Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 5)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 5)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
” بھائ آپ اتنا غصہ کیوں ہورہے ہیں ، آپ نے بھی تو کر لی دوسری شادی”۔ وہ تھوڑا سا چڑا تھا۔ جہانداد کو جب سے اسنے اپنی دوسری شادی کا بتایا تھا۔ وہ تو اسے اتنی باتیں سنا گیا تھا کہ اب جابر کو اپنے کان سے خون نکلتا محسوس ہو رہا تھا۔
” ہاں کرلی پر میری مجبوری تھی”۔ وہ بھڑکا۔
” کیا مجبوری تھی کونسا آپکے چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے تھے آپکے پیچھے جو مجبوری کا رونا رو رہے ہیں “۔ وہ بھی دو بدو بولا۔
” بہت ہی بے غیرت ہو تم جابر”۔ جہانداد بے بس ہوا۔
” چل کرو برو کچھ نہیں ہوتا دونوں ساتھ خوش ہیں ایک میں ہی شادی شدہ ہوکر بھی کنوارا ہی پھر رہا ہوں دو دو بیویوں کی موجودگی میں بھی”۔ وہ اپنے بوٹ میں مقید پیر اپنے آفس ٹیبل پہ چڑھا کر بیٹھا۔
” تم اسقدر بے باک کیوں ہو جابر خان”۔ جہانداد کی موبائل میں سے بھڑکتی آواز سن کر جابر کے ہونٹوں پہ اسکی مخصوص قاتلانہ مسکان رقص کرنے لگی۔
” بے باک توبہ کرو برو میں تو چھوٹا معصوم سا بچہ ہوں ، بے باکی کے الزام مجھ پہ لگانا سراسر ظلم ہے”۔ وہ دلفریب لہجہ میں بولا۔
” تم انسان بن جاؤ ابھی تو میں کچھ مصروف ہوں تم سے ملکر تمہیں بتاؤنگا بہت جلد”۔ جہانداد نے دانت پیس کر کہا اور مزید اسکی سنے کال کاٹ دی۔ اور جہانداد خانزادہ کی اس حرکت پہ جہانگیر کے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔ اسنے اپنی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا۔ ابھی مغرب ہونے میں کچھ ٹائم تھا۔ مغرب کے بعد اسنے سوچا تھا کہ وہ گھر جائے گا اور اپنی ملکاؤں کے دماغ ٹھکانے پہ لگائے گا۔ وہ سوچتا اپنے سامنے کھلی فائل ہاتھ میں اٹھا کر پڑھنے لگا۔
وہ اب بھی ویسے ہی ٹیبل پہ پیر چڑھائے بیٹھا تھا کہ یکدم اسکی سیکریٹری بوکھلاتی ہوئ اندر داخل ہوئ۔
جابر نے ناگواری سے اسے تکا۔
” سر۔۔ وہ ۔۔۔ باہر آپکی دونوں بیگمات آئ ہوئ ہیں اور دونوں بہت غصہ میں ہیں”۔ وہ اسے گھبرا کر بتا رہی تھی۔
” تو۔۔۔؟؟ آنے دو اندر ، بیویاں آئیں ہیں کوئ میری مائیں تو نہیں آئیں”۔ وہ اسکی بوکھلاہٹ پہ چوٹ کرتا ویسے ہی بیٹھا رہا۔
” پر سر وہ دونوں شدید غصہ میں لگ رہی ہیں”۔ سیکرٹری نے تھوک نگلتے کہا۔
” ارے دیکھ لونگا دونوں کو بھیجو اندر “۔ وہ شانِ بے نیازی سے بولا۔
” اوکے سر”۔ سیکرٹری دھیمے سے کہتی باہر گئ۔ اور کچھ ہی دیر بعد دروازہ اسقدر شدت سے کھلا تھا۔ کہ وہ بہ مشکل ہی خود کو اسٹل اسی پوزیشن میں بیٹھے رہنے پہ آمادہ کر پایا تھا۔ اسنے اپنی نگاہیں سامنے اٹھائیں تو دونوں نتھنے پھلائے کھڑی اسے گھور رہی تھیں۔ اسنے خود کو کمپوز کیا اور ایک آئ برو آچکائ۔ جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا۔
