Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 11)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 11)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

وہ کمرے سے نکل کر باہر لاؤنج میں آگئ تھی دل یکدم بھاری سا ہوگیا تھا۔ جہانداد کی ناراضگی اسے ہرٹ کر رہی تھی۔ اس سے برداشت کر پانا مشکل ہو رہا تھا اسکا نظر انداز کرنا وہ خاموشی سے صوفہ پہ آکر بیٹھی تھی۔ وقت دیکھا تو شام کے چھ بج رہے تھے۔

جویریہ اور حوریہ علی کے ساتھ آفس جاچکی تھیں۔

زرتاشہ اپنے روم میں تھی اور فلک اپنے روم میں وہ تنہا سی بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بغور تک رہی تھی نجانے اسکی قسمت اسے کہاں سے کہاں لے آئ تھی۔ اسے معلوم ہی نا پڑا کب اسکی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا۔ لبوں سے یکدم ایک سسکی ابھری۔

” رو کیوں رہی ہیں آپ؟؟”۔ فلک کی آواز اپنی پشت پہ سن کر وہ یکدم ہڑبڑا کر سنبھلی تھی ، جلدی سے آنکھوں سے بہتے انسوؤں کو صاف کیا۔

” نہیں میں رو تو نہیں رہی”۔ اسنے مسکرا کر کہا۔

” اچھا پھر آنکھوں سے یہ ندیاں کیوں بہہ رہی ہیں”۔ اسنے بھنوئیں آچکا کر کہا۔

” شاید۔۔”۔ ابھی اسکی بات منہ میں ہی تھی کہ یکدم فلک نے خود اسکی بات مکمل کی۔

” کچرا چلا گیا ہوگا ہے ناں”۔ اسنے چہک کر کہا۔

” ہاں “۔ ثبور نے کچھ شرمندہ ہو کر کہا۔

” بہت ہی پرانا اور بکواس ڈائیلاگ ہے یہ”۔ فلک نے ہنستے کہا۔

” سوری وہ بس ایسے ہی دل بھر آیا تھا”۔ اسنے کھسیا کر کہا۔

” لو دل بھی کبھی ایسے ہی بھر آتا ہے دل کہ بھی بھر آنے کی کوئ نا کوئ وجہ تو ہوتی ہے ناں”۔ فلک نے اسے دیکھتے ہاتھ جھلا کر کہا۔

” ہمم یہ بھی ٹھیک کہا آپ نے”۔ وہ اسکی بات پہ مسکائ تھی۔

” پھر بتائیں کیوں رو رہی تھیں آپ”۔ اسنے چہک کر پوچھا۔

” ایسے ہی بس اذان ہو رہی ہے میں وضو کر لیتی ہوں پھر نماز پڑھ کر آتی ہوں”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی نا چار واپس کمرے میں گھسی تھی۔ مغرب کی اذان میں ابھی کافی وقت تھا۔ پر اسے کچھ سمجھ نا آئ تو وہ یہ بہانا ہی گڑھ کر بیٹھ گئ۔

کمرے میں گھسی تو جہانداد نے اسے گھورا۔

” مریض ہوں میں اور ڈاکٹر نے مجھے بہت زیادہ آرام کرنے کو کہا ہے”۔ اسنے طنز کیا۔

” جی تو آپ آرام کریں ناں”۔ اسنے نرمی سے کہا۔

” میں تم سے ناراض ہوں”۔ ایک بار پھر وہ خفا سے لہجہ میں بولا۔

” پر کیوں؟؟”۔ وہ اسکے پاس بیڈ پہ آکر بیٹھتی مستفسر ہوئ۔

” تمہیں تو خوشی ہوئ ہوگی میرے بارے میں سن کر کے میں مرنے والا ہوں”۔ اسنے خفگی سے کہا۔

” توبہ کریں کیسی باتیں کر رہے ہیں ، میں آپکی دشمن تھوڑی ہوں”۔ اسنے اسے دیکھتے قدرے سختی سے کہا۔

” دشمن ہی ہو جبھی سب میرے آتے ہی آگئے تھے اور تم آئ نہیں میرے پاس”۔ اسنے خفگی کی اصل وجہ بتائ۔

