Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 13)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 13)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
اور پھر جہانداد کی بہت زیادہ ضد کے آگے ہار کر آج جہانداد کی منگنی تھی بختاور سے ، سب بہت خوش تھے۔ پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ بختاور ٹی پنک کلر کا لہنگا پہنے کندھے پہ دوپٹہ ڈالے گاؤں کی روایت سے ہٹ کر دلہن بنی بیٹھی تھی۔ سب لوگ حیرت زدہ تھے کہ جہانداد خانزادہ کو کیا اس لڑکی کے لچھن معلوم نہیں تھے۔ جو وہ اسے اپنی عزت بنا بیٹھا تھا ، ہر کوئ اپنی جگہ گنگ تھا ، پر جہانداد خانزادہ بے انتہا خوش تھا۔ اسے تو اسکی پسند کی عورت مل رہی تھی اسے زندگی سے مزید کیا چاہیئے تھا۔ آخر کار منگنی بخیر انجام پائ، مہمان اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے ، جہانداد جابر کو گود میں لیئے بیٹھا تھا اسکے گال پہ پیار کر رہا تھا کہ اپنی ماں کی آواز پہ سر اٹھایا۔
” جہانداد تم نے منگنی تو کرلی پر وہ بلکل اچھی لڑکی نہیں ، تم جاناں کو دیکھو کتنی اچھی ہے وہ کہاں وہ بختاور اور کہاں جاناں “۔ انہوں نے افسوس سے کہا۔
جہانداد کو چڑ سی محسوس ہوئ جاناں کے ذکر پہ کیونکہ وہ اب تنگ آگیا تھا بار بار جاناں اور بختاور کا موازنہ سن کر ، اسے جاناں سے کوفت محسوس ہوئ۔ پر وہ خاموش رہا اس نے کچھ نا کہا۔
” اماں میں چلتا ہوں سونے”۔ وہ جابر کو اپنی ماں کی گود میں ڈالتا اٹھ کر چلا گیا تھا۔
پر یہ سلسلہ بڑھتا گیا جاناں کا اور بختاور کا موازنہ ہمیشہ ہی ہوتا رہا جاناں مزید بڑی ہوئ مزید سگھڑ ہوئ اور موازنہ بھی بڑھتا گیا۔ جہانداد کو نفرت سی ہونے لگی جاناں سے اور رفتہ رفتہ وہ نفرت اسقدر شدت اختیار کر گئ کہ جہانداد سے جاناں کا وجود تک برداشت نا ہوتا۔ اور پھر ایک وہ دن آیا جب بختاور نے کہا کہ وہ اس منگنی کو مزید نہیں گھسیٹ سکتی وہ اس منگی کو توڑ کر واپس امریکہ جاناں چاہتی ہے اسنے اپنی پانچ سال کی منگنی کو ایک جھٹکے میں توڑ دیا خیر منگی کی کیا حیثیت تھی وہ تو اتنے سالوں کی محبت بھلائے جہانداد خانزادہ کا دل توڑ کر جا رہی تھی۔ اور پھر بختاور چلی گئ جہانداد بکھر کر رہ گیا۔پر اسکی ماں نے اب اسکی مزید کوئ نا سنی اور اسکی شادی جاناں سے کرادی جاناں جسکی عمر آٹھارہ سال تھی وہ پہلے سے زیادہ حسین ہوگئ تھی وہ کسی نو خیز کلی کی مانند کھل گئ تھی۔ دونوں کی شادی ہوئ جہانداد نے اس سے کافی عرصہ بے گانگی برتی پر ایک رات جب وہ تھکا ہارا گھر آیا اور بستر پہ گرنے کے سے انداز میں لیٹا کہ یکدم اپنے برابر پڑے وجود کو وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے جگا گیا۔ جاناں نے اسے روکنا چاہا پر وہ نا رکا اور پھر اگلی صبح وہ اسپہ بے انتہا چیخا تھا کہ یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود بھی جاہل بن گیا اسنے جاناں کو ساری زندگی طعنہ تشنہ مارے ، اسنے اس پہ ہاتھ تک اٹھانے پہ دریغ نا کیا۔ اور پھر جیسے یہ سب تو زندگی کا حصہ بن گیا جب جب جہانداد جاناں کے قریب جاتا اپنی ساری رات اسکے وجود سے کھیلتے بتاتا اسکے اگلے روز وہ چیختا چلاتا اور اسے قصوروار ٹہراتا کہ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ اور جاناں خاموشی سے اسکی ہر بات شہتی رہتی ، اور پھر ایک دن جویریہ اور حوریہ پیدا ہوئے ، ان ننھی سی معصوم سی پریوں کو دیکھ وہ انتہا کی نفرت تو جاناں کے لئیے ختم ہوگئ پر اسکے انداز سے اسکے لہجہ سے اسکے لیئے بیزاری ختم نا ہوئ۔
اور وہی بیزاری وقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے تو اسنے نکالنا بند کردی پر تنہائی میں اسکا بیزاریت بھرا انداز جاناں کا دل توڑ جاتا تھا۔
وقت گزرتا گیا جابر اور زرتاشہ ساتھ کھیلتے کھیلتے جوان ہوگئے زرتاشہ کی عمر اکیس سال تھی جب اسکے لیئے رشتے دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور پھر کبھی وہ لوگ تاشہ کو ریجیکٹ کر جاتے اور کبھی جابر لوگوں کو ریجیکٹ کر دیتا یہ کہہ کر کہ یہ لوگ تاشہ کہ سٹینڈرڈ کے نا تھے۔
ایک شام تاشہ کو دیکھنے کچھ لوگ آئے تھے ، جابر انکے سامنے ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر بیٹھا۔ جہانداد نے اسے گھور کر دیکھا پر بنا کوئ اثر لیئے وہ اکڑ کر بیٹھا رہا۔
” جی آپ اپنی بچی کو بلا لیں”۔ لڑکے کی ماں نے سلیقہ سے مسکرا کر کہا۔
” جی ابھی آجاتی ہے”۔ جہانداد نے مسکرا کر کہا ، اور جاناں کو اشارہ کیا کہ وہ تاشہ کو لے کر آئے تھوڑی دیر بعد تاشہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئ جاناں کے ساتھ سر پہ سلیقہ سے آسمانی آنچل ڈالے وہ دھیرے سے سلام کرتی جابر کے اشارہ پہ اسکے برابر نا چار بیٹھی تھی۔ نہیں تو وہ یہیں کوئ تماشہ لگا دیتا۔
“جابر اور تاشہ بھائ بہن ہیں کیا؟”۔ لڑکے کی ماں نے بہ مشکل مسکرا کر پوچھا۔
” نہیں “۔ اس سے پہلے کہ کوئ جواب دیتا جابر شان سے کہتا۔ لڑکے والوں کے ماتھے پہ بارہ بجا گیا تھا۔
” بیٹا کیا کیا کر لیتی ہو”۔ لڑکے کی ماں نے جابر کو نظر انداز کرکے تاشہ سے مسکرا کر پوچھا۔
” بہو چاہیئے یا نوکرانی”۔ تاشہ سے پہلے جابر سرد لہجہ میں گویا ہوا۔
” جابر تاشہ خود جواب دے دے گی آپ چپ رہیں”۔ جہانداد نے جابر کو جھڑکا ، جابر نے منہ بنایا۔
” جی میں کوکنگ کر لیتی ہوں ، پینٹنگ بھی بہت اچھی آتی ہے”۔ اسنے دھیمے سے لہجہ میں کہا۔
