Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 15)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 15)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

تمام مہمان جاچکے تھے جابر جہانداد کو اسکے کمرے میں چھوڑ کر پہلے فلک کے پاس گیا تھا۔ جو خاموش سی سر گھٹنوں پہ رکھے گم صم سی بیٹھی تھی۔ جابر کو اپنے سر پہ کھڑا پاکر اسنے نگاہیں اٹھا کر اسے تکا۔

” مجھے معاف کردو میری وجہ سے تمہاری زندگی تباہ ہوکر رہ گئ”۔ اسنے نم نگاہیں جھکا کر کہا۔

” پاگل ہو تم کیا ہوا ہے میری زندگی کو”۔ جابر نے ہنس کر کہا۔

” تباہ ہو کر رہ گئ ہے تمہاری زندگی”۔ اسنے افسوس سے اسے تکتے کہا۔

” ایسا کچھ بھی نہیں”۔ اسنے اسکے ہاتھ تھامے تھے۔

” ایسا ہی تو ہے ، تاشہ تمہاری محبوب بیوی تمہیں معاف نہیں کر پا رہی تم اسکے بے وفا ہو اسکی نظروں میں پر جابر یقین مانو تم مجھے وقت پہ بتا دیتے تو میں کبھی اس سب کے لیئے راضی نا ہوتی”۔ اسنے مجرموں کی طرح سر جھکائے کہا۔

” فلک یہ سب نصیب کی باتیں ہیں ، ان میں ہم کچھ نہیں کرسکتے ہم انسان تو اپنی مرضی سے اپنی پلک تک نہیں جھپک سکتے تو کچھ اور تو کرنا دور کی بات ہے ناں۔۔!!”۔ جابر نے اپنی ایک انگلی اسکی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اسکا سر اونچا کیا۔

” تم کچھ بھی کہہ لو پر میری منحوسیت تمہیں بھی لپیٹ گئ ہے جابر”۔ اسنے قرب سے کہا۔

” ایسا کچھ بھی نہیں محض تمہاری خودساختہ سوچیں ہیں”۔ جابر نے اسے تکتے پر یقین لہجہ میں کہا۔

” جابر مجھے سونا ہے سر درد کر رہا ہے”۔ اسنے اپنے سر کو ہلکا سا دباتے کہا۔

” دوا لی تم نے؟”۔ اسنے اسکے ہاتھ ہٹاتے دھیرے دھیرے اسکا سر اپنے ہاتھوں سے دبانا شروع کیا۔

” نہیں”۔ نم آنکھوں سے اس مہرباں چہرے کو دیکھا۔

” چلو اچھا کیا ، میں سر دباؤں گا تھوڑی دیر تو خود درد غائب ہوجائے گا”۔ وہ اسکا سر دباتا مسکرایا تھا۔

” جابر۔۔”۔ فلک نے اسے تکتے سرگوشی نما آواز میں کہا۔

” ہمم”۔ اسنے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔

” تمہیں تاشہ سے بہت محبت ہے ناں”۔ اسنے اسے تکتے کہا۔

” محبت تو مجھے تم سے بھی ہے”۔ اسنے نرمی سے کہا۔

” نہیں غلط۔۔۔ تمہیں مجھ سے محبت نہیں محض ہمدردی ہے”۔ اسنے اپنی روشن آنکھیں اسکے چہرے پہ گاڑھیں۔

” فلک ایسا کچھ بھی نہیں ، ہم جس رشتے میں ہیں ناں وہاں محض ہمدردی کے سنگ نہیں چلا جاسکتا”۔ جابر نے اسکے سر کو چھوڑ اسکے گالوں پہ ہاتھ دھرے۔

” پھر بھی میں یہی کہوں گی جابر میری وجہ سے آج تمہاری محبت تم سے روٹھ بیٹھی ہے”۔ اسکی آنکھ سے ایک خاموش آنسو لڑھک کر گرا۔

” میں بھی پھر یہی کہوں گا کچھ بھی تمہاری وجہ سے نہیں “۔ وہ اسکے آنسو پونچھتا اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھتا اسے انمول کر گیا تھا۔

“مجھے نیند آرہی ہے تم جاؤ آج تمہیں تاشہ کے پاس ہونا تھا”۔ اسنے اسے یاد دلایا۔

” تم سوجاؤ پہلے”۔ اسنے اسے لیٹا کر اسپہ کمفرٹر درست کیا۔

” نہیں تم جاؤ بس مجھے بہت نیند آرہی ہے میں فوراً سو جاؤں گی”۔ فلک نے اسے زبردستی اٹھا کر بھیجا۔ تو وہ نا چار تاشہ کے روم میں آیا تھا۔