” اتنی یاد آرہی تھی تم دونوں کو میری تو ۔۔۔ مجھے بتا دیتیں میں گھر آجاتا”۔ اسنے تھوک نگلتے کہا۔
” تم کمینے انسان “۔ دونوں یک زبان ہو کر کہتی اسکے گریبان پہ ایک ساتھ جھپٹی تھیں۔ وہ جو شان سے ٹیبل پہ پیر چڑھا کر بیٹھا تھا، انکے حملہ سے توازن نا بر قرار رکھ سکا ، ریوالونگ چیئر پیچھے جاکر دیوار سے لگی تھی اور وہ زمین بوس ہوا پڑا تھا۔ ہاں البتہ ٹانگیں اب بھی اسکی ٹیبل پر تھی پر اب پیروں کے تلوں کا رخ آسمان کیطرف تھا۔
” کیا کر رہی بدتمیز عورتوں آفس ہے میرا یہ یہاں بہت عزت ہے میری کیوں دو کوڑی کی کر رہی ہو میری عزت کو”۔ وہ ان دونوں سے اپنا آپ چڑھاتا خون خوار ہوا۔
” تمہاری عزت تو ہم دو کوڑی کی نہیں ، صفر کی کرکے رکھ دیں گے”۔ وہ دونوں ایک بار پھر اسکے گریبان پہ ہاتھ ڈالتی کہ اسنے پھرتی سے کھڑے ہوتے ان دونوں کی کلائیوں کو تھاما اور ایک جھٹکے سے انکے ہاتھ موڑ کر انکی کمر سے لگا گیا تھا۔ وہ دونوں یک زبان ہوکر درد سے کراہی تھیں۔
” ہاں اب بولو کیا موت پڑ رہی تھی تم دونوں کو”۔ وہ ایک جھٹکے سے دونوں کو خود کے سینے سے لگا کر کہتا دونوں کو ایک ساتھ سٹپٹانے پہ مجبور کر گیا تھا۔
” دور ہٹو”۔ دونوں یک زبان ہوئیں۔
” ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا تم دونوں ایک ساتھ ایک جملہ کیسے بول لیتی ہو ، یقیناً پہلے سے پلیننگ کرکے رکھتی ہو گی”۔ وہ اپنی سرد آنکھوں کو گھما کر سوچتا ہوا گویا ہوا۔
” آپ ہمیں چھوڑ تو دیں “۔ زرتاشہ دبے دبے غصہ سے بولی۔
” نا۔۔ نا۔۔ نا سوچنا بھی مت ، پہلے یہ بتاؤ اسقدر آتش فشاں کیوں بنی ہوئ ہو دونوں “۔ وہ دونوں کو تکتا سنجیدگی سے مستفسر ہوا۔
” سب کچھ جانتے بوجھتے انجان نا بنو “۔ فلک پھنکاری۔
” میں کچھ نہیں جانتا کہ تم لوگ کیوں اتنا غصہ ہو مجھ معصوم پہ چاہو تو میں اپنی عزیز ترین بیویوں کے سر کی قسم کھانے کو تیار ہوں”۔ وہ ان دونوں کو دیکھتا کمینے پن سے گویا ہوا۔
اور اسکی بات پہ وہ دونوں اسکی آغوش میں پھڑپھڑا کر رہ گئ تھیں۔
” آہاں اتنی بھی کیا جلدی ہے میری جانے منوں “۔ وہ انکے پھڑپھڑانے پہ کمینے پن سے آنکھ مارتا گویا ہوا اور وہ دونوں تو مانوں اسکی بے غیرتی پہ سلگ ہی گئ تھیں۔
” ذرا جو تمہیں شرم آتی ہو جابر”۔ زرتاشہ نے افسوس کیا۔
” بیگم نمبر ون کیا تم نے نہیں سنا جو کرے شرم اسکے پھوٹے کرم “۔ وہ زرتاشہ کے چہرے کہ قریب اپنا چہرہ لے جا کر بولا۔ زرتاشہ کا شرم سے برا حال تھا اور فلک کہ بھی کچھ ایسے ہی حال تھے ، شاید وہ پہلی سوکنیں تھیں ، جنہیں اپنے شوہر کے احساسات سے زیادہ ایک دوسرے کا احساس تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے دکھ کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔
