Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 16)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 16)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

سب بدل گیا پر اپنے وجود میں پلتے وجود کے لیئے فلک کا دل نا بدلا وہ دن بھی آگیا جب اس معصوم نے اس دنیا میں آنا تھا۔

جابر بے چین و بے قرار سا کھڑا تھا۔ گائنی وارڈ کے باہر کھڑے وہ فلک کے لیئے بے حد پریشان تھا ، اور پھر فلک نے ایک چاند سی بیٹی کو جنم دیا۔ جو ہو بہو فلک کی پرچھائ تھی۔ جابر کو اس معصوم پہ ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ پر فلک کی حالت سنمبھلتے ہی اسنے اسکی شکل دیکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اور جابر محض اسکی شکل دیکھتا رہ گیا تھا۔ وہ تڑپ رہی تھی شاید اپنی اولاد کو آپنے سینے سے لگانے کو پر یہ کیسی تڑپ تھی کہ اسنے اپنی بیٹی کی شکل تک نا دیکھی۔ بچی کافی کمزور تھی اس وجہ سے اسے تین دن نرسری میں رکھا گیا۔ فلک کو تو کوئ ہوش نا تھا پر جابر نے ہی اسکا نام دعا رکھا۔ پر تین دن بعد جب دعا اپنی ماں کی ناراضگی کو سمجھتی یہ دنیا چھوڑ کر رخصت ہوگئ تو جابر کی آنکھ سے چند آنسو گرے تھے۔ تین دن وہ اس بچی کے آگے پیچھے پھرتا رہا تھا۔ نرس سے اجازت لے کر اسے دیکھ کر اپنے دل کو سکون دیتا ، اسے ان تین دنوں میں اس بچی سے کافی انسیت ہوگئ تھی۔ پر خیر جو اللہ کو منظور ، فلک کو یہ بات پتہ چلی تو بلکل خاموش ہوگئ اسنے کچھ نا کہا۔ اب فلک پہلے سے کافی بہتر تھی ، وہ ایک مضبوط عورت تھی۔ جلد ہی وہ ان سارے اندھیر لمحوں سے وہ خود کو نکال لائ تھی۔ جہانداد کی ٹیم نے اس دارالامان کا خلاصہ کر دیا تھا پوری دنیا کے سامنے اس دارالامان کے چند سربراہاں ایکسپوز ہوچکے تھے۔ بہت سی زندگیاں تو شاید تباہ ہوچکی تھیں پر بہت سی تباہ ہونے سے بچ گئ تھیں۔

جابر نے فلک کو آگے اپنی تعلیم کنٹنیو کرنے کو کہا تھا۔ وہ اسے ایک اندیپینڈنٹ وومن بنانا چاہتا تھا۔ فلک کے لیئے اسنے ایک ملازمہ اسکے ساتھ رکھ دی تھی جو ہر وقت اسکے پاس رہتی تھی۔ اور جابر خود اپنے گاؤں والے گھر جاچکا تھا۔ وہ روز آفس جانے سے پہلے ایک گھنٹے کے لیئے اسکے پاس ضرور جاتا تھا۔ فلک اب پچھلے سالوں سے کافی بدل گئ تھی وہ حقیقتاً ایک مضبوط عورت تھی۔ وہ خود پہ شوخی و شرارت کا خوبصورت خول چڑھا گئ تھی۔ جابر کی بھی وہ ٹانگ کھچائ کرنا اپنا مشغلہ بنا چکی تھی ، جابر کو لگا تھا اب وہ پرسکون زندگی گزارے گی پر ایک دن جب وہ اس سے ملنے آیا تو فلک کو بہت بری حالت میں درد سے تڑپتے پایا۔ وہ درد برداشت کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی پر درد اسکی برداشت سے باہر تھا۔ جابر اسے فوراً ہاسپٹل لے کر گیا ڈاکٹر نے فوری طور پر آپریشن کرنے کا کہا۔ اسکو اپینڈیکس کا درد اٹھا تھا۔ اسکا آپریشن ہوا وہ تین دن تک ہاسپٹلائز رہی وہ اسے گھر لایا دس دن پورے ہونے کو آگئے تھے کے وہ بستر پہ تھی ، جابر اسکی دوائیں چیک کر رہا تھا کہ بیل بجی ملازمہ ایک لڑکے کو ساتھ اندر لائ جو فلک کے ساتھ پڑھتا تھا۔ وہ بڑا بے تاب سا تھا فلک کی تکلیف دیکھ ، وہ فلک کو ہر دوسرے دن پوچھنے آنے لگا آخر کار جابر نے تنگ آکر فلک سے پوچھ ہی لیا کہ یہ کیوں روز روز آجاتا ہے تو فلک نے منہ پھاڑ کر جواب دیا تھا۔