” بس محض یہی آتا ہے ، ہمارا بیٹا تو ماشااللہ سے ڈاکٹر ہے ہم تو اپنے بیٹے کے سٹینڈرڈ کی لڑکی ہی ڈھونڈیں گے ویسے آپ کی کالیفیکیشن کیا ہے؟؟”۔ انہوں نے طنزیہ لہجہ میں کہتے سوال داغا۔
” بی۔ اے کیا ہے ابھی”۔ اسنے ہمت مجتمع کرکے کہا۔
” بس بی۔ اے”۔ ان آنٹی نے قدرے حقارت سے کہا۔
اور جابر کی بس یہیں تمام ہوگئ تھی۔
” اوئے چل رکھ سموسہ اٹھو نکلو نجانے کہاں کہاں سے منہ اٹھا کر آجاتے ہو”۔ جابر نے کھڑے ہوتے بھڑک کر کہا۔
لڑکے والے یکدم گھبرا کر کھڑے ہوئے تھے۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے”۔ لڑکے کی ماں نے متغیر صورت لیئے کہا۔
” یہ بدتمیزی نہیں جابر خانزادہ کی تمیز ہے لے کر نکلو اپنے اس ڈاکٹر بیٹے کو ابھی ہمارے خاندان میں ڈاکٹر کی ضرورت نہیں پڑی ٹکے ٹکے جیسے لوگ نہیں اور باتیں دیکھو کیسی کرتے ہو”۔ وہ تنفر سے کہتا انہیں جانے پہ مجبور کر گیا تھا۔ جاتے جاتے وہ لوگ بھی خوب بد تمیزی کرکے گئے تھے۔۔
” جابر یہ کیا حرکت تھی”۔ جہانداد نے جابر کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
” بھائ وہ لوگ بد تمیز تھے”۔ اسنے غصہ سے کہا۔
” اور تم بدتمیزی نہیں کر رہے تھے”۔ جہانداد نے ایک جھٹکے سے اسکا گریبان چھوڑا۔
” نہیں میں نے محض وہی کہا جو درست تھا”۔ اسنے سرخ چہرہ لیئے انگار ہوتے لہجے میں کہا۔
” تم پٹ جاؤ گے مجھ سے “۔ جہانداد اس پہ گرجا تھا۔
اور نم آنکھیں لیئے بیٹھی تاشہ کے برابر میں بیٹھا تھا۔ اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے اسکا سر اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔
” رو مت گڑیا سب ٹھیک ہو جائے گا”۔ جہانداد نے اسے دلاسہ دیا۔
” بھائ کچھ ٹھیک نہیں ہوسکتا میری زندگی میں کبھی”۔ اسنے سسک کر کہا۔
” ایسے تو نا کہو تم “۔ جابر اسکی بات سن کر گرجا تھا۔
” ایسے نا کہوں تو کیا کہوں”۔ وہ اسپے چیخی تھی۔
” مری کیوں جارہی ہو ، آجائے گا کوئ اچھا رشتہ “۔ وہ اسکے چیخنے پہ طنز کی تیر مارنے سے خود کو روک نہیں پایا تھا۔
” تم چپ رہو”۔ وہ روتے ہوئے اسے چپ رہنے کا کہتی ایک بار پھر شدت سے سسک اٹھی تھی۔
” ” شش تاشہ بچے بلکل خاموش ہو جاؤ ، اللہ سب بہتر کرے گا رونا نہیں اب مزید”۔ وہ شفقت سے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتا گویا ہوا۔
” بھائ یہ سب بہت مشکل ہے مجھے کرنی ہی نہیں ہے شادی “۔ وہ سسک کر کہتی جابر خان کے دل پہ چھریاں چلا گئ تھی۔
وہ بے چینی سے اسے تکتا رہ گیا تھا۔ اسنے گہرا سانس خارج کرتے دوبارہ اپنی نشست سنمبھالی۔