” چلو چھوڑو یہ سب بتاؤ دونوں ذرا کہ انٹرویوں کیسا دیا میرے دل کی ٹکڑیوں “۔ وہ بے غیرتی کی حد کر گیا تھا۔
” جابر میرے ہاتھ میں درد ہو رہا ہے چھوڑو پھر بتاتے ہیں “۔ فلک نے آنسو پیتے ہوئے کہا۔
” اوکے “۔ اسنے مسکرا کر دونوں کو اس انداز سے جھٹک کر چھوڑا کہ دونوں زمین بوس تھیں۔
” آہہہ”۔ دونوں نیچے پڑی اپنے اس ہاتھ کو سہلا رہی تھیں۔ جسے اسنے اتنی دیر سے موڑے رکھا تھا۔
” ہاں اب بتاؤ جلدی کیسا رہا انٹرویو “۔ وہ بھنوئیں اچکاتا مسکرا کر مستفسر ہوا۔
” خود دیکھ لینا کیسی گھٹیا قسم کی اینکر تھی کیسے عجیب عجیب سوال کر رہی تھی تم نے جان بوجھ کر کیا ناں”۔ زرتاشہ چیخی۔
” ٹھیک ہے ٹھیک ہے دیکھ لونگا ٹینشن کیوں لیتی ہو بیگم نمبر ون ، ویسے منت کہاں ہے”۔ اسنے کمینگی سے مسکرا کر کہا۔
” باہر ہے “۔ وہ کراہتی ہوئ اٹھی۔
” اوکے پھر اجاؤ چلیں آج ڈنر باہر کریں گے”۔ وہ انکو تکلیف میں بلبلاتے دیکھتا اپنے اندر کمینی سی خوشی محسوس کرتا آفس کا دروازہ کھول کر بار نکلا اسکی سیکرٹری کے کیبن میں منت بیٹھی تھی۔ اسنے جاکر منت کو گود میں اٹھایا منت خوشی سے چہک اٹھی۔
” بابا “۔ وہ ایکدم خود کو اپنے باپ کی گود میں پاکر اپنے باپ سے لپٹی تھی۔
” یس بابا کی جان بابا کا جگر “۔ اسنے اسکے پھولے گالوں پہ پیار کیا۔
” بابا آج ہمارے گر ایٹ آنتی آئیں تیں”۔ (بابا آج ہمارے گھر ایک آنٹی آئ تھیں)۔ وہ بھی جواباً اپنے بابا کہ گالوں پہ پیار کرکے بولی۔
” اچھا پھر”۔ اسنے اسے محبت سے تکتے پوچھا۔
” پھر کیا بابا انہوں مما اور موم سے بہت ساری باتیں کی”۔ وہ چہک کر بتانے لگی۔
” اچھا “۔ وہ اسکے موم کہنے پہ چونکا تھا۔ پر اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ فلک کو موم کہہ رہی ہے۔
” ہاں “۔ وہ اپنی انگلیوں سے کھیلتی مصروفیت سے بولی۔
” باہر ڈنر کریں آج بے بی”۔ اسنے اسکے گال کو ہاتھ سے چھو کر پوچھا۔
” یش بابا بار دنر “۔ وہ چہک کر بولی ، خوشی سے اسکے گلابی گال لال سرخ ہوگئے تھے۔
” مائے بچہ”۔ وہ اسکو محبت سے خود میں بھینچ گیا تھا۔
” بیوی نمبر ون اور بیوی نمبر ٹو ڈارلنگز (darling’s ) ذرا جلدی آجاؤ یار “۔ وہ آفس کی طرف رخ کرتا چلا کر بولا۔ پاس کھڑی سیکریٹری اسکے ڈارلنگز کہنے پہ بہ مشکل اپنا ابلتا قہقہہ روک پائ تھی۔ وہ دونوں پیر پٹختی باہر آئ تھیں۔ اور وہ شان بے نیازی سے منت کو لیئے لفٹ کی طرف اپنے قدم لے گیا تھا۔وہ دونوں بھی مرتے مرتے اسکے پیچھے دوڑی تھیں۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