” مجھے کیا پتہ موت پٹا کیوں آتا ہے”۔ وہ چڑی تھی۔

” اوہو باس مجھے تو کوئ سین لگتا ہے”۔ جابر نے آنکھیں مٹکا کر اسے چڑانے کو کہا۔

” جابر ایسا کچھ بھی نہیں ، اور تم سب جانتے ہو میرے بارے میں پھر بھی سوچ رہے ہو کہ یہ اپنے قدموں پہ جما رہے گا ، میں سوچ رہی ہوں یہ دوبارہ آیا تو میں اسکو تمام حقیقت بتا دونگی”۔ فلک نے بیزاریت سے کہا۔

” اور اگر سب حقیقت جان کر بھی وہ اپنے الفاظ سے پیچھے نا ہٹا تو “۔ جابر نے آس دلائ۔

” جابر خان ناممکن سی بات ہے”۔ فلک نے تلخ لہجہ میں کہا۔

” کیوں نا ممکن سی بات ہے ، کوئ ایسا مرد بھی تو ہوسکتا ہے ناں جو سب جانتے ہوئے بھی تمہیں اپنانے سے نا ہچکچائے”۔ جابر نے سنجیدگی سے کہا۔

” ایسا کوئ مرد نہیں جو ایسی عورت کو قبول کرے جسکا دامن چھلنی چھلنی ہو”۔ فلک نے بیزاریت سے کہا۔

” کوئ تو ہوگا یار اتنی بڑی دنیا ہے کوئ تو ایسا ہوگا جو تمہیں قبول کرے گا خوشی خوشی “۔ جابر نے مسکا کر کہا۔

” تم کرو گے مجھ سے شادی؟”۔ فلک نے یکدم اسے آئینہ دکھانے کو کہا۔ ایک پل کو تو جابر سٹپٹایا پر پھر کچھ سوچ کر ہامی بھر گیا۔

” ہاں کرونگا اس میں کوئ برائ نہیں فلک ، پر تب جب تم خود پہ ترس کھانا چھوڑ دو”۔ وہ اسے دیکھتے مضبوط لہجہ میں گویا ہوا۔

” میں مذاق نہیں کر رہی تم سے “۔ اسنے اسے باور کرایا۔

” میں بھی مذاق نہیں کر رہا ابھی چلتا ہوں کراچی سے سیدھا آیا ہوں لیٹ ہوگیا ہوں کافی آفس سے پر سوچا پہلے تمہیں دیکھ لوں”۔ جابر نے مسکا کر کہا اور اٹھ کر چلا گیا۔ فلک حیرت زدہ سی بیٹھی تھی۔

جابر کو کراچی واپس گئے دو مہینے ہونے کو آگئے تھے اسنے سوچا سب کو بغیر بتائے سرپرائز دے گا۔ پر جب وہاں پہنچا تو وہاں کے تو منظر ہی بدلے ہوئے تھے تاشہ دلہن بنی بیٹھی تھی پر وہ سسک سسک کر رو رہی تھی۔ کسی عورت کی آواز اسکے کان میں پڑی تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔

” دیکھو ذرا بیچاری لڑکی روئے نہیں تو اب کیا کرے برات جو واپس لوٹ گئ اب ایسی لڑکیوں کو کون اپناتا ہے “۔ عورت کی بات سن اسکے جسم سے شرارے پھوٹنے لگے تھے۔ وہ جہانداد کو ڈھونڈتا اسکی طرف لپکا تھا اس سے پہلے کہ وہ جہانداد کو کچھ کہتا۔ جہانداد نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر جس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وہ جابر کے قدم جکڑ گئ تھی۔اسکی نظروں کے سامنے دو مہینے پہلے کا منظر لہرایا جب اسنے فلک کو کہا تھا۔ کہ وہ اسے اپنائے گا۔ پر اب یہ سب نہیں نا وہ تاشہ کی زندگی تباہ کرسکتا تھا نا ہی فلک کی۔

” بھائ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ایسا نہیں کرسکتا میں”۔ اسنے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کرکے لاچارگی سے کہا۔

” کیوں نہیں کرسکتے کیا کمی ہے تاشہ میں ساتھ پلے بڑھے ہو تم دونوں ایک دوسرے کو خوب سمجھتے ہو”۔ جہانداد نے اسے سمجھانا چاہا۔

” بھائ آپ سمجھنے کی کوشش کریں میں نہیں کرسکتا تاشہ سے شادی”۔ اسنے بکھرے ہوئے لہجہ میں کہا۔

” جابر خدا کا واسطہ ہے”۔ جہانداد نے ایک بار پھر اسکے آگے ہاتھ جوڑے۔ جابر اپنے بھائ کے جڑے ہاتھ دیکھ ہار مان گیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں زرتاشہ اور جابر کا نکاح ہو گیا تھا۔ لوگوں کے منہ مکمل طور پہ بند نا ہوئے تھے پر کافی حد تک بند ہوگئے تھے۔ زرتاشہ کو جاناں جابر کے کمرے میں لے گئ تھی۔ رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب جابر کمرے میں آیا تو وہ دلہناپے کے لباس میں بیٹھی سسک رہی تھی۔ جابر کے دل کو کچھ ہوا وہ بھلا کیسے اپنی تاشہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ سکتا تھا۔

” تاشہ کیا ہوا یار “۔ وہ یکدم اسکے پاس اسکے قدموں میں آکر بیٹھا تھا۔

” جابر میری شادی ٹوٹ گئ جابر میں نے تو اس سے کال پہ باتیں بھی کی تھی جابر مجھے تو اس سے تھوڑی تھوڑی محبت بھی ہوگئ تھی پھر بھی وہ لوگ برات چھوڑ کے چلے گئے”۔ وہ روتے ہوئے نجانے کیا کچھ کہہ رہی تھی اور جابر محض اپنے دانت کچکچا کر رہ گیا تھا۔

” تمہاری شادی نہیں ٹوٹی بلکہ مجھ سے ہوگئ ہے پاگل”۔ جابر نے اسے کندھوں سے تھام کر اسکا رخ اپنی سمت کیا۔

” پر ہونی تو اس سے چاہیئے تھی ناں”۔ وہ پھر سسکی۔

” تاشہ ادھر دیکھو رونا بند کرو ، ادھر میری طرف دیکھو”۔ جابر نے اسکے گالوں پہ ہاتھ رکھتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔ اسکا سرخ بھاری کا مدار آنچل سرک کر کندھوں پہ آگیا تھا۔ بندیا الٹ کر پیچھے جاچکی تھی۔ جابر اسکے سراپے کو بے خودی کے عالم میں تکنے لگا تھا یکدم جابر کو احساس ہوا اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی ہے اسکا دل بڑی زور سے دھڑکنے لگا ہے۔ عجیب سا مسرور کن احساس تھا جسے وہ شاید سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ جو پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی جابر کے ہاتھ اپنے گال پہ دیکھ یکدم اسکے ہاتھ خود سے دور جھٹک گئ تھی۔ جابر کا فسوں یکدم ٹوٹا اسنے حیرت سے اسے تکا۔