” بھابھی اب ناں کسی کو بھی بلانے کی ضرورت نہیں ، تاشہ کو دیکھنے کے لیئے نجانے کیسے گھٹیا قسم کے لوگ منہ اٹھائے چلے آتے ہیں ، جو کم از کم تاشہ کے اسٹینڈرڈ کے تو نہیں لگتے”۔ وہ زرتاشہ کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو دیکھ قہر آلود لہجہ میں گویا ہوا۔
” جابر خان میں تمہیں دوبارہ کہوں گا اپنا منہ بند رکھو”۔ جہانداد کو اب سہی کا تاؤ آیا تھا جابر پہ۔
” کیوں رکھوں میں اپنا منہ بند تاشہ کی حالت نہیں دکھ رہی کیا آپ لوگوں کو ، ہر ہفتے کوئ نا کوئ نمونہ آرہا ہوتا ہے”۔ وہ گرجا۔ جہانداد نے گہری نظروں سے اسے تکا۔
” تم تو خاموش ہی رہو جابر کچھ کو تو چلو میں پسند نہیں آتی پر جن کو پسند آجاتی ہوں انکی بیستی کرکے تم نکال باہر کرتے ہو لوگوں کو”۔ وہ اپنی سرخ ہوتی ناک رگڑتی روندھی آواز میں بولی۔
” رو تو مت یار”۔ اسنے عاجز آکر کہا۔
” کیوں نا روؤں ، میری مرضی میں روؤں گی”۔ وہ ضدی لہجہ میں گرجی۔
” تاشہ چپ بلکل چپ “۔ جاناں نے تاشہ کو اپنے سینے سے لگاتے چپ رہنے کو کہا۔
” میں تنگ آچکی ہوں آپی ، مزید میں اپنی زات کی توہین برداشت نہیں کر سکتی ، لڑکی ہوں تو کیا ہوا؟؟ ، کیا انسان نہیں۔۔!!! ہمارے جذبات نہیں”۔ تاشہ اپنی بات کے اختتام پہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔
” نا میرا بچہ ایسے نہیں کہتے”۔ جاناں نے اسے سینے میں بھینچ کر کہا۔
” جاناں تم لے کر جاؤ تاشہ کو اندر کمرے میں”۔ جہانداد نے سنجیدگی سے کہا۔
” جی میں لیکر چلتی ہوں “۔ وہ جاناں کو اپنے ساتھ اٹھاتی کمرے میں لیکر چلی گئ تھی۔
” جابر انسان بن جاؤ سمجھے تم یہ آخری وارننگ ہے”۔ اسنے گرجتے لہجہ میں کہا۔
” سوری بھائ ، میں واپس جارہا ہوں پشاور ضروری کام ہے مجھے اور دوسرا کوئ آئے تو مجھے انفارم کر دیجیئے گا”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھا تھا۔
جہانداد نے افسوس سے اپنے بھائ کو تکا تھا۔ اونچا قد توانا وجود نشیلی کانچ سی آنکھیں ستواں ناک عنابی لب ، پر عقل کا آج بھی کچا تھا۔
” کچھ زیادہ ہی تم مصروف نہیں ہوگئے ، بزنس کیسا جا رہا ہے”۔ اسنے سرد آہ بھر کر پوچھا۔
” ظاہر سی بات ہے برو اتنے سال ہماری کمپنی دوسروں کے رحم و کرم پہ رہی ہے تو اب اسکو دوبارہ تو اسٹیبلش کرنے میں ٹائم لگے گا ناں ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کیسا جا رہا ہے”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا نکل گیا تھا۔ اور جہانداد اسکی پشت کو تکتا گہری سوچ میں غرق ہو چکا تھا۔
♧♧♧♧♧♧
وہ کل رات ہی پشاور پہنچ چکا تھا بائے ائیر اور اب صبح کے دس بج رہے تھے آفس جانے کو وہ خاصہ لیٹ ہوچکا تھا۔ پر پھر بھی اسکی گاڑی فلک کے گھر کی طرف رواں تھی۔۔ ہاں فلک ۔۔ وہ لڑکی جو اسے آج سے چار سال پہلے ایک دارالامان میں ملی تھی۔ اور جس کنڈیشن میں ملی تھی جابر خان آج بھی وہ دن اور اسکی حالت بھلا نہیں سکتا تھا۔