وہ اپنے کمرے سے نماز پڑھ کر نکلی تو سامنے کا منظر اسے اچھی خاصی آگ لگا گیا تھا۔ سامنے صوفہ پہ وہی چڑیل بختاور جہانداد کے ساتھ بیٹھی قہقہ لگاتے لگاتے اسکی گود میں گری پڑی تھی۔ اس نے اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش اس بار بلکل ناں کی اور دونوں کے سروں پہ جاکر کھڑی ہوئ۔
” یہ کیا ہورہا ہے”۔ بازو لپیٹے وہ کڑی نظروں سے گھورتی بولی۔
” باتیں ہورہی ہیں ۔۔!!کیوں دکھتا نہیں ہے؟؟”۔ جہانداد کے بجائے بختاور نے خاصہ بدتمیزانہ لہجہ میں جواب دیا۔
” میں نے آپ سے نہیں پوچھا اپنے ” شوہر ” سے پوچھا ہے۔آپ کیوں اپنی زبان کو تکلیف دے رہی ہیں”۔ ثبور اپنے شوہر پہ زور دے کر بولی۔
” اچھا پر شاید تمھارے شوہر نے سنا ہی نہیں تمہیں”۔ وہ اِک ادا سے اپنے بال جھٹکتی اسکا دل جلا گئ تھی۔
جہانداد جو دونوں کو آپس میں لگے دیکھ ہمیشہ کچھ بولتے بولتے رہ جاتا تھا۔ اب کی بار بولنے کی جسارت کر ہی گیا۔
” ارے کیا ہوگیا تم دونوں لڑ کیوں رہی ہو “۔ جہانداد حیرت زدہ سا مستفسر ہوا۔
” میں نہیں لڑ رہی ، میں تو اپنے شوہر کو بلانے آئ تھی۔ پر یہاں کچھ لوگ خود کو مہمان کے بجائے گھر کا مالک سمجھ بیٹھے ہیں”۔ وہ رسان سے کہتی۔ جہانداد کا ہاتھ تھام گئ تھی۔ اور شاید یہ ثبور کی طرف سے اپنی نئ زندگی کی طرف پہلی سیڑھی تھی۔ جس پہ وہ قدم رکھ چکی تھی۔
” اُاٹھیں مجھے شاپنگ کرنے جانا ہے مجھے لے کر چلیں”۔ حکم صادر ہوا۔
” ابھی ۔۔۔ اسوقت “۔ جہانداد کو حیرت در حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے۔
” ہاں ابھی اور اسی وقت۔۔۔ چلیں اٹھیں “۔ وہ اسکا تھاما ہوا ہاتھ دھیرے سے کھینچتی اسے اٹھنے پہ مجبور کر گئ ۔ اس سے پہلے کے جہانداد بختاور کو بھی ساتھ چلنے کی آفر کرتا اس سے پہلے ہی ثبور بختاور کو مخاطب کر گئ تھی۔
” بختاور آپ گھر پہ رہیئے آرام کریئے۔۔۔ ہمیں آنے میں شاید کچھ دیر ہوجائے”۔ وہ جہانداد کا ہاتھ چھوڑ گئ۔
” چلیں “۔ نظریں اٹھا کے جہانداد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ پوچھا۔
” ہمم بلکل چلیں “۔ وہ اسکی آنکھوں کے شعلوں میں ڈوبتا محبت سے کہتا بختاور کو آگ لگا گیا تھا۔
” بختاور ہم چلتے ہیں “۔ جہانداد بختاور کو دیکھتے نرمی سے کہتا ثبور کے ساتھ نکل گیا تھا۔ اور بختاور شعلہ برساتی آنکھوں سے انکو تکتی رہی دور تک جب تک وہ منظر سے غائب نا ہوگئے۔
♧♧♧♧♧♧♧
جہانداد گاڑی چلاتا کبھی سامنے دیکھتا تو کبھی رخ اسکی طرف کر دیتا۔ پر وہ جو گھر پہ بڑا بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی اب بلکل خاموش بیٹھی تھی۔ باہر تیزی سے گزرتے مناظر کو محویت سے تکتی اسے بڑی بری طرح سے نظر انداز کر رہی تھی۔ آخر کار اس کاٹ کھانے والی خاموشی کو جہانداد کی آواز نے توڑا۔