” یہ کیا حرکت ہے دور رہو مجھ سے “۔ تاشہ نے اسے خود سے اسقدر شدت سے دور جھٹکا تھا۔ کہ جابر محض اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔

” تاشہ اٹھو چینج کرو اوکے اٹھو”۔ جابر نے اسے اٹھانا چاہا پر اسنے اسے ایک بار پھر خود سے دور جھٹکا۔

” اوکے اوکے تم خود اٹھو “۔ اسنے نرمی و محبت سے کہا۔

” دور رہو نہیں چاہیئے مجھے کسی کی ہمدردی میں ایسے ہی ٹھیک ہوں”۔ تاشہ نے غصہ سے کہا۔ اور جابر محض اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ وہ اسے اپنی پرانی تاشہ سے کوئ مختلف لڑکی لگی۔

” تاشہ میں کیوں تمہارے ساتھ ہمدردی کرونگا اٹھو”۔ اسنے اسے تکتے پیار سے کہا اور اسے اٹھنے کو کہا۔

” ہائے وہ مجھ سے کیسے محبت بھری باتیں کرتا تھا “۔ تاشہ نے سسکتے ہوئے ایک نیا انکشاف کیا۔ جو جابر پہ تو خاصہ گراں گزرا پر وہ برداشت کر گیا۔ وہ اسکی کیفیت اسکی حالت سب سمجھ سکتا تھا۔

” تاشہ اٹھو ، رونا بند کرو یار”۔ جابر نے اسے بازو سے تھام کر اٹھاتے رونے سے روکا۔

” تم مجھے کیسے روک سکتے ہو رونے سے فضول انسان کیا تمہیں پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہوا ہے”۔ اسنے پھوٹ پھوٹ کر روتے کہا۔

” کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ جو اسطرح رو رہی ہو”۔ جابر نے اسے بازو سے دبوچ کر پوچھا۔ درد کی شدت سے وہ رونا بھول کر حیرت سے جابر کو دیکھنے لگی۔

” چھوڑو کیا کر رہے ہو”۔ اسنے بھیگے لہجے میں کہا۔

” پہلے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ جو اس طرح سے ماتم کر رہی ہو”۔ چڑے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔

” ماتم۔۔ کیا اب میں رو بھی نہیں سکتی ، میری شادی ٹوٹی ہے جابر اس شخص سے میں نے ڈیڑھ مہینہ میسجز اور کالز پر باتیں کی ہیں ، مجھے وہ اچھا لگتا تھا ، اور وہ لوگ شادی چھوڑ کر چلے گئے”۔ وہ اپنی بات کے اختتام پہ ایک بار پھر رونے لگی تھی۔

” تاشہ ۔۔ میں کیا کہوں”۔ اسنے نا سمجھی سے سر کھجایا، زندگی میں پہلی بار جابر خان کے پاس الفاظ نا تھے تاشہ کو تسلی دینے کے لیئے۔

” کچھ نا کہو تم مر جاؤ”۔ وہ اسکے سینے پہ اپنی ہتھیلی رکھتی اسے خود سے دو قدم دور کرتی واشروم میں خود کو بند کر گئ تھی۔ پر اسکے رونے کی آواز اب بھی باہر تک آرہی تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

صبح کا وقت تھا سب ناشتہ کرنے بیٹھے تھے۔ جہانداد بھی ڈائیننگ ٹیبل پہ سب کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا۔ صبور لگی جہانداد کو ناشتہ کر وا رہی تھی۔ جویریہ اور حوریہ ساتھ بیٹھی تھیں۔ تاشہ منت کے ساتھ بیٹھی تھی۔ جابر بھی تاشہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ فلک آج ناشتہ کرنے نہیں آئ تھی۔ جابر نے ناشتہ کرکے جلدی جلدی ایک پلیٹ میں فلک کے لیئے ناشتہ لیا اور اسکے کمرے میں چلا گیا تھا۔ حوریہ محض اپنے چاچو کو گھور کر رہ گئ تھی۔