جابر خان کو اسکے کسی دوست نے کہا تھا کہ چلو کسی دارالامان میں ڈونیشن دیتے ہیں جس سے یتیم بچیوں اور بچوں کا بھلا ہوسکے۔ وہ لوگ پشاور کہ ایک دارالامان میں گئے اور وہاں تقریباً ایک سال تک وہ لوگ ڈونیشن کرتے رہے۔ وہ خاصی بڑی رقم ڈونیٹ کرتے تھے ہر ماہ۔ ایک دن وہ ایسے ہی دارالامان میں موجود چھوٹے بچوں سے ملنے گیا تھا۔ کہ ایک لڑکی بھاگتی ہوئ آئ تھی اور بری طرح سے اس سے ٹکرائ تھی اسنے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو لمبے سیاہ بال کمر پہ الجھے بکھرے پڑے تھے۔ چہرہ جگہ جگہ سے سوجا پڑا تھا۔ دوپٹہ زمین بوس ہونے کو تھا کہ جابر نے اسکا دوپٹہ تھام کر اسکے سر اور کندھوں پہ ڈالا۔ وہ لڑکی سسکتی ہوئ خوفزدہ سی اس سے دور ہوئ۔ جابر نے غور سے اسکے لباس کو تکا جو جگہ جگہ سے پھٹا تھا جیسے کسی نے اسکا لباس نوچا ہو۔
” یہ اسطرح کی حالت میں کیوں ہے کیا ہوا اسے”۔ اسنے حیرت سے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا جو اسکے پیچھے بھاگتے اسے پکڑنے آئے تھے۔
” صاحب پاگل ہے یہ”۔ ایک لڑکی نے جھٹ کہا۔
” نن۔۔نہیں میں ۔۔پا۔۔گل نہیں ہوں”۔ اسنے شدت سے نفی کی۔
” صاحب یہ ایسا ہی بولتی ہے ہر وقت پر یہ پاگل ہے”۔ دوسری لڑکی بھی بے بسی سے بولی۔
” مجھے یہاں ۔۔۔ سے۔۔لے۔۔جاؤ ۔۔یہ ۔۔لوگ۔۔بہت برے ہیں”۔ اسنے سسکتے ہوئے کہا۔
” کیا کیا ہے تم لوگوں نے اسکے ساتھ “۔ اسنے آنکھیں چھوٹی کرکے باقی لڑکیوں سے رعبدار لہجہ میں پوچھا۔
” صاحب قسم لے لو ہم نے کچھ نہیں کیا اسکے ساتھ جو ستم یہ سہتی ہے وہ تم ہم بھی سہتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ ہم خاموشی سے سہہ لیتے ہیں اور یہ احتجاج کرکے سہتی ہے “۔ دوسری لڑکی کی نم سی آواز پہ اسنے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” جو میں سمجھ رہا ہوں تم وہی کہہ رہی ہو یا مجھے غلط فہمی ہو رہی ہے”۔ اسنے اس سسکتی لڑکی کو ہمدردی سے تکتے کہا۔
” صاحب جو آپ سمجھیں ہیں وہی حقیقت ہے “۔ اسنے ڈرتے ہوئے کہا۔
” کیا یہ سچ ہے “۔ جابر نے سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھا جو بکھری بکھری سی سسک رہی تھی۔
” ہاں ۔۔ سچ ۔۔ہے”۔ اسنے روتے ہوئے کہا۔
” صاحب اسے تم یہاں سے نکال لو اسکے احتجاج کی وجہ سے اسکو روز چار سے پانچ مردوں کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے”۔ اس لڑکی نے نگاہیں جھکا کر کہا۔
” یہ کیا کہہ رہی ہو تم”۔ اسکی حیرت تھی کہ کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
