Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 14)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 14)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

وہ خوف زدہ سی نظروں سے اسکے ماتھے سے بہتا خون دیکھ خوف سے کانپنے لگی تھی۔ اسکی حالت دیکھ جابر کو ترس آیا تھا۔ جابر نے اسے تکتے نرمی سے بہترین الفاظ کا چناؤ کرتے اس سے کلام جوڑا۔

” سنو دیکھو گھبراؤ مت میں تو تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں ہے ناں”۔ اسنے بچوں کی طرح اسے پچکارا۔

” نہیں تم گندے ہو تم وہی کرو گے سب کچھ جو جو ، ان گندے لوگوں نے کیا”۔ وہ سسکتی پیچھے بھاگنا چاہتی تھی۔ پر اپنی پشت پہ بالکنی کا گلاس ڈور دیکھ وہ رکی تھی۔ خوف سے باہر دیکھا تھا۔ اور پھر جابر کو تکا جو دھیرے دھیرے اسکے پاس آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسنے یکدم بالکنی کا گلاس ڈور دھکیلا اور بھاگتے ہوئے اس سے پہلے کہ وہ نیچے کود کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ، جابر خان نے سرعت سے اسے بازو سے تھام کر اندر کھینچا تھا۔ وہ جابر کو نوچتی اس سے دور ہونے کی کوششوں میں تھی کہ جابر نے اسے ایک جھٹکے سے لاونج میں کھینچ کر صوفے پہ پھینکا اور بالکنی کا گلاس ڈور لاک کیا۔

” دیکھو سنو میں تمہاری اور ان باقی سب لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں”۔ جابر نے سر پہ اپنا رومال رکھتے تکلیف پہ لب بھینچتے کہا۔

” نہیں جھوٹے ہو تم ، تم بھی وہی کرو گے ناں جو ان سب نے کیا۔۔”۔ اسنے روتے ہوئے اس سے پوچھا۔

” نہیں میں ویسا نہیں کرونگا کچھ ، یقین کرو میرا”۔ جابر نے اسے تکتے ایک آس سے خود پہ یقین کرنے کو کہا۔

” دیکھو میں تم پہ یقین کر رہی ہوں ، میرا یقین نا توڑنا”۔ اسنے اپنے چہرے پہ دونوں ہاتھ پھیرتے بچے کی سی معصومیت سے کہا۔

” کبھی نہیں توڑوں گا “۔ اسنے اسکی حالت دیکھ مسکا کر کہا۔

وہ اسکی حالت سمجھ رہا تھا وہ پاگل نہیں تھی پر پھر بھی وہ تھوڑی پاگل ہو گئ تھی۔ جابر نے نظر اٹھا کر اسکے لاغر وجود کو دیکھا اور ان درندوں پہ افسوس کرکے رہ گیا۔ اسنے کچھ سوچ کر اپنی اسکول لائف کی کلاس میٹ کو فون کیا جس کی بہن ڈاکٹر تھی۔ اور اسے ایڈرس سینڈ کرکے ارجنٹ آنے کو کہا۔ کچھ ہی دیر میں وہ دروازے پہ تھیں ، جابر نے جاکر دروازہ کھولا تو سامنے دونوں بہنیں کھڑی تھی جابر نے انہیں اندر آنے کو کہا اور انکا بہت شکریہ ادا کیا۔

وہ دونوں اندر لاؤنج میں آئ تو ایک ٹوٹی بکھری سی لڑکی کو دیکھ دونوں نے ایک ساتھ جابر خان کی طرف دیکھا تھا۔

” یہ کون ہے؟”۔ جابر کی کلاس فیلو نے اس لڑکی کو تکتے پھر ایک مشکوک سی نظر جابر پہ ڈال کر پوچھا۔

تو جابر نے انکو تمام رواداد سنا دی۔

” اب آپ پلیز اسکا چیک اپ کر لیں اور تم میرا ایک کام کردو پلیز اسکے کپڑے خرید کر لادو مجھے بلکل آئیڈیا نہیں ہے “۔ اسنے اپنی کلاس فیلو کو منت کرتے لہجہ میں کہا۔

” اوکے جا رہی ہوں میں ، لے آتی ہوں کیا یاد کرو گے میرے اتنے احسان”۔ وہ احسان جتاتی نکل گئ تھی اور جابر محض اپنے دانت کچکچا کر رہ گیا تھا۔