” بس آپ بھی بیٹھ جائیں صبور ناشتہ کریں آپ خود بھی”۔ جہانداد نے صبور کو ہاتھ کے اشارے سے اسے کھلانے سے منع کیا تھا۔ وہ مسکا کر چیئر کھسکا کر خود بھی بیٹھی تھی۔

” پاپا اس دن کی تمام کوریج اور وہ پورا خلاصہ ہم آج آن ائیر کرنے والے ہیں”۔ حوریہ نے باپ کی سمت دیکھ اسے آگاہ کیا۔

” گڈ بچہ یہ تو اچھی بات ہے ، ایسا کرتے ہیں آج پھر میں بھی چلتا ہوں آفس”۔ جہانداد نے پر سوچ انداز میں کہا۔

” نو پاپا آپکو سخت بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے آپکو کوئ ضرورت نہیں آفس چلنے کی”۔ حوریہ نے فوراً منع کیا۔

” پر بیٹا ہوگیا جتنا بیڈ ریسٹ ہونا تھا”۔ جہانداد نے چڑے ہوئے لہجہ میں کہا۔

” آر یو سیریس ڈیڈ کل ہی آپکو ہاسپٹل سے لائے ہیں ہم ، اور آج آپ کہہ رہے ہیں کہ ہوگیا بیڈ ریسٹ”۔ حوریہ نے تیوری چڑھا کر کہا۔

” اوکے اوکے دادی اماں”۔ جہانداد اسکے تاثرات دیکھ کے ہنسا تھا۔

” بھائ آپ کی طبیعت کیسی ہے اب؟”۔ زرتاشہ نے مسکرا کر پوچھا۔

” میرا بیٹا بلکل ٹھیک ہوں اب تو”۔ جہانداد نے مسکرا کر جواب دیا۔

” بھائ بس اللہ میاں آپکو صحت دیں ، ہمارا تو آپکے علاوہ کوئ بڑا نہیں”۔ تاشہ نے محبت سے کہا۔

” امین میرا بچہ بس میری دعا ہے آپ سب بھی ہمیشہ خوش رہو”۔ اسنے شفقت سے کہا۔

” بڑے بابا”۔ منت نے جہانداد کو پکارا۔

” جی میرا بیٹا کہو”۔ جہانداد نے مسکرا کر پوچھا ، اسکے سامنے بیٹھی چھوٹی سی منت ہو بہو جاناں کی کاربن کاپی تھی۔

” بڑے بابا آپ جندی جندی تیک او جاؤ پھر مجھے آشکیم کھانے لے جانا”۔ (بڑے بابا آپ جلدی جلدی ٹھیک ہو جاؤ پھر مجھے آئسکریم کھانے لے جانا)۔

” اوکے بس میں ٹھیک یوجاؤں پھر تو ڈن ہے”۔ جہانداد نے اسے تکتے آنکھوں میں ڈھیروں محبت لیئے کہا۔

” اوتے پھر میں بابا پاش جا رہی اوں”۔ ( اوکے پھر میں بابا کے پاس جا رہی ہوں)۔

” بابا ہم چلتے ہیں اللہ حافظ”۔ حوریہ اور جویریہ نے چیئر سے اٹھتے کہا۔

” اوکے اللہ حافظ دیہان سے جانا”۔ جہانداد نے نرمی سے کہا۔

زرتاشہ کو بھی منٹ گھسیٹ کر لے گئ تھی۔ ڈائینگ ٹیبل پہ بس وہ دونوں ہی رہ گئے تھے۔ جہانداد نے ایک نظر اسے دیکھا جو ناشتہ کرنے میں مگن تھی یا جہانداد کو دکھا رہی تھی کہ اسکی توجہ بلکل اسکی طرف نہیں۔