” تم پہ یہ کلر بہت سوٹ کرتا ہے”۔ وہ محبت سے بولا۔
” اچھا آپکو اور کس کس پہ یہ رنگ اچھا لگتا ہے “۔ وہ رخ موڑتی اسے خشگمین نظروں سے گھورتی غرائ۔
” قسم سے صرف تم پہ اچھا لگتا ہے۔ اور کسی پہ بھی نہیں یہاں تک کہ جویریہ اور ھوریہ کی مما پہ بھی نہیں”۔ وہ محبت سے بولا۔
” وہ اس دنیا میں نہیں انہیں ہماری ان لایعنی باتوں میں نا گھسیٹیں”۔ وہ اسپہ خفا ہوئ۔
” اچھا نہیں گھسیٹتا ۔۔۔ ویسے کیا شاپنگ کرنی ہے میری بیگم کو”۔ وہ مخمور لہجہ میں کہتا اسکا دل دھڑکا گیا تھا۔
” پتہ نہیں کیا لینا ہے۔۔”۔ وہ دھیرے سے منمنائ تھی۔
” کیا مطلب ۔۔۔ کچھ نہیں لینا “۔ اسنے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
” نہیں لینا تو کوئ مسئلہ؟؟”۔ وہ اس پہ دوبارہ گرجی تھی۔
” مسئلہ تو کوئ نہیں پر ۔۔۔ ” وہ بات ادھوری چھوڑ گیا تھا۔
” ہاں سمجھ آرہی ہے سب مجھے مسئلہ تو کوئ نہیں پر اس بختاور پھلجڑی کے گھر پہ اکیلے رہ جانے کا دکھ ہے”۔ وہ منہ بنائے کہتی اسکے اوسان خطا کر گئ تھی۔
” یار بیچاری ہماری گیسٹ ہے ۔۔ اور وہ بہت اچھی ہے”۔ اسنے بختاور کو کلین کرنا چاہا۔
” اچھا اچھا بس زیادہ وکیل بننے کی ضرورت نہیں ہے اس چڑیل کا”۔ وہ ہاتھ ہوا میں جھلا کر کہتی اسے چپ کراگئ تھی۔
” ثبور تم جیلس ہورہی ہو “۔ وہ اپنی امڈتی ہنسی دباتا بولا۔
” میں اور جیلس بلکل نہیں “۔ وہ فوراً نفی کر گئ تھی۔
” تم جیلس ہو”۔ وہ ہنسا۔
” نہیں بلکل نہیں “۔ وہ چڑی۔
” تو تم جیلس نہیں “۔ وہ بھنوئیں اچکاتا احتیاط سے موڑ مڑنے لگا۔
” ہاں نہیں ہوں”۔ وہ منہ بنائے کہتی اسے بڑی پیاری لگی تھی۔
” اچھا سہی اچھی بات ہے ہونا بھی نہیں چاہیئے”۔ وہ مدھم سا مسکرایا تھا۔
” شاپنگ تو تمہیں کرنی نہیں ۔ تو ڈنر آج باہر کر لیتے ہیں اور لانگ ڈرائیو تو ویسے بھی جاری ہے”۔ وہ خوش دلی سے بولا۔
” ہمم ٹھیک ہے”۔ اسے اس سے زیادہ بہترین حل نا ملا تھا۔ جہانداد کو اس چڑیل سے دور رکھنے کا۔
“اچھا ۔۔۔۔ پھر بتاؤ کونسا سانگ پلے کروں “۔ وہ شوخ ہوا۔
” کوئ سا بھی نہیں۔۔۔۔۔ مغرب کی آزانوں کا ٹائم ہے میں نماز کہاں پڑھوں گی”۔ اب اسے اپنی نماز کی فکر لاحق ہوئ۔
” نماز کی کوئ ٹینشن نہیں میں تمہیں لے کر چلتا ہوں ایک بہت ہی پیاری سی جگہ پہ جہاں تم اپنی نماز ادا کر لو گی اور ہم بہت سارا اچھا ٹائم سپینڈ کر لیں گے”۔اسنے نظریں پھیر کے اسے گہری نظروں کے حصار میں لیا۔
” ہمم نماز پڑھنے کو جگہ مل جائے آپکے ساتھ اچھا سا ٹائم سپینڈ کرنے کی کوئ تمنا نہیں”۔ وہ منہ بناتی بولی تو جہانداد نے اسے خاموش نظروں سے تکا۔