” صاحب آپ لے جائیں یہاں سے اسے”۔ اسنے سہمے ہوئے لہجہ میں کہا۔ جابر نے ترس بھری نگاہ اپنے سامنے کھڑی لڑکی پہ ڈالی جسکا پور پور زخمی تھا۔
” چلو ۔۔ “۔ اسنے اس لڑکی کا ہاتھ تھاما اور اسے گھسیٹ کر لے جانے لگا۔ جب دروازے پہ کھڑے واچ مین نے اسے روکنا چاہا۔
” پیچھے ہٹو”۔ جابر نے اسے آنکھیں دکھا کر پیچھے کرنا چاہا۔
” پر صاحب “۔ چوکیدار نے کچھ کہنا چاہا۔
میں نے کہا پیچھے ہٹو”۔ وہ گرجا۔
چوکیدار یکدم دروازے سے ہٹ گیا تھا اسنے اس لڑکی کو اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ لاکر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر بیٹھا۔ اور اسے ساتھ لیئے بہت دور نکل آیا اور پھر ایک سائڈ پہ گاڑی روکی تو لڑکی یکدم سہم گئ۔ اسنے خوف سے جابر کو دیکھا پر جابر اسکی حالت سمجھ سکتا تھا ۔ اسنے سامنے ڈیش بورڈ پہ پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور اپنے دوست کو کال ملائ اور اس سے اسکے فلیٹ میں رہنے کی ایک ہفتے تک کی اجازت مانگی جو اسنے بخوشی دے دی اور اسے بتایا کہ فلیٹ کی چابیاں اسے پڑوس والے فلیٹ سے مل جائینگی وہ انکو کال کردے گا۔
جابر نے کال کاٹ کر اب گاڑی کا رخ اپنے دوست کے فلیٹ کی طرف کیا کچھ ہی دیر بعد وہ گاڑی پارکنگ ایریا میں پارک کرتا گاڑی سے نکلا اور دوسری طرف کا دروازہ کھول اسے باہر آنے کی کہا۔ وہ سہم کر پیچھے ہوئ خوف اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہا تھا۔ جابر نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما وہ یکدم جابر کے چہرہ پہ جھپٹی اور اسکے چہرے پہ اپنے ناخنوں کے نشان گاڑھ دیئے ، جابر نے کرآہ کر اسکا ہاتھ چھوڑا وہ اسے تکلیف میں دیکھ کر وہاں سے بھاگنے لگی تھی کہ یکدم جابر نے ہوش سنبھالتے اسکی کلائ تھامی اور اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے اوپر لے کر گیا۔ پڑوس والے گھر کی بیل بجائ ایک آنٹی نکلیں اسے چابی تھمائ پر اسکی پشت پہ کھڑی لڑکی اور اسکی حالت دیکھ ایک دم آنٹی نے اسے عجیب سی نظروں سے تکتا پر وہ بنا پرواہ کیئے آگے بڑھا اور اسنے دروازہ کھولا۔ اسے بھی ساتھ لیئے اندر گھسا ابھی وہ دروازہ بند کر کے پلٹا ہی تھا کہ اسکے ہاتھ میں مضبوط واز تھا ، جو شاید وہ اسکے سر پہ مارنا چاہتی تھی۔
” دیکھو اسے سائڈ پہ رکھو میں تمہاری مدد کر رہا ہوں” اسنے اسکے ہاتھ سے واز لینا چاہا جو اسنے تیزی سے گھما کر اسکے سر پہ مارا ، جابر کے ماتھے سے خون بہنے لگا۔ اور وہ خوفزدہ سی واز پھینکتی پیچھے ہوئ تھی۔ واز زمین بوس ہوتا ماحول میں ارتعاش پیدا کر گیا تھا۔ جابر نے ماتھے پہ ہاتھ رکھا۔ اور اسے افسوس سے تکا۔