” میں اسکا چیک اپ کرتی ہوں تم تھوڑی دیر ادھر روم میں چلے جاؤ”۔ عروسہ نے مسکا کر کہا۔

جابر اثباات میں سر ہلاتا روم میں بند ہوگیا تھا۔ کچھ دیر بعد روم کا دروازہ بجنے کے ساتھ اسے عروسہ کی آواز سنائ دی۔

” آجاؤ باہر جابر”۔

” جابر جیسے ہی باہر آیا ، عروسہ نے اسکو صوفہ پہ بیٹھنے کو کہا۔وہ آرام سے بیٹھا اوراس لڑکی کو ایک نظر دیکھا جو سر اپنے گھٹنوں پہ رکھے سسک رہی تھی۔

” دیکھو جابر اسکی کنڈیشن کافی کریٹیکل ہے ، پہلی فرست میں اسے کسی نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ ، اور اسکا بہت خیال رکھو کیونکہ یہ حاملہ ہے ، اور سب سے زیادہ ٹینشن کی بات یہ ہے کہ یہ بے حد کمزور ہے دماغی طور پہ بھی اور جسمانی طور پہ بھی”۔ عروسہ نے تمام بات اسکے گوشِ گزار کی۔

جابر نے دوبارہ اسے دیکھا جو اب سر اٹھائے یکدم عروسہ کہ پیروں میں گری تھی۔ اور پھوٹ پھوٹ کر روتے با مشکل اپنی بات مکمل کر پائ تھی۔

” مجھے نہیں چاہیئے اپنے گناہوں کی نشانی اس کو ختم کرو دو مار دو اسے یا ۔۔۔ پھر ایسا کرو مجھے مار دو”۔ وہ سسکتی ہوئ اسکے قدموں میں ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی۔ جابر نے اسے افسوس سے دیکھا تھا۔

” شش۔۔ رونا بند کرو ، ایسے تو نا کہو تم گنہگار نہیں ہو پاگل گنہگار تو وہ ہیں جنہوں نے تم پہ یہ ظلم ڈھائے “۔ عروسہ نے اسے اٹھاتے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

” میں مر جاؤں گی خود ہی دیکھنا”۔ اسنے اسکے سینے پہ سر ٹکائے سسکتے ہوئے کہا۔

” جابر اسے بہت توجہ اور خیال کی ضرورت ہے”۔ عروسہ نے اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے کہا۔

” ہاں میں سمجھ سکتا ہوں”۔ جابر نے سنجیدگی سے کہا۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد بیل کی آواز بجنے پر جابر اٹھا دروازہ وا کیا تو سامنے اسکی کلاس فیلو عرشمہ صاحبہ ہاتھوں میں شاپنگ بیگس پکڑے کھڑی تھیں۔

” آگے سے ہٹ یار تھک گئ میں “۔ اسنے چڑ کر کہا اور جابر کو سائڈ کرتی خود اندر داخل ہوئ۔

” ہاں کھیت میں ہل چلا کر آرہی ہو ناں جبھی تھک گئ”۔ جابر بھی طنز کے تیر مار کر ہی رہا۔

” ہنہہ احسان فراموش”۔ وہ اسکے طنز پہ منہ بناتی عروسہ کے پاس جاکر بیٹھی تھی اور حیرت سے اس لڑکی کو تکا تھا جو اسکی بہن کے سینے سے لگی کسی بچے کی طرح بلک رہی تھی۔

” بس رونا بند کرو اور اٹھو چلو شاور لو کپڑے چینج کرو”۔ عروسہ نے اسے پچکارتے اٹھایا تھا ساتھ خود بھی کھڑی ہوئ تھی چلو آؤ وہ اسے ساتھ لیئے سامنے بنے روم کے اٹیج باتھ میں لے کر گئ اور عرشمہ اسکے پیچھے پیچھے شاپنگ بیگس لے کر آئ تھی۔

ایک شاپر میں سے شیمپو باڈی واش نکال کر اسنے اسکے استعمال کے لیئے واشروم میں رکھا۔

” تم نہا لو ٹھیک ہے میں یہیں ہوں “۔ عروسہ نے محبت سے اسکے گال پہ ہاتھ رکھتے کہا تو وہ کپکپاتے وجود سمیٹ اثبات میں سر ہلاتی واشروم میں گھس گئ تھی۔

