔ جابر نے دانت نکوس کر بتایا۔

” بیٹا آپ کو کوئ بھی پریشانی ہو تو اپنا بڑا بھائ سمجھ کر بلا جھجھک مجھ سے کہہ سکتی ہیں”۔ وہ شفقت سے گویا ہوا۔

” جی شکریہ۔۔ ، اب آپکی طبیعت کیسی ہے”۔ وہ جھجک کر کہتی ہلکا سا مسکائ تھی۔

” بہتر ہوں بیٹا “۔ وہ اسی شفقت بھرے لہجہ میں گویا ہوا۔

” گیٹ ویل سون ، میں چلتی ہوں آپ آرام کیجیئے”۔ فلک نرمی سے کہتی روم سے چلی گئ تھی۔

” ڈیڈ آپ آرام کریں ہم بھی چلتے ہیں”۔ حوریہ اسے آرام کرنے کا کہتی جویریہ کو ساتھ چلنے کا اشارہ کرتی روم سے نکل گئ تھی۔

” سر میں بھی چلتا ہوں ، آفس میں بہت کام پینڈنگ پڑھا ہے”۔ علی بھی اجازت لیتے لہجہ میں گویا ہوا۔

“ہمم جاؤ ، دیہان سے جانا”۔ وہ اسی شفقت بھرے لہجہ میں گویا ہوا۔

” اوکے اللہ حافظ”۔ وہ روم سے نکلتا چلا گیا تھا۔

” بھائ او میرے دل عزیز ، گردے عزیز پھیپھڑے عزیز بھائ جلدی ٹھیک ہوجاؤ”۔ سب کے نکلتے ہی جابر خان جمپ مارتا بیڈ پہ جہانداد کے برابر میں لیٹا تھا۔ اور جہانداد محض کراہ کر رہ گیا تھا۔

” ہاں چھوٹے تم ٹھیک ہونے دو گے تو میں ٹھیک ہونگا ناں”۔ وہ دانت پیس کر بولا۔

” ہائے میرا بھائ میرے بس میں ہوتا تو میں اپنی جان بھی وار دوں تم پر “۔ وہ محبت سے کہتا اپنا بھاری ہاتھ جہانداد کے سینے پہ ڈال گیا تھا۔ یکدم جہانداد کا سانس اٹکا تھا۔ اسکے موصوف بھائ نے ہاتھ سیدھا اس مقام پہ رکھا تھا جہاں اسے گولی لگی تھی۔

” بے غیرت انسان ہاتھ ہٹاؤ اپنا مارنا ہے کیا جان سے مجھے”۔ وہ اذیت سے زرد چہرہ لیئے گویا ہوا۔

” بھائ تم کو سدا سے میری محبت پہ شک ہے جاؤ میں نہیں کرتا تم سے بات”۔ وہ خفا ہوتا پر شکوہ لہجہ میں کہتا اس سے پہلے اسکے پاس سے اٹھتا ، جہانداد نے اپنا مضبوط بازو اسکے گرد باندھا۔

” میرے شیر مجھے تمہاری محبت پہ شک نہیں ہے پر طبیعت ٹھیک نہیں نا میری اور تمہاری محبت مجھے ٹھیک حالات میں بھاری پڑتی ہے اسوقت تو سمجھو میں بستر مرگ پہ پڑا ہوں”۔ وہ شفقت سے گویا ہوا۔

” بھائ ایسے نا بولو میں ناراض ہوجائوں گا آپ بلکل ٹھیک ہوجاؤ گے کوئ بستر مرگ پہ نہیں پڑے”۔ وہ اپنے باپ جیسے بھائ کی ایسی بات سن کے مانوں تڑپ ہی تو گیا تھا۔

” ہاں ہاں میں بلکل ٹھیک ہوجاؤنگا “۔ اسنے گدھے جتنے لمبے آدمی کو شفقت سے پچکارہ وہ بھی بچہ بنا لاڈ سے اپنے بھائ کے گلے لگا پڑا تھا۔

” چلو آرام کر لو میں بھی سوجاؤں نیند آرہی ہے جارہا ہوں اپنے روم میں”۔ وہ محبت سے اپنے بھائ کے ہاتھ پہ پیار کرتا اٹھا تھا۔ اور اسے آرام کرنے کو کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔ جہانداد اسکی پشت کو دیکھ ہولے سے مسکرایا تھا۔

جہانداد کو احساس ہوا سب اسکے پاس آئے مگر نا آئ تو وہ ظالم ، اسنے بھی سوچ لیا تھا اب وہ بھی اس سے بات نہیں کرے گا۔ وہ ابھی انہیں خیالوں میں گم تھا۔ جب آسمانی جوڑے میں چمکتی ہوئ وہ دروازہ آہستہ سے بند کرتی اندر آئ تھی۔

” اسلام و علیکم “۔ اسنے دھیرے سے سلام کیا۔

” وعلیکم اسلام “۔ اسنے اسکی طرف سے رخ موڑے روٹھے سے لہجہ میں کہا۔ سلام کا جواب بھی اس نے اسی لیئے دیا کیونکہ سلام کا جواب دینا تمام مومنین پر فرض ہے۔

” آپ کی طبیعت کیسی ہے اب ؟؟”۔ اسنے انگلیاں چٹخاتے ہلکے سے سر اسکی طرف جھکا کر پوچھا۔

اسنے کوئ جواب نا دیا۔

” آپ سو گئے کیا”۔’ وہ مزید سر جھکاتی مستفسر ہوئ جب اسنے یکدم اپنی آنکھیں دوبارہ کھولیں۔ وہ اسے آنکھیں دکھاتے دیکھ ہولے سے مسکرائ۔ جہانداد نے اسے گھورا۔

” بات نہیں کرنی مجھے تم سے”۔ خفگی سے کہا۔

” کیوں؟؟”۔ ثبور حیران ہوئ۔

” کیونکہ میں تم سے ناراض ہوں”۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔

” پر کیوں “۔ یکدم اسکی نظریں جھکی تھی وہ سیدھی ہو کر کھڑی ہوئ۔

” میری مرضی”۔ اسنے سرد نظروں سے اسے گھورا۔

” پر مجھے بھی تو پتہ ہونا چاہیئے ناں کہ اگر کوئ مجھ سے ناراض ہے تو آخر کیوں ہے”۔ وہ اسکی سائڈ سے ہٹتی دوسری طرف اپنی جگہ پر آکے بیٹھی تھی۔

” وہ تم خود پتا کرو”۔ وہ روٹھے لہجہ میں کہتا آنکھیں موند گیا تھا۔ وہ محض اسے دیکھتی رہ گئ تھی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئ تھیں ، اور وہ مزید کچھ کہے بنا کمرے سے نکل گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