” جب میرے ساتھ وقت گزارنے کی تمنا ہی نہیں تھی۔ تو آئ کیوں ساتھ کیوں جھوٹ بول کر لائ مجھے کہ تمہیں شاپنگ کرنی ہے۔ نماز پڑھنی ہے تمہیں گھر چلتے ہیں وہیں پڑھ لینا”۔ پل میں جہانداد کا موڈ خراب ہوا تھا۔وہ اسکا موڈ خراب ہوتا دیکھ سٹپٹائ تھی۔ پر خاموش رہی کچھ نا کہا۔ جہانداد نے بہت ہی ریش ڈرائیونگ اسٹارٹ کردی تھی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ گئے تھے۔ وہ جب تک گاڑی سے اترتی جہانداد تن فن کرتا بنا اسکو مخاطب کیئے گاڑی سے نکلتا اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ وہ منہ بناتی اپنے کمرے میں چلی گئ۔ نماز پڑھی ۔۔۔ نماز پڑھ کر فارغ ہوئ باہر آئ تو جویریہ اور حوریہ بھی باہر بیٹھی تھیں۔ اور سامنے وہی بختاور چڑیل ٹانگ پہ ٹانگ ڈالے بیٹھی تھی۔ جہانداد بلکل اسکے برابر میں براجمان تھا۔
وہ جہانداد کو گھورتی کچن کا رخ کر گئ تھی۔ کھانا بنانے کی تیاری کررہی تھی وہ جب کچن میں جویریہ آئ۔ اور اسے مخاطب کیا۔
” کیا کر رہی ہیں آپ؟؟”۔ جویریہ نے نرمی سے پوچھا۔
” کھانا بنا رہی ہوں”۔ اسکے نرمی سے پوچھنے پہ اسنے بھی نرم مسکراتے لہجے میں جواب دیا۔
” اوہ کیا بنا رہی ہیں؟؟”۔ جویریہ چہکی۔
” قیمہ ، مٹر، آلو مکس بنا رہی ہوں”۔ اسنے مسکرا کر جواب دیا۔
“سچی مجھے بہت پسند ہے ایون کہ پاپا اور حوریہ کو بھی بہت پسند ہے”۔ وہ خوشدلی سے اسے بتا رہی تھی۔
” اچھا یہ تو اچھی بات ہے۔ آج تو پھر آپکی اور حوریہ کی پسند کا کھانا بنے گا”۔ وہ ہنسی۔
” جی یہ تو ہے۔ میں آپکی کوئ ہیلپ کراؤں “۔ وہ پچھلے ہوئے مٹر اٹھا کر کھاتی بولی۔
” ہمم آپ ایسا کرو۔۔۔مجھ فریج سے لہسن کا پیسٹ نکال دو”۔ اسنے مصروف سے لہجہ میں کہا۔ جویریہ فریج کی طرف گئ تو حوریہ بھی کچن میں اینٹر ہوئ۔ باہر سے آتی آوازیں بلکل معدوم ہوچکی تھیں۔
” اتنی بے خبری بھی اچھی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ ” حوریہ اسکے برابر آکے کھڑی ہوئ۔
” مجھسے کہہ رہی ہیں آپ”۔ ثبور حیرت سے مستفسر ہوئ۔
” جی بلکل آپ ہی سے کہہ رہی ہوں “۔ اسنے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
” میں ۔۔۔بے خبر تو نہیں “۔ وہ نا سمجھی سے بولی۔
” اچھا تو پھر پاپا بختاور آنٹی کے ساتھ کہاں گئے ہیں؟؟؟ آپ کو تو خبر ہوگی ناں “۔ وہ اپنے موبائل سلیب پہ رکھتی اسکے چہرے کا بغور جائزہ لینے لگی۔
” باہر بیٹھے۔۔۔!! ایک منٹ”۔ وہ لہک کر کچن سے نکلی تھی۔ اسکی لمبی چٹیا اسکی کمر پہ جھول گئ تھی۔
لاوئنج خالی پڑا تھا۔ رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ وہ بے بسی بھری سرد سانس خارج کرتی واپس کچن میں جا گُھسی تھی۔ کچن کہ کاؤنٹر ٹاپ پہ بیٹھی حوریہ اسے دیکھ دھیمے سے مسکرائ تھی۔