کچھ دیر بعد وہ شاور لے کر نکلی تو عروسہ نے اسکے گرد دوپٹہ کو اچھے سے پھیلایا۔

اور اسے بیڈ پہ لاکر بٹھایا اسکے لمبے الجھے بالوں کو عروسہ اور عرشمہ نے سمیٹا اچھے سے نفاست سے اسکے بالوں کی چوٹی بنائ۔ اب وہ قدرے بہتر حالت میں تھی اسکا رنگ بے حد گورا تھا پر سپید رنگت کی سرخیاں غائب تھیں۔

” چلو اب آؤ کھانا کھائیں “۔ عروسہ نے محبت سے اسے سینے سے لگائے کہا۔

” مجھے نہیں کھانا”۔اسنے اپنی خالی آنکھوں سے اسے تکا۔

” کھانا نہیں کھاؤ گی تو زندہ کیسے رہو گی”۔ عروسہ نے اسکا ہاتھ تھامتے نرمی سے پوچھا۔

” مجھے جینا ہی نہیں ہے”۔ اسنے سرد لہجہ میں کہا۔

” نام کیا ہے تمہارا”۔ عروسہ نے اسکی آنکھوں میں تکتے پوچھا۔

” فلک “۔ سرد سی آواز میں جواب آیا۔

” بہت پیارا نام ہے بلکل تمہاری طرح”۔ عروسہ نے نرمی سے کہا۔

” ہاں بس نصیب ہی پیارے نہیں میرے”۔ اسنے نم آنکھوں سے اسے تکتے کہا۔

ایسے نا کہو ، تمہیں کیا معلوم تمہارے نصیب کیسے ہیں “۔ عروسہ نے اسے ٹوکا۔

” دیکھ تو لیئے ہیں میں نے اپنے نصیب”۔ اسنے ٹھہرے ہوئے لہجہ میں کہا۔

” بلکل خاموش اٹھو آؤ باہر کھانا کھاؤ “۔ عروسہ نے اسے زبردستی کھڑا کیا اور باہر لائ جہاں ڈائینگ ٹیبل پہ جابر کھانا لگا رہا تھا سر اٹھا کر اسکو سنجیدگی سے تکا اور پھر نگاہیں جھکا گیا تھا۔ کھانے کے بعد عروسہ اور عرشمہ معذرت کرتی اپنے گھر چلی گئ تھیں۔ اب اس فلیٹ میں محض جابر تھا اور فلک موجود تھی جو نظریں جھکائے بیٹھی آنسو پی رہی تھی۔

” آپکا نام ؟”۔ جابر نے اس کاٹ کھانے والی خاموشی سے اکتا کر پوچھا۔

” فلک”۔ نگاہیں ہنوز سفید ٹائلوں والے فرش پہ مرکوز تھیں۔

” اچھا فلک تم آرام کرو میں تمہارے لیئے کہیں اور رہنے کا بندوبست کرتا ہوں کہیں رینٹ پہ گھر چیک آؤٹ کرکے آتا ہوں”۔ اسنے اسے دیکھتے سنجیدگی سے کہا اور گھر کا دروازہ لاک کرکے نکل گیا۔

وہ یکدم اپنے چاروں اُور خاموشی چھاجانے پہ خوفزدہ سی ہوگئ تھی۔ وہی منظر نگاہوں کے گرد گھومنے لگے تھے ، کچھ منظر دماغ کے پردے پہ چلے تو اسنے خوف سے اٹھنا چاہا ، پر پیر تو مانو جیسے شل سے ہوگئے تھے وہ محض اپنی جگہ پہ پھڑپھڑا کر رہ گئ تھی ، خود کے بچاؤ کے لیئے چیخنا چاہا پر زبان سے آواز نکلنے سے انکاری تھی۔ وجود بلکل بے کل سا ہوکر رہ گیا تھا۔ آنکھوں سے آنسو خود بخود بہنے لگے تھے۔ وجود پہ لرزہ طاری ہوگیا تھا۔ اور یکدم تمام خوفناک منظر دھندلانے لگے اور اسکی آنکھوں کے آگے سیاہ اندھیرا چھا گیا۔ وجود یکدم بے جان ہوا اور وہ ہوش و خروش سے بیگانہ ہوگئ۔