” کتنا کھاؤ گی موٹی ہوجاؤ گی”۔ جہانداد نے اسے تنگ کرنا چاہا۔

” کوئ بات نہیں اتنی موٹی ہوں تھوڑی اور ہوجاؤں گی تو کیا فرق پڑ جائے گا”۔ فلک نے اسے تکتے منہ بنا کر کہا۔

” کہاں سے موٹی ہو ، اتنی تو سلم اسمارٹ ۔۔۔اور۔۔”۔ جہانداد نے اسے تکتے آخر میں شرارت سے لب دبائے۔

” اور۔۔ کیا؟؟”۔ صبور نے آبرو آچکا کر پوچھا۔

جہانداد اسکے پوچھنے پہ تھوڑا سا اسکے قریب ہوا ، اور آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دباتے لب ہولے سے وا کرکے سرگوشی نما آواز میں کہا۔

” اور ہاٹ ہو”۔ اسنے آنکھ دبا کر کہا۔

” اللہ توبہ بلکل شرم نہیں آتی آپکو کیسی باتیں کرتے ہیں اپنی عمر کا ہی تھوڑا لحاظ کر لیں”۔ صبور کا منہ اسکی بات سن کر یکدم کھلا تھا۔ گال حیا سے گلنار ہوگئے تھے۔

” ہائے بیگم کیا آپ نے نہیں سنا جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم”۔جہانداد نے اسے دیکھ شوخی سے کہا۔

” میں نے نہیں سوچا تھا آپ اتنے بے شرم ہونگے”۔ صبور نے لب دبا کر کہا۔

” سوچا ہے کبھی میرے بارے میں تم نے”۔ بڑی امید سے پوچھا گیا۔

” نہیں”۔ لب دبا کر جواب دیا گیا۔

” کیوں نہیں سوچا”۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے ٹھوڑی سے تھام کر اپنے انگوٹھے کی مدد سے اسکا لب آزاد کیا۔

” دل ہی نہیں کیا “۔ اسنے اپنی مسکراہٹ دبا کر کہا۔

” چلو اب سوچ لینا میرے بارے میں”۔ جہانداد ہنسا۔

” کیا سوچوں آپ کے بارے میں”۔ نگاہیں اٹھا کر پوچھا گیا۔

” یہی سوچو کہ میں کتنا ہینڈسم ہوں کتنا رومینٹک ہوں اور کیا سوچو گی”۔ جہانداد نے اسکا ہاتھ تھامتے کہا۔

” آپ ہینڈسم ہیں؟؟”۔ آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے پوچھا گیا۔

” نہیں آپ ہینڈسم ہیں”۔ جہانداد نے چڑ کر کہا۔

” آپ تو خفا ہی ہوگئے”۔ جہانداد کے چڑنے پہ اسنے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہا۔

” تو پھر خفگی دور کردو”۔ لب دبا کر کہا گیا۔

” جیسے آپ چاہتے ہیں اپنی خفگی دور کرنا ویسے تو دور کرنے کو آپ ابھی اسٹیبل نہیں”۔ شرارت سے کہا گیا۔

” میں مینج کر لوں گا ، تم موقعہ دو”۔ بوجھل سی بھاری آواز میں کہا۔

” سوچنا پڑے گا”۔ اسنے بوجھل ہوتی پلکیں جھکا کر کہا۔

” سوچنا کیسا وقت ہے موقع ہے پھر اور کیا سوچنا”۔ جہانداد نے اسکو تھوڑی سے تھام کر سر اونچا کیا۔

” بھائ روم میں جاکر کنٹنیو کر لو یہ پبلک پلیس ہے”۔ جابر ڈھیٹ پنے سے ڈدانت نکالتا چیئر گھسیٹ کر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھا تھا۔

صبور تو یکدم سٹپٹا کر اٹھی تھی ، اور کچن میں بھاگی تھی۔ جہانداد محض جابر کو گھور کر رہ گیا تھا۔

اور جابر نے اپنے بھائ کے بگڑے تاثرات دیکھ ایک آنکھ دبائ تھی۔