جو منت کو سینے سے لگائے لیٹی تھی۔ اسنے بیڈ کے قریب آکر سر تاشہ پہ جھکا کر دیکھا تو وہ جاگ رہی تھی اسکے جھکنے سے یکدم اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے دور کر گئ تھی۔

” کیا کر رہے ہو”۔ دھیمی آواز میں کہا گیا۔

” کچھ نہیں کر رہا ، بس چیک کر رہا تھا سو رہی ہو یا جاگ رہی ہو”۔ اسنے اسے تکتے سنجیدگی سے کہا۔

” تم نے کہا تھا تم آج رات یہیں سونے آؤ گے تو تمہارا انتظار کر رہی تھی”۔ اسنے اٹھتے ہوئے اپنا دوپٹہ اچھے سے کندھوں پہ پھیلاتے کہا۔

” کیا میں اتنے بڑے انکشاف پہ مر جاؤں”۔ وہ جذبوں سے چور لہجہ میں کہتا تاشہ کی ہتھیلیاں بھگا گیا تھا۔

” فضول نا بولا کرو ہر وقت”۔ اسنے منہ بنا کر کہا۔

یکدم جابر نے اسے کلائ سے تھام کر کھڑا کیا تھا۔ اور ایک جھٹکے سے اسے کمر سے تھام گیا تھا۔ وہ یکدم سٹپٹائ تھی اسنے گھبرا کر اسے تکا تھا۔

” ٹیچر صاحبہ نا فضول بول سکتے ہیں نا فضول کچھ کرسکتے ہیں یہ تو بھئ سراسر غلط بات ہوئ کچھ تو رعایت کیجیئے”۔ اسنے اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرایا۔

” جابر ۔۔۔ پلیز چھوڑیں مجھے”۔ اسنے اس کی گرفت سے خود کو آزاد کروانا چاہا۔

” نا ممکن سی بات ہے ، آپ نے خود ہی تو مجھے آج ایک موقع دیا تھا”۔ وہ اسکے گالوں پہ لب رکھتا مخموریت سے گویا ہوا۔

” موقعہ دینے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ میں نے ہمارے تعلق کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے تمہیں”۔ اسنے خود کو چھڑانے کی کوشش نا چھوڑی تھی۔

” تو تم مجھے کونسا موقع دے رہی تھی”۔ جابر کا یکدم موڈ بگڑا تھا۔ اسنے کڑوے لہجہ میں پوچھا۔

” یہ ثابت کرنے کا موقع دے رہی تھی کہ تم مجھے بتا سکو کے تم مجھے واپس میری خوشیاں لوٹا سکتے ہو اس بات کا موقع دے رہی تھی کہ تم واپس صرف تنہا میری طرف لوٹ کر آجاؤ”۔ وہ آنکھوں میں نمی لیئے دکھ بھرے لہجہ میں گویا ہوئ۔

” تمہاری خوشیاں میں لوٹانا چاہتا ہوں تمہیں ہمیشہ سے پر تم اپنی خوشیاں واپس لینا نہیں چاہتی اور رہی تنہا لوٹ کر واپس آنے کی بات تو یہ نا ممکن ہے”۔ جابر نے اسکے گال سہلاتے نرم لہجہ میں کہا۔

” مجھے بٹا ہوا شخص نہیں چاہیئے جابر خان”۔ اسنے اسکی آنکھوں میں اپنی بھیگی نم آنکھیں گاڑ کر کہا۔

” تاشہ جو ہے جیسا ہے قبول کر لو یہ سب”۔ وہ اسکی کمر چھوڑتا اسے اپنے سینے سے لگاتا اپنی بانہوں میں بھر گیا تھا۔ دونوں کے بیچ لمحے خاموشی سے بیتنے لگے۔ جابر اسکے بالوں میں چہرہ چھپائے کھڑا تھا۔ اور تاشہ اسکے کندھے پہ سر رکھے شاید سب بھول گئ تھی۔ اس وقت وہ محض خود میں سکون سرائیت کرتا محسوس کر رہی تھی۔

” تاشہ “۔ سرگوشی نما آواز نمودار ہوئ۔

” ہمم”۔ مقابل بھی دھیمی سی سرگوشی میں گویا ہوئ۔

” زندگی ہو تم میری”۔ اسے مزید خود میں بھینچتے بہکے ہوئے لہجہ میں سرگوشی کی۔

” پھر کیوں کی تم نے فلک سے شادی”۔ وہ اپنا سر اسکے سینے پہ رکھتی نم سے لہجہ میں مستفسر ہوئ۔

” کیونکہ مجھے اسکی زندگی بچانی تھی کیونکہ مجھے اسے نئ زندگی دینی تھی تاشہ”۔ اسنے اسے سینے سے لگائے ہی کہا۔