♧♧♧♧♧♧♧

جہانداد سے ملنے بہت سے لوگ آئے تھے کچھ مشہور صحافی تھے تو کچھ بڑے عہدےداران غرض ملک کی اہم شخصیات اسکے گھر کے مہمان خانے میں موجود تھیں۔ صبور کچن میں لگی انکے لیئے چائے کا بندوبست کر رہی تھی زرتاشہ اور فلک بھی لگی اسکی مدد کر رہی تھی کہ یکدم فلک کچھ میں آئ اسکا پورا وجود ہاں رہا تھا۔ رنگٹ یکدم زرد پڑی تھی۔ چہرے پہ ننھے ننھے پسینے کے قطرے نمایاں تھے۔ وہ خوف سے کچن کاؤبٹر سے پشت ٹکائے بہ مشکل کھڑی تھی۔ کہ یکدم زرتاشہ کی نظر اسکے کانٹے کانپنے وجود پہ پڑی۔

” کیا ہوا تمہیں؟؟”۔ زرتاشہ اسکی حالت دیکھ کام چھوڑ کر اسکے پاس آئ۔

” کچھ ن۔۔نہیں”۔ فلک یکدم گھبرائ۔ صبور کی بھی نگاہ اسپہ پڑی تو وہ بھی اسکے پاس آئ۔

” کیا ہوا؟؟”۔ صبور نے بھی اپنا وہی سوال دھرایا۔

” کچھ نہیں”۔ اسنے گھبرا کر صبور کو بھی تکتے فوراً کہا۔ کہ اتنے میں جابر اسکے پیچھے اندر آیا۔

” فلک ۔۔۔ “۔ جابر کی آواز سنتے ہی وہ یکدم رونے لگی تھی خود پہ مزید بندھ نہیں باندھ ہوئ تھی۔ جابر نے لپک کر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا۔

” شش ایسے مت کرو نہیں تو سب خراب ہو جائے گا رونا مت بلکل نا رونا”۔ جابر نے اسکے آنسو پونچھے اسے کہا۔

” ہمم میں نہیں رو رہی “۔ اسنے سسکتے ہوئے اپنے آنسو پونچھے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے تھے۔

” تمہارا صبر تمہیں ضرور پھل دے گا”۔ جابر نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ محبت سے کہا۔

تاشہ اور فلک اسے حیرانی سے تک رہی تھیں کے آخر معجرہ کیا ہے۔

” جابر کیا ہوا ہے؟”۔ زرتاشہ کی حیرت بھری آواز سن کر وہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔

” کچھ نہیں ہوا آپ تینوں کوشش کریں کے ڈرائنگ روم میں نا آئیں میں خود آکر سب لے جاؤں گا”۔ اسنے ان تینوں کو تاکید کی۔ فلک تو ویسے ہی اپنی پشت کاؤبٹر ٹاپ سے لگائے کھڑی رہی جب صبور اور زرتاشہ محض سر ہلا کر رہ گئ تھیں۔

وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی جا چکا تھا۔ فلک کی حالت دیکھ صبور نے اسکو پانی دیا ، جسے اسنے فوراً تھام لیا۔ اور ایک ہی سانس میں تمام پانی پی گئ۔

ان دونوں نے مزید اس سے کچھ پوچھنا ضروری نا سمجھا ، اور وہ دونوں واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئ تھیں۔

ڈائینگ حال میں تمام لوگ بیٹھے جہانداد کی مزاج پرسی کے لیئے آئے تھے۔ جابر بھی وہیں بیٹھا تھا۔ کہ یکدم جوس کی ٹرے تھامے وہ اندر آئ تھی سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ یکدم اسکا چہرہ سرخ پڑا تھا۔ اس سے پہلے کے اسکے ہاتھ سے ٹرے گر کر ٹوٹتی جابر فوراً ٹرے تھام چکا تھا۔ جابر اسکی کیفیت سمجھ سکتا تھا اسی لیئے اسے سہارا دے کر جلدی سے وہاں سے نکال گیا نہیں تو سب بگڑ جاتا اسکے اتنے سالوں کی محنت بگڑ جاتی۔ مقابل بیٹھا شخص جو ایک مشہور سیاسی پارٹی میں اہم مقام رکھتا تھا۔ چونکا تو وہ بھی تھا سامنے سے آتی اس لڑکی کو دیکھ پر پہچان نا پایا تھا۔ چہرہ اسکا خاصہ شناسا سا تھا پر اسے لگا شاید اسے ہی ایسا لگا ہے اور وہ اپنی توجہ دوبارہ باقی سب کی باتوں کی طرف مبذول کرچکا تھا۔

جابر خاموشی سے سب کو جوس سرو کرنے کے بعد فلک کے پیچھے دوڑا تھا۔