” میں کچن میں آپکے لیئے ، سوپ بنا رہی تھی”۔ اسنے بھیگی پلکیں جھکا کر کہا۔

” سوپ بعد میں بھی بن سکتا تھا”۔ اسنے دھیرے سے ہاتھ بڑھایا ، اور اسکے گود میں رکھے ہاتھ کو تھاما۔

” پر میں نے سوچا جلدی سے بنا لیتی ہوں پھر آپکو اگر میری ضرورت ہو تو”۔ وہ نم سی آواز میں کہتی سیدھا اسکے دل میں گھر کر رہی تھی۔

” پکا ایسا ہی ہے ناں یا مجھے خوش فہم کرنے کی سازش ہے”۔ وہ اسے تکتا محبت سے مستفسر ہوا۔

” نہیں سچ کہہ رہی ہوں میں”۔ اسنے جھٹ سے کہا۔

” چلو پھر ٹھیک ہے معاف کیا تم کو “۔ وہ اسکے نازک ہاتھ کو اپنے دل کے مقام پہ رکھتا گویا ہوا۔ اسکی نگاہوں کی تپش ثبور کے گال دہکا گئ تھی۔ اسنے جھکی جھکی نگاہوں سے اسے تکا تھا۔

” تم بہت خوبصورت ہو ثبور”۔ ایک ٹرانس کی کیفیت میں کہا گیا۔

” جی ۔۔!!”۔ اسنے دل کی دھڑکنوں کے شور سے خود کو آزاد کرانا چاہا پر ناممکن وہ تو اس کمبخت کی موجودگی میں اسکے لمس سے مزید اپنی من مانیوں پہ اتر آیا تھا۔

” وہ کھانا بنانا تھا مجھے”۔ اسنے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرانا چاہا۔

” باہر سے مانگوا لیں گے ابھی مجھے تمہاری ضرورت ہے”۔ اسنے محبت سے کہتے اسکے ہاتھ اپنے لبوں پر رکھا تھا۔ ثبور نے یکدم شرمگین مسکراہٹ لیئےنظریں جھکائ تھیں۔

” ہائے میں قربان”۔ وہ محبت سے چور لہجہ میں بولا۔

“آپ۔۔”۔ اس سے مزید کچھ بولا ہی نا گیا۔

” میں کیا”۔ گھمبیر سے لہجہ میں پوچھا گیا۔

” آپ ۔۔ بہت “۔ اسنے لب کاٹتے کہا۔

‘” میں بہت ۔۔کیا”۔ دوبارہ پوچھا گیا۔

” آپ ۔۔ بہت۔۔ ڈھیٹ بڈھے ہیں”۔ وہ یکدم کہتی بھاگنے کی کرنے لگی تھی ، پر اسنے بروقت اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔اور اسے کھینچ کر اپنے برابر لٹایا تھا۔ خود با مشکل کروٹ لیتے اسپہ جھکا تھا۔

” جہانداد آرام سے”۔ وہ اسکے چہرے پہ درد سے سرخی دیکھ نرمی سے اسے واپس لیٹنے کا کہنے لگی۔

” کیا کہا تم ۔۔ نے مجھے ابھی”۔ اس نے اسکے گال پہ ہاتھ رکھتے غصہ سے پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں آپ سیدھے ہوکر لیٹیں طبیعت ٹھیک نہیں ناں آپکی”۔ وہ بھی جواباً اسکے گال پہ ہاتھ رکھتی محبت سے بولی۔

” تم نے مجھے بڈھا کہا”۔ اسنے لال آنگارہ آنکھیں اسکے چہرے پہ گاڑھیں۔

” نہیں میں نے ایسا نہیں کہا آپ سیدھے ہوکر لیٹے ناں آپکی طبیعت مزید بگڑ جائے گی”۔ وہ اسے محبت سے بولی۔

” میں بڈھا ہوں “۔ بات وہی تھی اسکی یعنی اسنے اب اس بات کو تب تک نہیں چھوڑنا تھا جب تک ثبور معافی نا مانگ لیتی۔