” اور میرا کیا جابر ، میری زندگی کا کیا؟؟”۔ کرب سے پوچھا گیا۔

” معاف کردو تاشہ “۔ بے بسی سے کہا گیا۔

” کیسے معاف کردوں”۔ اسکی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر جابر کی شرٹ میں جذب ہوگئے۔

” تاشہ تم نہیں جانتی فلک نے کیا کچھ سہا ہے”۔ اسنے اسے خود سے دور کرتے اسکے گالوں پہ ہاتھ رکھتے بے تاب سے لہجہ میں کہا۔

” میں نہیں جانتی فلک نے کیا کچھ سہا ہے ، پر تم تو جانتے تھے ناں جابر کے میں نے کیا کچھ سہا ہے”۔ پھر شکوہ ہوا۔

” اللہ نا کرے تاشہ تم یا دنیا کی کوئ بھی لڑکی کبھی وہ کچھ دیکھے یا سہے جو فلک نے دیکھا اور سہا ہے”۔ اسنے اسکے ماتھے پہ لب رکھتے بے قرار لہجہ میں کہا۔

” ایسا کیا سہہ لیا اسنے جو جابر خان کے لیئے تاشہ سے زیادہ اہم ہوگئ وہ، ایسے کیا دکھ دیکھ لیئے اسنے کہ جابر خان نے تاشہ سے نظریں پھیر لیں”۔ اسنے اسکے وجیہہ چہرے پہ بے قرار سے انداز میں ہاتھ پھیرا۔

” جابر خان کے لیئے کبھی بھی کوئ تاشہ سے زیادہ اہم نہیں ہوسکتا ، مگر کبھی حالات ہمیں مجبور کر دیتے ہیں ناں”۔ اسنے اپنے چہرہ پہ سرکتی اسکی انگلیوں کو تھام کر اپنے لبوں سے چھوا۔

” مجھے نہیں سننے یہ مجبوریوں بھرے بہانے”۔ برسوں بعد وہی لاڈ اٹھاتا ضدی لہجہ۔

” یہ بہانے نہیں ہے ، حقیقت ہے میں یہ نہیں کہتا کہ میں مجبور تھا پر کوئ اور تھا تاشہ جو بے حد مجبور تھا۔ اپنی مجبوری انسان نظرانداز کرسکتا ہے پر کسی اور کی نہیں”۔ اسکی آنکھوں میں تکتے ایک جذب سے کہا گیا۔

” جابر۔۔ میں مار ڈالوں گی ان تمام مجبوریوں کو جو تمہارے اور میرے درمیان حائل ہو گئ ہیں”۔ وہ یکدم اسکو کالر سے تھامتے سسکی تھی۔

” تاشہ”۔ جابر نے اسکی بالوں کو گردن کی پشت سے جکڑا اور اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب لے آیا۔ بھیگے ہوئے لہجہ میں اسکا نام پکارتے وہ کب بے خود سا اسکے نازک لبوں پہ جھکا تھا ان دونوں کو ہی خبر نا ہوئ۔ ایک دوسرے کی قربت میں دونوں ہر دکھ ہر غم بلائے بیٹھے تھے ، دونوں ہی ایک جنوں کے عالم میں قید تھے۔ تاشہ نے جابر کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی اسے خود سے دور جھٹکا۔ اسکا جھٹکنا تھا کہ جابر نے کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا اسکی گردن پہ اپنی جنونیت نچھاور کرتا وہ ایک بار پھر اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لے گیا تھا۔ رفتہ رفتہ دونوں اس بھیگی رات میں محبت کی بارش میں بھیگنے لگے تھے۔

تاشہ نے اسے خود سے دور کرنا چاہا پر ناکام رہی ، اسکا جنوں اسکے لمس کی شدت سے واضح ہورہا تھا۔

جابر نے اسے یکدم کمرے میں موجود صوفہ پہ لٹایا تھا اور دھیرے سے اسپہ جھکا تھا۔

” آج کہاں بچ کے جاؤ گی”۔ بھیگے سے لہجہ میں کہتا وہ دھیرے سے ہنسا تھا۔

” یہ زبردستی ہے “۔ گہرے سانس لیتے بھیگے لب ہلے۔

” کاش پہلے ہی کر لی ہوتی یہ زبردستی”۔ اسکے گال سہلاتے کہا۔

” جابر پلیز”۔ وہ دھیرے سے منمنائ۔

” جاؤ چھوڑ دیا کیا یاد کروگی”۔ اسپے سے اٹھتا وہ ہنسا تھا۔

” میں نے تمہیں موقع دیا ہے ، لوٹ آؤ مجھ تک واپس یہ نا ہو کہ دیر ہوجائے”۔ اسنے سسکتے لہجہ میں کہا۔