” میری ماما جب زندہ تھیں۔ تو وہ بتایا کرتی تھیں۔ بلکہ ہم نے خود بھی دیکھا ہے کہ پاپا کو محبت تھی بختاور آنٹی سے اور انہیں بھی بے حد محبت تھی۔ پاپا کی فیانسے رہ چکی ہیں وہ کبھی کسی زمانے میں دس سال انکا ریلیشن چلا تھا۔ بڑی ہی کوئ دھواں دار قسم کی محبت تھی۔ ماما بتاتی تھیں کہ پھر نجانے کیا ہوا کہ پاپا اور بختاور آنٹی کا رشتہ ٹوٹ گیا اور پھر دادی نے پاپا کی شادی ہماری ماما سے کرادی۔ اسکے بعد میرے ماما اور پاپا بہت خوش تھے۔ انکی زندگی بہت پیاری گزر رہی تھی۔ پر پھر۔۔۔۔”۔ حوریہ بات کرتے کرتے رکی۔
” پھر ۔۔۔ کیا ہوا “۔ ثبور نے آگے سننا چاہا۔
” پھر ماما بتاتی ہیں ۔۔۔ بلکہ بتاتی تھیں کہ بختاور آنٹی ہمارے گھر آنا جانا شروع ہوئیں۔۔۔ ماما انہیں پاپا کی اچھی دوست جان کر انکا بڑا ہی وارملی ویلکم کرتی تھیں۔ پر رفتہ رفتہ بختاور آنٹی روز آنے لگیں۔ کبھی پاپا کو ساتھ لیئے نکل جاتیں ایسے ہی بغیر بتائے۔۔ جیسے آج ۔۔ اور کبھی خود یہاں آکر بیٹھ جاتی تھیں۔پاپا نے ماما کو وقت دینا کم کردیا تھا۔ ایون کہ ہم دونوں کو بھی توجہ دینا چھوڑ چکے تھے۔ ہماری مما بہت خاموش طبع تھیں۔ کبھی کچھ کہہ ہی نا پائیں۔ یہاں تک کہ بات بختاور آنٹی سے شادی تک کرنے کی آگئ۔ ماما کو جب پاپا نے بتایا ماما بہت روئیں ہمیں یاد تو نہیں کیونکہ ہم خود دو سال کی تھیں دونوں پر ماما اکثر ماضی کے پننے کھول کہ بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ ماما کا دل ٹوٹ گیا تھا۔ پاپا سے انہیں شکوہ تھے بہت شکوہ مگر پھر وہ شکوہ ہماری خاطر وہ دھاتی گئیں۔ جب نانی کو پتہ چلا کہ پاپا دوسری شادی کر رہے ہیں بختاور آنٹی سے تب نانی ہمارے گھر آئ تھیں ہمیں اور ماما کو ساتھ لے کر چلی گئ تھیں۔ پھر پاپا کے دل میں اپنی اولاد کی محبت جاگی تو انہوں نے بختاور آنٹی کو منع کردیا۔ اور ہمیں گھر واپس لے آئے۔ وہ باب بند ہوگیا۔۔۔ اور زندگی کے اتنے سال بیت گئے۔ پر اب وہ سب دوبارہ ہو رہا ہے شروعات ہوچکی ہے۔ اور بیڈلی آپکے پاس فلحال اولاد جیسی پاور بھی نہیں کہ آپ معملات کے کھٹک ہوجانے کے بعد اسٹینڈ لے سکیں ۔۔۔ جو کرسکتی ہیں ابھی کریں۔۔ نہیں تو پھر اپنا بیگ پیک کر لیں کیونکہ بہت جلد بختاور آنٹی آپکو کک آئوٹ کرنے والی ہیں”۔ حوریہ کی ادھوری بات کو جویریہ نے مکمل کیا تھا۔
” کیا مطلب ایسے کیسے وہ مجھے کک آئوٹ کر دے گی”۔ ثبور چڑی تھی۔ اسکا دل یکدم جہانداد سے برا ہونے لگا تھا۔
” ہمارا کام تھا آپکو انفارم کرنا باقی آپ کو بہتر پتا ہوگا کہ وہ کیا کرسکتی ہیں اور کیا نہیں”۔ حوریہ سنجیدگی سے کہتی کچن سے نکل گئ۔
” حوریہ سہی کہہ رہی ہے آپ جتنا خاموش رہیں گی معملات اُتنے ہی خراب ہونگے”۔ جویریہ نے اسے دیکھ نرمی سے کہا۔ وہ اسکی بات پر اثرات میں سر ہلاتی کھانا پکانے میں جت گئ تھی۔