” نہیں میں مذاق کر رہی تھی”۔ وہ آنکھوں میں آئ نمی پیچھے دھکیلتی نرمی سے اسکے گال کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتی گویا ہوئ۔

” میں بڈھا ہوں ناں “۔ اسنے اسکا سر ایک جھٹکے سے ہلکا سا اوپر اٹھایا اور اپنا سر مزید اسکے چہرہ پہ جھکایا۔ ثبور کے ہاتھوں کے طوطے تو تب اڑے تھے جب اسنے اسکی گردن پہ لب رکھے وہ مدہوش سا ہوتا اسکی گردن سے سر اٹھا کر اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ ثبور کے ہاتھ بے ساختہ اسکے چہرے پہ گئے تھے۔ اسنے اسکا چہرہ خود سے دور کرنا چاہا پر نا ممکن سی بات تھی۔ اسکی گرفت اسکے لبوں پہ اسقدر سخت تھی کہ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ تھی۔ جب اسکا اپنا تنفس بگڑا تو وہ اس سے ہلکا سا دور ہوا یکدم ثبور نے اسے دھکہ دیتے خود پہ سے اٹھایا۔ اور اسے چھوڑ کر واش روم میں بھاگی تھی۔اور وہ مدہوشی اڑن چھو ہوتے درد سے کراہتے سیدھا ہوکر لیٹا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

جابر خان جہانداد کے کمرے سے نکل کر سیدھا زرتاشہ کے روم میں گیا تھا سونے ، وہ ابھی سونے کی تیاری میں تھا کہ زرتاشہ کی آواز سن کر اسنے مڑ کر اسے دیکھا۔

” اسوقت سوئیں گے ، مغرب ہونے والی ہے”۔ اسنے جابر کو تکتے نرمی سے کہا۔

” یار نیند آرہی ہے کیا کروں”۔ اسنے کنپٹی مسلتے آرام سے کہا۔

” تھوڑی دیر تک رک جائیں نماز پڑھ کر سو جائیے گا تھوڑی دیر”۔ وہ اسے دیکھتی نرمی سے بولی۔

” ہمم کوئ ٹیبلٹ ہے سر درد کی تو دے دو”۔ وہ صوفہ پہ بیٹھا تھا اور پیر ٹیبل پہ چڑھا دیئے تھے۔

” ہاں میں دیتی ہوں صبر “۔ وہ کہتی واڈروب سے اپنا ہینڈ بیگ نکال کر اس سے گولی ڈھونڈ کر آئ۔

” دوا لے لو”۔ وہ اپنی ہتھیلی اسکی طرف پھیلاتی نرمی سے کہتی دوسرے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے کھڑی تھی۔ جابر نے دوا لی۔ اسنے گلاس سائڈ پہ رکھا کمرے کی بڑی سی گلاس وال سے باہر کا منظر نمایاں تھا۔ دور افق پہ رات کا اندھیرا ہلکا ہلکا چھانے لگا تھا۔ جابر باہر گارڈن کو دیکھ ہنسا تھا۔

” تمہیں یاد ہے تاشہ ، ہم کتنا لڑے ہیں ناں اس گارڈن میں”۔ وہ اسے دیکھتا ہنستے ہوئے مستفسر ہوا۔

تاشہ کو بھی وہ دن یاد کرکے ہنسی آئ تھی۔

” ہاں بہت لڑے ہیں بلکل بچوں کی طرح”۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی گویا ہوئ۔

” کتنا مزا آتا تھا ناں”۔ وہ اسکے چہرے پہ خوشی دیکھتا محبت سے مستفسر ہوا۔

” بہت مزہ آتا تھا”۔ اسنے مسکراتے کہا۔

” تمہیں یاد ہے کیسے حوریہ تمہاری ٹیم میں ہوتی تھی اور جویریہ میری ٹیم میں ، اور پھر ہم خود تھک کر پیچھے ہٹ جاتے تھے پر انکو لڑنے کے لیئے انکارج کرتے رہتے تھے”۔ جابر نے بات کے اختتام پہ قہقہہ لگایا۔