” جیسے تم چاہتی ہو تاشہ ویسے میری واپسی ناممکن ہے”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا تاشہ کو ہاتھ دے کر بٹھا گیا تھا۔ اسنے گردن موڑ کر اسے افسوس سے دیکھا۔

” تم کہتے ہو اسنے بہت کچھ سہا ہے ، پر میں کہتی ہوں وہ کچھ بھی سہہ کر آجائے میں اسکے ساتھ تمہیں قبول نہیں کرسکتی”۔ اسنے جانچتی نظروں سے اسکے تاثرات تکتے کہا۔

” بہت رات ہوگئ ہے ، سو جاؤ “۔ اسکی بات کاٹتے وہ اٹھا تھا۔

اور بیڈ کی باہنی سائڈ پہ لیٹ گیا تھا ، وہ بھی خاموشی سے اٹھتی کمرے کی لائٹس آف کرکے سونے کی غرض سے بیڈ پہ آکر لیٹ گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧

جابر جب شام میں واپس اپنے دوست کے فلیٹ پہ آیا تو فلک کو بے ہوش دیکھ اسکے اوسان خطا ہوگئے تھے۔ اسنے اسے ہاسپٹل لے جانا بہتر سمجھا اور پھر وہ اسے ہاسپٹل لے کر گیا۔ اسنے فلک کے لیئے رینٹ پہ فلیٹ لے لیا تھا۔ وہ اسے وہاں لے کر گیا۔

زندگی گزر رہی تھی رفتہ رفتہ ، جابر ہر مہینے کے اختتام پہ کراچی تین دن کے لیئے چلا جاتا ، اور بہانا ہمیشہ کام کی مصروفیت کا بناتا جابر کے والد صاحب جن کے پشاور کے ایک گاؤں میں بہت زمینیں تھی جن میں گنے کی فصل اگتی تھی۔ پہلے پہل تو انہوں نے گاؤں میں ہی ایک گڑ بنانے کا کارخانہ بنا لیا تھا جسے علاقائی لوگ (گانڑے) کہتے تھے۔ پر رفتہ رفتہ انہوں نے اپنا کاروبار پشاور شہر کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا اور چینی کی ملز بنا لیں۔ جہانداد کو خاندانی کاروبار میں کوئ دلچسپی نا تھی۔ جبکہ جابر کے والد کا جب انتقال ہوا تب جابر کی عمر سات سال تھی۔ اور وہ کاروبار سنمبھالنے کے قابل نا تھا ، اور پھر جہانداد کی دلچسپی صحافت کی طرف تھی۔ جب تک جہانداد اور جابر کی ماں زندہ تھیں ، تو جہانداد تنہا ہی چلا جاتا تھا شہر ، جاناں اور اسکی ماں پشاور ہی رہتے اور کاروبار اسنے کچھ بھروسہ مند ملازمین کے حوالے کر دیا تھا۔

پھر جب جابر بڑا ہوا اور اسکی تعلیم مکمل ہوئ تو اسنے خود ہی جہانداد سے بات کرکے کاروبار میں دلچسپی کا اظہار کیا اور جہانداد کو اسکی دلچسپی میں کوئ برائ بھی نا دکھی اور اسنے اسے اجازت دے دی جابر کی زندگی پرسکون گزر رہی تھی وہ کبھی کراچی میں ہوتا تو کبھی پشاور اپنا کام وہ بہت بہتر طریقے سے سرانجام دے رہا تھا۔ پر اچانک فلک کے ٹکرانے سے بہت کچھ مشکل کر گیا تھا۔ اسنے اس دارلامان کے حوالے سے تمام باتیں جہانداد سے ڈسکس کی تھیں ، فلک کے بارے میں وہ سب کچھ چھپا گیا تھا۔ کیوں چھپا گیا تھا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ خیر وقت بیتتا گیا۔ جابر فلک کو نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے جانے لگا اور رفتہ رفتہ فلک کی حالت میں بہتری آنے لگی فلک کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا اور آج بھی فلک کی زبان پہ ایک ہی بات تھی۔ اسے یہ بچہ نہیں چاہیئے تھا۔ اسے اپنے گناہوں کی نشانی نہیں چاہیئے تھی۔ جابر اسے ہر وقت سمجھاتا رہتا تھا پر وہ اپنی بات سے نا مکرتی، کبھی کبھی عروسہ اور عرشمہ بھی فلک سے ملنے آجاتی تو انکی بھی اسکو یہی تمام ہدایات ہوتیں ، پر فلک وہیں اٹکی پڑی تھی کہ اسے نہیں چاہیئے۔