” ہاں یاد ہے اور ہم تو بچ جاتے تھے پر ڈانٹ جویریہ اور حوریہ کو پڑتی تھی”۔ وہ بھی قہقہہ لگاتی گویا ہوئ۔

” اور پھر وہ دونوں ہم سے پورا دن ناراض رہتی تھیں”۔ جابر نے دھیمے سے مسکراتے کہا۔

” اچھے سے یاد ہے یہ بھی کوئ بھولنے والی بات ہے بھلا”۔ اسنے گہری سانس خارج کرکے کہا۔

” تاشہ کیا مجھے ایک موقع نہیں دوگی”۔ اسنے ایک آس سے پوچھا۔

” دونگی پر صرف فلک کی خاطر میں فلک کے کہنے پہ راضی ہوئ ہوں”۔ وہ دھیمے سے لہجہ میں گویا ہوئ۔

“سچ تاشہ تم سچ کہہ رہی ہو تم دیکھنا میں سب ٹھیک کر دونگا تم دیکھنا”۔ وہ یکدم جذباتی ہوتا اٹھا تھا تاشہ کو چہرے سے تھامتا اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ گیا تھا۔

” جابر تم سو جاؤ “۔ اسنے گھبرا کر اسے پیچھے کیا۔

” نہیں ابھی مغرب کی اذان نہیں ہوئ”۔ اسنے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پہ لیجا کر اسے کھینچ کر خود سے قریب کیا ، جابر نے اپنی آنکھوں میں شرارت لیئے اسے تکا۔

” جابر منت آجائے گی ، پیچھے ہٹو”۔ وہ اسکی گرفت میں کسمسا کر رہ گئ۔

” اوکے ابھی تو ہٹ رہا ہوں پر۔۔۔ رات یہیں ہے میری”۔ وہ اسکے چہرے پہ پھونک مارتا دلفریب لہجہ میں گویا ہوا۔

” اچھا ابھی تو ہٹو”۔ اسنے اپنا ہاتھ اسکے سینے پہ رکھتے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔

” اوکے “۔ اسنے مسکرا کر اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا۔

زرتاشہ اس سے دور ہوئ تھی ، اسے دیکھ ایک بار پھر جابر کی ظرف شرارت پھڑکی۔

” جانم مٹ گئ یہ دوریاں ، اور پھر چل دیئے تم کہاں ہم کہاں”۔ وہ اسے دیکھتا ہونٹوں پہ دلکش سی مسکان لیئے گنگنایا۔ وہ اسے گھورتی کمرے سے باہر چلی گئ تھی۔ اور وہ اسکی گھوریوں کی پرواہ کیئے بغیر ہی کمینے پن سے مسکراتا رہا۔

♧♧♧♧♧♧

” علی میرا دماغ نا خراب کرو”۔ حوریہ اسے گھورتی چلائ تھی۔

” یار میں دماغ کہاں خراب کر رہا ہوں “۔ وہ منہ بسورتے گویا ہوا۔

” تو پھر کیا کر رہے ہو”۔ وہ خونخوار ہوئ۔

” ایسے ہی یار بس تمہیں تنگ کر رہا تھا”۔ وہ اپنی مسکان دباتا گویا ہوا۔

” یہ جو تم اپنی میسنی سی ہنسی دبا رہے ہو نا ، سب سمجھ آرہی ہے مجھے “۔ وہ اسے گھورتی دوبارہ لیپ ٹاپ پہ جھکی تھی۔

” میں کہاں ہنس رہا ہوں”۔ علی اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرتا گویا ہوا۔

” علی پلیز بی سیریس مجھے کام کے وقت فضولیات سخت زہر لگتی ہے”۔ اسنے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔

” اوکے ملکہ عالیہ آپکا حکم سر آنکھوں پہ” اسنے کسی ادنی سے غلام کی مانند جھک کر کہا۔

” تم اپنا ٹھرکی پن جھاڑنا بند کروگے”۔ اسنے اسے گھورا۔

” یس سر “۔ وہ سلیوٹ مارتا بولا۔

اور وہ محض اسکو گھور کہ رہ گئ تھی۔